وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
بس نقشہ بگڑ گیا! وجود - پیر 15 جون 2020

سنتھیارچی نے میٹھی کہانیوں میں زہر گھول دیا!یہی تاریخ ہے، بخدا یہی تاریخ! تلخ، بہت تلخ۔ تھوکوں کے فرقے کی تاریخ، حکمرانوں کی تاریخ!! درحقیقت پاکستان کی تاریخ کے پہلے سلیکٹڈ سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ بعد میں پیپلزپارٹی اس تاریخ کو بدلنے کی مسلسل جدوجہد کرتی رہی، مگر ماضی پنسل سے لکھا ہوا نہیں ہوتا کہ اُسے ربر سے مٹا دیا جائے۔سر شاہنواز بھٹو کی دوسری بیوی خورشید بیگم کے بطن سے ذوالفقار علی بھٹو نے جنم لیا تھا۔ اُن کی ماں کو سر شاہنواز بھٹو کے خاندان نے کبھی قبول نہیں کی...

بس نقشہ بگڑ گیا!

پاکستان کی بارہ حکمران عورتیں وجود - جمعه 12 جون 2020

ایک ہے سنتھیارچی، یادش بخیر ایک تھی جنرل رانی، تھوکوں کے فرقے کی پرنانی! ناہید مرزا سے قدم بڑھاتے ہوئے بیچ میں ایک دور ایوب خان کا آتا ہے اور ایک قصہ کرسٹن کیلر کا۔ بیگم ناہید مرزا کے سوئمنگ پول میں لڑکیاں نہیں کہانیاں بھی تیرتی تھیں، اسکندرمرزا سے صرف اقتدارکہاں، یہ کہانیاں بھی منتقل ہوئیں۔ ایوب خان بیگم ناہید کے سوئمنگ پول پر الطاف گوہر کی سخت پہرے داری کے باعث بہت سی کہانیوں سے بچنے میں کامیاب ضرور ہوئے، مگر وہ ایک دوسرے سوئمنگ پول کی ڈبکیوں میں اپنی کہانی چھوڑ آئے۔ برطان...

پاکستان کی بارہ حکمران عورتیں

میری بلیوں کا کیا ہوگا؟ وجود - جمعرات 11 جون 2020

تاریخ کو اڈھیڑا جائے، بے رحم سچائی سے آنکھیں چار کی جائے تو ”تھوکوں کے فرقے“ کی پہلی سرپرست ایک خاتون نکلے گی۔ناہید مرزا!اسکندر مرزا کی دوسری بیگم۔ ایک غیر ملکی نژاد، ایرانی کُرد۔ ناہید مرزا کے بچھائے جال نے پاکستانی سیاست کو آج بھی اپنے نرغے میں لے رکھا ہے۔”بھٹوعنصر“ کسی اور کے نہیں اسی ناہید مرزا کے مرہون منت ہے،اگر چہ اس تاریخ کو بہت بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اقتدار پر گرفت اور سیاست دانوں کو حاشیے پر رکھنے کا پہلا خواب فوج نے نہیں بیوروکریسی نے دیکھا تھا۔ ابتدا سے ہی حقا...

میری بلیوں کا کیا ہوگا؟

تھوکوں کا فرقہ وجود - بدھ 10 جون 2020

سنتھیارچی ایسی عورتیں خود میں سمائی نہیں دیتیں۔ میلان کنڈیرا کے ناول ”IDENTITY“ کا کردار”شونتال“ ذہن میں اُبھرتا ہے۔لطیف سبھاؤ، شعلوں کی طرح رقص کرتا لبھاؤ اور آنکھوں میں باہمی ساز باز کا سجھاؤ۔پھر زندگی پر پژمردگی کا کوئی لمحہ اُترتا ہے، کوئی احساس دماغ میں جاگزیں ہوتا ہے جیسے کمرے میں کوئی چیز غلط رکھ دی گئی ہو۔ شونتال کے اسی احساس نے اُس کی ایک فقرے سے جنگ کرائی، جب وہ بولتی ہے:مرد اب مڑکے مجھے نہیں دیکھتے“۔ یہ احساس ہر ”شونتال“ کے اندر ایک آپا دھاپی پیدا کرتا ہے۔ یہی آپا...

تھوکوں کا فرقہ

پاکستان کو”او ایل ایکس“بننے سے بچائیں! وجود - جمعه 05 جون 2020

ملک ریاض اور اب یہ عظمیٰ خان!! الحفیظ الامان!! قومیں کردار سے بنتی ہیں۔پاکستان کو او ایل ایکس نہ بننے دیں، حضرت علامہ اقبالؒ نے خبردار کیا تھا، خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے! آگے فرمایا: کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہوگا آسان دولت نے پاکستان کی سماجی اقدار کو چاٹنا شروع کردیا۔ ہم قومی ریاست کو بتدریج ایک ایسی سطح پر لے گئے جہاں ہر چیز سیاست کی پست سطح پر نفع نقصان کے تناظر میں طے ہوتی ہے۔ صحیح و غلط اور حق وباطل کا کوئی تناظر موجود نہیں۔ البتہ باتیں بہت ہیں۔ یہ م...

پاکستان کو”او ایل ایکس“بننے سے بچائیں!

نسل کشی کا تاریخی جنون وجود - بدھ 03 جون 2020

امریکی زوال علامتوں میں ڈھونڈتے تھے مگریہ توکہانیوں میں ملا۔ جارج فلوئڈ تو بس ایک نام ہے۔ سیاہ فام باشندوں پر ظلم کی ایک تاریخ ہے۔ یہ تاریخ کی کہانی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے باہر سیاہ فام باشندے جارج فلا ئیڈ کے قتل کے خلاف احتجاج کررہے تھے تو دنیا کا سب سے طاقت ور شخص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ زیر زمین خفیہ بنکر میں جا چھپا۔ کیا یہ محض مظاہرین کے نعروں کا دباؤ تھا؟ نہیں، اس کے پیچھے تاریخ کا بھی ایک دباؤ ہے۔ یہ اُسی تاریخ کی کہانی ہے۔ جس میں ایک نہیں کروڑوں جارج فلا ئیڈ جان کی بازی ہار گ...

نسل کشی کا تاریخی جنون

یہ کون لوگ ہیں؟ وجود - منگل 02 جون 2020

یہ کون لوگ ہیں جن کے دلوں پر سانپ لوٹتے ہیں، جنہیں کوئی کل قرار نہیں پڑتا۔ یہ دن بھی دیکھنے تھے، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی قبر مبارک کی بے حرمتی!، یاللعجب یہ دن بھی دیکھنے تھے!!!کیا عجب کہ یہ امت دوبارہ جی اُٹھے، ققنس کی طرح اس کی راکھ پر کوئی حیات افزا مینہ برسے، کوئی بیل بوٹے اُگیں۔ خلفائے راشدین کا دور ختم ہوگیا، پھر وہ کیا دور تھا جب عیسائی شاعر اخطل، خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دربار میں اِٹھلائے پھرتا۔ گلے میں سونے کی صلیب لٹکائے آتا، داڑھی کے بالوں سے شراب کے قطرے ٹپک...

یہ کون لوگ ہیں؟

طیارہ حادثہ اور گروہی مفادات کا سفاکانہ کھیل وجود - جمعرات 28 مئی 2020

بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے دیگر شعبوں کی طرح ہوابازی کی صنعت میں بھی مختلف فشاری گروہ پائے جاتے ہیں۔ مافیا راج میں شکر، آٹااور بجلی سے لے کر تعمیرات تک کوئی شعبہ بھی ایسا نہیں جہاں طاقت ور طریقے سے مختلف ”لابیز“اپنے اپنے مفادات کے لیے کام نہ کرتی ہوں۔ ”لابیز“کی ضرورت ہی تب پڑتی ہے جب مفادات جائز نہ ہو، اور اس کے تحفظ کے لیے روایتی طریقے کام نہ کرسکتے ہوں۔ پاکستان میں مفادات کی جنگ اتنی بھیانک شکل اختیار کرگئی ہے کہ مختلف جتھوں، گروہوں اور لوگوں نے اس کے لیے مجرمانہ طریقے سے ...

طیارہ حادثہ اور گروہی مفادات کا سفاکانہ کھیل

طیارہ حادثہ اور سوالات وجود - بدھ 27 مئی 2020

قوم کے ساتھ سب سے بڑا حادثہ یہ ہوا کہ من حیث القوم فکر صحیح سے محروم ہو گئی۔ پی آئی اے کا حادثہ تو بہت چھوٹا ہے۔فکرِ صحیح سے محرومی ہماری ہر تکلیف کو دُگنا کردیتی ہے،حادثوں کومزید بھیانک بنادیتی ہے۔ کورونا وبا کے ہنگام حکومتوں کے تیور تبدیل نہیں ہوئے۔ معمول کی اموات کو غیر معمولی قراردے کر قوم کو زندگی کے تحفظ کا درس جاری ہے، لوگوں کی آزادیاں سلب کی جارہی ہیں۔ معمول کے امراض کو کووڈ۔19 کے کھاتے میں ڈال کر غیر معمولی اقدامات اور امداد کی یافت کا سفاکانہ کھیل چاروں کھونٹ رچایا...

طیارہ حادثہ اور سوالات

چین نے ڈالر کی معیشت خطرے میں ڈال دی! وجود - اتوار 24 مئی 2020

دنیا کا معاشی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ چین ڈالر کے جبر سے خود کو نکال رہا ہے۔عالمی سطح پر ڈالر کے مستقبل پر اُٹھنے والے سوالات روز بروز تیز سے تیز تر ہورہے ہیں۔ چین کیا کررہا ہے؟ یہ سمجھنا نہایت ضرور ی ہے تاکہ اگلے وقتوں کی انقلابی تبدیلیوں کا فہم حاصل ہوسکے۔ چین نے سب سے پہلے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اکٹھ آسیان پلس تھری کے ممالک برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، اور ویتنام سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دیا۔ جا...

چین نے ڈالر کی معیشت خطرے میں ڈال دی!

کیش ٹریش وجود - جمعرات 21 مئی 2020

ذرا ہم چونکتے ہیں، مگر زیادہ نہیں۔ دنیا کی نئی شکل وصورت کے ممکنہ آثار میں ہم واضح طور پر کاغذی کرنسی کا مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ پھر بھی ذرا سے چونکنے کی بات ہے، جب 18.7 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے اناسی ویں امیر ترین شخص اور دنیا کی سب سے بڑی ہیج فنڈ کمپنی بریج واٹر کے روح رواں ”رے ڈیلیو“(Ray Dalio) کہتے ہیں: کیش دراصل ٹریش ہے“۔چند سری حکومت کے ایک ممکنہ عالمی نقشے میں رے ڈیلیو بھی جارج سوروس(دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینج کو اُتھل پتھل کرنے والا) کے ساتھ ایک سرے پر کھڑے نظر آتے ہیں...

کیش ٹریش

بھارت کی چین کے خلاف محاذ آرائی وجود - پیر 18 مئی 2020

بھارت انتہائی تیزی سے چین کے خلاف ایک ”ہائبرڈ جنگ“ میں شدت لارہا ہے۔ کیا ہمارے کان کھڑے ہیں، ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں؟اس محاذ پر نظر آنے والی کارروائیوں کی کچھ جھلکیاں انتہائی دلچسپ ہیں۔ ٭ایل اے سی (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) پر چین کے خلاف بھارت کی تازہ جھڑپیں ٭بھارت میں ایک اقتصادی قوم پرستی کا چین کے خلاف اُبھار، جس میں چینی کمپنیوں کو بھارتی معاشی متن سے ہٹا کر حاشیوں میں ڈالا جارہا ہے۔ ٭ بھارت ورلڈ ہیلتھ اسمبلی (ڈبلیو ایچ اے) کی قیادت کے خواب کی تعبیر کی دہلیز پر کھڑا ہ...

بھارت کی چین کے خلاف محاذ آرائی

ویکسین اور بل گیٹس وجود - جمعه 15 مئی 2020

دنیا بھر میں ویکسین کا پروپیگنڈا تیزی رفتاری سے جاری ہے۔ دنیا عجیب وغریب نمونے پر چل رہی ہے، جس بیماری کو ابھی طبی سائنس پوری طرح پہچان بھی نہیں پائی، اس کے ویکسین سے علاج پر عالمی صحت کے نگران و قائدین اتفاق کرچکے ہیں۔ نائیجیریا کی سیاسی جماعتوں نے اِسے قیاس آرائیوں پر مبنی علاج کہا۔ مغربی ممالک کے اکثر حکمرانوں کی زبان پرویکسین کا ذکر مچلتا رہتا ہے۔ ہمارے پیارے وزیراعظم اور تبدیلی سرکار کے مبلغ و داعی عمران خان کے کنجِ لب سے بھی ویکسین کا ذکر پرانے زمانے کی کسی بھارتی اداکا...

ویکسین اور بل گیٹس

ویکسین کی بکواس وجود - جمعرات 14 مئی 2020

ٹیکنالوجی عہد جدید کے انسان کا مذہب ہے۔ ”ترقی“ کے خلاف گفتگو اب جہالت کہاں گناہ بن چکی۔ روشن خیالی اس مذہب میں عقیدہ کی طرح راسخ ہے۔ مجال ہے کوئی”نجس“ ذہن اس پر سوال اُٹھاسکے۔ سوال اُٹھانا سائنس کی ریت بتائی جاتی ہے۔ مگر عہد جدید کے ”جانوروں“ کو بتادیا گیا ہے کہ سوال کہاں اُٹھانا ہے؟ سوال وہ مقدس ہے جو مذہب کے خلاف اُٹھے، یہ سائنس ہے، فلسفہ ہے، روشن خیالی ہے۔ اگر سوال خود سائنس پر اُٹھے تو یہ جہالت ہے، عہدِ تاریک کا تعفن ہے۔ماضی کا مزار ہے۔ اور ہاں سازش بھی ہے۔ سائنس کے نام پ...

ویکسین کی بکواس

نئی دنیا کی خوراک وجود - بدھ 13 مئی 2020

افسوس! ہماری حرماں نصیبیوں کے سیاہ بادل ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ کورنا وبا کے ہنگام پارلیمان کی کارروائیاں دیکھ کر لگتا ہے کہ مغل بادشاہوں کے آخری دور کی درباری بحثیں چل رہی ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے، دنیا کی تشکیلِ نو ہو رہی ہے۔ قومی ریاستوں کی طاقت ٹیکنالوجی کے ذریعے سلب کی جارہی ہے۔ ریاستوں کے مزاحمتی قوت کے معروف طریقے تاریخ کے حاشیوں میں جارہے ہیں۔ عالمی قوت کا نیا متن گلوبل نگرانی کے نئے دور میں جاکر نئے حروف سے نئے معانی ڈھونڈ رہا ہے۔ سخت ترین نگرانی کے نظام کو ٹیکنالوجی کے ...

نئی دنیا کی خوراک

لاک ڈاؤن اور گورکن کی نفسیات وجود - منگل 12 مئی 2020

کیا ہم تاریخ کے چوراہے پر پڑے رہیں گے؟ بے سمت، بے منزل! کیا یہی لوگ ہمارا مقدر ہیں؟جنہوں نے اپنے ذہن مغرب میں رہن رکھوا دیے، اور ہم سے جبراً اپنے ذہنوں کی اطاعت مانگتے ہیں؟ کوئی بلند خیال انہیں چھوتا نہیں۔یہ کبھی اپنے تعصبات اور ادنیٰ سیاسی مفادات سے بلند نہیں ہوتے۔لفظوں کے خراچ اور عمل کے قلاش۔ ایک ایسی مخلوق ہم پر حکومت کرتی چلی آتی ہے، جس کے پاس باتیں کرنے کے لیے الفاظ کم نہیں پڑتے اور عمل کے لیے ابتدائی قدم بھی اُنہیں سوجھتا نہیں۔ 427سال قبل ازمسیح میں سقراط نے کہا تھا:ل...

لاک ڈاؤن اور گورکن کی نفسیات

ہر مسیحا کو جنوں جشن ِ مسیحائی کا وجود - پیر 11 مئی 2020

بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!!! سندھ پر ایسے حکمران مسلط ہیں، جنہیں کچھ سمجھایا ہی نہیں جاسکتا! مگر یہ ڈاکٹرز، یہ ہمارے چارہ گر!!!کچھ خدا کا خوف کریں!!فیض احمد فیض پر جانے کیا بیتی ہوگی، کہا: ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے سندھ حکومت جب دباؤ میں ہوتی ہے تو اچانک کچھ ڈاکٹرز میدان میں کودتے ہیں،اور لاک ڈاؤن میں نرمی کو خطر ناک باور کراتے ہیں۔ اُن کا بیانیہ طے شدہ ہوتا ہے۔ سب سے پہلے وہ کورونا کے مریضوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ...

ہر مسیحا کو جنوں جشن ِ مسیحائی کا

چین امریکا تعلقات پر جنگ کے سائے وجود - اتوار 10 مئی 2020

کیا تاریخ کے ماتھے پر کوورنا وائرس،چین امریکا جنگ کا ایک اشارہ بننے جارہا ہے؟ آثار نمایاں ہیں۔امریکا نے چین مخالف ایک وسیع اور محیط تر ہائبرڈ جنگ کو کورونا وائرس سے منسلک کرکے تیز رفتار بنا دیا ہے۔ کچھ سرے پکڑتے ہیں۔ چین کی اعلیٰ انٹلیجنس کی جانب سے ایک رپورٹ صدر شی جن پنگ کو پیش کی گئی ہے، رپورٹ کورونا وائرس کے حوالے سے دنیا بھر میں چین کے خلاف اُبھارے گئے جذبات سے متعلق ہے اور امریکا کے ساتھ کسی بھی فوجی تنازع کے خطرے کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے ماحصل کے طور پر یہ لکھا گیا ہ...

چین امریکا تعلقات پر جنگ کے سائے

کیا وینٹی لیٹر سے لوگ قتل ہورہے ہیں؟ وجود - هفته 09 مئی 2020

کورونا وائر س نے دراصل سائنس پر ایمان کو نشانا بنایا ہے۔ اس وائرس نے ہر قسم کی سائنس کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ مذہب کے خلاف سیکولر اور لبرل ذہنوں کا سب سے بڑا مقدمہ دراصل ”روشن خیالی“ کی ایک وبا تھی، جو سائنسی ترقی کے بطن سے پیدا ہوئی تھی۔ مذہب کے خلاف سائنس کو کھڑا کیا جاتا تھا اور کہاجاتا تھا کہ معلوم پر نامعلوم کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ کورونا وبا نے طبی سائنس کو تو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے، مگر باقی ہر قسم کی سائنس پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ معلوم اتنا معلوم نہیں لگتا ...

کیا وینٹی لیٹر سے لوگ قتل ہورہے ہیں؟

بل گیٹس، طے شدہ کھیل کے اگلے مراحل وجود - جمعه 08 مئی 2020

ہم جانتے ہیں، بل گیٹس ڈاکٹر نہیں، اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈورس ازانوم بھی ڈاکٹر نہیں۔ بل گیٹس اس ادارے کے سب سے بڑے مالی معاون ہیں۔ پھر بھی ڈبلیو ایچ او نے پوری دنیا کی درست رہنمائی نہیں کی۔ کیوں؟ کیا یہ ایک طے شدہ کھیل کا منظر تھا۔آئیے کورونا وبا کے سب سے بڑے ردِ عمل کی بات کرتے ہوئے یہ نکتہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کورونا وبا کے حوالے سے سب سے بڑا ردِ عمل لاک ڈاؤن کی صورت میں ایک عالمگیر رجحان تھا۔ ابھی ہم کووڈ۔ 19 کی بہت بنیادی بات...

بل گیٹس، طے شدہ کھیل کے اگلے مراحل

بل گیٹس اور انسانیت کا دھندا؟ وجود - جمعرات 07 مئی 2020

آج کے دور میں انسانیت کے نام پر سب سے بڑا دھندا ہوتا ہے۔ یہ جدید دور کی سرمایہ دارانہ چالیں ہیں جو منافع بخش طریقے سے کاروبار میں ڈھلتی ہیں۔کسی بھی کاروباری جن کو دیکھیں، اُس کی انسانیت دوست اور فلاحی خدمات کی کچھ تنظیمی شکلیں دکھائی دیں گی، دسترخوان بچھے ملیں گے، علاج معالجے سے لے کر ہر وہ کام جو اُس کے لیے کسی طرح کی ہمدردی پیدا کرسکتا ہو، یا اُس کے کاروباری مفادات کے حصول کے انتہائی سفاکانہ پہلوؤں کو ایک مناسب آڑ دے سکتا ہوں۔ یہ عہدِ جدید کے انسان نما جانوروں کے اندر پائی ...

بل گیٹس اور انسانیت کا دھندا؟

بل گیٹس کون ہے؟ وجود - بدھ 06 مئی 2020

مائیکرو سوفٹ کے شریک بانی اور دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بل گیٹس اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان 29/اپریل کو رابطہ ہوا۔ وزیراعظم نے بل گیٹس سے تبادلۂ خیال کے دوران میں کورونا وبا کے ہنگام گیٹس فاونڈیشن کی امداد کو سراہا۔ ٹھیک اُسی روز امریکی عوام لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کے لیے باہر آئے تو اُنہوں نے بل گیٹس کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے اُس کے خلاف خوب نعرے لگائے۔ پاکستانی وزیراعظم کو ٹیلی فون سے پانچ روز قبل بل گیٹس نے ایک خط بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو لکھا جس میں کور...

بل گیٹس کون ہے؟

آزادیٔ صحافت ، یہ کس چڑیا کا نام ہے؟ وجود - منگل 05 مئی 2020

. انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور آزادیئ صحافت کے رنگ برنگی گروہ 3/ مئی کو”عالمی یومِ آزادی“ کے طور پر مناتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے1993 ء میں ونڈووک اعلامیہ (Windhoek Declaration) پر دستخط کی دوسری سالگرہ کے موقع پر یہ تاریخ متعین کی تھی۔ اس دن کا روایتی فہم 1948 ء کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے آرٹیکل 19 کے تحت درج اظہارِ رائے کے حقِ آزادی سے وابستہ ہے، اور حکومتوں کو اس کی پاسداری کا احساس دلاتا ہے۔ لیکن اس کا ایک عملی تصور ہے جو منافقت کی تھاپ پر الفا ظ کے رقص کا منظر...

آزادیٔ صحافت ، یہ کس چڑیا کا نام ہے؟

انسانوں کے ڈیجیٹل تعاقب کا خواب وجود - پیر 04 مئی 2020

دائم زندہ رہنے والا ناول نگار جارج اورویل پچاس کی دہائی میں اُنگلی پکڑ کر ہمیں اگلی صدی کی دوسری دہائی تک پہنچاتا ہے۔ جہاں سب کچھ ایک مضبوط نگرانی کے نظام کے تحت چلتا ہے۔ جارج اورویل کے ناول ”1984“کے تحت ماضی اور مستقبل دونوں ہی حال کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ حال انتہائی سخت نگرانی سے ہی قابو کیا جاسکتا ہے۔ یہ نگرانی ہر طرح سے ہوتی ہے۔اس میں خیالات کے دھاروں کو بھٹکانے سے لے کر اسے مکمل قابو کرنے تک سارے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں حکومت کی مختلف وزارتیں اپنے اپنے ...

انسانوں کے ڈیجیٹل تعاقب کا خواب

مضامین
یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

کل۔چر وجود اتوار 28 نومبر 2021
کل۔چر

بھارتی معاشرہ تباہی کے دھانے پر وجود اتوار 28 نومبر 2021
بھارتی معاشرہ تباہی کے دھانے پر

عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے وجود هفته 27 نومبر 2021
عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے

جارحیت کے خلاف قانون وجود هفته 27 نومبر 2021
جارحیت کے خلاف قانون

اشتہار

افغانستان
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

ورلڈ بینک کا افغانستان کو منجمد فنڈز سے 50کروڑ ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ وجود بدھ 01 دسمبر 2021
ورلڈ بینک کا افغانستان کو منجمد فنڈز سے 50کروڑ ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام

نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کی وجہ کیسے بنا؟ وجود جمعرات 11 نومبر 2021
نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ذوالفقار  بھٹو کی پھانسی کی وجہ کیسے بنا؟