وجود

... loading ...

وجود
وجود

مبینہ ملاقات

پیر 19 ستمبر 2022 مبینہ ملاقات

مقتدر حلقوں میں جاری سیاست دائم ابہام اور افواہوں میں ملفوف رہتی ہے۔ یہ کھیل کی بُنت کا فطری بہاؤ ہے۔ پاکستان میں سیاست کے اندر کوئی مستقل نوعیت کی شے نہیں۔ سیاسی جماعتیں، اقتدار کا بندوبست، ادارہ جاتی نظم، فیصلوں کی نہاد ، مقدمات اور انصاف میں ایسی کوئی شے نہیں، جس کی کوئی مستقل اور چھور ہو۔ ایک ہی معاملے میں عدالتی فیصلے الگ الگ آسکتے ہیں۔ ایک ہی شخص ایک دور میں معتوب اور پھر اچانک محبوب بن سکتا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کسی صبح محب وطن اور شام وطن دشمن قرار پاسکتی ہے۔ اقتدار سے آج بے دخل ہونے والے کل پھر پزیرائی پاسکتے ہیں۔ اقتدار کے دروبست میں زندہ کل اپنے لاشے کے ساتھ دفنائے جاسکتے ہیں۔ ادارہ جاتی نظم میں مردود، کل مقبول ہوسکتے ہیں۔آج کے مقبول کل راندہ ٔدرگاہ ہوسکتے ہیں۔ آج جن کو ہرطرف سے پروانۂ گرفتاری تھمایا جارہا ہے، کل وزارتوں کے قلمدان تھامے مقتدر راہداریوں میں اِترا سکتے ہیں۔ آج اقتدار میں غرّانے والے کل جیل کی کال کوٹھریوں میں فریادیں کرتے سنائی دے سکتے ہیں۔ جب سیاسی روز مرہ کی کوئی مستقل نہاد ، بنیاد نہ ہو، جب فیصلوں کی بنیاد وقتی ضرورت اور ادنیٰ مفادات ہو، تو پھر ادارے، سیاسی نظام،عدل گاہیں اوراحتسابی بندوبست میں سے کسی کی بھی کوئی قدروقیمت باقی نہیں رہ جاتی۔ اُصول و ضوابط سے خالی فضاء میں ابہام سازگار اور افواہیں مدد گار ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہیں۔
حالیہ دنوں میں سیاسی و صحافتی اُفق پر ایک مبینہ ملاقات کا خوب چرچا ہے۔ اس حوالے سے ابہام کی دھند میں افواہوں کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔اس ملاقات کو محض بنی گالہ اور پنڈی کے درمیان صرف رابطہ نہیں سمجھا جارہا۔ چنانچہ حالات میں ایک بھونچال آنا فطری امر تھا۔ یہ ملاقات، عمران خان کے دورِ حکومت میں ایک اہم شخصیت کی لندن میں نوازشریف سے ملاقات کی خبروں جیسی ہی ہیں۔ تب اُس ملاقات پر جو رائے ایک حلقے میں پائی جاتی تھی، وہی رائے اب دوسرے حلقے میں اِ س نئی ملاقات کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ تب اُس ملاقات سے امکانات کی ایک نئی دنیا تراشنے والے بھی تھے،اور اُسے “رات گئی بات گئی” کے بمصداق ہوا میں اڑانے والے بھی تھے۔ فریقین کی تبدیلی سے اب یہی ہنگامہ بنی گالہ اور پنڈی کے درمیان رابطے پر بپا ہے۔جاننے والے جانتے ہیں کہ ایسی ملاقاتیں افواہوں میں رہتی اور بدلتے حالات میں دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کیا ایسی کوئی ملاقات ہوئی ہے، بلکہ اب سوال یہ رہ گیا ہے کہ کیا ایسی کوئی ملاقات دراصل لندن میں ہونے والی ملاقات کی طرح حالات بدلنے کا باعث بن سکتی ہے؟ اس ضمن میں عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ جبر تو نون لیگ سمیت ملک کی اکثر جماعتوں کے ساتھ بھی تھا جو فوجی قیادت کو کھلے عام موضوع بناتی رہی۔ عمران خان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات کی تنزلی کا ماجرا نوازشریف اور اُن کے خاندان کے ساتھ تعلقات کی ابتری جیسا نہیں ۔ پھر یہ کیوں باور کیا جانے لگا کہ اب عمران خان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہوسکتے۔ اس حوالے سے حالات کے جبر پر بھی توجہ نہیں دی گئی، جو گاہے فیصلہ کن عامل کے طور پر بروئے کار آتا ہے۔
پاکستان میں کوئی شے مستقل نہیں۔ موجودہ حکومتی بندوبست بھی عمران خان کے دور میں کسی کے وہم گمان میں بھی نہ تھا۔ ذرا ذہنوں کو تازہ کیجیے!یہ حکومتی بندوبست عمران خان سے چھین کر ایسے تیرہ جماعتی اتحاد کی نذر کیا گیا جس کی کوئی مشترک بنیاد نہیں تھی۔ پی ڈی ایم اپوزیشن میں تھی تو عمران خان مخالفت اُن کا مشترکہ وصف تھا، مگر جب یہ حکومت میں آئے تو یہ مشترکہ بنیاد بھی تحلیل ہو گئی۔ کیونکہ اس بندوبست میں ایسی جماعتیں بھی شامل ہیں جو پی ٹی آئی حکومت کا بھی حصہ رہیں۔ یوں حزب اختلاف کے ہنگام پی ڈی ایم کا عمران خان کی مخالفت کا واحد مشترک رنگ بھی اب اقتدار میں آ کر اس سے اُکھڑ گیا ہے۔ یہ اتحاد جب اپوزیشن میں تھا تو اُن سے وابستہ سیاست دانوں سے بار بار ایک سوال ہوتا تھا کہ وہ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیوں پیش نہیں کرتے؟ تب پی ڈی ایم رہنماؤں کا جواب ہوتا تھا کہ اس فیصلے کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا، جب تک کچھ قوتیں عمران خان کی حمایت ترک نہیں کردیتیں۔ چنانچہ پی ڈی ایم نے عمران خا ن کے خلاف فیصلہ کن معرکہ کسی “اشارے” پر ہی برپا کیا تھا۔ اگر چہ اُنہیں نیوٹرل کہا گیا، مگر اس سے مراد دراصل حمایت کا “اُلٹ پھیر” تھا۔ اس پورے پسِ منظر میں ایک “اہم شخصیت” کی لندن میں ملاقات انتہائی اہم اور فیصلہ کن عامل کے طور پر کام کر رہی تھی۔ یہ صورتِ حال اب عمران خان کے اپوزیشن میں آنے کے بعد کوئی بدل نہیں گئی۔ تب پی ڈی ایم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ اُن اصل قوتوں کے خلاف دباؤ بڑھا رہی تھی، جو عمران خان کے حکومتی بندوبست کی اصل پشت پناہ تھیں۔ عمران خان بھی کچھ مختلف نہیں کررہے تھے۔ عمران خان بھی موجودہ سیاسی بھان متی کے کنبے کو ہدف نہیں بنارہے، بلکہ اُن قوتوں کو تاک تاک کر نشانے پر لے رہے تھے، جو اس بندوبست کے اصل معمار و محافظ ہیں۔ یہ موجودہ حکومت اور اُن کے محافظ معماروں کی بدقسمتی ہے کہ ایک حقارت آمیز حکومت کرنے کے باوجود عمران خان بوجوہ عوام میں نہ صرف مقبول بلکہ محبوب رہنما کے طور پر بھی اُبھر نے لگے۔ اس اعتبار سے حکومت کو حکومت راس نہیں آسکی مگر عمران خان کو اپوزیشن خوب راس آئی۔ عمران خان کی عوامی مقبولیت کو اب نظرانداز کرنا کسی قوت کے بس کی بات نہیں، جس میں ایک احتجاجی تحریک بننے کے بے شمار امکانات بہر صورت موجود ہیں۔ یہ صورت حال حکومت سے زیادہ اس کے پشت پناہوں کے لیے پریشان کن ہے۔ اس فضا میں پنڈی اور بنی گالہ کا مبینہ رابطہ صرف حال احوال پوچھنے کے لیے نہیں ہو سکتا۔
کیا پنڈی اور بنی گالہ کے رابطے میں ایسی کوئی بجلیاں ہیں جو موجودہ حکومت کے بندوبست پر گرسکتی ہیں؟ اس کا اندازا نوازشریف، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری سے زیادہ کس کو ہوگا؟ آخر وہ سب ایسے ہی رابطوں سے تو یہاں تک پہنچے ہیں۔ مذکورہ ملاقات کے بعد پاکستان کے سیاسی حالات میں رونما ہونے والے واقعات میں کچھ نئے اشارے ملنے شروع بھی ہو گئے۔ مریم نواز کی تیوری پر اچانک بَل پڑنے لگے۔ اُنہوں نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کو لاڈلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ “اگر ایسا نہ ہو تو اس کو ڈیل کرنا چٹکیوں کا کام ہے”۔ اس دوران میں اچانک عمران خان پاکستان کے مرکزی ذرائع ابلاغ کے دھارے میں دکھائی دیے۔ اُن کا ایک انٹرویو موضوع بحث بنا جس میں اُنہوں نے فوجی سربراہ کی موجودہ حکومت کے ہاتھوں تقرری پر سوال اُٹھا دیا۔ عدالتوں سے ملنے والی راحت کو بھی کچھ حلقوں میں اسی نقطہ نظر سے دیکھا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک گوشۂ تنہائی میں بیٹھے صدر مملکت نمودار ہوئے اور پہلی مرتبہ ایک زبردست سیاسی بیان داغا۔ ایک اہم شخصیت کی لندن میں ملاقات تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پر منتج ہوئی تھی۔ اب ایک دوسری ملاقات کے چرچے ہیں۔ اور اس کے فوراً بعد عمران خان کی جانب سے ایک بار پھر انتخابات کی تاریخ طلب کی گئی ہے۔ تحریک انصاف اشارے دے رہی ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں اگر انتخابات کی تاریخ نہ دی گئی تو پھر اسلام آباد کی جانب مارچ کی تاریخ دی جائے گی۔ پاکستان کے اہم ترین فیصلے ایک بار پھر بڑی تقرری کے گرد گھومنے لگے ہیں۔ ماضی قریب کے واقعات میں سیاسی ہنگامے اس دوران دو آتشہ ہوتے رہے ہیں۔ کیا مبینہ ملاقات سیاسی اُلٹ پھیر کا پھر اشارہ دیتی ہے؟


متعلقہ خبریں


وقت بہت بے رحم ہے!! وجود - جمعرات 22 ستمبر 2022

پرویز مشرف کا پرنسپل سیکریٹری اب کس کو یاد ہے؟ طارق عزیز!!تین وز قبل دنیائے فانی سے کوچ کیا تو اخبار کی کسی سرخی میں بھی نہ ملا۔ خلافت عثمانیہ کے نوویں سلطان سلیم انتقال کر گئے، نوروز خبر چھپائی گئی، سلطنت کے راز ایسے ہی ہوتے ہیں، قابل اعتماد پیری پاشا نے سلطان کے کمرے سے کاغذ س...

وقت بہت بے رحم ہے!!

ملکہ الزبتھ، استعمار کا مکروہ چہرہ وجود - جمعه 16 ستمبر 2022

پاکستانی حکومت نے 12 ستمبر کو قومی پرچم سرنگوں کرلیا۔ یہ ملکہ برطانیا الزبتھ دوم کی موت پر یومِ سوگ منانے کا سرکاری اظہار تھا۔ ہم بھی کیا لوگ ہیں؟ ہمارے لیے یہ یوم سوگ نہیں، بلکہ استعمار کو سمجھنے کا ایک موقع تھا۔ یہ اپنی آزادی کے معنی سے مربوط رہنے کا ایک شاندار وقت تھا۔ یہ ایک ...

ملکہ الزبتھ، استعمار کا مکروہ چہرہ

رفیق اور فریق کون کہاں؟ وجود - منگل 23 اگست 2022

پاکستانی سیاست جس کشمکش سے گزر رہی ہے، وہ فلسفیانہ مطالعے اور مشاہدے کے لیے ایک تسلی بخش مقدمہ(کیس) ہے ۔ اگرچہ اس کے سماجی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ مگر سماج اپنے ارتقاء کے بعض مراحل میں زندگی و موت کی اسی نوع کی کشمکش سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ پاکستانی سیاست جتنی تقسیم آج ہے، پہلے کب...

رفیق اور فریق کون کہاں؟

حوادث جب کسی کو تاک کر چانٹا لگاتے ہیں وجود - پیر 14 فروری 2022

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزراء کی فہرستِ کارکردگی ابھی ایک طرف رکھیں! تھیٹر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ سماجی روز مرہ اور زندگی کی سچائی آشکار کرنے کو سجایا جاتا ہے۔ مگر سیاسی تھیٹر جھوٹ کو سچ کے طور پر پیش کرنے کے لیے رچایا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سوانگ بھرنے کے اب ماہر...

حوادث جب کسی کو تاک کر چانٹا لگاتے ہیں

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شا...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

خاتمہ وجود - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کو...

خاتمہ

جوتے کا سائز وجود - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر ل...

جوتے کا سائز

نوگیارہ وجود - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی...

نوگیارہ

دائرے وجود - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی ...

دائرے

آزادی سے بیگانگی وجود - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گ...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے وجود - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے ت...

دہشت ناک رویے

جنت سے بچوں کا اغوا وجود - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرم...

جنت سے بچوں کا اغوا

مضامین
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر وجود اتوار 02 اکتوبر 2022
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر

چالیں اور گھاتیں وجود هفته 01 اکتوبر 2022
چالیں اور گھاتیں

ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے

وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟

بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں وجود بدھ 28 ستمبر 2022
بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں

چند ان کہی کہانیاں وجود منگل 27 ستمبر 2022
چند ان  کہی کہانیاں

اشتہار

تہذیبی جنگ
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی

برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف وجود پیر 19 ستمبر 2022
برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف

بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور وجود جمعه 16 ستمبر 2022
بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق  چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور

بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے

نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے

اشتہار

بھارت
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ

مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا

بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی
افغانستان
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ

قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ وجود هفته 24 ستمبر 2022
قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ

یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا

افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق وجود پیر 22 اگست 2022
افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے وجود پیر 26 ستمبر 2022
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے وجود پیر 19 ستمبر 2022
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے

ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں وجود جمعرات 08 ستمبر 2022
ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی