وجود

... loading ...

وجود
وجود

میں بھی یہیں کہیں کا ہوں!

جمعرات 11 اگست 2022 میں بھی یہیں کہیں کا ہوں!

یہ واپسی کا سفر ہے، مگر واپسی کہاں!! مدینے کا مسافر ، مدینے کا ہی رہتا ہے۔ دل وہ چھوڑ آتا ہے، جسم کی صلیب البتہ اُٹھائے پھرتا ہے۔

سوادِ روح کے منظر مدینہ جیسے ہیں
خیال آتا ہے میں بھی یہیں کہیں کا ہوں

یہ دو دنیاؤں کا سفر تھا۔ ایک روح ، دوسرا جسم کا ۔ روح نے عشق کے سمندر میں غوطے کھائے(جس کی وارداتیں ایک مستقل موضوع کے طور پر سفر نامے کا حصہ ہونگیں) مگر جسم وطنِ عزیز کی کہنہ عادتوں کی اُلٹ پھیر میں گرتا پڑتا رہا۔ کہاں حرم کے مناظر ، عبادتیں اور کہاں یہ نہ ختم ہونے والی عادتیں!!کیا ہم ایک قوم بننے کے عمل میں ناکام ہوگئے، کیا ہم کبھی تبدیل بھی ہوں گے؟ اگر حج کی عالمگیر عبادت بھی ہماری اصلاح میں ناکام ہے، تو پھر کب او رکہاں؟ دل اُداس ہے، مسافر آزردہ!! یہ نہیں کہ حکام ہمارے ساتھ سلوک کیا کرتے ہیں، یہ بھی کہ ہم اپنے ساتھ خود کیسے ہیں؟

وزارتِ مذہبی امور ایک گورکھ دھندا ہے اور کچھ نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام نے اپنے اکابرین کی روش ترک کردی۔ محض مذہبی تعصب کی بناء پر اُن کی حمایت ایک گناہ لگتی ہے۔ یہ وہ لوگ نہیں جو کبھی انار کے درخت کے نیچے ایک چٹائی پر بیٹھ کر قال اللہ و قال الرسول کا درس لیتے اور دیتے تھے۔ جن کی تربیت مولانا قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی نے کی تھی۔ یہ جاہ پسندوں اور” مترفین” کا اب ایک ٹولہ ہے۔ افسوس اُنہیں احساس ہی نہ تھا کہ حج کے لیے آنے والے عازمین و زائرین کا رخ عبادتوں کی جانب کیسے مرتکز رکھنا ہے؟ اُ ن کا سارا انتظام دراصل حاجیوں کی عبادت میں خلل ڈالتا تھا۔ منیٰ اور عرفات کے مایوس کن انتظامات کے حوالے سے تو وفاقی سیکریٹری مذہبی امور آفتاب اکبر درانی نے ڈی جی حج مشن جدہ ابرار احمد مرزا سے وضاحت طلب کر لی ۔سب جانتے ہیں یہ معاملہ اُن تک محدود نہیں تھا۔ اور بدانتظامی صرف منیٰ اور عرفات تک محدود بھی نہ تھی۔ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ بڑی سطح کے انتظامات میں خود وفاقی سیکریٹری اور وزیر مذہبی امور شامل نہ رہے ہوں؟ جو لوگ اسٹیبلشمنٹ کے گورکھ دھندوں کو سمجھتے ہیں ، وہ یہ بھی جانتے ہیںکہ اس طرح کی وضاحت طلبی دراصل مسئلے پر ”مٹی پاؤ” کی نفسیات سے محض ایک ضابطے کی کارروائی ہوتی ہے۔ حج کے انتظامات وزارت کو زندگی میں ایک بار نہیں بلکہ ہر سال کرنے ہوتے ہیں تو پھر ایک ہی طرح کی بدانتظامی بار بار دیکھنے کو کیوں ملتی ہے؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ انتظامیہ کو اس نوع کی کوتاہیوں کو دور کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ منیٰ اور عرفات کی بدانتظامیاں تو اس سطح پر پہنچ گئی تھیں کہ حجاج انتظامیہ کو ننگی گالیاں دینے پر اُتر آئے تھے۔ جن کو گالیاں دی جائیں، اگر اُنہیں اس کا ثواب ملتا ہے تو یقین جانیں اس عرصے میں مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف نے بہت ”ثواب” کمایا ۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ لوگ ہاتھ اُٹھااُٹھا کر بددعائیں بھی دے رہے تھے۔ منیٰ کے خیموں تک پہنچنے کے لیے چند منٹوں کا سفر گھنٹے بھر کا بنادیا، اور چند فرلانگ کا سفر راستا بند کرکے کئی کلومیٹر پر محیط کردیا گیا، یہ معاملہ ذمہ دار وں کی سطح پر صرف دو منٹوں میں حل ہوسکتا تھا اگر مسجد خیف کے قریب سے منیٰ میں قائم خیموں کا سیدھا راستا پاکستانیوں کے لیے کھول دیا جاتا جو دوسروں کے لیے کھولا جاتا تھا مگر پاکستانیوں کے لیے نہیں۔ افسوس حکام کو توجہ دلانے پر بھی یہ نہیں کیا گیا ، اس کی وجہ انتہائی شرمناک ہے۔ پاکستانی کسی بھی سطح پر” عربوں” سے بات کرنے کی ہمت ہی نہیںکرپاتے ۔ تمام پاکستانی حکام اس معاملے میں عربوں سے بات کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ عرب بنگالی اور بھارتی مسلمانوں کو جو تکریم دیتے تھے، وہ پاکستانیوں کو نہ ملتی تھی۔ ایسے مناظر خال خال ہی دیکھنے کو ملتے جب کسی بنگالی یا بھارتی مسلمان کی بے توقیری ہوتی مگر پاکستانی ہر جگہ دھکے، مکے کھارہے تھے۔ افسوس انتظامیہ ان شکایتوں پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتی تھی۔منیٰ اور عرفات کی شکایتیں ، شکایتیں ہی رہیں اس پر کوئی شنوائی نہیں ہوسکی۔

مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک چالیس دنوں کے سفر میں انتظامیہ نے حجاج کو اپنی مرضی سے ہانکا لگایا۔ ظاہر ہے اس سفر میں بنیادی چیز عبادت ہے۔ حجاج اپنے پورے نظام الاوقات کو حرم کی نمازوں ، مکہ میں طواف کی برکتوں اور مدینہ میں چالیس نمازوں کی ترتیب سے لے کر سرکار رسالت مابۖ کے دربار میں حاضری اور ریاض الجنة میں نفل کی سعادت سے بہرہ مندہونے کی نیت سے ترتیب دیتے ہیں۔ مگر پاکستانی انتظامیہ اس پورے عمل سے بالکل بے خبر تھی۔ اُن کے کھانے پینے کے شیڈول سے لے کر ٹرانسپورٹ کے نظام تک اس کا کوئی لحاظ ہی نہیں رکھا گیا۔ مکہ مکرمہ میں تو کسی حد تک کھانے کے معاملات کو مقامی ذمہ داروں نے حجاج کی بات کو سمجھ کر نرم کردیا۔ مگر مدینہ منورہ کے فندق الاندلس میں ایک باتونی اور گھامڑ قسم کے آدمی کے ہاتھ میں کھانے کے انتظامات تھے۔ جہاں دوسرے ہی دن پٹھان بھائیوں نے احتجاج کیا۔ اور وہ احتجاج کی ویڈیو اے آر وائی کو دینے پر بضد تھے، جس پر بمشکل قابو پایا گیا۔ الاندلس سمیت تمام ہوٹلوں میں ہزاروں حاجیوں کو ٹھونس ٹھونس کر کمروں میں ڈالا گیا۔ جہاں لفٹیں خراب تھیں۔ چودہویں فلور سے لوگ اپنی نمازوں کی ترتیب سنبھالنے کے لیے ہانپتے کانپتے سیڑھیوں پر چڑھتے اُترتے نظر آتے تھے۔ یہ وہ ہوٹل تھا جو کورونا پابندیوں سے دوسال سے بند تھا، مگر یہاں حاجیوں کو ٹھونسا گیا اور بلڈنگ کی دیکھ بھال اور مرمت کے کام اس دوران انجام دیے جاتے رہے۔ یہاں بھی ہوٹل انتظامیہ سے بات کرنے سے حج مشن کے لوگ کتراتے رہے۔ سب سے بڑی بدانتظامی کھانے پر دیکھی گئی۔ یہاں تک کہ بہت سے حجاج کرام نے اپنی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے یہاں کھانا ہی ترک کردیا۔

مکہ مکرمہ میں سب سے بڑی بدانتظامی ٹرانسپورٹ کی سطح پر تھی۔ اجیاد روڈ سے حرم آتے ہوئے پاکستانیوں کو پہلے جو ٹرمینل دیا گیا وہ دو تین دنوں بعد واپس لے لیا گیا۔ انتظامیہ صابر شاکر رہی۔ اب وہ جس ٹرمینل سے بسوں پر اُترتے چڑھتے، وہ زیادہ دور جاکر خطرناک حد تک بھیڑ کا شکار رہتا۔ اس کے لیے ایسی ہڑبونگ مچی رہتی کہ دیکھتے ہوئے بھی شرم آتی، چہ جائیکہ آپ اس کے خود شکار بھی ہوں۔ یہ بات شاید ہی کسی کی سمجھ میں آسکے کہ اس ہڑبونگ میں عورتوں اور مردوں کی بدحالی کے باعث کافی لوگوں نے عشاء کی نماز حرم میں پڑھنا چھوڑ دی۔جبکہ کچھ لوگوں نے عشاء کے فوراً بعد حرم سے آنا ملتوی کردیا اور عشاء کے بعد ہوٹل میں ملنے والے کھانے کو بھی قربان کردیا۔ یہ اذیت ناک عمل عورتوں کو پڑنے والے دھکوں سے اور زیادہ کریہہ لگتا۔ اس صورتِ حال پر چندانتظامی اقدامات سے قابو پایا جاسکتا تھا۔ مگر سب بس دن گزارنے اور جیسے تیسے کام پورا کرنے پر لگے تھے۔ چنانچہ انتظامیہ اصلاح کے لیے دی جانے والی تجاویز کو سننے پر بھی تیار نہ تھی۔
(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر وجود اتوار 02 اکتوبر 2022
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر

چالیں اور گھاتیں وجود هفته 01 اکتوبر 2022
چالیں اور گھاتیں

ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے

وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟

بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں وجود بدھ 28 ستمبر 2022
بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں

چند ان کہی کہانیاں وجود منگل 27 ستمبر 2022
چند ان  کہی کہانیاں

اشتہار

تہذیبی جنگ
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی

برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف وجود پیر 19 ستمبر 2022
برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف

بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور وجود جمعه 16 ستمبر 2022
بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق  چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور

بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے

نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے

اشتہار

بھارت
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ

مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا

بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی
افغانستان
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ

قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ وجود هفته 24 ستمبر 2022
قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ

یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا

افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق وجود پیر 22 اگست 2022
افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے وجود پیر 26 ستمبر 2022
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے وجود پیر 19 ستمبر 2022
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے

ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں وجود جمعرات 08 ستمبر 2022
ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی