وجود

... loading ...

وجود
وجود

وقت بہت بے رحم ہے!!

جمعرات 22 ستمبر 2022 وقت بہت بے رحم ہے!!

پرویز مشرف کا پرنسپل سیکریٹری اب کس کو یاد ہے؟ طارق عزیز!!تین وز قبل دنیائے فانی سے کوچ کیا تو اخبار کی کسی سرخی میں بھی نہ ملا۔
خلافت عثمانیہ کے نوویں سلطان سلیم انتقال کر گئے، نوروز خبر چھپائی گئی، سلطنت کے راز ایسے ہی ہوتے ہیں، قابل اعتماد پیری پاشا نے سلطان کے کمرے سے کاغذ سمیٹے تو اُنہیں دو مصرعے پڑھنے کو ملے: شکاری جب شکار کو نکلتے ہیں تو پوچھتے ہیں حقیقت میں شکاری کون ہے اور شکار کون”؟ قزّاقِ اَجَل کی نظروں سے کبھی دیکھا نہیں، طارق عزیز خود کو شکاری سمجھتے تھے۔ مگر ہائے یہ وقت!!
طارق عزیز سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے قریبی ساتھی تھے۔ ان کے مشیر ہی نہ رہے، قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری بھی بنا دیے گئے ۔ مشرف کے دور میں وہ اُن لوگوں میں شامل تھے، جنہیں بے پناہ طاقت حاصل تھی۔ ایک سابق انکم ٹیکس افسر پر اختیار و اقتدار کی راہداریاں یوں کھلیں کہ پرویز مشرف کے کالج دوست تھے۔ دونوں ایف سی کالج لاہور میں پڑھتے رہے۔ مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد طارق عزیز ،جنرل کا سیاسی پہیہ بنے۔ صرف اتنا ہی نہیں، وہ ایک ایسے سوداگر بنے جن کا کام میجر جنرل احتشام ضمیر کے ساتھ مل کر ایک ”فوج حامی سیاسی اتحاد” قائم کرنا تھا۔ یہ کام سیاست دانوں کی صرف رضامندی سے نہیں بلکہ اُنہیں مجبور کرکے بھی کیا جاتا۔ 2002ء کے عام انتخابات سے پہلے اور بعد میں ایسے ”وفادار” تیار کیے گئے، جو جرنیلی بندوبست کو ٹھیلنے کے لیے سیاسی پہیوں کا کام کرتے رہے۔ اصحاب ق کا ذکر چھوڑئیے، چودھری برادران کو بھی رہنے ہی دیجیے!دو سیاست دانوں کو یاد کرتے ہیں، جو اب کٹی پتنگ کی طرح ایک سے دوسرے ہاتھ دکھائی دیتے ہیں۔ آفتاب شیر پاؤ اور مخدوم فیصل صالح حیات۔ آدمی کو کیا سوچنا چاہئے اگر وہ دو مرتبہ وزیراعلیٰ کے منصب پر رہا ہو، ایک بہتر میراث ، جسے آنے والی نسلیں اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔ مگر سیاست دان کوئی موقع فراموش نہیں کرتے، کسی کوبھی باری نہیں دینا چاہتے۔ آفتاب شیر پاؤ منظم استبداد سے حکومت پر قبضہ دیکھتے ہوئے 1999ء میں پاکستان سے فرار ہو گئے۔ مگر پاکستان میں جو مواقع ملتے ہیں، وہ باقی دنیا میں کہاں؟ چنانچہ دل مچلتا ہے۔ آفتاب شیر پاؤ ، مشرف کے انسدادِ بدعنوانی کے ادارے ( جو دراصل بدعنوانی کے بھاؤ تاؤ کی سیاسی دُکان تھی) سے “دل بہلانے” کے بعد وزیر پانی و بجلی اور پھر وزیر داخلہ بنائے گئے۔ مخدوم فیصل صالح حیات کا معاملہ بھی مختلف نہ تھا۔ وہ سرکاری بینکوں سے قرضے ہڑپ چکے تھے۔ ایک نادہندہ کے طور پر جیل کی ہوا کھا چکے تھے۔ اُنہیں میرٹ پر پیپلزپارٹی کے ثابت قدم رہنما بنانے کے لیے یہ کوائف کچھ کم شاندار نہیں۔ مگر ایسے ہی کوائف فوج حامی سیاسی اتحاد کی بھی ضرورت تھے۔ اب یہاں پیپلزپارٹی کے زرخیز مالی مواقع یا عسکری پھندے سے گردن بچانے میں سے کسی ایک کا انتخاب درپیش تھا۔ تعاقب میں طارق عزیز اور احتشام ضمیر تھے۔ اُنہوں نے سوچا گردن بچے گی تو زرخیز مواقع بھی میسر آجائیں گے۔ چنانچہ پیٹریاٹ کی عجیب وغریب ترکیب پیپلزپارٹی کے نام کے ساتھ ایک لاحقے کے طور پر لگا کر اُن کے حوالے کر دی گئی۔ اُنہیں بھی وزیر داخلہ اور وزیر ماحولیات کے طور پر قوم کی “خدمت” کے مواقع ملے۔ انصاف ، قانون اور دولت سے مناصب اور عہدوں کا کوئی فولادی دھاگے سے تعلق جڑا ہوا ہے، جو ٹوٹتا نہیں۔ چنانچہ قانون کو مطلوب لوگ اچانک اقتدار پر طلوع ہو جاتے ہیں، اس دوران میں وہ تھوڑی دیر کے لیے احتساب کے آرام گھر میں سستانے جاتے ہیں۔ پاکستان میں وزارتوں اور احتسابی اداروں کے درمیان ایک نامیاتی تعلق ہے، جو سب کو نظر آتا ہے، صرف عدالتوں کو نہیں۔ چنانچہ مشرف دور میں کوئی سیاسی شخصیت احتسابی اداروں کی گرفت میں آتی تو سرکاری ٹھکیدار فوراً اُن کے رشتہ داروں سے دوستیاں گانٹھنے لگ جاتے کہ اور کچھ نہیں تو کوئی نہ کوئی وزارت ضرور لے مرے گا۔
آپ بھول نہ گئے ہوں تو جنرل مشرف کے ایک چیف آف اسٹاف ہوتے تھے، جنرل حامد جاوید۔ تنہائی پسند تھے، مگر طاقت کے استعمال میں دبنگ بھی، چنانچہ پس ِ منظر میں رہ کر بروئے کار رہتے۔ مگر اسلام آباد کے زون فور کو ریگولرائز کرانے کے تنازع سے خود کو نہ بچا سکے۔طارق عزیز اور حامد جاوید دونوں ہی اس میں ملوث رہے۔ فیصل صالح حیات تب اپنی وزارت داخلہ سے فراغت کو اس معاملے میں رکاؤٹ بننے سے منسلک کرتے تھے۔ بھارت کے ساتھ تب “بیک چینل ڈپلومیسی” کا بڑا غلغلہ تھا۔ سابق وائس چیف جنرل(ر) یوسف پر بھی مختلف الزامات عائد ہوتے رہے۔ مگر ایک الزام وہ بھی اپنے ”باس” پر لگاتے تھے کہ بھارت کے ساتھ “بیک چینل ڈپلومیسی” کی دوڑیں طارق عزیز کے ہاتھ میں تھیں۔ تب سی جی ایس کے طور پر بروئے کار لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کا یہ انکشاف اب اپنی تازگی کھو چکا ہے کہ “باس یکطرفہ فیصلے کرتے تھے”۔ بھارتی سفیر آنجہانی ستیندر کمار لامبا اور طارق عزیز دراصل اُس بغیر دستخط “نان پیپر” کی تیاری میں ملوث تھے، جس سے کشمیر مسئلے کو نمٹایا جانا تھا۔ یہ ایک مشکوک مشق تھی، جس کی تائید کبھی مردِ حریت سید علی گیلانی مرحوم نے نہیں کی۔ یہ راز بعدازاں جنرل شاہد عزیز سے منکشف ہوا کہ اس ضمن میں کورکمانڈرز سے بھی معاملات چھپائے گئے۔ یہاں تک کہ بعض اہم فیصلے بھی فوج کے اس اہم ترین ادارے کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے۔
جنرل (ر) شاہد عزیز ، طارق عزیز کے ایک ٹیلی فون کا بھی ذکر کرتے رہے، جب وہ چیئرمین نیب تھے۔ وہی بدعنوانوں کے حکومت میں جانے سے پہلے کا آرام گھر۔ طارق عزیز نے فرمایا: صدر نے بے نظیر بھٹو کے خلاف تمام مقدمات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چنانچہ آپ تمام تحقیقات ختم کردیں”۔ شاہد عزیز سے جیسے توقع کی جاسکتی تھی، اُنہوں نے منع کیا۔ جنرل(ر) شاہد عزیز کو طارق عزیز کے دوسرے فون کا سامنا کرنا پڑا جس میں اُنہیں کہا گیا کہ “ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ مقدمات بند نہیں کرتے تو استعفیٰ دے سکتے ہیں”۔ شاہد عزیز نے وضاحت چاہی کہ یہ “ہم” کون ہیں، جس نے فیصلہ کیا۔ طارق عزیز نے نام لیے: طارق عزیز(یعنی وہ خود) جنرل حامد جاوید اور جنرل کیانی (آئی ایس آئی چیف)۔ بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان ہونے والے معاہدے کے سب سے اہم کھلاڑی طارق عزیز ہی تھے۔ جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے مابین مفاہمت کی کہانی تو خود بے نظیر بھٹو کی اپنی آخری کتاب میں تفصیل سے موجود ہے، مگر اس کا پورا راستہ ہموار کرنے والے یہی طارق عزیز تھے۔ اقتدار کی راہداریوں میں حشرات الارض کی طرح رینگتی سازشوں سے جنمتی اس “مفاہمت” نے احتساب کی رہی سہی آبرو بھی باقی نہ رہنے دی۔ مشرف دور کے اکثر معاملات کے پیچھے کارگزار طاقت طارق عزیز کی تھی۔ جن کی ذاتی زندگی وحشتوں اور شہوتوں میں لتھڑی ہوئی تھی۔ ریس کلب کے جوئے اس کی محض ایک جھلک تھے۔ مگر اس سے بہت آگے کی داستانیں جو سنائی جائیں تو آدمی کو دم بخود کردیتی ہے۔ طارق عزیز کی طاقت سب سے بڑھ کر تھی۔ ایسے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے لوگ کہاں سے نمودار ہوتے ہیں، کیوں اتنی طاقت پالیتے ہیں؟ پورا نظام اور ادارے منہ تکتے کیسے رہ جاتے ہیں؟ اس پُرکاری و فنکاری کے پیچھے “قوت محرکہ” کیا ہوتی ہے؟ پھر وہ اپنے پیچھے کیا چھوڑ جاتے ہیں؟ سلطنت عثمانیہ میں بادشاہ کی تبدیلی حضرت ابوایوب انصاری کی درگاہ پر ہوتی تھی جہاں شہزادے کی کمر پر خاندانِ عثمانیہ کی تلوار باندھی جاتی۔ سلطان سلیم کے بعد جب سلیمان عالی شان کی کمر سے تلوار باندھ دی گئی تو نئے سلطان نے اپنے خاص الخاص کے لیے جسے منتخب کیا وہ ایک یونانی تھا، ابراہیم یونانی۔ حاضر دماغ۔ یونانی تو اس کی مادری زبان تھی، مگر اطالوی، ترکی اور فارسی پر بھی ہاتھ صاف کرلیا تھا۔ وہ اپنے بادشاہ کو فارسی شعر سناتا، دانتے کی نظمیں پڑھتا۔ سلیمان عالی شان کے دل میں آنے والے خیال کو وہ شعر کے مضمون میں بیان کرتا۔ ایک روز کہا: محلوں کو بنانے سے کیا فائدہ، جب انجام کار اُن کو ویرانوں میں تبدیل ہوناہے”۔ تب سلطان نے پوچھا:پھر باقی کون سی چیز رہ جائے گی؟ابراہیم یونانی کا جواب تھا: دانش مندی، یہ راگ جو میں گا رہا ہوں اور انگورہ کی بکریاں”۔ ابراہیم یونانی کو تو کیا رہنا تھا، سلیمان محتشم بھی نہ رہے۔ کشمیر کے نان پیپر کا سازشی دماغ ستیندر لامبا آنجہانی ہوگیا۔ مگر علی گیلانی مردِ حریت کہلاتا ہے، صداقت اور بہادری کے ایک لہکتے استعارے میں جیتا ہے۔ مگر طارق عزیز کی زندگی میں اس کے آگے ہاتھ باندھنے والے اُس کی نماز جنازہ میں شامل نہ ہوئے۔ وہ اخبار کی بڑی سرخیوں میں بھی نہ ملا۔
دولت اور مناصب کی لالچ ایسی چیز ہے، جس کے لیے لوگ آخرت بیچنے کو تیار ہوتے ہیں۔ خلق خدا کی لعنتوں کا طوق گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ افتادگان خاک کی بددعائیں گوارا کرتے ہیں۔
زندہ اور مردہ لوگوں میں فرق سانسوں کے آنے اور جانے سے نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ مر جاتے ہیں ،مگر وہ زندوں سے زیادہ زندہ رہتے ہیں۔ اور کچھ زندہ ہوتے ہیں، مگر اُن کا شمار مردہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ درحقیقت زندگی ایک برتر مقصد کے ساتھ ہی بامعنی بنتی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر سانسیں لینے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ وقت ایسے لوگوں کو چھان کر نسیان کے حوالے کردیتا ہے۔ ایسے لوگ اپنے پیچھے صرف عبرت کے کچھ نقش چھوڑتے ہیں۔ اطلس و کمخواب کی پوشاکیں یہیں رہ جاتی ہیں اور تنِ بے جان ایک خاکی کفن سے اپنی عریانی ڈھانپتا ہے، پھر وہ بھی نہیں رہتا۔ کیا باقی رہ جاتا ہے، سلیمان عالی شان کے پاس جو اب تھا، طارق عزیز کے پاس نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مبینہ ملاقات وجود - پیر 19 ستمبر 2022

مقتدر حلقوں میں جاری سیاست دائم ابہام اور افواہوں میں ملفوف رہتی ہے۔ یہ کھیل کی بُنت کا فطری بہاؤ ہے۔ پاکستان میں سیاست کے اندر کوئی مستقل نوعیت کی شے نہیں۔ سیاسی جماعتیں، اقتدار کا بندوبست، ادارہ جاتی نظم، فیصلوں کی نہاد ، مقدمات اور انصاف میں ایسی کوئی شے نہیں، جس کی کوئی مستقل...

مبینہ ملاقات

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے وجود - پیر 19 ستمبر 2022

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے۔ خاندانی ذرائع نے پرویز مشرف کے سابق پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز کے انتقال کی تصدیق کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق طارق عزیز کئی ماہ سے علیل اور اسلام آباد کے ہسپتال میں زیر علاج تھے، وہ قومی سلامتی کونسل کے سی...

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے

ملکہ الزبتھ، استعمار کا مکروہ چہرہ وجود - جمعه 16 ستمبر 2022

پاکستانی حکومت نے 12 ستمبر کو قومی پرچم سرنگوں کرلیا۔ یہ ملکہ برطانیا الزبتھ دوم کی موت پر یومِ سوگ منانے کا سرکاری اظہار تھا۔ ہم بھی کیا لوگ ہیں؟ ہمارے لیے یہ یوم سوگ نہیں، بلکہ استعمار کو سمجھنے کا ایک موقع تھا۔ یہ اپنی آزادی کے معنی سے مربوط رہنے کا ایک شاندار وقت تھا۔ یہ ایک ...

ملکہ الزبتھ، استعمار کا مکروہ چہرہ

رفیق اور فریق کون کہاں؟ وجود - منگل 23 اگست 2022

پاکستانی سیاست جس کشمکش سے گزر رہی ہے، وہ فلسفیانہ مطالعے اور مشاہدے کے لیے ایک تسلی بخش مقدمہ(کیس) ہے ۔ اگرچہ اس کے سماجی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ مگر سماج اپنے ارتقاء کے بعض مراحل میں زندگی و موت کی اسی نوع کی کشمکش سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ پاکستانی سیاست جتنی تقسیم آج ہے، پہلے کب...

رفیق اور فریق کون کہاں؟

حوادث جب کسی کو تاک کر چانٹا لگاتے ہیں وجود - پیر 14 فروری 2022

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزراء کی فہرستِ کارکردگی ابھی ایک طرف رکھیں! تھیٹر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ سماجی روز مرہ اور زندگی کی سچائی آشکار کرنے کو سجایا جاتا ہے۔ مگر سیاسی تھیٹر جھوٹ کو سچ کے طور پر پیش کرنے کے لیے رچایا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سوانگ بھرنے کے اب ماہر...

حوادث جب کسی کو تاک کر چانٹا لگاتے ہیں

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شا...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

خاتمہ وجود - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کو...

خاتمہ

جوتے کا سائز وجود - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر ل...

جوتے کا سائز

نوگیارہ وجود - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی...

نوگیارہ

دائرے وجود - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی ...

دائرے

آزادی سے بیگانگی وجود - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گ...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے وجود - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے ت...

دہشت ناک رویے

مضامین
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر وجود اتوار 02 اکتوبر 2022
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر

چالیں اور گھاتیں وجود هفته 01 اکتوبر 2022
چالیں اور گھاتیں

ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے

وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟

بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں وجود بدھ 28 ستمبر 2022
بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں

چند ان کہی کہانیاں وجود منگل 27 ستمبر 2022
چند ان  کہی کہانیاں

اشتہار

تہذیبی جنگ
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی

برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف وجود پیر 19 ستمبر 2022
برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف

بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور وجود جمعه 16 ستمبر 2022
بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق  چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور

بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے

نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے

اشتہار

بھارت
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ

مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا

بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی
افغانستان
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ

قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ وجود هفته 24 ستمبر 2022
قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ

یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا

افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق وجود پیر 22 اگست 2022
افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے وجود پیر 26 ستمبر 2022
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے وجود پیر 19 ستمبر 2022
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے

ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں وجود جمعرات 08 ستمبر 2022
ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی