وجود

... loading ...

وجود

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

جمعه 21 جنوری 2022 تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

روئیداد خان نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک جملے میں احاطہ کرتے ہوئے لکھا تھا:زینے کے اوپر چڑھتے ہوئے بھاری بھرکم بوٹوں کی آوازاور زینے سے اترتے ہوئے نرم ونازک ریشمی جوتوں کی سرسراہٹ”۔ اب کچھ تبدیلی ہے، زینے پر چڑھتے بھاری بھرکم بوٹ اب نرم ونازک ریشمی جوتوں کی سی بھی سرسراہٹ پیدا نہیں کرتے۔حالیہ دنوں میں تبدیلی سرکار خود ”تبدیلی ” کی افواہوں سے دوچار ہے۔ تحریک انصاف کا ہانگا چھوٹ رہا ہے۔ عمران خان کی سیاست آدرش سے موقع پرستی تک کے سفر کی کہانی سناتی ہے۔ عمران خان کے لاہور میں 2011 ء کے تاریخی جلسے سے عروج کا جو سفر شروع ہوا تھا، وہ اب ڈھلوانوں کی جانب گامزن ہے۔ عمران خان فراموش کرگئے تھے، سیاسی جماعت کرکٹ کی ٹیم نہیں ہوتی جس میں ہر کھلاڑی ”میچ” کھیلنے کے لیے ایک ہی ٹیم کے جبر میں مبتلا رہتا ہے۔ سیاست کے کھلاڑی ساری ٹیموں اور پچ کے دونوں طرف کھیلنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کی ہموار سیاست میں لوگوں کے رجحانات دو طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ رہنما اپنے اُصولوں کی خاطر جماعت بدل لیتے ہیں تو کچھ اپنی جماعت کی خاطر اُصول تبدیل کردیتے ہیں۔ پاکستان میں جماعت اور اُصول میںسے کوئی چیز ترجیح نہیں رکھتی۔ یہاں ذاتی منفعت اور مفادات کی نگرانی میں سیاسی جماعتوں کا انتخاب اور اُصولوں کی عیاشی پالی جاتی ہے۔ 2011 ء کی کہانی بھی مختلف نہ تھی جب اچھل کود کی سیاسی ثقافت سے وابستہ رہنما تحریک انصاف میں خیمے گاڑنے لگے۔دراصل یہ ایک موقع تھا، جب سارے پرندے اڑان بھرتے ہوئے تحریک انصاف کی منڈیر پر جابیٹھے۔ اشارہ دینے والے اشارہ دے رہے تھے، اور دھکا دینے والے دھکا۔ عمران خان تب اقتدار کے لیے آدرش کو فراموش کرکے ”الیکٹ ایبل” کی سیاست میں پڑے۔ اب اُنہیں ”الیکٹ ایبل” کی سیاست کا بھگتان دینا ہے۔تحریک انصاف کے رہنما ان دنوں پورس کے ہاتھی بنے اپنی ہی صفوں کو روندنے میں لگے ہیں۔ مگر یہ خلاف توقع نہیں۔ سیاسی جماعتوں کی بِنا پائیدار نہیں۔ سیاست دانوں کی اُچھل کود کی ثقافت کے رنگ بہت گہرے ہوچکے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہم عیب کو اب عیب بھی نہیں سمجھتے۔ عادت کی عادت یہ ہے کہ وہ نیک وبد کا احساس چاٹ لیتی ہے۔

تحریک انصاف کے دو اہم رہنما اختلافات کے تاثر کے ساتھ منظر عام پر اُبھرے۔ پرویز خٹک نے براہِ راست عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس سے قبل تحریک انصاف میں یہ جرأت کسی کو نہیں ہوئی۔ منی بجٹ کو منظور کرانے کی ”مجبوری” کا فائدہ حکومتوں کے اتحادیوں نے بھی خوب اُٹھایا۔ ایم کیوایم ، جی ڈی اے تو خیر کسی کھیت کی مولیاں ہیں، مگر اصحاب ق نے تو گھاٹ گھاٹ کا پانی گھونٹ گھونٹ پیا ہے۔ پرویز مشرف کے عہد میں احتساب بیورو کی ”التجاؤں” اور جنرل احتشام ضمیر کی ”ترغیب” سے” ضمیر ”جگانے والوں نے اب تک سیاست کے اُس ”ضمیر” کو زندہ رکھا ہے جس میں دام کھرے اور سکے کھوٹے رکھے جاتے ہیں۔ سیاست کے سینے میں دل اور آنکھ میں حیا پیدا نہیں ہونے دی جاتی۔ دونوں ہاتھ میں لڈو نہ ہوں تو حکومت سے ہاتھ کرنے کی ترکیب کی جاتی ہے۔ چنانچہ اصحاب ق نے منی بجٹ کی منظوری پر حکومت سے جو پانا تھا ، پایا۔ وزیراعظم مجبورِ محض ہو کر چودھری مونس الٰہی سے ملاقات پر مجبور ہوئے۔ اس سے قبل وہ اُنہیں کوئی وزارت دینے کو تیار نہ تھے۔ پھر عمران خان اپنی سیاسی کمزوریوں کو جوں جوں ظاہر کرتے گئے، لاچاری کے عالم میں اتحادیوں کے مطالبات بھی مانتے گئے۔چودھری مونس الہٰی نے 19 جولائی 2021ء کو وفاقی وزارت کا حلف اُٹھا کر آبی وسائل کا قلمدان سنبھالا، تب عمران خان کی حکومت کو ایک ماہ کم تین سال ہوچکے تھے۔ اس عرصے میں ق لیگ نے عمران خان کی حکومت کی تمام کمزوریوں اور مشکل دنوں میں اپنا وزن بڑھایااور اُنہیں مجبورِ محض بنادیا۔ پھر بھی کہاں! عمران خان کو کہاں یہ اب تک اندازا ہوسکا ہے کہ سیاست کے کھیل میں ٹیم کا انتخاب کپتان کی مکمل صوبداید پر نہیں ہوتا۔ خدارا عمران خان کے وہ دعوے یاد نہ کیجیے گا کہ وہ ٹیم کا انتخاب اپنی مرضی سے کریں گے۔ اور اُنہیں کوئی مجبور یا بلیک میل نہیںکرسکتا۔ البتہ محاوروں سے مناسبت رکھنے والے ذہن یاد رکھتے ہیں: اونچی دُکان پھیکا پکوان!!

کون نہیں جانتا کہ عمران خان کے ساتھ اُن کے اتحادی اُن کی کسی اہلیت یا بصیرت کے باعث نہیں، بلکہ ایک ایسے بندوبست کے سبب ہیں جس کی کاریگری یا بُنت میں اُن کا حصہ کبھی نہیں رہا۔عمران خان نے وزیراعظم بننے کے لیے مطلوبہ ہندسہ کسی سیاسی جتن سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے بطن سے حاصل کیا تھا۔ عمران خان کے اتحادی آج بھی اسی باعث برقرار ہیں۔ چنانچہ منی بجٹ یا اس طرح کے مشکل اوقات میں وہ حکومت کو آنکھیں دکھا کر اپنا وزن ضرور ظاہر کرتے ہیں ، مگر اپنے ذاتی اہداف پا کر دستورِ زباں بندی خود پر نافذ کر لیتے ہیں۔ اتحادی جماعتیں ، عمران خان کی تحریک انصاف کی چھتری تلے دراصل کسی سیاسی ایجنڈے پر نہیں بلکہ ایک” ہانکے” کی بنیاد پر اکٹھی ہیں۔ عمران خان کی حکومت کتنی ہی نامقبول ہو، اتحادی جماعتیں کسی بھی فیصلے کے لیے ”ہانکا ہانکی” والی قوتوں کے اشارے کا انتظار کرینگیں۔ یہ منظر کسی حیرت میں مجسم نہیں ہوتا کہ گزشتہ تین برسوں میں عمران خان نے کسی اتحادی جماعت کو منہ نہیں لگایا۔ پارلیمنٹ میں ووٹ کے وقت اتحادی جماعتوں سے کیا معاملات ہوتے رہے، یہ پیشِ منظر میں دکھائی نہ دیتے تھے۔ عمران خان اور وفاقی وزراء کو اتحادیوں کو سمجھانے کا ”بوجھ” ڈی جی آئی ایس آئی کی نئی تقرری پر پیدا ہونے والی ناپسندیدہ مشق کے بعد سے اُٹھا نا پڑرہا ہے۔ چنانچہ منی بجٹ کی منظوری سے پہلے اتحادی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے سلسلے نے یہ بات تو واضح کردی کہ اب یہ بوجھ عمران خان کو خود اُٹھانا ہے۔ تاہم اتحادی عناصر حکومت کے شیرازے کو بکھیرنے کا عزم پھر بھی نہیں پال سکتے ، یہ عزم ، کسی اشارے یا اِذن کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

اتحادی جماعتوں کے برعکس تحریک انصاف کی اندرونی حالت عمران خان کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ پرویز خٹک اور نور عالم خان نے خطرے کی جو گھنٹی بجائی ہے، وہ پہلے ہی سے جماعت کے اندرونی حلقوں میں بج رہی تھی، بس سنائی نہیں دے رہی تھی۔تحریک انصاف کا رویہ نور عالم خان اور پرویز خٹک کے باب میں مختلف ہے۔ نور عالم خان نے براہِ راست عمران خان کو نشانا نہیں بنایا۔ اُن کی تنقید کا ہدف حکومتی نشستوں پر براجمان گلی صفوں کے لوگ تھے۔ مگر تحریک انصاف نے ”اظہاروجوہ” کی سوغات ہی نہیں بھیجی بلکہ اُنہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ دوسری طرف پرویز خٹک نے براہِ راست عمران خان کو نشانا بنایا۔ اُن کا انداز تحقیر آمیز تھا۔ یہاں تک کہ عمران خان کو پارلیمانی اجلاس میں یہ کہنا پڑا کہ مجھے کوئی بلیک میل نہیں کرسکتا، فیصلہ کر لیں ،میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب کسی اور کے حوالے کردیتا ہوں۔ کہنے والے اِسے بھی کسی اشارے پر محمول کررہے ہیں۔ افواہ تراشوں کے نزدیک ”سامری” کے بچھڑے میں جان یوں ہی نہیں پڑی، اس میں کسی ”جادو” کا دخل ہے۔ اس سے قطعِ نظر تحریک انصاف کا رویہ پرویز خٹک کے ساتھ انتہائی مودبانہ اور عاجزانہ ہے۔ خود وزیراعظم عمران خان دو روز بعد ایک پروگرام میں خیبر پختونخوا تشریف لے گئے تو اُنہوں نے وہاں پرویز خٹک کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے۔ سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کا رویہ نور عالم خان اور پرویز خٹک کے معاملات میں الگ الگ کیوں ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ پارٹی سیاست پر گرفت کا مسئلہ ہے۔ پرویز خٹک خیبر پختونخوا میں پارٹی سیاست پر اپنی گہری گرفت رکھتے ہیں، اور اُن کے ساتھ کوئی چھیڑچھاڑ مہنگی پڑ سکتی ہے۔ عمران خان اپنی نامقبولیت کے ان بدترین ایام میں ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے جو تحریک انصاف کی اندرونی دراڑوں کو مزید گہرا کرے۔ چنانچہ پرویز خٹک کے ساتھ معاملات سنبھالنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی جبکہ نور عالم خان کو سبق سکھانے کے تیور اپنائے گئے۔ باقی جماعتوںکی طرح یہ مختلف رویے اب تحریک انصاف کی پہچان بن چکے۔ تحریک انصاف کی اضافی مشکل یہ ہے کہ اُس کے اندرونی اختلافات کا اثر صرف جماعت کے دائرے تک محدود نہیں رہا۔ یہ اختلافات بدلتے سیاسی حالات کی تشریح و تعبیر میں استعمال ہوررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے لیے سیاسی پل صراط پر چلنے کا وقت ہو چلا ہے۔
مارچ میں ”کچھ ہونے” کے اندیشوں نے تحریک انصاف کے اندرایک کھلبلی پیدا کی ہے جو نور عالم خان سے لے کر پرویز خٹک تک کو بے چین کرگئی ہے۔ اطلاعات یہی ہے کہ یہ بے چینی تحریک انصاف کے اندر ہر ”الیکٹ ایبل” میں پائی جاتی ہے۔ گاہے بدلی رتوں میں پرندوں کی اڑانیں ”مستقر” بھلا دیتی ہے۔ تحریک انصاف کی منڈیر پر بیٹھے پرندے پہلے بھی کہاں کسی مستقر پر قیام کرتے رہے۔ کھیل اشاروں کا ہے۔ اس لیے زبانوں سے نہیں پھسلے گا۔ تحریک انصاف میں جو ”الیکٹ ایبل” اکٹھے ہوئے تھے، اب نئی سیاسی رُتوں کے تیور دیکھ رہے ہیں۔انتظار اُن ہی اشاروں کا ہے۔ جہاں تک جماعت یا اُصول کی بات ہے تو اس کی پروا یہاں کون کرتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


میرے خلاف یہ سب اکٹھے ہو گئے،ڈیزل اور اسٹوجز کی سیاست کا جنازہ ساتھ نکلے گا،عمران خان وجود - منگل 17 مئی 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم ان چوروں، غلاموں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے صرف الیکشن چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں عوام فیصلہ کریں کہ ملک کی قیادت کون کریگا، میرے خلاف یہ سب اکٹھے ہو گئے ڈیزل اور اسٹوجز ان سب کی سیاست کا جنازہ اکٹھا نکلے گا۔ ...

میرے خلاف یہ سب اکٹھے ہو گئے،ڈیزل اور اسٹوجز کی سیاست کا جنازہ ساتھ نکلے گا،عمران خان

ٹوئٹر، فیس بک کے بعد عمران خان انسٹا گرام پر بھی چھا گئے وجود - پیر 16 مئی 2022

سوشل میڈیا سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک کے بعد سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان انسٹاگرام پر بھی چھا گئے۔ وزیراعظم کے عہدے سے ہٹنے کے بعد بھی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی مقبولیت سوشل میڈیا پر برقرار بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے سوشل میڈیا فالوورز میں اضاف...

ٹوئٹر، فیس بک کے بعد عمران خان انسٹا گرام پر بھی چھا گئے

مجھے کچھ ہوا تو پاکستان کے عوام ویڈیو دیکھ کر مجھے انصاف دلائیں،عمران خان وجود - اتوار 15 مئی 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے کچھ ہوا تو پاکستان کے عوام وڈیو دیکھ کر مجھے انصاف دلانا، جن جن کے نام ویڈیو میں ہیں ان کو کٹہرے میں لانا،چوروں، لٹیروں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم اس امپورٹڈ حکومت کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے،ایف آئی اے می...

مجھے کچھ ہوا تو پاکستان کے عوام ویڈیو دیکھ کر مجھے انصاف دلائیں،عمران خان

جان سے مارنے کی سازش ہو رہی،مجھے کچھ ہوا تو ویڈیو پیغام سے سب سامنے آ جائے گا،عمران خان وجود - هفته 14 مئی 2022

سابق وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بند کمروں میں مجھے جان سے مارنے کی سازش ہو رہی ہے، اس سازش کا مجھے پہلے سے پتہ تھا، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو پوری قوم کے سامنے آئے گی۔سیالکوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہعمران خا...

جان سے مارنے کی سازش ہو رہی،مجھے کچھ ہوا تو ویڈیو پیغام سے سب سامنے آ جائے گا،عمران خان

ملکی مستقبل کا فیصلہ لندن میں بیٹھا چوروں کا ٹولہ نہیں، پاکستانی قوم کرے گی،عمران خان وجود - هفته 14 مئی 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملکی مستقبل کا فیصلہ لندن میں بیٹھا چوروں کا ٹولہ نہیں، پاکستانی قوم کریگی، حقیقی آزادی کا وقت آگیا، سیاست نہیں کر رہا، انقلاب کیلئے اسلام آباد بلا رہا ہوں، قوم بھرپور ساتھ دے، جو سازش روک سکتے تھے ان کو بتای...

ملکی مستقبل کا فیصلہ لندن میں بیٹھا چوروں کا ٹولہ نہیں، پاکستانی قوم کرے گی،عمران خان

اسٹیبلشمنٹ سے پیغامات آ رہے ہیں، نمبرز بلاک کردیے، عمران خان وجود - هفته 14 مئی 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے پیغامات آ رہے ہیں تاہم میں کسی سے بات نہیں کررہا، میں نے ان لوگوں کے نمبر بلاک کر دیے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا، تب تک کسی سے بات نہیں ہ...

اسٹیبلشمنٹ سے پیغامات آ رہے ہیں، نمبرز بلاک کردیے، عمران خان

آصف زرداری سے سندھ کو آزاد کرانا ہے،عمران خان کا جہلم جلسے سے خطاب وجود - بدھ 11 مئی 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری جماعت چاروں صوبوں کی جماعت ہے، پاک فوج اور تحریک انصاف پاکستان کو متحد رکھ رہی ہے۔ میر جعفر، میرصادق سازش میں ملوث تھے، 22کروڑعوام کے وزیراعظم کوسازش کے تحت نکالا گیا، سندھ کو میں نے آصف زرداری سے آزاد ...

آصف زرداری سے سندھ کو آزاد کرانا ہے،عمران خان کا جہلم جلسے سے خطاب

اداروں کی توہین کے الزامات کا جواب آج جہلم جلسے میں دوں گا، عمران خان وجود - منگل 10 مئی 2022

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اداروں کی توہین کے الزامات کا جواب (آج) منگل کو جہلم جلسے میں دوں گا، نواز شریف، مریم نواز فوج پر حملے کرتے ہیں اور ہم پر الزام لگائے جارہے ہیں، شہباز شریف اور اس کا بھائی اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں،بز...

اداروں کی توہین کے الزامات کا جواب آج جہلم جلسے میں دوں گا، عمران خان

تحریک انصاف کا اسلام آباد سمیت بڑے شہروں کو جام کرنے کا فیصلہ، حکمت عملی تیار وجود - پیر 09 مئی 2022

تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہی اسلام آباد سمیت بڑے شہروں کو جام کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے حکمت عملی تیار کرلی گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت مخالف لانگ مارچ کیلئے تحریک انصاف نے اپنا پلان فائنل کرلیا، ملک بھر سے لاکھوں مظاہرین کو اسلام آباد بلانے اور بڑے شہروں کو ...

تحریک انصاف کا اسلام آباد سمیت بڑے شہروں کو جام کرنے کا فیصلہ، حکمت عملی تیار

سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل وجود - پیر 09 مئی 2022

معروف مبلغ اور مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ میرا سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ اپنے بیان میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ یہ سلسلہ 1992 سے جاری ہے، 1997 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر میں نے ان کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا سے ''تبلیغی خطاب'' کیا ...

سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل

بیس لاکھ سے زیادہ لوگ اسلام آباد آئیں گے، عمران خان وجود - اتوار 08 مئی 2022

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میری کال پر 20 لاکھ سے زیادہ لوگ اسلام آباد آئیں گے، لوگوں کو اپنی حقیقی آزادی کی جنگ لڑنے کے لیے آنا ہوگا۔ عمران خان نے اتوار کو ایبٹ آباد میں پی ٹی آئی کے زیر اہتمام جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کو بزدل اور ڈاکو قرار دیتے ہ...

بیس لاکھ سے زیادہ لوگ اسلام آباد آئیں گے، عمران خان

20مئی کے بعد کسی بھی دن اسلام آباد کی کال دوں گا، عمران خان وجود - هفته 07 مئی 2022

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حقیقی آزادی کی تحریک کا میانوالی سے آغاز کررہا ہوں، 20 تاریخ کے بعد کسی بھی دن اسلام آباد مارچ کی کال دے سکتا ہوں۔ ملک میں فوری الیکشن کرائیں جا ئیں، فیصلہ عوام کرے گی امریکا نہیں۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے میانوالی میں جلسے سے ...

20مئی کے بعد کسی بھی دن اسلام آباد کی کال دوں گا، عمران خان

مضامین
خون کی بارش وجود جمعه 20 مئی 2022
خون کی بارش

پہلے اور اب وجود جمعه 20 مئی 2022
پہلے اور اب

انتخاب کرلیں وجود بدھ 18 مئی 2022
انتخاب کرلیں

کام کی باتیں۔۔ وجود بدھ 18 مئی 2022
کام کی باتیں۔۔

باغی اوربغاوت وجود منگل 17 مئی 2022
باغی اوربغاوت

وقت کہاں بہتا ہے؟ وجود پیر 16 مئی 2022
وقت کہاں بہتا ہے؟

اشتہار

تہذیبی جنگ
وفاقی شرعی عدالت کا 19سال بعد فیصلہ ، سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین ، شقیں غیرشرعی قرار وجود جمعرات 28 اپریل 2022
وفاقی شرعی عدالت کا 19سال بعد فیصلہ ، سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین ، شقیں غیرشرعی قرار

بھارتی معروف سماجی کارکن سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا، نام فاطمہ سبریمالا رکھ لیا وجود منگل 26 اپریل 2022
بھارتی معروف سماجی کارکن سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا، نام فاطمہ سبریمالا رکھ لیا

موبائل فون فلسطینیوں کا بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن گیا وجود هفته 23 اپریل 2022
موبائل فون فلسطینیوں کا بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن گیا

سپریم لیڈر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حامی ہیں،سینئر طالبان رکن وجود پیر 18 اپریل 2022
سپریم لیڈر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حامی ہیں،سینئر طالبان رکن

سوئیڈن میں قران پاک کی بے حرمتی کے اعلان پر احتجاج وجود اتوار 17 اپریل 2022
سوئیڈن میں قران پاک کی بے حرمتی کے اعلان پر احتجاج

ایمن الظواہری کی نئی ویڈیو،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی کی تعریف وجود بدھ 06 اپریل 2022
ایمن الظواہری کی نئی ویڈیو،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی کی تعریف

اشتہار

بھارت
بھارتی عدالت کے ہاتھوں انصاف کا قتل، یاسین ملک بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کے مجرم قرار وجود جمعرات 19 مئی 2022
بھارتی عدالت کے ہاتھوں انصاف کا قتل، یاسین ملک بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کے مجرم قرار

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت

بھارتی ایجنسی کا داؤد ابراہیم کے دو قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ وجود هفته 14 مئی 2022
بھارتی ایجنسی کا داؤد ابراہیم کے دو قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو غداری کے قانون کے تحت مقدمات کے انداج سے روک دیا وجود جمعرات 12 مئی 2022
بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو غداری کے قانون کے تحت مقدمات کے انداج سے روک دیا
افغانستان
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت

طالبان کا پہلا سالانہ بجٹ پیش،50 کروڑ ڈالر خسارے کی پیشن گوئی وجود پیر 16 مئی 2022
طالبان کا پہلا سالانہ بجٹ  پیش،50 کروڑ ڈالر خسارے کی پیشن گوئی

پنج شیر میں امارت اسلامیہ کے مخالفین نے ہتھیار ڈال دیے وجود جمعرات 12 مئی 2022
پنج شیر میں امارت اسلامیہ کے مخالفین نے ہتھیار ڈال دیے

طالبان مخالف فورسز کا وادی پنج شیر کے 3 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ وجود اتوار 08 مئی 2022
طالبان مخالف فورسز کا وادی پنج شیر کے 3 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
آسٹریلین کرکٹ لیجنڈ اینڈریو سائمنڈز کار حادثے میں ہلاک وجود اتوار 15 مئی 2022
آسٹریلین کرکٹ لیجنڈ اینڈریو سائمنڈز کار حادثے میں ہلاک

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے وجود هفته 14 مئی 2022
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل وجود پیر 09 مئی 2022
سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل

مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 11برس بیت گئے وجود جمعه 22 اپریل 2022
مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 11برس بیت گئے