وجود

... loading ...

وجود
وجود

میاں صاحب پھر ووٹ کو ابھی عزت تو نہیں دینی!

جمعرات 13 اکتوبر 2022 میاں صاحب پھر ووٹ کو ابھی عزت تو نہیں دینی!


سیاست سفاکانہ سچائیوں کے درمیان وقت کی باگ ہاتھ میں رکھنے کا ہنر ہے۔ صرف ریاضت نہیں، اس کے لیے غیر معمولی ذہانت بھی درکار ہوتی ہے۔ رُدالیوں کی طرح رونے دھونے سے کیا ہوتا ہے؟ میاں صاحب اب اچانک رونما ہوئے ہیں۔ مگر ایک سوال ہے۔ کیا وہ سیاست کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں؟ کیا وہ اپنے ہنر سے برآمد ہوئے یا پھر سیاست کی مکروہ چالوں میں ایک بار پھر نظریہ ضرورت سے اُن کو رعایت ملی؟یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے کہ لندن میں اُنہوں نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کی تو 12/ اکتوبر کی تاریخ بھی دو روز ہی دور تھی۔ تقویم کی یہ تاریخ نوازشریف کی سیاسی زندگی کو نچوڑ دیتی ہے۔
نوازشریف 12/ اکتوبر کو جس انجام سے دوچار ہوئے، کیا اس نے پاکستان کے تب سب سے بڑے سیاسی رہنما میں کوئی ذہنی تبدیلی پیدا کی؟ وہ اب بھی بے ساکھیوں کے محتاج ہیں۔ عوام پر انحصار کرنے کو تیار نہیں، خود کو کسی مشکل میں مبتلا دیکھنا گوارا نہیں۔ نوازشریف کی بہادری کی تمام داستانیں وضعی ہیں۔ کرائے کے لکھاریوں اورمستعار زبانوں کی مرہونِ منت ہیں۔ درحقیقت اُنہوں نے ہمیشہ ہی رخصت کا راستا اختیار کیا۔ پاکستان پر شب خون مارنے کی تاریخ کبھی بھلائی نہ جاسکے گی۔ جنرل محمود جب ساتھی جرنیلوں اور کمانڈوز کے ساتھ 12/ اکتوبر کی شب وزیراعظم ہاؤس گئے تو کیا نہیں ہوا؟ پھر وہ رات گئے پنڈی کور کے میس میں لے جائے گئے، جہاں اُنہیں ایک کاغذ تھما دیا گیا تھا۔ یہ اسمبلیوں کے پرزے اڑانے کی دستاویز تھی، جس پر جناب کو دستخط کرنے تھے۔ نوازشریف کے حامی لکھاریوں نے متعدد مرتبہ لکھا، جناب نے دستخط نہیں کیے۔ یہ بھی اُن سے منسوب ہے کہ ”اوور مائی ڈیڈ باڈی“ کہہ کر کاغذ پھینک دیا۔ کہا ہوگا، جناب کہا ہو گا۔ مگر پھر کیا کیا؟ اوور مائی ڈیڈ باڈی کے الفاظ ایک کردار کا تقاضا کرتے ہیں۔ محترمہ کلثوم صاحبہ اپنے شوہر کو بچانے کی جدوجہد کے لیے باہر نکلیں۔ کیا یہ وقت جمہوریت کو مستحکم کرنے کا نہیں تھا؟ مگر یہ جدوجہد صرف نوازشریف کو جیل سے رہا اور آسودہ رکھنے کے سوا کوئی نتائج پیدا نہ کرسکی۔ یہ کس کا قصورتھا؟ نوازشریف نے اس پوری جدوجہد کو مقدمات سے نجات اور اپنی رہائی تک مرتکز رکھا۔ وہ اپنے پورے خاندان سمیت 9 /دسمبر 2000ء کی شب فوج سے خفیہ معاہد ہ کر کے سعودی عرب چلے گئے۔ طیارے سے محترمہ کلثوم نواز کی بند مٹھی سے ایک کاغذ پھینکا گیا، جس پر لکھا تھا کہ مسلم لیگ نون کی قیادت جاوید ہاشمی فرمائیں گے۔ کیا جماعتیں یوں چلتی ہیں؟ بھارے کے کالم نگاروں نے لکھا، مقدس سرزمین سے بلاوا آیا ہے۔ جب پاسپورٹ ملا تو مقدس سرزمین کو چھوڑنے میں ایک دن بھی نہیں لگایا، لندن جا کر آسودہ ہوئے۔ نوازشریف نے اگر مقدمات کا سامنا کیا ہوتا، ایک عوامی جدوجہد میں خود کو اُتارا ہوتا، جمہوریت کی دوشیزہ کو ذرا آبرو دی ہوتی، ”اوور مائی ڈیڈ باڈی“ کے اپنے ہی الفاظ سے چند ماہ مزید وفا کی ہوتی۔ عوام کو ایک مستقل فیصلہ کن جنگ کا عزم دیا ہوتا، تو پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ عسکری اشرافیہ جو کچھ کرتی ہے، اس کی پشت پر سیاست دانوں کی یہی تہی دامنی ہوتی ہے۔ جسے استفہامیہ انداز سے روئیداد خان نے اپنی کتاب میں الفاظ دیے ہیں: بانی پاکستان نے پاکستان کے لیے ایک بد عنوان سول حکومت کے پیچھے پوشیدہ عسکری ریاست کا خواب تو نہیں دیکھا تھا“۔
نوازشریف بعد میں بھی شکار ہوئے، تو اس کے ذمہ دار خود تھے۔ پاناما لیکس جا کر اُن کی نااہلی پر منتج ہوا، اس کا شکوہ وہ کن سے کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں؟ چار دہائیوں کی سیاست میں عدلیہ کی گھمن گھیریوں سے مقتدر بارگاہوں تک کون سا چکر تھا، جو وہ دیکھ نہیں چکے تھے۔ پھر وہ آج لندن میں کس چیز کا شکوہ کر رہے ہیں۔ اقتدار اس کے باوجود اُنہیں مل گیا تھا۔ وہ کیا درست کرسکے؟ مقدمات کب غلط نہیں بنتے؟ طیارہ سازش کیس سے پاناما لیکس تک وہ کسی مقدمے میں میرٹ سے پھنسے ہیں اور نہ میرٹ سے چھوٹے ہیں۔ اس کے پیچھے یہی خفیہ معاہدے ہوتے ہیں۔ نوے کے عشرے میں دوتہائی مینڈیٹ اور پھربنتی بگڑتی حکومتیں، دسمبر 2000ء میں سعودی عرب روانگی پھر لندن سے اگست 2007ء میں واپسی، پھر زرداری دور کے بعد حکومت کے حصول تک کیا سب کچھ لین دین اور سودے بازی سے حاصل نہیں کیا گیا؟ پھر سیاست کی باگ ہاتھ میں کیسے رہ سکتی ہے؟ پھر مجھے کیوں نکالا کا رونا کیسا؟ پھر ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی تکریم کیا باقی رہ جاتی ہے؟ نوازشریف کے پاس 2019ء میں بھی عزیمت کا راستا موجود تھا۔ مگر وہ پھر ایک خاموش سمجھوتے کا شکار بنے۔ فہمی بدایونی نے بھی کیا کہہ دیا:


خوں پلا کر جو شیر پالا تھا
اس نے سرکس میں نوکری کر لی


رخصت کی راہ پر عزت نہیں ملتی، بس رخصت ہی ملتی ہے۔ عمران خان ایک پراجیکٹ کے طور پر ہاتھ کی چھڑی کی طرح گھمایا، جیب کی گھڑی کی طرح چلایا اور تالاب کی مچھلی کی طرح تیرایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان کی موجودہ حالت نوازشریف سے زیادہ بہتر کوئی سمجھ سکتا ہے؟ یہی تو ہوتا آیا ہے، یہی تو ہوتا ہے۔ پھر کیا عمران خان اور کیا نوازشریف؟؟ نوازشریف جب نومبر 2019ء کو مختلف بیماریوں کے جھولے اور جھانسے میں یہاں سے جا رہے تھے، تو وہ اُس بندوبستی ہاتھ کو خوب سمجھتے تھے۔ اُنہیں جیل میں ڈالنے اور پھر وہاں سے لندن بھیجنے والے کون تھے یا ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ جیل کے یہ شب و روز کس طرح پاکستان کی سیاسی تقدیر کو بدل سکتے تھے۔ مگر اُنہوں نے پھر رخصت کا راستا ہی چُنا! اب وہ واپسی کی راہ لے رہے ہیں تو بھی اُن کا تکیہ کن پر ہیں؟ اس کا وہ کوئی جواب نہ بھی دیں، مگر جاننے والے خوب جانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نوازشریف لندن سے پھر کن کے خلاف سوال اُٹھا رہے ہیں؟ اگر اس طرح وہ آ بھی گئے تو کیا پاکستانی سیاست کے زمین وآسمان بدل جائیں گے؟ نوازشریف پھر دائرے کے قیدی بن کر رہیں گے، پھر اُن کے اشرافی ذہن کو بے اختیاری کی گھٹن کا سامنا ہو گا۔ پھر کوئی ڈان لیکس نکلے گی۔ پھر کوئی پاناما کھڑا ہو جائے گا۔ کوئی نیا فضیتا ہوگا۔ کوئی سمعی فیتہ گونجے گا۔ کوئی بصری فیتہ آنکھوں کو گستاخیاں دکھائے گا۔ کوئی کِم بارکر اُٹھے گی اور تنہائیوں کے آلودہ لمحات کی بے خود داستان لکھے گی۔ خود کو بلیک بیری کی پیشکش کیے جانے کی لذیذ کہانی سنائے گی۔
پاکستانی سیاست کا یہی دائرہ ہے، اس دائرے میں رہ کر گھومتے رہنے سے نوازشریف پر زیادہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وہ جاتی امراء میں زبردست کھانوں کے ساتھ لسی پیتے رہیں گے۔ اُنہیں تب کوئی بیماریاں بھی ان شاء اللہ نہیں ہونگیں۔ مگر وہ یہ دائرہ توڑنا چاہتے ہیں تو پھر اُن کا سامنا عمران خان سے نہیں، 12/اکتوبر سے ہوگا۔ بھلے سے وہ عمران خان کے خلاف لفظی بمباری کے پیچھے خود کو چھپاتے رہیں۔ سیاست میں آخر اداکاری کا بھی ایک ذرا کام ہوتا ہے، مگر یہ ہمیشہ موثر نہیں ہوتی۔ نوازشریف فیصلہ کریں کہ وہ اپنے ہنر سے برآمد ہوں گے یا رعایتوں میں زندگی کریں گے۔ میاں صاحب پھر بتائیے گا کہ ووٹ کو ابھی عزت تو نہیں دینی!


٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


رنگ بازیاں وجود - پیر 09 جنوری 2023

   علامہ اقبال نے راز کھولا تھا تھا جو ، ناخوب، بتدریج وہی خوب ہُوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر زیادہ وقت نہیں گزرا، آئی ایم ایف سے معاہدے خفیہ رکھے جاتے تھے، عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے یہ ایک سیاسی یا قومی عیب لگتا تھا۔ آئی ایم ایف کی شرائط ملک کی فروخت سے تعبیر ک...

رنگ بازیاں

خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا وجود - جمعرات 03 نومبر 2022

یہ لیجیے! پندرہ برس پہلے کی تاریخ سامنے ہے، آج 3 نومبر ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ اب بھی ایک سرشار کردینے والی تقویم کی تاریخ ہے، جو چیف جسٹس کے''حرفِ انکار'' سے پھوٹی۔ مگر دانا اور اہلِ خبر اسے اژدھوں کی طرح نگلتی، حشرات الارض کی طرح رینگتی اور پیاز کی طرح تہ بہ تہ رہتی ہماری سیاسی...

خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

لیاقت علی خان اور امریکا وجود - پیر 17 اکتوبر 2022

حقارت میں گندھے امریکی صدر کے بیان کو پرے رکھتے ہیں۔ اب اکہتر (71)برس بیتتے ہیں، لیاقت علی خان 16 اکتوبر کو شہید کیے گئے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کے موجودہ رویے کو ٹٹولنا ہو تو تاریخ کے بے شمار واقعات رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ لیاقت علی خان کا قتل بھی جن میں سے ایک ہے۔ یہاں کچھ نہیں ...

لیاقت علی خان اور امریکا

بس کر دیں سر جی!! وجود - منگل 11 اکتوبر 2022

طبیعتیں اُوب گئیں، بس کردیں سر جی!! ایسٹ انڈیا کمپنی کے دماغ سے کراچی چلانا چھوڑیں! آخر ہمار اقصور کیا ہے؟ سرجی! اب یہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری!! سر جی! سال 1978ء کو اب چوالیس برس بیتتے ہیں،جب سے اے پی ایم ایس او(11 جون 1978) اور پھر اس کے بطن سے ایم کیوایم (18 مارچ 1984) کا پرا...

بس کر دیں سر جی!!

جبلِ نور کی روشنی وجود - اتوار 09 اکتوبر 2022

دل میں ہوک سے اُٹھتی ہے!!یہ ہم نے اپنے ساتھ کیا کیا؟ جبلِ نور سے غارِ حرا کی طرف بڑھتے قدم دل کی دھڑکنوں کو تیز ہی نہیں کرتے ، ناہموار بھی کردیتے ہیں۔ سیرت النبیۖ کا پہلا پڑاؤ یہی ہے۔ بیت اللہ متن ہے، غارِ حرا حاشیہ ۔ حضرت ابراہیمؑ نے مکہ مکرمہ کو شہرِ امن بنانے کی دعا فرمائی تھ...

جبلِ نور کی روشنی

پہلا سوال وجود - منگل 04 اکتوبر 2022

صحافت میں سب سے زیادہ اہمیت پہلے سوال کی ہے۔ پہلا سوال اُٹھانا سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پہلا سوال کیا بنتا ہے، یہ مسئلہ صلاحیت کے ساتھ صالحیت سے بھی جڑا ہے؟ ایک باصلاحیت شخص ہی پہلے سوال کا ادراک کرپاتا ہے، مگر ایک صالح شخص ہی اپنی م...

پہلا سوال

وقت بہت بے رحم ہے!! وجود - جمعرات 22 ستمبر 2022

پرویز مشرف کا پرنسپل سیکریٹری اب کس کو یاد ہے؟ طارق عزیز!!تین وز قبل دنیائے فانی سے کوچ کیا تو اخبار کی کسی سرخی میں بھی نہ ملا۔ خلافت عثمانیہ کے نوویں سلطان سلیم انتقال کر گئے، نوروز خبر چھپائی گئی، سلطنت کے راز ایسے ہی ہوتے ہیں، قابل اعتماد پیری پاشا نے سلطان کے کمرے سے کاغذ س...

وقت بہت بے رحم ہے!!

مبینہ ملاقات وجود - پیر 19 ستمبر 2022

مقتدر حلقوں میں جاری سیاست دائم ابہام اور افواہوں میں ملفوف رہتی ہے۔ یہ کھیل کی بُنت کا فطری بہاؤ ہے۔ پاکستان میں سیاست کے اندر کوئی مستقل نوعیت کی شے نہیں۔ سیاسی جماعتیں، اقتدار کا بندوبست، ادارہ جاتی نظم، فیصلوں کی نہاد ، مقدمات اور انصاف میں ایسی کوئی شے نہیں، جس کی کوئی مستقل...

مبینہ ملاقات

ملکہ الزبتھ، استعمار کا مکروہ چہرہ وجود - جمعه 16 ستمبر 2022

پاکستانی حکومت نے 12 ستمبر کو قومی پرچم سرنگوں کرلیا۔ یہ ملکہ برطانیا الزبتھ دوم کی موت پر یومِ سوگ منانے کا سرکاری اظہار تھا۔ ہم بھی کیا لوگ ہیں؟ ہمارے لیے یہ یوم سوگ نہیں، بلکہ استعمار کو سمجھنے کا ایک موقع تھا۔ یہ اپنی آزادی کے معنی سے مربوط رہنے کا ایک شاندار وقت تھا۔ یہ ایک ...

ملکہ الزبتھ، استعمار کا مکروہ چہرہ

رفیق اور فریق کون کہاں؟ وجود - منگل 23 اگست 2022

پاکستانی سیاست جس کشمکش سے گزر رہی ہے، وہ فلسفیانہ مطالعے اور مشاہدے کے لیے ایک تسلی بخش مقدمہ(کیس) ہے ۔ اگرچہ اس کے سماجی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ مگر سماج اپنے ارتقاء کے بعض مراحل میں زندگی و موت کی اسی نوع کی کشمکش سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ پاکستانی سیاست جتنی تقسیم آج ہے، پہلے کب...

رفیق اور فریق کون کہاں؟

حوادث جب کسی کو تاک کر چانٹا لگاتے ہیں وجود - پیر 14 فروری 2022

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزراء کی فہرستِ کارکردگی ابھی ایک طرف رکھیں! تھیٹر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ سماجی روز مرہ اور زندگی کی سچائی آشکار کرنے کو سجایا جاتا ہے۔ مگر سیاسی تھیٹر جھوٹ کو سچ کے طور پر پیش کرنے کے لیے رچایا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سوانگ بھرنے کے اب ماہر...

حوادث جب کسی کو تاک کر چانٹا لگاتے ہیں

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شا...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

مضامین
''ٹوٹ۔کے''۔پارٹ ٹو۔۔ وجود بدھ 12 جون 2024
''ٹوٹ۔کے''۔پارٹ ٹو۔۔

بصیرت نہ بصارت وجود بدھ 12 جون 2024
بصیرت نہ بصارت

'یوم تکبیر' اور' زمیںکانوحہ' وجود منگل 11 جون 2024
'یوم تکبیر' اور' زمیںکانوحہ'

مودی کے بدلتے رنگ: نتیش، نائیڈو اور معیزو کے سنگ وجود منگل 11 جون 2024
مودی کے بدلتے رنگ: نتیش، نائیڈو اور معیزو کے سنگ

نیاجال لائے پرانے شکاری وجود پیر 10 جون 2024
نیاجال لائے پرانے شکاری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر