... loading ...
ابھی عائشہ گلالئی کی بات چھوڑیے!جس نے اپنے کاندھوں پر جاوید ہاشمی جتنا بوجھ اُٹھا لیاجن کا معاملہ سیاسی شریعت میں کچھ یوں رہا کہ خلافِ شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں مگر اندھیرے اُجالے میں چوکتا بھی نہیں اب اُن کے ماننے والے پارسی کہلاتے ہیں۔ جناب زرتشت ، حضرت عیسیٰؑ سے چھ صدیاں قبل افغانستان کے مقام گنج میں غوروفکر ...
امام غزالی ؒ کی کتاب نصیحتہ الملوک سماج میں روشنی کرتی ہے، فرمایا : دیانت داری کا انحصار حکمران کے کردار پر ہے۔کتاب میں ساسانی حکمرانوں کی کھلی کچہری کی ایک سالانہ روایت کا بھی ذکر ملتا ہے، عام لوگ اپنی معروضات اور شکایات پیش کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ تب طاقت ور سب سے کمزور اور کمزور ...
وزیراعظم نوازشریف نے اپنے من کے مندر میں خود اپنا ہی بُت سجا رکھا ہے،جسے وہ ہر وقت پوجتے رہتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر وہ خواہش مند ہیں کہ دوسرے بھی یہی کریں۔ کچھ کاسہ لیس بھی ہیں جو اس کے لیے تیار رہتے ہیں تاوقتیکہ کوئی دوسرا اُن کی جگہ نہ لے لیں۔ وزیراعظم نوازشریف ایک بدلے ہوئے عہد می...
وزیراعظم نوازشریف نے بآلاخر وہی فیصلہ کیا جس کی اُن سے توقع تھی۔ وہ اپنے لمحۂ عظمت سے دور رہے۔ انیسویں صدی کے وسط کو اپنی چھاپ دینے والے امریکی شاعر ایمرسن نے کہا تھا کہ ’’ہر ہیرو کی کارکردگی میں اُس وقت کمی آتی رہے گی جب تک وہ مناسب موقع پر یہ نہ طے کر لے کہ اب اُسے منظر سے...
انسان اپنی ترجیحات کا قیدی ہے اور اسی سے اُس کا طرزِ عمل پھوٹتا ہے۔ درست اور غلط کی بحث معروضی کم اور اِن ترجیحات کے تحت زیادہ ہوتی ہیں۔ پاکستان سیاست وصحافت میں یہ عمل مکمل طور پر اسی سے آلودہ ہے۔ یہ ایک پُرانا مسئلہ ہے جس سے پاکستان کی سیاست وصحافت نبرد آزما ہے کہ کرائے کے ک...
دنیا کو دھوکا کہا گیا۔ظاہر کتنا بڑا دھوکا ہے اسی لیے آدمی اپنے گردوپیش کو ویسا ہی دیکھتا ہے جیسا کہ وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ مصنوعی دنیا کی جادو نگری یہ ممکن بھی بنادیتی ہے۔ اور حواس خمسہ کا قیدی اس کا آسانی سے شکار بھی بن جاتا ہے۔ ایک دھوکا ہے یہ شب رنگ سویرا کیا ہے یہ اجالا ہے ا...
ریمنڈ ڈیوس کی کتاب قومی زندگی پر سوال اُٹھاتی ہے۔ کیا زندگی کی بساط پر ہمارا تعارف جواریوں کا ہے؟ نکتۂ حیات یہ ہے کہ زندگی اپنے محاسن پر بسر کی جاتی ہے، دوسرے کے عیوب پر نہیں۔ مفادات کی تاویل سے اپنے گھناؤنے کردار کو تحفظ دینے والے لوگ تاریخ میں کھیت رہے۔ اب بھی رہیں گے کہ قوم...
پاکستان کی سیاست وصحافت نے ڈان لیکس پرجیسے تیور تبدیل کیے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ لڑائی اپنے آغاز میں دراصل سیاسی وعسکری تنازع کی تاریخ سے جڑی تھی مگر اس نے اپنے ابتدائی نتائج تاریخ سے مختلف دیے۔ کچھ” نادان دانشور“ اِسے بدلے ہوئے پاکستان سے تعبیر کررہے ہیں۔ درحقیقت اس کے ابت...
دنیا بھر میں ۳ مئی کو آزادیٔ صحافت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اب یہ مغالطہ حقیقت کے ہم پلہ ہو چکا ہے کہ آزادی کی محافظ قدر دراصل آزادیٔ صحافت میں پوری طرح جلوہ گر ہے۔ چنانچہ آزادیٔ صحافت کے تصور کے تحت فرد کی نجی آزادی کو کچلنے پر کسی کو حیرت تک نہیں ...
نکسن نے اپنی مشہور کتاب ”لیڈرز“ میں عظیم لیڈرز کی پہچان یوں بتائی تھی کہ ” اُن کی قوت فیصلہ میں تیزی ہوتی ہے جس سے وہ مہلک قسم کی اغلاط سے بچے رہتے ہیں۔ اور کسی بہتر موقع کو پہچاننے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔“ ایک ”عظیم“ رہنما کے طور پروزیرا عظم نوازشریف کو اس میزان پر تولا نہیں جاس...
آدمی حیران ہو جاتا ہے۔کیا واقعی وزیراعظم نوازشریف نے سجن جندال سے اس موقع پر ملاقات کی سبیل نکالی ہے؟ اُن کے ذہن میں کیا رہا ہوگا؟ظاہر ہے کہ ہم فلسفی برٹرینڈ رسل کے تشکیکی مضامین تو نہیں پڑھ رہے جنہیں اُٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینکا جاسکے۔یہ مری کی ملاقات ہے۔ جس کی گرمی ملک بھر...
قحط الرجال کا ماتم کرنے والا بھی لحد میں اُتر گیا۔گمنامی جسے راس آئی۔ بغداد کے بزرگ نے کہا تھا ’’عافیت گمنامی میں ہے۔‘‘ ہر کسی کو یہ میسر کہاں؟حیرت ہے کہ حیات کو سرکاری ملازمت میں بسر کرنے اور فعال زندگی کی تمام حرکیات سے نباہ کرنے والے نے بالآخر زندگی کو گمنامی کی نذر کیا۔کیسے...
باسمہ تعالیٰ ۔۔۔۔۔۔ زمانے کی ہوا بگڑتی جارہی ہے مگر جنابِ زرداری کے ماتھے پر غرور کی شکنیں ختم ہونے میں نہیں آرہیں۔ کیا وہ اُس حالت کو پہنچ گئے جہاں عالم کے پرورگار کی ناراضی متوجہ ہوتی ہے۔ الامان والحفیظ! الامان والحفیظ!!!!! کیسا غرور ہے جواُن کے ایک فقرے میں چھلکتا ہی جارہا...
ابھی ہماری ریاضت نیم شب کو صبح ملنے میں بہت دیر ہے۔ انصاف نہیں اس لیے معاشرے میں شفافیت کا منتر بھی پھونکا نہ جاسکے گا۔ ابھی ڈاکٹر عاصموں، شرجیل میمنوں اورزرداروں سے ہمارا پیچھا چھوٹنے والا نہیں۔ سامنے ٹی وی کا پردہ جگمارہا ہے اور ایک میزبان بدعنوانیوں پر ہمارے ردِ عمل کو بیش وبہ...
مشہور کہاوت ہے کہ ’’آنکھیں خود کو دیکھنے میں اندھی ہوتی ہیں‘‘۔ افسوس ہمارا معاشرہ بے سمت ہو چکا۔ دوسروں کی غلطیوں کے لیے ہم ’’جج‘‘ اور اپنے جرائم کے بھی ہم ’’وکیل‘‘ بن جاتے ہیں۔دہشت گردی کے مسئلے پر یہ سارے زاویے پوری طرح ہمارے انفرادی ، قومی اور سرکاری رویوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ب...
کسی قوم پرعذابِ الٰہی کی بدترین شکل یہ ہے کہ وہ فکر صحیح سے محروم ہوجائے۔ زمانہ، جو اپنی کڑیوں میں باہم پیوست ہے ،کی اُلٹ پھیر نے ہمیں کہاں لا پھینکا ہے! آدمی کرب سے سوچتا ہے کہ کیا یہ ہمارا دن ہے ؟ نہیں ،ہرگز نہیں۔”ویلنٹائن ڈے “مغرب کی بانجھ زمین پر خاندانی اقدار کی موت کا ایک م...
ٹرمپ مختلف نہیں، یہی امریکا کی تاریخ ہے۔ افسوس رجحانات تشکیل دینے والے آلوں اور اداروں پر بھی امریکی قبضہ ہے۔ اس لیے حقائق بھی امریکا کے زیرتسلط ہیں۔ آغاز سے انجام تک امریکا کی جو بھی تاریخ تحریر ہو گی وہ ’’غنڈوں‘‘ کی تاریخ ہوگی۔ جی ہاں! یہی وہ لفظ ہے جو اینڈریو جیکسن کے لیے اس...
اوباما کے پیشرو صدر بش جونیئر رخصت ہورہے تھے تو دسمبر 2008ء میں اُنہیں عراق میں ایک جوتے کا سامنا کرنا پڑاتھا ۔ البغدادیہ چینل کے نمائندے منتظر الازیدی نے اُن پر یکے بعد دیگرے دوجوتے اُچھالے اور ساتھ یہ فقرہ بھی کہ ’’ا ے کتے! یہ تیرے لیے ایک الوداعی تحفہ ہے‘‘۔ اوباما کا معاملہ ...
اکہرے بدن کا ایک دھان پان سا شخص… نحیف بھی اور ضعیف بھی… زبان اجنبی، رہن سہن، نشست و برخاست اور لباس و پوشاک سب الگ۔ مگر وہ دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ لوگ اس کی آنکھوں سے دیکھنے لگے، اس کے کانوں سے سننے لگے، یہاں تک کہ اس کے ذہن سے سوچنے لگے، ٹھہرائو کے ساتھ گونجدار آواز میں وہ مخاطب ...
مصور یاد آیا جس کی یہ تصویر ہے، وہ اپنی قبر میں آسودہ سوتا اور نور کے ایک ہالے میں رہتا ہے، مگر اُس کی یہ تصویر نوک دشنہ سے دو نیم ہوئی اور اب ’’پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی‘‘ کی مانند ایک اور طرح کی تصویر ہوگئی! ہائے!! اقبال ترے دیس کا کیا حال سنائو اقبالؒ نے اس قوم ک...
کوئی دن جاتا ہے کہ گورنر سندھ تبدیل کردیا جائے گا۔ مگر اس فیصلے سے وابستہ ذہن اور ذہنیت ہمیشہ موضوع بحث رہے گی، جیسا کہ یہ کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا کہ کبھی عدالتِ عظمیٰ پر ایک لشکر چڑھ دوڑا تھا۔ کبھی عدلیہ تقسیم کردی گئی تھی اور انصاف سیاسی مقاصد کے لیے جنسِ بازار بن گیا تھا...
حیرت ہے لوگوں کو ٹرمپ کی فتح پر حیرت ہے، کیا وہ انسانی جبلتوں کے تعامل سے پیدا ہونے والے رویوں پر غور نہیں کرتے؟ امریکا مختلف کیسے ہوسکتا ہے؟گجراتی کہاوت ہے کہ ’’کوّے ہر جگہ کالے ہوتے ہیں‘‘۔ پاکستان کے سفارتی بزرجمہر اس پر غور ہی نہیں کرسکے کہ ٹرمپ جیت بھی سکتا ہے۔ حالانکہ اُن ک...
ابھی چیئرمین پیمرا ابصار عالم کا ذکر چھوڑیں۔بات طرزِ فکر کی ہے۔ ہم سوچتے کیسے ہیں؟ ایک قوم کی اپنی اجزائے ترکیبی ہوتی ہے۔ انسانی نسلوں پر ہی کیا موقوف حیوانوں میں بھی کچھ الگ گروہ ہوتے ہیں جن کی عادتیں ایک دوسرے سے نہیں ملتیں۔ وہ اپنے اپنے ماحول میں زندگی کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ا...
کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کو...