وجود

... loading ...

وجود
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود - هفته 07 فروری 2026

ریاض احمدچودھری مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈے کے تحت نفرت اور انتشار کی منظم کوششیں جاری ہیں جبکہ مودی سرکار کا ہندو راشٹر منصوبہ اقلیتوں کو سماجی اور سیاسی دھارے سے باہر دھکیلنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ مودی کے بھارت میں ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مذہبی رہنماؤں کے ذریعے اقلیتوں کے خلاف مذموم مہم جاری ہے۔ ہندو ا...

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود - هفته 07 فروری 2026

بے لگام / ستارچوہدری کیا شعورپیٹ بھرتا ہے ۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ یہی تو بتاتا ہے کہ پیٹ کس نے خالی رکھا ہے ۔۔۔ کیا شعوردوائی بنتا ہے ۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔۔ مگر، یہ پہچان سکھاتا ہے کہ مرض ،بیماری کا ہے یا حکمرانی کا ہے ۔۔۔ کیا شعور روزگار دیتا ہے ۔۔۔۔؟ نہیں۔۔۔۔ لیکن، یہ ضروربتاتا ہے...

روٹی یا شعور۔۔۔؟

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست وجود - هفته 07 فروری 2026

ب نقاب /ایم آر ملک جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ بندی پر بات چیت ہوسکے۔ اُس وقت ویت نامی مجاہدین امریکی فوجیوں پر کاری ضربیں لگا چکے تھے اور ان کے ساتھ سخت سلوک بھی کیا تھا۔چنانچہ ویت نا...

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت وجود - هفته 07 فروری 2026

منظر نامہ پروفیسر شاداب احمد صدیقی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور خوف کی فضا اب کسی اتفاقی واقعے کا نام نہیں رہی بلکہ یہ ایک منظم اور مسلسل عمل کی صورت اختیار کر چکی ہے ، جہاں انتہا پسند ہندو تنظیمیں کھلے عام قانون کو ہاتھ میں لیتی دکھائی دیتی ہیں۔ مودی حکومت کے دور میں ...

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟ وجود - هفته 07 فروری 2026

افتخار گیلانی ہندوستان کی 213ملین مسلم آبادی میں تقریباً 60فیصدشمالی صوبوں یعنی اترپردیش، بہار، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور آسام میں آباد ہے ۔ان کی کسمپرسی، افلاس اور ہندو قوم پرستوں اور حکومت کی طرف سے ان پر ہورہے مظالم کی خبریں تو آئے دن میڈیا اور دیگر ذرائع سے مشتہر ہوتی ہ...

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟

مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل وجود - جمعه 06 فروری 2026

ریاض احمدچودھری مقبوضہ کشمیر میں فوجی لاک ڈاؤن اور آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے غیر قانونی اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں ہیں، بھارتی جارحیت علاقائی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ ہے، بھارتی حکومت کی بیان بازی، دشمنی پر مبنی اقدامات علاقائی سلامتی کے لئے مستقل خطرہ ہے ، پوری پا...

مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل

'' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔ وجود - جمعه 06 فروری 2026

بے لگام / ستار چوہدری بی ایل اے کے پیچھے بھارت ہے ،ٹی ٹی پی کے پیچھے افغانستان ہے ،افغانستان کے پیچھے بھارت ہے ، بھارت کے پیچھے اسرائیل ہے ، اسرائیل کے پیچھے امریکا ہے ،امریکا ہمارا دوست ہے ،ٹرمپ روزہماری تعریفیں کرتا ہے ۔۔۔ بہت سخت کنفیوژن ہے ، دماغ خراب ہوا پڑا ہے ، کچھ سمجھ...

'' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔

5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن وجود - جمعرات 05 فروری 2026

محمد آصف ہر سال 5فروری کو یومِ یکجہتی ٔ کشمیر منایا جاتا ہے ۔ یہ دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک عہد، ایک وعدہ اور ایک زندہ احساس ہے جو کشمیری عوام کے ساتھ ہمارے قلبی، اخلاقی اور انسانی رشتے کی یاد دہانی کراتا ہے ۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف ایک جغراف...

5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن

بلوچستان حملے اورسازشیں وجود - جمعرات 05 فروری 2026

حمیدااللہ بھٹی لہولہو بلوچستان سے ہر شہری متفکر ،پریشان اورر نجیدہ ہے۔ مٹھی بھر شرپسند عناصر نے نہ صرف معصوم اور امن پسند بلوچوں کواچانک حملوں سے خوفزدہ کیا بلکہ دہشت گردی سے ترقی اور سرمایہ کاری کا عمل روکنے کی بھی کوشش کی۔ اطمنان بخش پہلو یہ ہے کہ حملہ آوروں کی اکثریت کو چند...

بلوچستان حملے اورسازشیں

سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے ! وجود - جمعرات 05 فروری 2026

اونچ نیچ آفتاب احمد خانزادہ ۔۔۔۔۔۔ نیٹشے ہمیں بتاتا ہے کہ اخلاقیات اور انسانیت اوپر سے بگڑتی ہیں۔ جب چند طاقتور طبقات اپنی ہوس، دولت اور قبضے کے لیے معاشرتی ضابطوں کو مسخ کر دیں، تو انسانی شعور اور اخلاقیات کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔Mass society اور ہجوم اسی نظام کے پیدا ک...

سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے !

صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

آواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امداد سومرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ میں صحافت کو ہمیشہ جدوجہد، سچائی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے ، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں صحافت کے نام پر ایسے کردار سامنے آئے ہیں جو نہ صرف اس مقدس پیشے کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ سم...

صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود - بدھ 04 فروری 2026

بے لگام / ستارچوہدری مجھے نہ گرنے کا درد ہوا، نہ فاصلے کی طوالت کا، اور نہ ہی شدید ٹکراؤ کا، جو چیز واقعی مجھے تکلیف دے گئی، وہ یہ تھی کہ میں اس ہاتھ پر بھروسہ کر رہا تھا جس نے مجھے دھکا دیا۔۔۔ اس لئے ۔۔۔اپنے جذبات کی کمزوری کے سامنے جھکنے سے بچو، سخت اور مضبوط بنو، خود کو تنہ...

ناقابل شکست

خون اور رنگ وجود - منگل 03 فروری 2026

بے لگام / ستار چوہدری یہ کوئی عام شام نہیں تھی۔ کسی گلی میں بچے ہنس رہے تھے ، کسی کمرے میں ماں رو رہی تھی۔ کسی شہر میں موسیقی کی ریہرسل ہو رہی تھی ۔۔۔ اور کسی پہاڑی پر ایک اور لاش خون میں بھیگی مٹی سے اٹھائی جا رہی تھی۔ یہ سب ایک ہی دن ہو رہا تھا۔ ایک ہی ملک میں۔ ایک ہی پرچم ک...

خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود - منگل 03 فروری 2026

منظرنامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پروفیسر شاداب احمد صدیقی سوشل میڈیا نے ابتدا میں فاصلے کم کیے ، معلومات فراہم کیں اور رابطے آسان بنائے ، مگر اب یہ سہولت ایک نفسیاتی لت میں بدل کر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی، جسمانی اور سماجی زندگی پر چھا گئی ہے ۔ ہر آنکھ اسکرین کی روشنی میں جکڑی ہے اور ہر ...

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود - پیر 02 فروری 2026

بے نقاب /ایم آر ملک قانون کی حکمرانی اور قانون کے ذریعے حکمرانی کے درمیان فرق محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ کسی بھی سماج کی اخلاقی اور قانونی صحت کا پیمانہ ہے۔ ہمارے ہاں کا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک لمبے عرصے سے پولیس کے ذریعے حکمرانی کے خمار میں مبتلا ہیں اور یہ جملہ حقوق پنجاب اور...

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود - پیر 02 فروری 2026

محمد آصف عالمی سیاست میں طاقت، مفادات اور نظریات کی کشمکش ہمیشہ سے جاری رہی ہے ، مگر اکیسویں صدی میں یہ کشمکش نئی شکلوں میں سامنے آئی ہے ۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور ان کے پیش کردہ مختلف امن منصوبے یا جسے بعض مبصرین ٹرمپ پیس بورڈ کا نام دیتے ہیں، عالمی س...

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود - پیر 02 فروری 2026

ریاض احمدچودھری امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا امریکا بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں اورحملوں کی شدید مذمت کرتا ہے،جن کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے، جو امریکہ کی جانب سے نامزد کردہ ایک غیرملکی دہشت گرد...

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود - پیر 02 فروری 2026

بے لگام / ستار چوہدری 1931 کی ایک دھند آلود صبح، لندن کے شاہی کلب کے میدانوں پر سورج کی روشنی ایسے پڑ رہی تھی جیسے سونے کے ذرات سبز گھاس پر بکھررہے ہوں، سرخ کوٹ پہنے انگریزلارڈ، ڈیوک اور دولت مند امریکی مہمان گھوڑوں پر سوار تھے ۔ شکاری کتّوں کی آوازیں فضا میں تیررہی تھیں۔ یہ م...

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود - اتوار 01 فروری 2026

حمیداللہ بھٹی   امریکی محصولات اور مطالبات پرریاستیں جس تیزی سے خارجی سمت بدل رہی ہیں، یہ بدلائو دنیاکوایک بار پھر سرد جنگ کی طرف دھکیل رہاہے ۔حالانکہ جولائی 2024میں جب ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربن نے رومانیہ میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی نظام تبدیلی ...

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود - اتوار 01 فروری 2026

بے لگام / ستار چوہدری کیا تم نے کبھی،اپنی ہی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خود سے کہا ہے ، تم ناکام ہو۔۔۔؟ کیا کبھی تم نے اپنے اندر کے جھوٹے دلاسے نوچ کر پھینکے ۔۔۔؟ کیا کبھی اپنی ہی روح کے گریبان پرہاتھ ڈالا۔۔۔؟ اگر نہیں۔۔۔ تو افسوس کرو۔۔۔۔ اس لیے نہیں کہ تم برے ہو، بلکہ اس لیے کہ...

انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود - اتوار 01 فروری 2026

اونچ نیچ آفتاب احمد خانزادہ جب پہلا انسان غار کی نم دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھا اور اس نے پہلی بار رات کے آسمان کو حیرت، خوف اور بے نام اداسی کے ساتھ دیکھا تو وہ لمحہ صرف کسی ستارے کو دیکھنے کا نہیں تھا بلکہ وہ لمحہ انسان کے اندر''میں''کے پیدا ہونے کا لمحہ تھا۔ کیونکہ اس لمحے ا...

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود - هفته 31 جنوری 2026

بے لگام/ ستارچوہدری ریاست جب خود کو ''ماں'' کہنے لگے اورشہری کو بچہ، تو پھرلاڈ اورسزا میں فرق مٹ جاتا ہے ، ہرسختی خیرخواہی بن جاتی ہے ، ہرسوال نافرمانی ۔ ۔ ۔ ایسے میں ''ظلم'' کا لفظ غیرضروری ہوجاتا ہے ، کیونکہ سب کچھ ''بہتری '' کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ،کچھ عہد ایسے ہوتے ہ...

نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود - هفته 31 جنوری 2026

افتخار گیلانی اگرچہ غزہ سٹی کے مکین 28 سالہ احمد الجو جو کا گھر کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے ، اس نے دو سال سے اپنی شادی کا سوٹ سنبھال کر رکھا ہوا ہے ۔ گزشتہ کئی روز سے وہ اس کو پلاسٹک کے تھیلے سے نکال کر جھاڑ پونچھ رہا ہے ۔ اس کی آستینیں اب کچھ چھوٹی پڑ چکی ہیں اور کالر وقت کے س...

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود - جمعه 30 جنوری 2026

محمد آصف بسنت کا تہوار برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں ایک قدیم اور رنگا رنگ روایت کے طور پر جانا جاتا ہے جو عموماً موسمِ بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے ۔ اس دن آسمان پر اڑتی ہوئی پتنگیں، زرد لباس، موسیقی اور میلے ٹھیلے ایک خوشگوار منظر پیش کرتے ہیں۔ تاہم جدید دور میں یہ سوا...

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

مضامین
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست وجود هفته 07 فروری 2026
8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت وجود هفته 07 فروری 2026
دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟ وجود هفته 07 فروری 2026
جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر