وجود

... loading ...

وجود

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

هفته 09 مئی 2026 بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

ریاض احمدچودھری

مسلمانوں کے قتل، گھروں پر حملوں اور دکانوں کو نذرِ آتش کرنے جیسے واقعات کو بھارتی میڈیا معمول کی کارروائیاں قرار دیتا ہے۔ انتہا پسند ہندو گروہ مسلمانوں پر حملوں کے بعد جشن مناتے ہیں، جبکہ ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے والے صحافی بھی نشانہ بنتے ہیں۔ صرف 2023 میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے 668 واقعات ریکارڈ ہوئے، جب کہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 1,165 ہوگئی۔ اپریل سے مئی 2024 کے دوران ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف کم از کم 184 نفرت آمیز جرائم رپورٹ ہوئے۔مودی حکومت مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی سیاست کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مودی کی جانب سے مسلم دشمنی کو ہوا دینا اس کی سیاسی پستی اور مکاری کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگی تنازعات کے تناظر میں مودی حکومت مذہبی تقسیم کو ہوا دے کر داخلی انتشار کو بڑھا رہی ہے۔ یہود و ہنود گٹھ جوڑ نے محض مسلمان دشمنی کی بنیاد پر یہ پروپیگنڈا مہم شروع کی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر پروپیگنڈا کر کے بھارتی مسلمانوں کو غدار قرار دینا مودی کے ہندو راشٹرا کے مذموم عزائم کی ایک کڑی ہے۔مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف منافرت کی مہم چلانے والے ملک، سماج اور آئین کے دشمن ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف 1,300 سے زائد نفرت انگیز تقاریر کی گئیں۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم شدت پسند ہندو قوم پرست تنظیموں کی منظم اسکیم کا حصہ ہیں۔
ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (سی ایس او ایچ) کی جانب سے شائع کردہ 2025 کے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر سالانہ رپورٹ بھارت میں نفرت کی سیاست کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان اور منظم نفرت انگیز جرائم کے تشویشناک معمول بننے کی تصدیق کرتی ہے۔سی ایس او ایچ کی ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ایویان لیڈگ کا کہنا تھا کہ ”پورے سال نفرت انگیز تقاریر کی بلند سطح برقرار رہی۔ پچھلے برسوں کے برعکس، انتخابی ادوار کے باہر بھی یہ سلسلہ کم نہیں ہوا۔”یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت والی اتر پردیش میں نفرت انگیز تقاریر کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور دہلی کا نمبر ہے۔ یہ پانچوں ریاستیں مجموعی طور پر ملک بھر میں درج ہونے والے نفرت انگیز تقاریر کے تقریباً 65 فیصد واقعات کی ذمہ دار رہیں۔ اس کے برعکس، اپوزیشن جماعتوں کے زیرِ حکومت ریاستوں میں 2025 میں 154 واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد کمی ہے۔ رپورٹ میں منظم ہندوتوا گروہوں کو عوامی نفرت انگیز تقاریر کے بڑے محرکات قرار دیا گیا۔ وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو 289 واقعات سے جوڑا گیا، اس کے بعد انترراشٹریہ ہندو پریشد کا نمبر آیا۔ گزشتہ سال کے دوران 160 سے زائد تنظیموں اور غیر رسمی گروہوں کو منتظم یا شریک منتظم کے طور پر شناخت کیا گیا۔
بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیاہے۔ امریکا کی ریسرچ گروپ انڈیا ہیٹ لیب نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے دوران مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ایک ہزار 318نفرت انگیز واقعات رپورٹ ہوئے جو 2024 کے ایک ہزار 165اور 2023 میں رپورٹ ہونے والے واقعات سے زیادہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر واقعات مودی کی ہندوتوا جماعت بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہوئے جبکہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 22اپریل سے 7مئی تک سب سے زیادہ 100سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔رپورٹ میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا جنہوں نے مودی کی حکمرانی میں اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی اور نفرت انگیز واقعات میں اضافہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھی مودی کی حکمرانی میں اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی کے واقعات میں اضافے پر تشویش ظاہر کررہی ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو اپنی انتخابی مہم کا مؤثر ہتھیار بنا لیا ہے۔ الیکشن کے دوران بی جے پی اور انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات اور پرتشدد کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں انتخابی دور کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر بڑھ جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والی پوسٹس تیزی سے وائرل کی جاتی ہیں جبکہ بھارتی میڈیا انہیں ملک دشمن اور مجرم کے طور پر پیش کرتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر وجود هفته 09 مئی 2026
بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر

امریکی سلطنت رو بہ زوال وجود هفته 09 مئی 2026
امریکی سلطنت رو بہ زوال

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود هفته 09 مئی 2026
بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی وجود جمعه 08 مئی 2026
بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی

دومنڈیاں ۔۔۔۔۔ وجود جمعه 08 مئی 2026
دومنڈیاں ۔۔۔۔۔

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر