وجود

... loading ...

وجود

مکالمے کی ضرورت

اتوار 03 مئی 2026 مکالمے کی ضرورت

حمیداللہ بھٹی

امریکہ وایران کے درمیان مزید مذاکرات ہوں گے یا نہیں؟اوراگرہوں گے تو کیادونوں میں کوئی آبرومندانہ تصفیہ ہوجائے گا؟اِن سوالات کے جواب جاننے کے لیے دنیا بے چین ہے مگر جن دو ممالک نے مذاکرات کرنے ہیں لگتا ہے اُنھیں دنیا کی بے چینی کاکوئی احساس نہیں کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کو میدان کے بعداب اعصابی جنگ میں شکست دینے کی کوشش میں ہیں مگر یہ کوشش دنیا کی معیشت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہورہی ہے ،جب مسائل کاحل بات چیت سے ممکن ہے کیونکہ دو فریق جب آمنے سامنے بیٹھتے ہیں تو موقف سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اور لچک کا امکان پیدا جاتا ہے مگر جانے کیوں یہ نکتہ سمجھ میں نہیں آرہا۔ اِس بارایران نے رویہ اور موقف ماضی سے زیادہ سخت کر لیا ہے کیونکہ جن امور پر عمان کی ثالثی میں تصفیہ ہوگیاتھا اُن سے بھی پیچھے ہٹنے لگا ہے یہی موجودہ ڈیڈ لاک کی اہم وجہ ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے یکطرفہ اوربلا جواز تھے اِس لیے حملوں کی تائید نہیں کی جا سکتی مگرجواب میں آبنائے ہُرمز جیسی عالمی گزرگاہ کو بند کردینا بدمعاشی ہے۔ اِس بندش سے تیل کی بیس فیصد عالمی تجارت بند ہے اِس فیصلے سے صاف ظاہر ہے کہ آبنائے ہُرمز کی بندش سے حملہ آور ممالک کو نقصان پہنچانے کی بجائے ایران نے اپنے ہمسایہ اورحامی ممالک کی معیشت کونقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جو بدنیتی ہے اِس فیصلے کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ ایران سے نرمی یا تعاون کی تمام کوششیں اور منصوبے بُری طرح متاثرچکے ہیں ۔متحدہ عرب امارات کا اوپیک کو خیر باد کہنا اور سعودی عرب کا تیل کی فروخت کے لیے آبنائے ہُرمز کے متبادل کی طرف متوجہ ہونا واضح دلیل ہیں۔ علاوہ ازیں ایران کی یہ بندش سراسر اسلامی ممالک کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کاباعث بنی اورمزید بیرونی مداخلت کا جواز فراہم کرنے کا باعث ہوئی مگر اب جبکہ امریکہ نے بھی تیل کی اِس تنگ گزرگاہ کی بندش کادائرہ وسیع کردیا ہے تو ایران تلملانے لگا ہے اور تیل کی قیمت بڑھانے کا موجب قرار دینے لگا ہے حقیقت یہ ہے کہ ایران کی چال اُسی پر اُلٹنے سے خطے میں امریکہ کو کسی حدتک بہتر مقام حاصل ہوا ہے مذاکرات سے انکار اور آبنائے ہُرمزکی بندش پر اصرار کرنے والا ایران اب کسی وقت موقف میں کچھ نرمی اور لچک پر آماد ہو سکتا ہے۔ شاید اُسے ایک ایسی فیس سیونگ درکارہوجس سے شکست کے تاثر کی نفی ہوتی ہو۔
پاکستان نے بطور ثالث امریکہ اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا اور کسی حد تک تصفیے کے آثار بھی دکھائی دینے لگے تھے کہ اچانک ایرانی وفد
سردمہری اختیار کرنے لگا جس کا مطلب یہی لیا گیا کہ وفد کو ملک سے نئی ہدایات آئی ہیں جو رویے میں تبدیلی کا باعث بنی ہیں دراصل ایران
کا نظام دنیا سے قدرے مختلف ہے یہ کچھ زیادہ ہی مذہب کے زیرِ اثرہے سیاسی قیادت موجود ہونے کے باوجود طاقت کا اصل مرکز رہبرِ اعلیٰ
ہے جس کے کنٹرول میں پاسدارانِ انقلاب جیسی قوت ہے یہ فوج کے علاوہ ملک میں طاقت ہے جو سیاسی حکومت کے دائراہ کار سے باہر
ہے اسی وجہ سے تو مسعودپزشکیان حملوں پر اپنے ہمسایہ عرب ممالک سے معذرت کرتے رہے لیکن اِس کے باوجود عرب ممالک پرحملے
جاری رہے کیونکہ اپاسداران ِ انقلاب سیاسی قیادت کے ماتحت نہیں بلکہ وہ صرف رہبرِ اعلیٰ کے احکامات تسلیم کرتے ہیں اسلام آباد
مذاکرات کوبھی پاسدارانِ انقلاب نے سبوتاژ کیا اور تصفیہ نہ دیا مگر پاکستان کی مخلصانہ کاوشیں ہنوز جاری ہیں تاکہ خطے کو مزید جنگ کی تباہ
کاریوں سے بچایا جا سکے مگر ایران میں پاسدارانِ انقلاب کی شکل میں ایسے عناصرہیں جو جنگ وجدل کا ماحول پسندکرتے ہیں تاکہ عوام
اپنے اصل مسائل بھولے رہیں آبنائے ہُرمز کی بندش سے امریکہ نے ایران کی تیل کی تجارت مکمل طورپر روک دی ہے جس کی وجہ سے
ایرانی معیشت اِس حد تک شدیددبائو کا شکار ہے کہ ملک میں مہنگائی اور افراتفری بڑھ سکتی ہے اسی بناپر کہا جا سکتا ہے کہ خطے اور ایران کی
بہتری اسی میں ہے کہ بات چیت سے جلد تصفیہ طلب مسائل کا حل تلاش کیاجائے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جب دوسری بار پاکستان آئے تویہ واضح کرگئے کہ اُن کا ملک امریکہ سے مزید براہ راست بات چیت یا
مکالمہ نہیں چاہتا شاید اُن کا خیال ہو کہ ایران کا جب میدانِ جنگ میں پلڑا بھاری ہے اور وہ ایک طویل جنگ کے اسباب سے لیس ہے تو
بات چیت کرنے کی بھلا ضرورت ہی کیاہے؟ لیکن ایران امورسے آشنا تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایران کی سیاسی قیادت کو توملکی مسائل کا
ادراک ہے کہ اُن کی عوام مسائل ومصائب کا بُری طرح شکار ہے لہذاضروری ہے کہ جنگ کے ماحول سے جلد نکلاجائے تاکہ منجمد اثاثے نہ
صرف دسترس میں آئیں بلکہ لگی بیرونی پابندیوں سے بھی نکلنے کا راستہ ہموار ہولیکن ملک کی انقلابی قیادت موجودہ صورتحال میں بھی جذباتیت کاشکار ہے یہ مہماتی جنگجو درپیش حالات کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کامیابی کی لغوداستانیں سناتے پھرتے ہیں باوجود اِس کے
کہ حالیہ جنگ میں اصل نقصان اسی طبقے کو ہوا ہے لیکن یہ ضدی اور ہٹ دھرم لوگ لگنے والی چوٹوں میں پورے ملک کوحصہ دار بناناچاہتے
ہیں ۔
امریکہ اور ایران میں فوری مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں تباہی کے راستے بند ہوں حالات یہ ہیں کہ اگر سعودی عرب نے پاکستان
سے دفاعی معاہدہ کر لیا ہے تو متحدہ عرب امارات اسرائیل کی طرف مائل ہے یہ خطے میں ہوتی نئی صف بندیوں کی طرف اِشارہ ہے، اِس
سے ایسے قیاسات کو تقویت مل رہی ہے کہ عرب خطے کے تنازعات میں نئے فریق آسکتے ہیں جس سے ایک ایسی نئی لڑائی کاخدشہ ہے جس
کے اثرات سے خطے کا کوئی ملک شایدہی محفوظ رہے لہذا یہ فیصلہ کرنا ایران کاکام ہے کہ وہ ایسی دانش کی روش لے جس سے ایرانی عوام اور
خطہ محفوظ رہے اگروہ اپنی معیشت کو بددستور عالمی بندیوں میں جکڑا دیکھنا چاہتا ہے اور اپنے منجمد اثاثوں کو عوامی بھلائی پر خرچ کرنے کاکوئی
منصوبہ نہیں رکھتا اور خطے میں ایک اور لڑائی کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے تو آبنائے ہُرمز کی بندش اور مزاکرات سے فرارپر اصرار جاری رکھ سکتا ہے
جس کے تباہ کُن نتائج کا شمار قابل از وقت ممک نہیں۔اگر معیشت بہتر بنانی اورمنجمد اثاثوں تک رسائی کاآرزومند ہے اور خطے کوامن کا
گہوارہ دیکھناچاہتاہے تو اُسے مکالمے کی ضرورت کوسمجھنا ہوگااور ثالثی کی مخلصانہ کوششوں کو کامیاب بنانے میں حصہ دار ہونا ہوگا۔
٭٭٭

 


متعلقہ خبریں


مضامین
مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر