... loading ...
محمد آصف
اقبال کا اضطراب دراصل انسان کو جمود اور بے حسی سے نکال کر حرکت اور عمل کی طرف بلاتا ہے ۔اضطراب کے معنی ہیں بے چینی،
تڑپ، اندرونی بے قراری اور کسی بہتر حالت کی تلاش میں دل کا بے سکون رہنا۔ اقبال کے نزدیک یہ اضطراب منفی کیفیت نہیں بلکہ زندگی کی
علامت ہے ، کیونکہ جہاں بے قراری نہ ہو وہاں ترقی بھی نہیں ہوتی۔ وہ چاہتے ہیں کہ فرد اور قوم اپنے موجودہ حالات پر مطمئن ہو کر نہ بیٹھ
جائیں بلکہ بہتری کی جستجو کریں۔ یہ فکری اور روحانی بے چینی انسان کو سوال کرنے ، سوچنے اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتی ہے ۔
اقبال کے ہاں اضطراب خودی کی بیداری کا پہلا قدم ہے جو انسان کو عظمت کی راہ پر گامزن کرتا ہے ۔ یوں ان کا پیغام یہ ہے کہ زندہ قومیں
ہمیشہ ایک مثبت اضطراب اپنے اندر زندہ رکھتی ہیں۔
علامہ اقبال کا یہ فکر انگیز شعر محض چند مصرعوں پر مشتمل ہونے کے باوجود ایک مکمل فکری منشور کی حیثیت رکھتا ہے :
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
ان اشعار میں اقبال نے فرد اور قوم دونوں کی روحانی و فکری کیفیت کو نہایت گہرائی سے بیان کیا ہے ۔ وہ ایک ایسی زندگی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں جو سکون کے نام پر جمود کا شکار ہو چکی ہو۔ یہاں طوفان سے مراد کوئی تباہ کن آندھی نہیں بلکہ وہ انقلابی کیفیت ہے جو انسان کے باطن کو جھنجھوڑ کر اسے حرکت، بیداری اور عمل پر آمادہ کر دے ۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ جس قوم کے اندر اضطراب نہ ہو، سوال نہ ہوں، جستجو نہ ہو، وہ بظاہر زندہ مگر درحقیقت مردہ ہوتی ہے ۔ سمندر کی موجیں اگر بے حرکت ہو جائیں تو وہ سمندر نہیں رہتیں، ایک ٹھہرا ہوا تالاب بن جاتی ہیں۔ اسی طرح انسان اگر اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو کر بیٹھ جائے تو اس کی ترقی کا سفر رک جاتا ہے ۔
اقبال کی فکر میں اضطراب کو منفی نہیں بلکہ مثبت طاقت کے طور پر دیکھا گیا ہے ۔ یہ اضطراب انسان کو اپنے حال پر غور کرنے ، اپنی کمزوریوں کو پہچاننے اور بہتری کی راہ تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی بڑے انقلابات آئے ، وہ کسی نہ کسی فکری طوفان کا نتیجہ تھے ۔ جب انسان اپنے گرد و پیش کے حالات سے بے چین ہوا، اس نے سوال اٹھایا، اس نے ناانصافی کو چیلنج کیا، تب ہی تبدیلی ممکن ہوئی۔اگر ہر فرد حالات کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لیتا تو نہ کوئی معاشرہ بدلتا اور نہ ہی کوئی قوم ترقی کرتی۔ اقبال کی دعا دراصل اسی بیداری کی دعا ہے ۔
عصر حاضر میں جب ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک عجیب سا تضاد دکھائی دیتا ہے ۔ ایک طرف علم اور معلومات کی کثرت ہے ، دوسری طرف فکری پختگی اور عملی جرات کی کمی۔ نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے ، دنیا بھر کی خبریں اس کی دسترس میں ہیں، مگر اس کے اندر وہ اضطراب کم نظر آتا ہے جواسے کسی بڑے مقصد کی طرف لے جائے ۔ اکثر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو محض ذاتی مفاد یا وقتی آسائشوں تک محدود کر لیتے ہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے اقبال نے ” بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں”کہہ کر واضح کیا۔موجیں موجود ہیں، صلاحیتیں موجود ہیں، مگر ان میں تلاطم نہیں، حرکت نہیں۔
اقبال کا پیغام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے اندر ایک مثبت بے چینی پیدا کریں۔ ایسی بے چینی جو ہمیں اپنی ذات کی اصلاح پر آمادہ کرے ، جو ہمیں معاشرتی برائیوں کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دے ، اور جو ہمیں خوابِ غفلت سے جگا دے ۔ اگر قوموں کی زندگی میں اضطراب ختم ہو جائے تو وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ سکون اگر جدوجہد کے بعد ملے تو نعمت ہے ، لیکن اگر وہ بے حسی اور مصلحت کا نتیجہ ہو تو نقصان دہ ہے ۔شعر کے دوسرے حصے میں اقبال نے علم کے مسئلے کو چھیڑا ہے ۔ ”تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو ، کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں”۔ اس مصرعے میں رسمی اور حقیقی علم کا فرق بیان کیا گیا ہے ۔ کتابیں پڑھ لینا، ڈگریاں حاصل کر لینا، معلومات جمع کر لینا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس علم کو اپنی زندگی میں نافذ کرتے ہیں؟ کیا ہمارا کردار اس علم کی گواہی دیتا ہے ؟ اگر نہیں، تو ہم محض کتاب خواں ہیں، صاحبِ کتاب نہیں۔
صاحبِ کتاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ علم انسان کے اندر سرایت کر جائے ، اس کی سوچ، اس کے فیصلوں اور اس کے عمل کا حصہ بن جائے ۔ آج کے تعلیمی نظام میں زیادہ تر زور امتحانات اور اسناد پر ہے ، کردار سازی پر نہیں۔ طالب علم برسوں کتابیں پڑھتے ہیں مگر معاشرتی ذمہ داری کا شعور کم ہی پیدا ہوتا ہے ۔ نتیجتاً معاشرہ ایسے افراد سے بھر جاتا ہے جو تعلیم یافتہ تو ہوتے ہیں مگر دیانت، اخلاص اور خدمت کے جذبے سے محروم ہوتے ہیں۔ اقبال اسی خلا کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف دنیاوی علوم تک محدود نہیں بلکہ دینی علم میں بھی یہی کیفیت نظر آتی ہے ۔ بہت سے لوگ مذہبی کتابیں پڑھتے ہیں، وعظ سنتے ہیں، مگر عملی زندگی میں انصاف، امانت اور سچائی کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ اگر علم انسان کو بہتر انسان نہ بنا سکے تو وہ ادھورا ہے ۔ اقبال چاہتے ہیں کہ علم انسان کے اندر ایک انقلاب برپا کرے ، اسے خودی کی پہچان دے اور اسے عمل پر آمادہ کرے ۔
اقبال کی فکرِ خودی دراصل اسی عملی زندگی کی دعوت ہے ۔ خودی کا مطلب خود پسندی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کا شعور ہے۔ جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے تو وہ جمود کو توڑ دیتا ہے ۔ وہ سوال کرتا ہے ، وہ جدوجہد کرتا ہے ، وہ حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے ۔ یہی وہ طوفان ہے جس کی اقبال دعا کرتے ہیں۔ یہ طوفان تخریب نہیں بلکہ تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے ۔
آج کے حالات میں یہ پیغام اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے ۔ دنیا سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے ۔ایسے میں اگر ہم محض تماشائی بن کر رہ جائیں تو ہماری موجیں کبھی متحرک نہیں ہوں گی۔ ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے اندر علم اور عمل کی ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ اشعار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کامیابی کا راستہ آرام طلبی سے نہیں بلکہ جدوجہد سے گزرتا ہے ۔ جو قومیں مشکلات کا سامنا کرنے سے گھبراتی نہیں، وہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ طوفان سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ہمیں اسے اپنی تربیت کا ذریعہ بنانا چاہیے ۔ کیونکہ طوفان ہی درخت کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے ، اور
آزمائش ہی انسان کے کردار کو نکھارتی ہے ۔
اقبال کا یہ پیغام ہر دور کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ وہ ہمیں بیداری، حرکت اور عمل کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ محض کتابیں پڑھ لینے سے مقصد حاصل نہیں ہوتا، بلکہ کتاب کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے ۔ جب تک ہم اپنے اندر اضطراب پیدا نہیں کریں گے اور علم کو عمل میں نہیں ڈھالیں گے ، ہم حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکیں گے ۔ اقبال کی دعا دراصل ایک تحریک ہے ایک ایسی تحریک جو فرد کو جگاتی ہے ، قوم کو سنبھالتی ہے اور تاریخ کا دھارا بدلنے کی طاقت رکھتی ہے ۔
٭٭٭