وجود

... loading ...

وجود

کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے!

اتوار 10 مئی 2026 کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے!

عطا محمد تبسم

کراچی اور لاہور کیا اب ہر جگہ کھانے ہی کا کام رہ گیا ہے ، حیدرآباد جیسے شہر میں بھی اب اتنے ہوٹل ریسٹورینٹ ، کھابے ہیں کہ کراچی سے لوگ اکثر صرف کھانا کھانے حیدرآباد جاتے ہیں، ملک سے باہر جو پاکستانی ہیں، وہ بھی اپنے آنے سے پہلے ان بہترین کھانے کی جگہوں کا پتہ کرتے ہیں، جہاں جاکر انھیں کھانا کھانا ہے ، وطن واپسی سے پہلے سب سے پہلے یہی پوچھتے ہیں کہ کہاں کی نہاری بہترین ہے ، کس جگہ کی بریانی اصل ذائقہ رکھتی ہے اور کون سی کڑاہی ابھی تک پرانے ہاتھوں کا مزہ دیتی ہے ۔ گوجرانوالہ کے پہلوانوں کو چڑے پسند ہیں، پہلون اور چڑے کا ذرا موازنہ تو کریں ، اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے ، ایک نوالہ بھی پورا نہیں ہوتا۔ چڑا محض کھانا نہیں، طاقت اور بھوک کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ گوجرانوالہ کے پہلوان ایک وقت میں اتنا کھا لیتے تھے جتنا عام آدمی دو دن میں نہ کھا سکے ۔ پنجاب کے شہروں میں کھانے کو ہمیشہ فراوانی، کشادگی اور مہمان نوازی کی علامت سمجھا گیا۔ملتان والے اپنے کھانوں پر نازاں ہیں، لاہور اور کراچی کے کھانوں کا اپنا ہی مزا ہے ۔ کراچی والے لاہور کے کھانوں کو کھا کر زیادہ خوش نہیں ہوتے ۔ دونوں شہروں کے کھانوں کا موازنہ کرنے اور بحث کرنے سے باہمی تلخیاں ہی جنم لیتی ہیں۔ میں لاہور جاکر لکشمی چوک کا چکر ضرور لگاتا ہوں۔ لیکن کھانوں کا مزا ذائقہ ، اب پہلے والا نہیں رہا۔
لاہور کی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کراچی میں نہیں جبکہ کراچی کے کچھ ایسے کھانے ہیں جو لاہور میں نہیں ملتے ۔ اس لیے ہمیں دونوں شہروں ، ہر شہر اور ہر آوٹ لٹ ، دکان، ہوٹل ، ریسٹورینٹ کا الگ ہی مزا ہے ، کراچی میں برنس روڈ پر ملک کی نہاری، وحید کی نہاری ، فیڈرل بی ایریا میں جاوید کی نہاری، طارق روڈ پر زاہد کی نہاری، اور ادریس کی نہاری ، اور لیاقت آباد میں گجر کی نہاری، سب کے الگ الگ ذائقے اور الگ الگ مزے ہیں ۔ کراچی اور حیدرآباد میں بریانی کا شوق عروج پر ہے ، اب نلی نہاری ، اور رات کو چار بجے حیدرآباد میں بریانی کی دیگ کھلتی ہے ، جس کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد پہلے سے لائن لگا کر کھڑی ہوتی ہے ۔نہاری کی بات کریں، بہاری بوٹی یا بریانی کا ذکر کریں تو یہ لاہورکی ڈشز نہیں۔ یہ کراچی میں ملتی ہیں۔ یہ پنجاب کی ڈشز نہیں۔ پنجاب میں تو پلاؤ چنا تھا۔ اسی طرح آلو گوشت، ہریسہ، لکشمی چوک کی کڑاہیاں یا کنہ گوشت لاہور میں اچھا ملتا ہے ۔پالک گوشت، پنیر پالک ،دال گوشت یہ کراچی کی ڈشز نہیں، یہ کشمیری ڈشز تھیں جو لاہور آئیں اور پھر یہاں کے لوگوں نے اس میں اپنا تڑکا لگا کر انھیں مزید بہتر کیا۔
کھانا اب صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں رہا، یہ شہروں کی پہچان، ثقافت، معیشت اور لوگوں کے مزاج کا آئینہ بن چکا ہے ۔ کراچی ہو یا لاہور، حیدرآباد ہو یا ملتان، گوجرانوالہ ہو یا پشاور، ہر شہر اب اپنے ذائقوں کے ذریعے اپنی شناخت قائم کر رہا ہے ۔ کبھی لوگ شہروں کی تاریخی عمارتیں دیکھنے جاتے تھے ، اب وہ وہاں کے مشہور ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور کھابوں کی فہرست ساتھ لے کر سفر کرتے ہیں۔کراچی اور لاہور کے درمیان کھانوں کا مقابلہ تو برسوں پرانا ہے ، مگر اب یہ مقابلہ صرف دو شہروں تک محدود نہیں رہا۔ حیدرآباد جیسے شہر میں بھی کھانے کی دنیا اس تیزی سے پھیلی ہے کہ کراچی سے لوگ صرف ایک پلیٹ کچوری، حلیم یا باربی کیو، بریانی ، کڑھائی کھانے کے لیے حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے ۔ اب ہر دوسرا شخص کسی نئے کیفے ، کسی پوشیدہ کھابے یا کسی پرانی دکان کی ویڈیو بنا کر پورے ملک کو بتا رہا ہے کہ اصل ذائقہ کہاں چھپا ہوا ہے ۔
ملتان والے اپنے سوہن حلوے ، آموں اور مخصوص دیسی ذائقوں پر نازاں ہیں۔ پشاور کے چپلی کباب، کوئٹہ کی سجی، کشمیری دال گوشت اور حیدرآباد کی کچوریاں اپنے اپنے علاقوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ لیکن جب بات کراچی اور لاہور کی ہو تو پھر بحث ذرا جذباتی ہو جاتی ہے ۔ دونوں شہر اپنے کھانوں پر فخر کرتے ہیں اور دونوں کے پاس اپنی دلیلیں ہیں۔
کراچی ایک بندرگاہی شہر ہے جہاں پورے برصغیر کے ذائقے آ کر جمع ہو گئے ۔ یہاں میمن، بہاری، دہلوی، حیدرآبادی اور افغانی اثرات ملتے ہیں۔ اسی لیے کراچی کی نہاری، بریانی، بہاری بوٹی اور کبابوں کا ایک الگ مقام ہے ۔ کراچی کی بریان، حلیم ، نہاری ، کباب خاس پر دھاگہ کباب صرف ایک کھانا نہیں بلکہ ایک جذباتی وابستگی ہے ۔ شہر کے ہر علاقے کی بریانی کا ذائقہ الگ ہے اور ہر شخص کے پاس اپنی پسندیدہ دکان کی ایک کہانی موجود ہے ۔دوسری طرف لاہور کا مزاج بالکل الگ ہے ۔ لاہور کا کھانا زیادہ دیسی، بھاری اور روایت سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ لکشمی چوک کی کڑاہیاں، کنہ گوشت، حلوہ پوری، پایے ، سری اور دیسی گھی میں ڈوبے ہوئے پراٹھے لاہور کی شناخت ہیں۔ لاہور کے کھانوں میں وہ دھواں، وہ خوشبو اور وہ فراوانی ہے جو پنجابی مزاج کی ترجمانی کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور والے اپنے کھانوں کو صرف ذائقہ نہیں بلکہ تہذیب سمجھتے ہیں۔
گزشتہ دو تین دہائیوں سے پاکستانی کھانے مسلسل ارتقا سے گزر رہے ہیں۔ ہر شہر دوسرے سے کچھ لیتا ہے اور پھر اس میں اپنا رنگ شامل کر دیتا ہے ۔یہ کہنا بھی مکمل سچ نہیں کہ کراچی کے پاس صرف چند ڈشز ہیں یا لاہور کے پاس سب کچھ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی طاقت اس کا وہ کلچر ہے ، جو ہر دو چار میل کے فاصلے سے بدل جاتا ہے ۔ اولڈ کراچی میں لیاری ، کھارادر، کے ذائقے کھانے اور تقافت سب ایک دوسرے سے مختلف ہے ۔ جبکہ لاہور کی قوت اس کی روایت میں۔ کراچی میں آپ کو دنیا بھر کے ذائقے ایک شہر میں مل جاتے ہیں جبکہ لاہور اپنے مخصوص انداز اور دیسی شان سے دل جیت لیتا ہے ۔
آج پاکستان میں کھانا ایک صنعت بن چکا ہے ۔ ہزاروں لوگ اس شعبے سے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ چھوٹے کھابے سے لے کر بڑے ریسٹورنٹس تک، ہر جگہ رش نظر آتا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی اور معاشی دباؤ کے اس دور میں کھانا اب لوگوں کے لیے خوشی کا سب سے آسان ذریعہ بن گیا ہے ۔ ایک اچھی پلیٹ بریانی، ایک گرم نان کے ساتھ کڑاہی یا نہاری کا ایک پیالہ لوگوں کو چند لمحوں کے لیے
زندگی کی تلخی بھلا دیتا ہے ۔ ذائقے کا تعلق صرف زبان سے نہیں، یادوں، ماحول اور شہر کی روح سے بھی ہوتا ہے ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہر کا کھانا اپنے لوگوں کی طرح منفرد اور دلکش محسوس ہوتا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں! وجود اتوار 10 مئی 2026
میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں!

کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے! وجود اتوار 10 مئی 2026
کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے!

بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر وجود هفته 09 مئی 2026
بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر

امریکی سلطنت رو بہ زوال وجود هفته 09 مئی 2026
امریکی سلطنت رو بہ زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر