... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارت کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن کو بگاڑ دیا ہے ، اس کی جارحانہ میزائل سازی پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔بھارت اپنی میزائل صلاحیتوں میں کئی اہم تبدیلیاں کر چکا ہے۔ ا س نے اگنیـV میزائل میں ایسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی ہے جس سے یہ میزائل بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ جو علاقائی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ وہ 10ہزار کلو میٹر تک مارکرنے والے اگنیـVI پر تیزی سے کام کر رہا ہے جو اسے ایک بین البراعظمی طاقت بنا دے گا۔وہ آواز سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتار ہائپرسانک میزائل کے تجربات کر رہا ہے۔بھارت کی جانب سے میزائل صلاحیت میں اضافہ علاقائی طاقت کے توازن کو کمزور کر رہا ہے، بھارت کے یہ اقدامات پاکستان کے لیے اپنے دفاعی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی دفاعی منصوبہ بندی میں مستقل ناکامیوں (جیسے برہموس کی غلط فائرنگ) کے باوجود جدید جوہری ٹیکنالوجی کا حصول عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔پاکستان بھارت کے ان جارحانہ اقدامات کے ردعمل میں اپنے دفاعی نظام کو جدید بنانے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ علاقائی توازن برقرار رکھا جا سکے۔
بھارتی حکومت نے رواں برس 27مارچ کو 25 بلین ڈالر مالیت کے دفاعی ساز و سامان کی خریداری کرنے کی منظوری دے دی۔اس خطیر رقم سے روسی ساختہ Sـ400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم، مختلف اقسام کے طیارے اور آرٹلری (توپ خانہ) سسٹم خریدے جائیں گے۔ ان منظوریوں میں اضافی روسی Sـ400 ٹرائمف سسٹم، سوویت دور کے پرانے Anـ32 اور Ilـ76 طیاروں کی جگہ نئے ٹرانسپورٹ طیارے اور مختلف آرٹلری سسٹم شامل ہیں۔
بھارتی وزارت دفاع کے مطابق ان خریداریوں میں فوج کے لیے ٹینک شکن گولہ بارود ، گن سسٹم اور فضائی نگرانی کے نظام، فضائیہ کے زیرِ استعمال Suـ30 لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن اور کوسٹ گارڈ کے لیے ہوور کرافٹ بھی شامل ہیں۔ یہ سب بھارت کے جنگی جنون اور خطے پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے اسکے مذموم ارادے کا پتہ دیتاہے۔گزشتہ برس 10مئی کو پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ”بدترین شکست” کے بعد سے مودی حکومت نے دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا، جس سے خطّے میں بڑھتی عسکریت پسندی کو مزید ہوا ملی ہے۔ بھارتی حکومت رواں سال دفاع پر 85.4 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت میں کم ازکم تیس تا چالیس کروڑ لوگ غربت کی لکیر تلے زندگی گذار رہے ہیں لیکن مودی حکومت ان کروڑوں لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے بجائے کھربوں روپے ہتھیار خریدنے پہ خرچ کر رہی ہے جو افسوسناک ہے۔اس حقیقت سے انکار تو ممکن ہی نہیں کہ دو ایٹمی ممالک ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے میدان میں اتریں گے تو ان دونوں ممالک کا مقدر ہی انسانی اور جنگلی حیات سمیت مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹنا نہیں بنے گا بلکہ یہ جنگ پورے کرہ ارض کی تباہی پر منتج ہوسکتی ہے کیونکہ دنیا کے ہر کونے پر آج ایٹم بم کی شکل میں قیامت توڑنے کے اسباب موجود ہیں جو انسانی ذہنِ رسا کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔بھارت کی ہندو انتہا پسند مودی سرکار نے پہلگام واقعے کی آڑ میں پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کے لیے اب تک پورا زور لگا لیا ہے اور اس وقت بھی پورے بھارت میں جنگی جنونیت کی فضا طاری ہے۔ مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ دے کر بھارتی افواج کو فری ہینڈ بھی دے دیا ہے۔ جنوبی ایشیائی خطے سے متعلق بھارتی مقاصد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ علاقائی خود ساختہ کردار کی وجہ سے بین الریاستی تعلقات کی اخلاقی اور قانونی رکاوٹوں سے آزاد، بھارت بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے میں اخلاقی کمزوری کا مظاہرہ کررہا ہے۔
بھارت کے جنگی جنون نے خطے میں ایک غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ اس سے نہ صرف خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوئی ہے بلکہ اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کے مواقع بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت کے اندر اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد ایک انسانی المیہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے کہ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹس میں بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور تشدد کو فروغ دے رہی ہے۔بھارت کی جانب سے کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں سکھ رہنماؤں اور دیگر شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کے الزامات نے عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔عالمی برادری میںبھارت کے خلاف عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔ بھارت کے ان اقدامات کے نتیجے میں خطے میں کئی منفی رجحانات جنم لے رہے ہیں۔ سب سے پہلے، ہتھیاروں کی دوڑ اور فوجی کشیدگی نے خطے کے ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر بھاری اخراجات اٹھانے پر مجبور کیا ہے، جس سے غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل مزید گمبھیر ہو رہے ہیں۔ دوسرا، مذہبی منافرت اور اقلیتوں کے خلاف تشدد نے خطے کی سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے، جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔ تیسرا، عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی اور ٹارگٹ کلنگز جیسے اقدامات نے خطے کو عالمی تنہائی اور عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔
٭٭٭