وجود

... loading ...

وجود

بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون

جمعرات 07 مئی 2026 بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون

ریاض احمدچودھری

بھارت کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن کو بگاڑ دیا ہے ، اس کی جارحانہ میزائل سازی پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔بھارت اپنی میزائل صلاحیتوں میں کئی اہم تبدیلیاں کر چکا ہے۔ ا س نے اگنیـV میزائل میں ایسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی ہے جس سے یہ میزائل بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ جو علاقائی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ وہ 10ہزار کلو میٹر تک مارکرنے والے اگنیـVI پر تیزی سے کام کر رہا ہے جو اسے ایک بین البراعظمی طاقت بنا دے گا۔وہ آواز سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتار ہائپرسانک میزائل کے تجربات کر رہا ہے۔بھارت کی جانب سے میزائل صلاحیت میں اضافہ علاقائی طاقت کے توازن کو کمزور کر رہا ہے، بھارت کے یہ اقدامات پاکستان کے لیے اپنے دفاعی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی دفاعی منصوبہ بندی میں مستقل ناکامیوں (جیسے برہموس کی غلط فائرنگ) کے باوجود جدید جوہری ٹیکنالوجی کا حصول عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔پاکستان بھارت کے ان جارحانہ اقدامات کے ردعمل میں اپنے دفاعی نظام کو جدید بنانے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ علاقائی توازن برقرار رکھا جا سکے۔
بھارتی حکومت نے رواں برس 27مارچ کو 25 بلین ڈالر مالیت کے دفاعی ساز و سامان کی خریداری کرنے کی منظوری دے دی۔اس خطیر رقم سے روسی ساختہ Sـ400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم، مختلف اقسام کے طیارے اور آرٹلری (توپ خانہ) سسٹم خریدے جائیں گے۔ ان منظوریوں میں اضافی روسی Sـ400 ٹرائمف سسٹم، سوویت دور کے پرانے Anـ32 اور Ilـ76 طیاروں کی جگہ نئے ٹرانسپورٹ طیارے اور مختلف آرٹلری سسٹم شامل ہیں۔
بھارتی وزارت دفاع کے مطابق ان خریداریوں میں فوج کے لیے ٹینک شکن گولہ بارود ، گن سسٹم اور فضائی نگرانی کے نظام، فضائیہ کے زیرِ استعمال Suـ30 لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن اور کوسٹ گارڈ کے لیے ہوور کرافٹ بھی شامل ہیں۔ یہ سب بھارت کے جنگی جنون اور خطے پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے اسکے مذموم ارادے کا پتہ دیتاہے۔گزشتہ برس 10مئی کو پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ”بدترین شکست” کے بعد سے مودی حکومت نے دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا، جس سے خطّے میں بڑھتی عسکریت پسندی کو مزید ہوا ملی ہے۔ بھارتی حکومت رواں سال دفاع پر 85.4 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت میں کم ازکم تیس تا چالیس کروڑ لوگ غربت کی لکیر تلے زندگی گذار رہے ہیں لیکن مودی حکومت ان کروڑوں لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے بجائے کھربوں روپے ہتھیار خریدنے پہ خرچ کر رہی ہے جو افسوسناک ہے۔اس حقیقت سے انکار تو ممکن ہی نہیں کہ دو ایٹمی ممالک ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے میدان میں اتریں گے تو ان دونوں ممالک کا مقدر ہی انسانی اور جنگلی حیات سمیت مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹنا نہیں بنے گا بلکہ یہ جنگ پورے کرہ ارض کی تباہی پر منتج ہوسکتی ہے کیونکہ دنیا کے ہر کونے پر آج ایٹم بم کی شکل میں قیامت توڑنے کے اسباب موجود ہیں جو انسانی ذہنِ رسا کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔بھارت کی ہندو انتہا پسند مودی سرکار نے پہلگام واقعے کی آڑ میں پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کے لیے اب تک پورا زور لگا لیا ہے اور اس وقت بھی پورے بھارت میں جنگی جنونیت کی فضا طاری ہے۔ مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ دے کر بھارتی افواج کو فری ہینڈ بھی دے دیا ہے۔ جنوبی ایشیائی خطے سے متعلق بھارتی مقاصد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ علاقائی خود ساختہ کردار کی وجہ سے بین الریاستی تعلقات کی اخلاقی اور قانونی رکاوٹوں سے آزاد، بھارت بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے میں اخلاقی کمزوری کا مظاہرہ کررہا ہے۔
بھارت کے جنگی جنون نے خطے میں ایک غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ اس سے نہ صرف خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوئی ہے بلکہ اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کے مواقع بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت کے اندر اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد ایک انسانی المیہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے کہ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹس میں بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور تشدد کو فروغ دے رہی ہے۔بھارت کی جانب سے کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں سکھ رہنماؤں اور دیگر شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کے الزامات نے عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔عالمی برادری میںبھارت کے خلاف عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔ بھارت کے ان اقدامات کے نتیجے میں خطے میں کئی منفی رجحانات جنم لے رہے ہیں۔ سب سے پہلے، ہتھیاروں کی دوڑ اور فوجی کشیدگی نے خطے کے ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر بھاری اخراجات اٹھانے پر مجبور کیا ہے، جس سے غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل مزید گمبھیر ہو رہے ہیں۔ دوسرا، مذہبی منافرت اور اقلیتوں کے خلاف تشدد نے خطے کی سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے، جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔ تیسرا، عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی اور ٹارگٹ کلنگز جیسے اقدامات نے خطے کو عالمی تنہائی اور عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون وجود جمعرات 07 مئی 2026
بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون

شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں! وجود جمعرات 07 مئی 2026
شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں!

کیا ریڈ لائن منصوبہ واقعی مقررہ معیار اور وقت پر مکمل ہوگا؟ وجود جمعرات 07 مئی 2026
کیا ریڈ لائن منصوبہ واقعی مقررہ معیار اور وقت پر مکمل ہوگا؟

بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟ وجود بدھ 06 مئی 2026
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

پاک افغان تعلقات کا مستقبل وجود بدھ 06 مئی 2026
پاک افغان تعلقات کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر