... loading ...
عطا محمد تبسم
گزشتہ تین دن سے میں حیرت میں ڈوبا ہوا ہوں۔ کیا واقعی کراچی کے مظلوم عوام کی آواز اس نظام کے کرتا دھرتا مائی باپ تک پہنچ گئی ہے ، اور ان کی داد رسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر رات دن کام ہوگا، اور یونیورسٹی روڈ پر بننے والا ریڈ لائن کا منصوبہ اب واقعی تکمیل کے مراحل طے کرلے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس ہفتے میں اس روڈ پر صبح سویرے تین وزٹ کیے ہیں۔ انھوں نے فوری طور پر راستے کے پیچ ورک ، کارپیٹنگ ، اور گڑھے بھرنے اور کام کی رفتار تیز کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ اور اس پر حیرت انگیز طور پر عمل بھی ہورہا ہے ، نیپا سے سوک سینٹر تک سڑک بہتر ہوگئی ہے ۔
ریڈ لائن بی آر ٹی کا منصوبہ جو ملیرر ہالٹ سے نمائش تک تقریباً 26کلومیٹر کا منصوبہ ہے ۔ یہ منصوبہ 2016میں شروع ہوا تھا۔ابتدائی اندازوں کے مطابق اس منصوبے پر 78ارب روپے سے زائد خرچ ہونا تھے ،لیکن اب تک 103ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود منصوبہ نامکمل ہے ، موجودہ ٹھیکیدار جو سندھ کے ایک بااثر شخصیت ہیں، اب عدالت میں ہیں۔ اگر سادہ حساب لگایا جائے تو اس منصوبے میں حکمران پیپلز پارٹی نے خوب لوٹ مچائی ہے ۔ سادہ حساب تو یہ ہے کہ ایک کلومیٹر پر چار ارب روپے خرچ ہوئے ، اور کام پھر بھی مٹی کا ایک ڈھیر ہے ۔ منصوبے پر کام عرصے سے رکا ہو تھا۔ سوشل میڈیا پر یونیورسٹی روڈ منصوبہ کو آبنائے ہرمز کا نام دے کر خوب لے دے ہورہی تھی کہ اچانک اتوار کو، اس منصوبے کے بکھرے ہوئے تعمیراتی ڈھانچے پر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے بینر، اور مارخور کی تصویر نظر آنے لگی۔ اسی دن مئیر کراچی مرتضی وہاب ، جوپہلے کہتے تھے کہ یہ منصوبہ 2035تک مکمل ہوگا، انھوں نے یہ خوش خبری دی کہ یونیورسٹی روڈ پر طویل عرصے سے تاخیر کا شکار بس ریپڈ ٹرانزٹ ریڈ لائن منصوبے کے ایک حصے پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے ۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب چار دن پہلے سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کے تعمیراتی معاہدے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ دیا جائے گا۔
سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ کنٹریکٹ اس لیے ختم کیا گیا کیونکہ ٹھیکیدار منصوبے پر کام میں تاخیر کر رہا تھا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے مالی معاون ایشین ڈیولپمنٹ بینک بھی کام کی رفتار سے ناخوش تھا، جبکہ ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے متعلقہ فریقین کو بھی تشویش تھی۔بعد ازاں مرتضیٰ وہاب نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی تصدیق کی کہ یونیورسٹی روڈ پر کام دوبارہ ایف ڈبلیو او کے ذریعے شروع کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے مکسڈ ٹریفک کوریڈور اور نالے کے کام کو 90 دن میں مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہے اور انشائاللہ عوام کو پیش رفت سے باخبر رکھا جائے گا۔
چند ہفتوں سے سندھ میں کراچی کے حوالے سے عوام کی بے اطمینانی کے حوالے سے یہ افواہ بھی گردش میں تھی کہ اسٹیبلشمنٹ یا نظام نے پیپلز پارٹی کو آؤٹ کر نے کا سوچ لیا ہے ۔ لیکن کیا واقعی ایسا کچھ ہونے جارہا تھا۔ کہنے والے اس بارے میں یہ دلیل دیتے یہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پہلی بار یہ ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی اور وزیر اعلیٰ سندھ اس منصوبے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں، اور کوئی نہ کوئی ایسی مجبوری ضرور ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو اس سلسلے میں متحرک ہونا پڑا ہے ۔ گو سندھ میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی حیثیت اب بھی مستحکم ہے ۔ 2024کے عام انتخابات کے بعد بھی سندھ حکومت اسی جماعت کے پاس رہی، اور سسٹم نے انھیں کراچی کی میئر شپ بھی دے دی۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زمینی سیاست میں اس کی گرفت ابھی ختم نہیں ہوئی۔سندھ میں اور خصوصا کراچی میں اب مافیاؤں کا راج ہے ، پانی بجلی گیس ٹرانسپورٹ، تعلیم ، صحت، کوئی شعبہ اس سے خالی نہیں ہے ۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس پاکستان میں مجموعی بدعنوانی کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی طرح کراچی کے مسائل جیسے انفراسٹرکچر، پانی اور ٹرانسپورٹ، ان پرسندھ حکومت اور اداروں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے لیکن وہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بلکہ سارے سسٹم ہی کو تباہ کردیا گیا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس منصوبے میں مالی معاونت کے لیے جو بڑے عالمی ادارے ساتھ کھڑے تھے ۔ جن میں ایشین ڈیولپمنٹ بنک اور Agence Franaise de Dveloppement شامل ہیں۔ وہ اس پورے منصوبے کے کام پر بے حد ناراض ہیں۔ اور فنڈ کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے ۔ یوں تو یہ امداد ، ایک قرض ہے ۔ جسے آخرکار عوام نے ہی چکانا ہے ۔آج کراچی کے شہری سوال کرتے ہیں کہ یہ سہولت جو سڑکوں کی استر کاری سے مہیا کی گئی ہے ، یہ پانچ سال میں کیوں نہ مہیا کی گئی۔ سندھ کے وزیر اعلی اور حکام کیا عوام کی اذیت کا مداوا کرسکیں گے ۔ وہ صرف یہ پوچھتے ہیں کہ کیا منصوبہ بندی بہتر نہیں ہو سکتی تھی؟ کیا کام مرحلہ وار نہیں ہو سکتا تھا؟ کیا ٹریفک کے متبادل راستے مؤثر نہیں بنائے جا سکتے تھے ؟ اور سب سے بڑھ کر، اور اب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کیا یہ منصوبہ واقعی مقررہ معیار اور وقت پر مکمل ہوگا؟
٭٭٭