... loading ...
محمد آصف
عصرِ حاضر کا انسان ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہے ۔ ایک طرف ٹیکنالوجی کی چکاچوند، سوشل میڈیا کی رنگینی، دنیاوی کامیابی کی دوڑ اور مادّی آسائشوں کی فراوانی ہے ، اور دوسری طرف دل کا خالی پن، روح کی بے چینی اور مقصدِ حیات سے دوری۔ ایسے ماحول میں ولایتکا تصور محض ایک روحانی اصطلاح نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت اور عملی راستہ ہے ۔ ولایت کا مطلب صرف کسی خاص بزرگ یا ولی سے منسوب کوئی کرامت نہیں، بلکہ اللہ سے قرب، تقویٰ، اخلاص اور پاکیزہ طرزِ زندگی اختیار کرنا ہے ۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ممکن ہے جو اپنے دل کو سنوارنے اور اپنے رب کی رضا کو زندگی کا مقصد بنانے کا عزم کرے ۔
اے نوجوان بیٹیو، بہنو، بیٹو، بھائیو اور دوستو! آج کا دور صحبت کے اعتبار سے نہایت حساس ہے ۔ پہلے صحبت صرف مجلسوں تک محدود تھی، مگر اب ڈیجیٹل دنیا نے صحبت کا دائرہ وسیع کر دیا ہے ۔ آپ کس کو فالو کرتے ہیں، کیا دیکھتے ہیں، کیا سنتے ہیں اور کن خیالات کو اپنے ذہن میں جگہ دیتے ہیں یہ سب آپ کی روحانی کیفیت پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ صالح اور پاکیزہ صحبت اختیار کرنا آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے ۔ گناہ آلود معمولات، خواہ وہ آنکھوں کے ذریعے ہوں یا زبان کے ذریعے ، دل کی اس روشنی کو مدھم کر دیتے ہیں جو
نیکی کی رغبت پیدا کرتی ہے ۔ جب دل مسلسل گناہ کے ماحول میں رہے تو نیکی کرنے کی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے ، اور انسان کو گناہ معمولی لگنے لگتا ہے ۔ یہی وہ خطرناک مقام ہے جہاں سے روحانی زوال شروع ہوتا ہے ۔
تقویٰ اختیار کرنا یا کم از کم اس کی کوشش کرنا خود ایک کرامت ہے ۔ کرامت کو ہم اکثر غیر معمولی واقعات سے جوڑ دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اصل کرامت اپنے نفس پر قابو پانا، حرام سے بچنا، سچ پر قائم رہنا اور آزمائش میں ثابت قدم رہنا ہے ۔ کرامت کسی خاص ولی کے ساتھ مخصوص نہیں؛ کرامت دراصل کرم سے ہے ۔ جیسے عمل ویسی کرامت۔ اگر عمل پاکیزہ ہوں، نیت خالص ہو اور دل میں اللہ کی یاد زندہ ہو تو زندگی خود ایک کرامت بن جاتی ہے ۔ ایک نوجوان کا فتنوں بھرے ماحول میں پاکدامن رہنا، ایک تاجر کا دھوکہ دہی سے بچنا، ایک طالب علم کا نقل سے اجتناب کرنا یہ سب عصرِ حاضر کی روشن کرامتیں ہیں۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہاگر چراغ کو تیل نہ ملے تو وہ گل ہو جاتا ہے ؛ اسی طرح اگر معرفت کے نور کو تقویٰ کی امداد نہ ہو تو وہ بجھ جاتا ہے ۔ آج بہت سے لوگ دین کی معلومات رکھتے ہیں، لیکچرز سنتے ہیں، اقوال شیئر کرتے ہیں، مگر عملی تقویٰ کی کمی کے باعث دل میں وہ حرارت باقی نہیں رہتی جو ایمان کو زندہ رکھتی ہے ۔ علم چراغ ہے تو تقویٰ اس کا تیل۔ اگر ہم صرف معلومات جمع کرتے رہیں اور عمل نہ کریں تو وہ علم دل میں اثر پیدا نہیں کرتا۔ عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ معلومات کی کثرت ہے مگر عمل کی قلت۔
تقویٰ کی خوبصورت تعریف یہ ہے کہ جہاں بندے کا رب اسے دیکھنا چاہتا ہے وہاں سے بندہ غیر حاضر نہ ہو، اور جہاں وہ اسے نہیں دیکھنا چاہتا وہاں موجود نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہو اور گناہ کی جگہوں سے خود کو دور رکھا جائے ۔ آج کے دور میں تنہائی کا تصور بدل چکا ہے ۔ موبائل فون کے ساتھ بند کمرے میں بیٹھا انسان بظاہر اکیلا ہوتا ہے ، مگر حقیقت میں وہ اللہ کی نظر میں ہوتا ہے ۔تقویٰ یہ ہے کہ اس لمحے بھی انسان کو یہ احساس رہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے ۔ یہی احساس اسے گناہ سے روکتا اور نیکی کی طرف مائل کرتا ہے ۔ مہاجر وہ نہیں جو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جائے ، بلکہ حقیقی مہاجر وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی، ظلم اور گناہ کا طرزِ عمل چھوڑ دے ۔ آج کے نوجوان کے لیے ہجرت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ بری عادتوں سے ہجرت کرے ، فضول مشاغل سے ہجرت کرے ، منفی دوستوں سے ہجرت کرے اور ایک نئی، پاکیزہ زندگی کی طرف قدم بڑھائے ۔ یہ اندرونی ہجرت ہی اصل کامیابی ہے ۔ معاشرہ اسی وقت بدلے گا جب افراد اپنے اندر تبدیلی لائیں گے ۔
انسان کا حقیقی دوست اس کا رب ہے ۔ دنیا کے تعلقات وقتی ہیں؛ لوگ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں، امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ اکثر انسان کو یہ حقیقت اس وقت سمجھ آتی ہے جب وہ گر جاتا ہے ، ٹوٹ جاتا ہے یا کسی آزمائش میں بکھر جاتا ہے ۔ مگر خوش نصیب وہ ہے جو گرنے سے پہلے اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لے ۔ اللہ کی دوستی سچی، گہری اور دائمی ہے ۔ جب انسان اس دوستی کو پا لیتا ہے تو دنیا کی بے ثباتی اسے مایوس نہیں کرتی۔
اگر آپ کو اپنے اندر خیر کی طرف رغبت محسوس ہو، دل میں نیکی کی خواہش پیدا ہو، آنکھوں میں ندامت کے آنسو آئیں تو فوراً اللہ کی حمد کریں اور شکر ادا کریں۔ یہ آپ کی اپنی طاقت نہیں بلکہ اس کی توفیق ہے ۔ قربِ الٰہی کے راستوں پر چراغاں کرنے والے موتی دراصل انسان کے آنسو ہیں۔ سچے دل سے بہنے والا ایک آنسو، جو توبہ اور ندامت سے لبریز ہو، وہ اللہ کے نزدیک بے حد قیمتی ہے ۔ ان چراغوں اور موتیوں کا خریدار خود ربِ رحیم ہے ۔ عصرِ حاضر کے شور و غل میں اگر کوئی نوجوان رات کی تنہائی میں دو آنسو بہا لے تو وہ اس کے لیے نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اے بہنو، بیٹیو، بیٹو، بھائیو اور دوستو! اپنے قلب و باطن کے مخفی حالات پر نظر رکھیں۔ ہم اپنی ظاہری شخصیت کو سنوارنے میں بہت محنت کرتے ہیں لباس، پروفائل، تصویر، اسٹیٹس مگر باطن کی اصلاح پر کم توجہ دیتے ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان کی پوشیدہ حالت اس کی ظاہری حالت سے بہتر ہو۔ اگر لوگ ہمیں نیک سمجھیں مگر ہم اندر سے خالی ہوں تو یہ خسارہ ہے ۔ لیکن اگر ہم خاموشی سے اللہ سے جڑے ہوں، چاہے دنیا ہمیں نہ پہچانے ، تو یہی اصل عزت ہے ۔
یہ دنیا امتحان گاہ ہے ، آرام گاہ نہیں۔ مگر آج کا انسان اسے مستقل آرام گاہ بنانے کی کوشش میں ہے ۔ ہر شخص زیادہ سے زیادہ آسائش چاہتا ہے ، کم سے کم ذمہ داری کے ساتھ۔ حالانکہ امتحان میں محنت، صبر اور استقامت درکار ہوتی ہے ۔ اگر ہم امتحان گاہ کو آرام گاہ سمجھ لیں تو نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کریں، وقتی لذت کے بجائے دائمی کامیابی کو سامنے رکھیں۔ سلوک اور طریق کے باب میں پختہ اور دائمی ارادہ پہلی شرط ہے ۔ وقتی جوش کافی نہیں۔ عبادت، ریاضت، تقویٰ اور طہارت میں ثابت قدمی ضروری ہے ۔ چھوٹے چھوٹے اعمال کو تسلسل کے ساتھ انجام دینا، گناہ سے بچنے کی مسلسل کوشش کرنا اور ہر روز اپنے آپ کا محاسبہ کرنا یہی ولایت کی راہ ہے ۔ اللہ کے قربِ خاص کی نشانی یہی ہے کہ انسان بتدریج آگے بڑھتا رہے ، گر کر سنبھل جائے ، تھک کر رکے نہیں اور مایوسی کو دل میں جگہ نہ دے ۔
عصرِ حاضر کے چیلنجز بڑے ہیں، مگر اللہ کی رحمت اس سے کہیں بڑی ہے ۔ اگر ہم کرم کو اپنا شعار بنا لیں، تقویٰ کو اپنا زادِ راہ بنا لیں اور اپنے دل کو دنیا کی آلودگی سے بچانے کی کوشش کریں تو ہماری زندگی خود ایک پیغام بن سکتی ہے ۔ ولایت کوئی دور کی منزل نہیں؛ یہ ہمارے روزمرہ کے فیصلوں میں چھپی ہوئی ہے ۔ جب ہم ہر قدم پر یہ سوچیں کہ میرا رب مجھ سے کیا چاہتا ہے ، تو یہی سوچ ہمیں کرامت کی راہ پر گامزن کر دیتی ہے ۔ یہی عصرِ حاضر میں کامیابی، سکون اور حقیقی عزت کا راستہ ہے ۔
٭٭٭