وجود

... loading ...

وجود

بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

بدھ 06 مئی 2026 بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

معصوم مرادآبادی

پانچ اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد اب سب کی نظریں نتائج پر مرکوز ہیں۔یوں تو یہ انتخابات مغربی بنگال، آسام، تمل
ناڈو، کیرل اور پانڈیچری کی اسمبلیوں کے لیے برپا ہوئے ، لیکن ان میں سب سے زیادہ توجہ مغربی بنگال نے حاصل کی، جہاں بی جے پی
نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے سارے گھوڑے کھول دئیے اور مرکزی فورسز کا بے جا استعمال کیا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ مغربی بنگال
میں الیکشن نہیں بلکہ جنگ ہورہی تھی۔ انتخابی عمل پورا ہونے کے بعد ممتا بنرجی نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ناکامی کو کامیابی میں
بدلنے کے لیے ای وی ایم مشینوں میں ہیرا پھیری اور گڑبڑکا اندیشہ ہے ۔ ممتا بنرجی نے رائے شماری مراکز پر صرف مرکزی حکومت کے
ملازمین کو نگراں اور معاون بنائے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔مودی سرکار کا آخری حربہ
اکزٹ پول تھے جن میں یہ دکھایا گیا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کو اکثریت حاصل ہورہی ہے ، لیکن اکزٹ پول پر اعتبار اس لیے نہیں کیا جاسکتاکہ2021کے چناؤ میں بھی اکزٹ پول بی جے پی کی کامیابی کا اعلان کررہے تھے لیکن جب کاؤنٹنگ ہوئی تو ترنمول کانگریس نے
کامیابی کا پرچم لہرایا۔ اگر رائے شماری میں گڑبڑنہیں ہوئی تو اس بار کے نتائج بھی پچھلے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے مختلف نہیں ہوں گے ۔
اطمینان بخش بات یہ ہے کہ مغربی بنگال کے عوام نے خودکو ڈرانے اور دھمکانے کی تمام کوششوں کا منہ توڑ جواب دیا۔
29اپریل کی شام کو چھ بجے پولنگ ختم ہونے کے بعد جب اکزٹ پول کے نتائج آنے شروع ہوئے تو سب کی نظریں مغربی بنگال
کی طرف لگی ہوئی تھیں کیونکہ اصل گھمسان وہیں ہورہا ہے اور بی جے پی نے ممتا بنرجی کو ہرانے کے لیے تمام غیراخلاقی راستے اختیار کئے
ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار کسی الیکشن کو جیتنے کے لیے مرکزی فورسز کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ سب سے زیادہ تعینا
تی سی آر پی ایف کی تھی، جس کے تقریباً ڈھائی لاکھ جوان مغربی بنگال میں موجود تھے ۔ ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ چناؤ کے دوران سی
آر پی ایف بھارتیہ جنتا پارٹی کی پرائیویٹ آرمی کے طورپر کام کررہی تھی۔ خود ممتا بنرجی نے کہا کہمیں نے اپنی زندگی میں ایساچناؤ کبھی نہیں
دیکھا، وہ ہمیں ٹارچر کررہے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مغربی بنگال میں پیرا ملٹری فورسز کے علاوہ قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے بھی سرگرم تھی، جس کا بنیادی کام
ملک میں دہشت گردی سے متعلق معاملات کی چھان بین کرنا ہے ۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر ابھیشیک بنرجینے کہا کہ”بنگال میں صرف آئی
این ایس اور رافیل طیاروں کو اتارنا باقی تھا۔ بنگال کی سڑکوں پر بکتر بندگاڑیوں کی نقل وحمل کو دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگاسکتا تھا کہ یہ چناؤ نہیں
بلکہ جنگ کا میدان ہے ۔عام طورپر مرکزی فورسز کا کام چناؤ کے دوران صوبائی پولیس کی مدد کرنا ہوتا ہے ، لیکن یہاں مرکزی فورسز نے صوبائی پولیس کو عضو معطل بناکر چھوڑدیا۔ یہاں تک کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جن پولیس افسران کو آبزرور بناکر بھیجا گیا تھا وہ باقاعدہ بی جے پی کارکن کے طورپر سرگرم عمل تھے ۔
مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی طرح دوسرے اور آخری مرحلے میں بھی رائے دہندگان نے ڈٹ کر ووٹ ڈالے اور پچھلے تمام پولنگ
ریکارڈ پیچھے چھوڑ دئیے ۔ انتخابی مبصرین بھاری پولنگ کی الگ الگ توجیحات پیش کررہے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ اس بار کی پولنگ پر سب
سے زیادہ اثر’ایس آئی آر’کا ہے جس میں یوں تو پورے ملک کے باشندوں کو سخت مراحل سے گزرنا پڑا ہے ، لیکن بنگال میں جس طرح
رائے دہندگان کو ہراساں کیا گیا ہے ، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا اصل نشانہ مسلمان تھے جن کا ریاست کی
آبادی میں تنا سب تقریباً 30/فیصد ہے ۔ ایس آئی آر کے سخت ترین مراحل کے دوران یہاں 90/لاکھ سے زائد ووٹروں کو حق رائے دہی
سے محروم کردیا گیا ہے ، جن میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔ آسام کی طرح یہاں کے مسلمانوں پر بھی بنگلہ دیشی ہونے کی تلوار لٹکی
ہوئی ہے اور یہی بی جے پی کا سب سے بڑا یجنڈا بھی ہے ۔
سبھی جانتے ہیں کہ بی جے پی رائے دہندگان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے ہمیشہ مسلمانوں پر’گھس پیٹھیا’ہونے کا فرسودہ
الزام لگاتی ہے ، مگر وہ اس بات کا کوئی جواب نہیں دیتی کہ جب ملک کی سرحدیں مرکزی فورس’بی ایس ایف’ کی نگرانی میں ہیں تو پھر ‘گھس
پیٹھ’ کے لیے صوبائی حکومت کیسے اور کیوں کر ذمہ دار ہے ؟بی جے پی اپنی تمام تر اچھل کود کے باوجود مغربی بنگال میں کہیں بنگلہ دیشی
دراندازی کو ثابت نہیں کرپائی ہے ، لیکن جھوٹ، نفرت،افواہوں اور مسلم دشمنی کا یہ کاروبار اس لیے پھل پھول رہا ہے کہ اس میں گودی میڈیا
مودی سرکار کا معاون ومدد گار ہے ۔ یعنی ‘جھوٹ کو اتنی بار بولو کہ وہ سچ سمجھا جانے لگے ‘۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس بار مغربی بنگال کا اسمبلی الیکشن ہمیشہ کے لیے یادگار بن گیا ہے ، کیونکہ بی جے پی نے اس الیکشن کو جیتنے اور ممتا
بنرجی کوہرانے کے لیے سارے گھوڑے کھول دیئے اور ہر جائزو ناجائز راستہ اختیار کیا۔ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو بے دست وپا
کرکے نظم ونسق کی صوبائی مشنری مرکزی فورسز کے کنٹرول میں دے دی۔ یہاں تک کہ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں سے بدنام
زمانہ پولیس افسروں کو یہاں الیکشن کمیشن کی طرف سے ‘آبزرور’ بناکر بھیجا گیا اور وہ عوام سے یوں پیش آئے گویا یہاں قانون کی نہیں بلکہ
ڈنڈے کی حکمرانی ہے ۔ ان افسروں میں اترپردیش کے ایک انکاونٹر اسپشلسٹ اجے پال شرما بھی تھے جنھوں نے رائے رہندگان کو ڈرانے
دھمکانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ یہ افسر یوپی کے وزیراعلیٰ کا چہیتا ہے اور جہاں جہاں اس کی ڈیوٹی رہی ہے اس
نے فرض شنا سی کی بجائے بی جے پی کے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کام کیا ہے ۔اجے پال شرما کے خلاف ایف آئی آر بھی درج
کرائی گئی ہے ، جس میں ان پر کسی وارنٹ کے بغیر رات کی تاریکی میں چوبیس پرگنہ علاقہ میں گھروں میں داخل ہونے ، خواتین پر حملہ کرنے
اور دھمکیاں دینے کا الزام ہے ۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں وہ ٹی ایم سی امیدوار جہانگیر خاں کا نام لے کر دھمکیاں دے
رہے ہیں۔ ایف آئی آردرج کرانے والی خاتون نے الزام لگایا ہے کہ ملزم نے اسے مخصوص سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کے لیے دباؤ ڈالا اور دھمکیاں دیں۔
ہر ریاست میں الیکشن کے دوران کمیشن کی طرف سے کچھ آبزرور تعینات کئے جاتے ہیں جن کا مقصد مقامی مشنری پر نظررکھنا اور اپنی
رپورٹ الیکشن کمیشن کو دینا ہوتا ہے ۔ یہ آبزرور مقامی پولیس کی نگرانی میں کام کرتے ہیں لیکن اجے پال شرما کی جس قسم کی ویڈیو منظر عام
پرآئی ہیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ وہاں ترنمول کانگریس کے امیدواروں اور ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے کے مقصد سے بھیجے گئے
تھے۔ یوں بھی ان کی شبیہ ایک متنازعہ پولیس آفیسر کی ہے اور کئی معاملات میں انکوائری کا سامنا کرچکے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ شرما
کے خلاف سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کرکے انھیں الیکشن ڈیوٹی سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔اس عرضی میں یہ دلیل دی گئی
ہے کہ آئی پی ایس افسر کا رویہ نہایت جانبدارانہ ہے اور وہ امیدواروں کو دھمکا رہے تھے ۔
ممتا بنرجی پچھلے پندرہ سال سے مغربی بنگال میں بلا شرکت غیرے اقتدار میں ہیں اور یہاں کے رائے دہندگان پر ان کی گرفت خاصی
مضبوط ہے ۔ انھوں نے مغربی بنگال میں اقتدار سی پی ایم سے چھینا تھا جو ریاست میں تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے برسراقتدار
تھی۔آج وہاں سی پی ایم کا کوئی نام لیوا نہیں ہے ۔حالیہ انتخابات کے دوران بی جے پی کی اچھل کود اور مرکزی فورسز کے بے دریغ استعمال
کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بنگال کا اقتدار ممتا بنرجی کے ہاتھوں سے چھن رہا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟ وجود بدھ 06 مئی 2026
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

پاک افغان تعلقات کا مستقبل وجود بدھ 06 مئی 2026
پاک افغان تعلقات کا مستقبل

مودی کی بدعنوان حکومت وجود بدھ 06 مئی 2026
مودی کی بدعنوان حکومت

عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب وجود منگل 05 مئی 2026
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب

آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں! وجود منگل 05 مئی 2026
آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر