... loading ...
حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔
عبدالرحیم
ایران پر امریکی اسرائیلی حملہ اچھا خیال نہیں تھا۔یہ امریکی سلطنت کے زوال میں اہم موڑ کی حیثیت رکھتاہے۔ بعض لوگ اسے امریکی قیادت میں عالمی نظام کی بالادستی کہتے ہیں کیونکہ اس کاپرچم ان زمینوں پر نہیں لہراتا جو اس کے تحفظ میں ہے یا وہ جن کا استحصال کرتا ہے۔ لیکن سامراجی نظام اس وقت تک برقرار رہتے ہیں جب تک ان کے وسائل ان کے مقاصد کے حصول کیلئے کافی ہوں۔ ایران کی جنگ کے ساتھ صدر ٹرمپ نے سلطنت کو خطرناک حد تک پھیلا دیا ہے۔
ایک طویل جنگ میں ایران پراپنی مرضی مسلط کرنے کیلئے امریکہ کے پاس فوجی وسائل کی کمی ہے۔1991 میں صدام حسین کے عراق پر حملے کو یکسر پلٹ دینے کیلئے40 سے زائد ممالک کے 10 لاکھ فوجی درکار تھے۔عراق ایران کے مقابلے میں کم پیچیدہ اور اس کے سائز کا معمولی حصہ ہے۔ اس جنگ میںامریکہ اپنی شہرت،اپنے دوست یا اپنی روح کھو بیٹھے گا۔
ایران چین سے زیادہ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے
انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں ایران پروجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ کے مطابق ایران میں پاسداران انقلاب کے حکام جنگ کے بعد چین سے اپنے تعلقات بڑھانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تاکہ وہ اس قسم کی فوجی امداد حاصل کرسکیں جو چینی حکام نے پاکستان کو دی ہے۔ علی واعظ کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب جو ایران میں اصل طاقت ہے،سے منسلک حکام کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ایران کی یہ ناکامی رہی ہے کہ وہ چین اور روس کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے میںمتذبذب رہے ہیں تاکہ اپنی آزادی برقرار رکھ سکیں۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں چین کے پاس ملک کا کچھ حصہ رہن رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ وہاں پہنچ سکیں جہاں پاکستان ہے۔
امریکہ کو اپنی توانائی کی رعونت کا خمیازہ بھگتنا ہو گا
امریکہ اب بھی تمام خام تیل کا ایک تہائی حصہ اب بھی در آمد کرتاہے۔پیٹرول جیسی آئل پروڈکٹس کی ملک کے اندر قیمت عالمی قیمت میں تبدیلیوں سے متاثر ہوتی ہے اور عالمی مارکیٹ اس جنگ کے تخریبی اثرات سال کے باقی حصے تک برقرار رہیں گے۔اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل بھی جاتی ہے تو مارکیٹیں بے چین رہیں گی اوریہ دیکھنے کا انتظار کریں گی کہ ایران اسے ایک بار پھر بند کر سکتا ہے۔ خلیجی ریاستوں سے نکلنے والے تیل کوزیا دہ خطرناک سمجھا جائے گا۔ ممالک اپنی توانائی کے سکیورٹی پلان کے بارے میں دوبارہ سوچیں گی اور اپنی معیشتوں کو تیل اور قدرتی گیس سمیت درآمدات پر انحصار کسی اور جگہ منتقل کر دیں گی۔یہ امریکہ کیلئے سب سے زیادہ گہرے نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔صدر ٹرمپ کے تحت امریکہ نے پیٹر و اسٹیٹ کے طور پر اپنی حیثیت منوائی ہے، ونڈ اور سولر کی طرح کےrenewable وسائل کی ترقی کی حوصلہ افزائی کیلئے اس نے ترغیبات اور پروگرام ختم کر دیے ہیں۔ اس وقت امریکی تیل اور گیس کی مارکیٹ ہے اور مختصر مدت کیلئے اس میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ خلیج کے بارے میں بے یقینی امریکہ کو ان کی فراہمی کا زیادہ دلکش ذریعہ بناتی ہے۔لیکن درمیانی سے طویل مدت میں یہ بحران ان توانیوں کے استحکام پر زیادہ بے یقینی پیدا کرے گا۔ زیادہ ممالک کلین انرجی ٹیکنالوجی سمیت متبادل تلاش کریں گے جہان چین کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ جب تیل اور گیس کی طلب کم ہوتی جائے گی توامریکہ اپنی برآمدی مارکیٹ کم ہوتے دیکھے گاجس کے نتیجہ میں ٹرلین ڈالر کی ملکی صنعت اور ہزاروں جابز جویہ فراہم کرتی ہے،خطرہ میں پڑجائیں گی۔امریکی صارفین ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سے دوچار ہونگے جبکہ باقی دنیا آگے بڑھ جائے گی۔امریکہ تیل پیدا کرنے،خرچ کرنے اور کنٹرول کرنے میں لگا رہے گا۔آخر کا ر یہ غلط جگہ کی ترجیح ثابت ہوگی۔20 ویں صدی کے توانائی کے وسائل کو کنٹرول کرنے کیلئے سخت مقابلہ ہوگا جب کہ باقی دنیا کلینر ٹیکنالوجیز کو اپنائیں گی جو21 ویں صدی کو برقی توانائی فراہم کریںگی۔
ٹرمپ اورژی کو نکسن اور مائو کے لمحہ کا سامنا ہے،تھامس ایل فرائیڈ مین
کریگ مْنڈی کو مائیکرو سافٹ میں ریسرچ اور اسٹرٹیجی کے سابق سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ نکسن اور مائو کے زمانے میں تعاون کر سکے کیونکہ ہمارا مشترکہ مسئلہ سوویٹ یونین تھا۔ اب ہمارے پاس ایک اور مشترکہ مسئلہ ہے۔ یہ ایک اورملک نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہے۔ یہ agentic A I systems سے asymmetric cyberthreats تک ابھرتے ہوئے خطرات ہیں۔ پرانے G 2 یعنی امریکہ اور چین کو نئے17 کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے جن میںAnthropic ،گوگل، الفا بیٹ، اوپن اے آئی،میٹا،علی بابا گروپ،ڈیپ سیک اور بائیٹ ڈانس شامل ہیں۔ ان نئے اے آئی ماڈلز سے بہترین نتائج حاصل کرنے جبکہ بدترین نتائج کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کیلئے طریقہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔حکومتیں اس مسئلے کو اپنے تئیں حل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی کمپنیاں حل کر سکتی ہیں۔ہم ایسی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جس میں نجی کمپنیا ں توانائی کے لحاظ سیذرہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کر سکتی ہیں اور ذرہ کو تقسیم کرنے سے آپ یا تو زیادہ بجلی پیدا کر سکتے ہیں یا بڑے asymmetric ہتھیار بنا سکتے ہیں۔ توقع ہے ٹرمپ ژی ایجنڈہ پر agentic A.I.کا موضوع پر ہوگا۔انہیں اب مل کر کام کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔بعد ازاں بہتزیادہ دیر ہو جائے گی۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا دور ہوگا جس میں ہمیں کامیاب ہونے کیلئے نظم و نسق چلانے کیلئے نئے طریقے استعمال کر نے اور بقائے باہمی کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔