... loading ...
شاہ صاحب فرمانے لگے !!یار، تم ہر وقت دکھ، درد، محرومی، مہنگائی اور مسائل ہی کیوں لکھتے رہتے ہو؟ لوگوں کے پاس پہلے ہی رونے کے لیے آنسو کم ہیں، تم مزید غم بانٹ دیتے ہو۔ کبھی قوم کو خوشخبری بھی سنایا کرو، حوصلہ بھی دیا کرو، روشن مستقبل بھی دکھایا کرو۔میں نے عرض کیا، شاہ صاحب! آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔سو دیکھیے ، کل ہمارے علاقے میں پورے اٹھارہ گھنٹے بجلی غائب رہی۔ مگر خدا گواہ ہے ، نہ میں نے لوگوں میں مایوسی پھیلائی، نہ حکومت کو کوئی خطاب دیا، دل میں بھی گالی نہیں نکالی، بلکہ میں نے لوڈشیڈنگ کے ایسے ایسے فوائد دریافت کیے کہ خود بجلی بھی شرما جائے ۔ میں نے سوچا، آخر اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں اور شکر کرنے والوں کے لیے جنت کا وعدہ کیا ہے ،اب ذرا انصاف سے بتائیے ، پاکستانی قوم سے زیادہ صبر کس نے کیا ہے ؟ مہنگائی برداشت کی، ٹیکس برداشت کیے ، بے روزگاری برداشت کی، لوڈشیڈنگ برداشت کی، لمبی قطاریں برداشت کیں، وعدے برداشت کیے ، اگر صبر کا کوئی عالمی کپ ہوتا تو پاکستان برسوں سے ناقابلِ شکست چیمپئن ہوتا۔تو میں نے دل کو تسلی دی کہ پاکستانی ہی تو صابر،شاکر ہیں،یہی جنت میں جائینگے ۔ دنیا توچند دن کی ہے ، اصل کامیابی تو آخرت کی ہے ۔ وہاں نہ بجلی کا بل آئے گا، نہ فیول ایڈجسٹمنٹ، نہ اضافی سرچارج، نہ میٹر ریڈر کا انتظار ہوگا۔ وہاں نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی، ایسی جن کا تصور بھی دنیا میں ممکن نہیں۔ مہنگائی،لوڈ شیڈنگ جائے بھاڑ میں،ہم سب جنت میں جائیں گے ۔کیا بات ہے جنت کی، وہاں خالص شہد ہوگا ،وہ بھی چھوٹی مکھی کا۔ اورشراب بھی ایسی، رومانے کونٹی سے کروڑوں درجہ بہتر اورمزیدار۔ اور رہی حوریں۔مولانا طارق جمیل کے مطابق،وہ ایسی خوبصورت ہوں گی کہ اگر ایک حورِ جنت دنیا میں ایک بار جھانک لے تو سورج بھی شرم سے چھپ جائے ۔ ان کا حسن اللہ نے اپنے ہاتھ سے تراشا ہے ، کوئی انسانی ہاتھ اسے چھو بھی نہیں سکتا۔ان کی زلفیں،لمبی، گھنگھریالی، سیاہ اور چمکدار،جیسے رات کا اندھیرا مگر چاندنی میں نہائے ہوئے ،جب وہ سر ہلائیں گی تو ان زلفوں کی لہریں دل کو موہ لیں گی، جیسے کوئی نرم ہوا باغِ جنت کے پھولوں کو چھو رہی ہو۔ان کی آنکھیں ، بڑی بڑی، کشش والی، سرمہ لگی ہوئی، جیسے ہیرے ،موتی یا چمکتے ستارے ،ایک نگاہ میں ہی دل فتح کر لیں گی، مگر وہ نگاہیں پاک اور شرم والی ہوں گی،ان کی آنکھوں میں کوئی فتنہ نہیں، صرف سکون اور محبت ہو گی۔ان کا قد و قامت،سیدھا، بلند اور خوبصورت، نہ زیادہ لمبا نہ چھوٹا ،بالکل وہ ڈول جو دل کو بھائے ۔
ان کی چال جنت کی ہواؤں سے بھی زیادہ نرم اور لطیف ہو گی۔ان کا حسن اور رنگت، سفید، چمکدار، جیسے تازہ دودھ میں غوطہ لگا ہو، یا موتی جو کبھی سورج کی روشنی نہ دیکھا ہو۔ ان کے جسم پر کوئی داغ نہیں، کوئی کمی نہیں، بالکل کامل اور پاکیزہ۔ ان کے لباس ریشم اور زر و جواہرات کے ہوں گے جو چمکتے رہیں گے ۔ ان کی آواز،جب وہ بولیں گی تو جیسے موسیقی بج رہی ہو، نرم، میٹھی اور دل کو چھو لینے والی۔ وہ تمہارے نام سے پکاریں گی تو دل پگھل جائے گا۔وہ کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی، کبھی بیمار نہیں ہوں گی، کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔ ہمیشہ مسکراتی رہیں گی، ہمیشہ خوش رہیں گی۔ ان کی محبت خالص ہو گی، حسد نہیں، تکبر نہیں۔پاکستانیو !! گھبرانا نہیں،یہ سب کچھ آپ کیلئے ہے ،آپکو ملے گا۔کیونکہ آپ سب صابر اور شاکر ہیں۔
اب آئیے دنیاوی کامیابی کی طرف۔لوڈشیڈنگ کے اتنے فائدے ہیں کہ اگر بجلی ہر وقت آنے لگے تو شاید ہم ان نعمتوں کو بھول جائیں۔سوچیے ، اگر چوبیس گھنٹے بجلی رہے گی تو میٹر بھی چوبیس گھنٹے دوڑے گا، میٹر دوڑے گا تو یونٹ بڑھیں گے ،یونٹ بڑھیں گے تو بل زیادہ آئے گا۔ بل زیادہ آئے گا تو جیب خالی ہوگی۔ جیب خالی ہوگی تو قرض لینا پڑے گا اور پھر قرض ادا کرنے کیلئے قرض لینا پڑے گا،آخر ایک دن قرض دینے والے آپ کی جائیداد ہر قبضہ کرلیں گے ،آپ گھر سے محروم کر فٹ پاتھ پر آجائیں گے ۔مگر لوڈشیڈنگ نے یہ سارا سلسلہ وہیں روک رکھا ہے ،بجلی نہیں، تو میٹر بھی آرام میں۔ میٹر آرام میں، تو یونٹ کم۔ یونٹ کم، تو بل نسبتاً کم۔ بل کم، تو قرض کم۔ قرض کم، تو گھر بچا ہوا ہے ۔ اب آپ خود فیصلہ کریں، یہ لوڈشیڈنگ نعمت ہوئی یا نہیں؟ہم تو برسوں سے غلطی یہ کرتے رہے کہ بجلی جاتے ہی آسمان کی طرف دیکھ کر شکوے شروع کر دیتے تھے ، حالانکہ ہمیں تو بجلی جاتے ہی اپنا کیلکولیٹر نکال کر خوش ہونا چاہیے تھا کہ چلو، چند یونٹ اور بچ گئے ۔اس لیے ، اے اہل پاکستان! آئندہ اگر بجلی چلی جائے تو پریشان مت ہونا، غصے میں گالیاں بھی مت دینا، دل میں بھی نہیں۔ بس اتنا سوچ لینا کہ شاید آج پھر چند یونٹ بچ گئے ، چند روپے بچ گئے ، اور قرض لینے کی نوبت چند گھنٹے مزید ٹل گئی۔
اور شاہ صاحب !! پڑھ لیجیے ۔ آج میں نے قوم کو مایوس نہیں کیا۔ آج تو میں نے انہیں دنیا کی کامیابی بھی سنا دی اور آخرت کی امید بھی دلا دی۔لکھتے ،لکھتے ۔آخر میں ساغر صدیقی کا شعر یاد آگیا۔
فقیہِ شہر نے تُہمت لگائی ساغر پر
یہ شخص درد کی دولت کو عام کرتا ہے