وجود

... loading ...

وجود

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

بدھ 01 جولائی 2026 تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

انسانی تاریخ کی تاریک ترین داستانیں صرف جنگوں، قتل و غارت اور سلطنتوں کے زوال کی کہانیاں نہیں ہیں بلکہ وہ انسان کے اندر چھپے ہوئے اُس درندے کی تاریخ بھی ہیں جو طاقت ملتے ہی اخلاقیات، ادب، قانون اور انسانیت کی تمام حدیں پار کر جاتا ہے۔
تاریخ کے صفحات پر جب بھی باربریت نے قدم رکھا، اس نے صرف شہروں کو نہیں جلایا بلکہ انسان کے شعور، تہذیب اور خوابوں کو بھی
راکھ میں تبدیل کیا۔قدیم زمانے سے لے کر آج تک باربریت کا چہرہ بدلتا رہا ہے مگر اس کی روح ایک ہی رہی ہے۔ کبھی وہ گھوڑوں پر سوار
قبائل کی صورت میں نمودار ہوئی، کبھی فاتح لشکروں کی شکل میں، کبھی مذہبی جنون کے روپ میں اور کبھی جدید ریاستوں کے منظم عسکری
ڈھانچوں کے اندر چھپ گئی۔ لیکن ہر دور میں اس کا پہلا شکار انسان رہا، دوسرا سچ اور تیسرا ادب۔جب منگول لشکر ایشیا کے میدانوں پر ٹوٹے
تو صرف شہر ہی نہیں گرے تھے۔ لائبریریاں جلائی گئی تھیں، علم کے مراکز مٹا دیے گئے تھے، کتابیں دریاؤں میں پھینک دی گئی تھیں۔ بغداد
کی گلیوں میں بہنے والا خون صرف انسانوں کا خون نہیں تھا بلکہ صدیوں کے علم، فلسفے اور فکر کا بھی خون تھا۔ دریائے دجلہ کے پانی کے بارے
میں کہا جاتا ہے کہ وہ کتابوں کی سیاہی سے سیاہ اور انسانوں کے خون سے سرخ ہوگیا تھا۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں تھا بلکہ تہذیب کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔لیکن باربریت صرف منگولوں تک محدود نہیں تھی۔ رومی میدانوں میں غلاموں کی لڑائیاں، صلیبی جنگوں کی سفاکیاں، یورپی نوآبادیات کے ہاتھوں افریقہ اور ایشیا کی تباہی، امریکہ کے مقامی باشندوں کی نسل کشی، افریقی غلاموں کی تجارت، سب اسی وحشت کی مختلف شکلیں تھیں۔
طاقت نے ہر بار اپنے لیے ایک نیا جواز تراشا اور ہر بار انسانیت کو قربان گاہ پر لٹایا۔ادب ہمیشہ باربریت کا سب سے بڑا دشمن رہا ہے۔ ایک شاعر کا قلم، ایک فلسفی کا سوال اور ایک ناول نگار کا ضمیر ہمیشہ ظالم کے لیے خطرہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وحشی طاقت نے سب سے پہلے کتابوں کو جلایا، دانشوروں کو قتل کیا اور سچ بولنے والوں کو خاموش کیا۔ جرمنی میں نازیوں نے کتابیں جلائیں، سوویت آمریت نے اختلاف کرنے والے ادیبوں کو جیلوں میں ڈالا، لاطینی امریکہ کے آمروں نے شاعروں کو غائب کیا، اور دنیا کے مختلف حصوں میں آج بھی سچ لکھنے والے خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ باربریت صرف تلوار یا بندوق کا نام نہیں۔ باربریت ایک ذہنی کیفیت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان دوسرے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب طاقت اخلاقیات سے آزاد ہوجاتی ہے تو انسان کے اندر کا درندہ بیدار ہوجاتا ہے۔ پھر وہ اپنے ظلم کو انصاف، اپنی ہوس کو نظریہ اور اپنی بربریت کو عظمت کا نام دینے لگتا ہے۔فلسفیوں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ تہذیب ایک نازک شیشے کی طرح ہوتی ہے۔ اسے تعمیر کرنے میں صدیاں لگتی ہیں مگر توڑنے کے لیے چند لمحے کافی ہوتے ہیں۔ انسان نے غاروں سے نکل کر ریاستیں بنائیں، قانون تخلیق کیا، ادب پیدا کیا، موسیقی اور فلسفہ کو جنم دیا، مگر اس کے باوجود اس کے اندر وہی قدیم وحشی آج بھی زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی، جو سائنس اور ترقی کی صدی کہلاتی ہے، انسانی تاریخ کی سب سے خونریز صدی بھی ثابت ہوئی۔ دو عالمی جنگیں، ہولوکاسٹ، ایٹمی بم، نسل کشیاں اور کروڑوں انسانوں کی ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ علم کی ترقی لازمی طور پر اخلاقی ترقی کی ضمانت نہیں دیتی۔
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ باربریت موجود رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہر دور میں لوگوں نے اسے عظمت سمجھنے کی غلطی کی۔ فاتحین کے مجسمے بنائے گئے، قاتلوں کو ہیرو کہا گیا اور خون آلود سلطنتوں کو تہذیب کا نام دیا گیا۔ حالانکہ کسی بھی قوم کی عظمت کا پیمانہ اس کی فوجی طاقت نہیں بلکہ اس کی اخلاقی بصیرت، علمی وسعت اور انسانی ہمدردی ہوتی ہے۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ باربریت کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہر نسل کے اندر ایک امکان کی صورت میں موجود رہتی ہے۔ جب معاشرے سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جب ادب کمزور ہوجاتا ہے، جب فلسفہ خاموش ہوجاتا ہے اور جب طاقت جواب دہی سے آزاد ہوجاتی ہے تو باربریت دوبارہ جنم لیتی ہے۔اسی لیے انسانی تاریخ کا اصل معرکہ سلطنتوں اور قوموں کے درمیان نہیں بلکہ انسان اور اس کے اندر موجود درندے کے درمیان ہے۔ تہذیب کا سفر دراصل اسی درندے کو قابو کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ جب تک انسان اپنے اندر کے اس وحشی کو پہچان کر اس پر اخلاقیات، علم، ادب اور شعور کی لگام نہیں ڈالتا، تب تک تاریخ کے میدانوں میں باربریت کے گھوڑوں کی ٹاپیں گونجتی رہیں گی اور تہذیب بار بار اپنے ہی ملبے پر کھڑی ہونے کی کوشش کرتی رہے گی۔
پاکستان کی تاریخ کو اگر محض حکمرانوں، انتخابات، جنگوں اور آئینوں کی تاریخ سمجھا جائے تو یہ ایک ادھوری تصویر ہوگی۔ اصل تاریخ ان کروڑوں لوگوں کی بھی ہے جنہوں نے طاقت کے بے رحم استعمال کے نتائج اپنی زندگیوں میں بھگتے۔ یہ ایک ایسی سرزمین کی کہانی ہے جہاں ریاست، اشرافیہ، جاگیرداری، بیوروکریسی، مذہبی انتہاپسندی اور مختلف طاقتور گروہوں نے مختلف ادوار میں طاقت کو اکثر خدمت کے بجائے تسلط کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن چیلنجز کا سامنا تھا، ان کے حل کے لیے قومی اتفاقِ رائے، مضبوط جمہوری اداروں اور شفاف حکمرانی کی ضرورت تھی۔ مگر رفتہ رفتہ طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی گئی۔ جمہوری ادارے کمزور ہوتے گئے اور ریاستی ڈھانچے کے اندر یہ تصور پروان چڑھتا گیا کہ عوام پر اعتماد کرنے کے بجائے ان پر حکم چلانا زیادہ آسان ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ بار بار اس حقیقت کی گواہ بنی کہ جب بھی طاقت قانون اور جوابدہی سے آزاد ہوئی، اس نے قومی وحدت کو نقصان پہنچایا۔ اختلافِ رائے کو اکثر غداری سمجھا گیا، تنقید کو دشمنی قرار دیا گیا اور سیاسی مخالفین کو ریاستی مسئلہ بنا کر پیش کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مکالمے کی جگہ محاذ آرائی نے لے لی اور ادارے مضبوط ہونے کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگے۔1971ء کا سانحہ شاید اس پوری تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے۔ جب سیاسی مسائل کا حل سیاسی بصیرت کے بجائے طاقت میں تلاش کیا گیا تو نتیجہ قومی المیے کی صورت میں نکلا۔ ایک ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، لاکھوں زندگیاں متاثر ہوئیں اور ایک پوری نسل زخموں کے ساتھ آگے بڑھنے پر مجبور ہوگئی۔ تاریخ میں بہت کم واقعات ایسے ہوتے ہیں جو اتنی شدت سے یہ ثابت کرتے ہوں کہ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کرسکتی ہے مگر مستقل اتحاد نہیں۔پھر طاقت کے مختلف مراکز وجود میں آتے گئے۔ کہیں جاگیردار اپنے علاقوں میں قانون سے بالاتر دکھائی دیے، کہیں سرمایہ دارانہ مفادات نے قومی ترجیحات پر اثر ڈالا، کہیں مذہبی انتہاپسندی نے معاشرے کو خوفزدہ کیا اور کہیں سیاسی اشرافیہ نے ریاست کو عوامی امانت کے بجائے اقتدار کے میدان کے طور پر استعمال کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عام پاکستانی کی زندگی مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار رہی۔اس دوران سب سے زیادہ نقصان شاید تعلیم، شعور اور فکری آزادی کو پہنچا۔ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو سوال پوچھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، مگر ہمارے ہاں اکثر سوال کو بغاوت سمجھا گیا۔ یونیورسٹیاں جو مکالمے کے مراکز ہونی چاہئیں تھیں، وہ کئی ادوار میں خوف اور دباؤ کا شکار رہیں۔ صحافت جو اقتدار سے سوال کرتی ہے، اسے مختلف شکلوں میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ادب جو معاشرے کا ضمیر ہوتا ہے، اسے اکثر حاشیہ پر دھکیل دیا گیا۔ طاقت کے اس غیر متوازن استعمال کا سب سے بڑا معاشی نقصان یہ ہوا کہ ریاست کی توانائیاں انسانی ترقی کے بجائے سیاسی اور ادارہ جاتی کشمکش میں صرف ہوتی رہیں۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، کمزور صحت کا نظام اور ناقص تعلیمی ڈھانچہ صرف معاشی ناکامیوں کی علامات نہیں بلکہ اس طرزِ حکمرانی کے نتائج بھی ہیں جس میں طاقتور طبقات اکثر اپنے مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے رہے۔
پاکستانی سماج کا ایک اور المیہ یہ رہا کہ یہاں طاقت صرف ایوانوں میں نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی نظر آتی ہے۔ تھانے سے لے کر دفتر تک، جاگیردار کی حویلی سے لے کر سرمایہ دار کے بورڈ روم تک، اور بعض اوقات گھر کی چار دیواری تک، طاقت کا عدم توازن کمزور کو خاموش رہنے پر مجبور کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناانصافی صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی رویہ بھی بن جاتی ہے۔مگر اس تمام
تاریکی کے باوجود پاکستانی تاریخ صرف جبر کی تاریخ نہیں ہے۔ یہ مزاحمت کی تاریخ بھی ہے۔ یہ ان صحافیوں کی تاریخ ہے جنہوں نے دباؤ
کے باوجود لکھا، ان شاعروں کی تاریخ ہے جنہوں نے خوف کے ماحول میں بھی سچ کہا، ان کارکنوں کی تاریخ ہے جنہوں نے قید و بند
برداشت کی، اور ان عام شہریوں کی تاریخ ہے جنہوں نے ہر بحران کے بعد بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا۔اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کی
تاریخ میں طاقت کا غلط استعمال ہوا یا نہیں، کیونکہ اس کا جواب تاریخ خود دے چکی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان غلطیوں سے کچھ
سیکھا ہے؟ کیونکہ قوموں کو تباہ کرنے والی چیز صرف ظلم نہیں ہوتی، بلکہ ظلم سے سبق نہ سیکھنا ہوتا ہے۔انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی
ہے کہ طاقت جب قانون، اخلاقیات اور جوابدہی کے تابع ہو تو ریاستوں کو مضبوط بناتی ہے، لیکن جب وہ خود قانون بن بیٹھے تو قوموں کے
جسم سے پہلے ان کی روح کو زخمی کرتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ بھی اسی ابدی سچائی کی ایک گواہی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ وجود بدھ 01 جولائی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر