وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جنت سے بچوں کا اغوا

جمعرات 04 اگست 2016 جنت سے بچوں کا اغوا

kidnapping

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی کی نہیں اور کسی کے لیے نہیں۔ ان کے پروردہ جمہوریت کا راگ ہر ماہ اپنے دولت کے گوشواروں میں اضافہ دیکھ کر الاپتے ہیں۔ پاکستان نے بددیانتوں کا ایسا مکروہ دور کبھی نہیں دیکھا، جب لوگ اپنے بنیادی عقائد بھی فروخت کرنے کو تیار ہو گئے ہوں۔

عام لوگ کیا چاہتے ہیں۔ امن وامان، منصفانہ معاشی سرگرمیاں اور انصاف۔ کیا یہ تینوں چیزیں موجودہ جمہوری نظام مہیا کر سکتا ہے؟ امن وامان کے لیے مکمل انحصار فوج پر ہے۔ عملاً وہ تین صوبوں میں موجود ہے۔ اور باقی بچ جانے والا ایک صوبہ وہ ہے جسے دستر خوانی قبیلے کے سب سے حریص تجزیہ کار نے گزشتہ دنوں’’ جنت‘‘ کہا تھا۔ جی ہاں! اُس جنت سے اب تک سرکاری اعداوشمار کے مطابق 652 بچے اغوا ہو چکے۔ غیر سرکاری اعداوشمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سب سے زیادہ بچے جنت کے دارالحکومت لاہور سے اغوا ہوئے۔ پھر راولپنڈی اور سرگودھا کا نمبر آتا ہے۔ یہ وسطی پنجاب کے علاقے ہیں، جہاں نون لیگ کا سیاسی غلبہ سب سے زیادہ ہے۔ ابھی ابھی پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ جانبدار اسپیکر سردار ایاز صادق گویا ہوئے ہیں کہ اس میں کون سی بڑی بات ہے۔ بچے تو اغوا ہوتے رہتے ہیں۔ بچے ہی کہاں حیا اور ضمیر بھی اغوا ہو گئے؟ سردار ایاز صادق اور دستر خوانی قبیلے میں بس ایک جیسی خوبو ہے۔ اسی جنت سے سلمان تاثیراور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے بھی اغوا ہوئے۔ مگر وہ جنت کے خوش قسمت بیٹے تھے جو گھروں کو لوٹ آئے۔ باقی بچوں کے اماں ابا میٹرو میں سفر کریں اوراورنج لائن سے دل بہلائیں۔ تاجروں کی جنت میں سواریاں اور سڑکیں بچوں سے زیادہ قابل محبت اور قابل توجہ ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ زیادہ نفع بخش ہوتی ہیں۔

سنا ہے جنت میں تو موت کو بھی موت آجائے گی۔ مگر یہ ایسی جنت ہے جہاں زندگی کی دوا موت بانٹتی پھرتی تھی

یہ وہی جنت ہے جہاں قصور کا سانحہ ہوا۔ جس پر سب نے’’ مٹی پاؤ‘‘ والا رویہ اختیار کیا۔ سینکڑوں لڑکوں کی عصمت دری بلیک ملینگ کے لیے کی گئی۔ پس پردہ ایک منظم گروہ تھا، جس کی سرپرستی مسلم لیگ کے ایک رکن صوبائی اسمبلی کرتے تھے۔ اگر اکا دکا واقعات میں کہیں کوئی داڑھی والا نظر آئے تو آسمان سر پر اُٹھا لیا جاتاہے۔ موم بتی مافیا سے لے کر لبرل فاشست سب ہی حرکت میں آجاتے ہیں۔ مگر اس منظم واقعے کو اپنی موت آپ مرنے دیا گیا۔ دستر خوانی قبیلے کی زبانوں کو لقوہ رہا۔ جنت کا داروغہ، ذمہ داران کو بس انگلی اُٹھااُٹھا کر عبرت کی مثال بنانے کے دعوے کرتا رہا۔

یہی داروغہ پنجاب کی صحت کی سہولتوں کو بھی بنفس نفیس دیکھتا ہے۔ ریلوے کے ہزار داستان وزیر خواجہ سعد رفیق کے بھائی سلمان رفیق کو تو بس مشیر پر قانع رکھا گیا ہے۔ پنجاب میں دل کے سب سے’’ اچھے‘‘ اسپتال پی آئی سی(پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی) میں جعلی ادویات کا فضیتہ (اسکینڈل) اُٹھاتو دستر خوانی قبیلے کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ مریض کو علاج کے لیے جو دوا دی جائے وہ اُسے کھا کر مرجائے۔ درجنوں لوگ جعلی ادویات کھانے سے مرگئے۔ سنا ہے جنت میں تو موت کو بھی موت آجائے گی۔ مگر یہ ایسی جنت ہے جہاں زندگی کی دوا موت بانٹتی پھرتی تھی۔ حریص تاجر وں کی حکومت میں موت پر بھی لین دین ہو سکتی ہے۔ اور حریص تجزیہ کاروں کے لئے ایسی جگہ بھی جنت نشان ہو سکتی ہے۔

جنت کے ایک تھانے سے ذاتی جیل چلائے جانے کی خبر بھی منکشف ہوئی ہے۔ یہ وہی جنت ہے جہاں ماڈل ٹاؤن ہوا، جس میں چودہ جیتے جاگتے انسان دن دِہاڑے گولیوں کی تڑ تڑ میں بھون دیئے گئے۔ وہیں سے ایک گلوبٹ کا انکشاف ہوا۔ شاید حریص تجزیہ کار کی جنت کے داروغہ کا نام ہوتا ہوگا۔ پنجاب کی سی ٹی ڈی (انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ) مقابلوں میں جن گمناموں کو لہولہان کرتی ہیں، اُن کی کوئی فردِ عمل ہے، نہ الزامات کی فہرست۔ بس وہ پولیس کے بیان کے مطابق دہشت گرد ہیں۔ کہیں کوئی آواز تک نہیں۔ اب لاہور کے صحافی کہہ رہے ہیں کہ بعض قتل تو ایسے بھی ہوئے جس میں سی ٹی ڈی کے اہلکار فرقہ وارانہ جذبے کے ساتھ بروئے کار آئے۔ سنا یہ ہے کہ جنت یا جہنم میں بھیجنے سے پہلے انسانوں کو ان کا نامۂ اعمال دکھا یا جائے گا۔ حریص تجزیہ کار کی ’’جنت‘‘ میں ایسی کوئی سہولت بھی نہیں۔ یہ وہی جنت ہے جہاں برادرم روف طاہر کے گھر پر دو بار ڈکیتیاں ہوئیں۔ وزیر اعظم میاں نوازشریف خوداُن کے گھر تشریف لے گئے اور یقین دہانی کرائی تھی کہ مجرم پکڑے جائیں گے مگر مجرم پکڑے نہ گئے۔ کیا جنت میں ڈکیتیاں بھی ہوتی ہیں؟ اور ہنسنے کی بات نہیں ابھی بارشوں میں جنت پوری ڈوب گئی تھی تب پتہ چلا تھا کہ جنت میں نکاسی آب کا انتظام بھی بہتر نہیں۔ بس سڑکوں، میٹرو، اورنج اور داروغہ جنت کی اُنگلی اُنگلی اُٹھا اُٹھا کر تقریروں سے دل بہلائیں۔ تاجر وہی کام کرتے ہیں جس میں فائدہ ہو۔ اور حریص وہی بولتے ہیں جس سے فائد ہ ہو۔ ازلی بھوکوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جب کھانا سامنے آئے تو وہ پیٹ کو نہیں کھانے کو دیکھتے ہیں۔ اور بس کھاتے ہی رہتے ہیں۔ سیاست دان ہی نہیں حریص تجزیہ کار اور دانشور بھی اس جمہوریت کے فیض یافتگان ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے فیض کو جمہوریت کی حفاظت کے نام پر جاری رکھنے میں وہ عوام مدد کریں جن کا یہ استحصال کررہے ہیں۔ سرمایہ پرست جمہوریت کا دھوکا اِسی لیے تو خطرناک ہے کہ یہ قیدیوں سے آزادی کے گیت سُنواتی ہے۔ اور مفلسوں سے افلاس کی توقیر کرواتی ہے۔

اگر چہ وہ آوازیں صرف رائیونڈ کی سنتے ہیں، مگر کوئی ہے جو بادشاہی مسجد سے چیخ کر اُنہیں بتائیں کہ تم اپنی زندگی میں ہی اپنے شاندار ماضی کا مزار بنا بیٹھے۔


متعلقہ خبریں


سرکاری میڈیا پر اپوزیشن کو برابر وقت ملنا چاہیے،جسٹس فائز عیسیٰ وجود - هفته 20 نومبر 2021

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ آئین انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، معلومات اور خواتین کی تعلیم کا حصول اہم بنیادی حقوق ہیں، عدالتی فیصلہ ہے وزیراعظم بطور پارٹی لیڈر سرکاری میڈیا پر بات کرے تو اپوزیشن کو برابر کا وقت ملنا چاہیے۔ لاہور میں انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیرکی یاد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ قائد اعظم نے کہا تھا کہ جمہوریت مانگنے سے نہیں ملتی یہ عوام کا حق ہوتا ہے، مذہب کہتا ہے لوگوں سے باتیں نہیں چھپائ...

سرکاری میڈیا پر اپوزیشن کو برابر وقت ملنا چاہیے،جسٹس فائز عیسیٰ

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج ، وزارت داخلہ کی لاہورکے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت وجود - جمعرات 21 اکتوبر 2021

وزارتِ داخلہ نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے بعض علاقوں میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے باعث انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت کردی۔ وزارت داخلہ کے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو لکھے خط میں وزارتِ داخلہ نے پی ٹی اے او کو لاہور کے علاقے سمن آباد، شیرا کوٹ، نواں کوٹ، گلشن راوی میں انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارتِ داخلہ نے لاہور کے علاقوں سبزہ زار اور اقبال ٹاؤن میں بھی فوری انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج ، وزارت داخلہ کی لاہورکے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شامی جنہیں غلام بناکر رومن اٹلی میں پہنچا دیا گیا۔ اپنی حس و صلاحیت سے آقانے اُنہیں تعلیم آشنا ہونے دیااور پھر وہ اپنے غیر معمولی ذہن سے لاطینی مصنف بن کر اُبھرا۔خوبصورت فقروں، محاوروں اور ضرب الامثال...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

خاتمہ وجود - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

جوتے کا سائز وجود - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ وجود - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے وجود - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

آزادی سے بیگانگی وجود - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے وجود - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ وجود - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت وجود - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت

ترکی کی قبل از وقت بغاوت وجود - پیر 25 جولائی 2016

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔ مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است (ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے) پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک ...

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

مضامین
دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام