وجود

... loading ...

وجود

زمین کی اصل امید!

اتوار 21 جون 2026 زمین کی اصل امید!

بے لگام / ستارچوہدری

جنت سے نکالا گیا ایک فرشتہ زمین پرآیا۔کہتے ہیں جب اسے جنت سے زمین پربھیجا گیا تواس کے ذہن میں انسانوں کے بارے میں ایک عجیب تصورتھا،اسے بتایا گیا تھا کہ زمین والے آزاد ہیں، اپنی مرضی سے جیتے ہیں، فیصلے خود کرتے ہیں، راستے خود چنتے ہیں۔ جنت میں ہرچیزاپنے نظام کے مطابق تھی، مگرزمین پراختیارتھا، انتخاب تھا، خواہش تھی، جدوجہد تھی۔فرشتہ جب زمین پراُترا تواس نے بڑے بڑے شہردیکھے ، آسمان کو چھوتی عمارتیں، روشنیوں میں نہائے بازار، دوڑتی گاڑیاں اورہاتھوں میں چمکتے موبائل، اسے لگا واقعی یہ ایک آزاد دنیا ہے ، مگرچند دن انسانوں کے درمیان گزارنے کے بعد اس کی حیرت بڑھنے لگی۔ اس نے دیکھا کہ ایک شخص ساری عمر صرف اس لیے کام کررہا ہے کہ لوگ اسے کامیاب کہیں، دوسرا اس لیے خاموش ہے کہ کہیں لوگ ناراض نہ ہو جائیں، تیسرا اپنے خواب دفن کرچکا ہے کیونکہ خاندان کیا کہے گا،چوتھا اپنی سچائی چھپا رہا ہے کیونکہ معاشرہ اسے قبول نہیں کرے گا۔ فرشتے نے سوچا، یہ کیسی آزادی ہے ؟ جنت میں تو قوانین تھے مگرغلامی نہیں تھی، یہاں قوانین کم ہیں مگرزنجیریں زیادہ ہیں، وہ ایک پارک میں بیٹھا لوگوں کو دیکھ رہا تھا، ہرچہرہ مصروف تھا، ہرقدم تیزتھا، مگرہرآنکھ میں ایک انجانی تھکن تھی،ایسا لگتا تھا جیسے انسان دوڑ تو رہے ہیں مگراپنی منزل کی طرف نہیں، بلکہ دوسروں کی توقعات کی طرف۔ فرشتے نے آسمان کی طرف دیکھا اوردھیرے سے کہا،مجھے بتایا گیا تھا کہ زمین پرانسان آزاد ہیں۔ مگریہاں تو ہرشخص کسی نہ کسی نظرنہ آنے والی زنجیرمیں قید ہے ۔
فرشتہ اپنی تلاش میں شہرکے مختلف حصوں میں گھومتا رہا،اسے یقین تھا کہ شاید اس نے چند لوگوں کو دیکھ کرجلدی فیصلہ کرلیا ہے ،شاید کہیں نہ کہیں وہ آزادی موجود ہوجس کا چرچا آسمانوں تک پہنچا ہوا ہے ، مگرجتنا وہ انسانوں کوقریب سے دیکھتا گیا، اتنا ہی الجھتا گیا۔ ایک دن وہ ایک بہت بڑے دفتر میں پہنچا۔ وہاں درجنوں لوگ کمپیوٹروں کے سامنے بیٹھے تھے ،اچھے کپڑے ، اچھی تنخواہیں، ٹھنڈے کمرے ، ہرسہولت موجود تھی، لیکن چہروں پرخوشی نہیں تھی۔ فرشتے نے ایک شخص سے پوچھا۔!! تم یہ کام کیوں کرتے ہو۔؟ اس نے جواب دیا، گھرچلانے کے لیے ، فرشتے نے پوچھا، اورگھرکیوں چلاتے ہو۔؟ وہ بولا، تاکہ معاشرے میں عزت رہے ، فرشتے نے پوچھا۔ اورعزت کیوں چاہیے ؟ اس شخص نے کچھ دیرخاموش رہ کرکہا، کیونکہ لوگ کیا کہیں گے ؟ یہ جواب سن کرفرشتہ خاموش ہوگیا۔ چند روزبعد وہ ایک مشہور سیاست دان کے پاس گیا،ہزاروں لوگ اس کے نام کے نعرے لگا رہے تھے ،اس کے پاس طاقت تھی، اختیار تھا، دولت تھی۔ فرشتے نے پوچھا۔ کیا تم آزاد ہو؟ سیاست دان ہنس پڑا۔ آزاد؟ میں ہروقت ووٹروں، حمایتیوں، مخالفوں اورطاقتورلوگوں کے درمیان پھنسا رہتا ہوں، ایک غلط جملہ میری پوری زندگی بدل سکتا ہے ۔ فرشتہ آگے بڑھ گیا، پھروہ ایک سوشل میڈیا اسٹار کے پاس پہنچا،لاکھوں لوگ اسے پسند کرتے تھے ، ہرتصویر پرتعریفوں کی بارش ہوتی تھی، فرشتے نے پوچھا، تم تو یقیناً آزاد ہوگے ؟ وہ مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں اداسی تھی۔ نہیں۔ میں روزوہی بننے کی کوشش کرتا ہوں جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں،اگر ایک دن اپنی اصل شخصیت دکھا دوں تو شاید سب چھوڑ جائیں۔ اب فرشتے کو ایک عجیب حقیقت سمجھ آنے لگی تھی، زمین پراکثر انسان لوہے کی زنجیروں میں قید نہیں تھے ، بلکہ لوگوں کی رائے کے قیدی تھے ، وہ کپڑے بھی دوسروں کے لیے پہنتے تھے ، فیصلے بھی دوسروں کے لیے کرتے تھے ، خواب بھی دوسروں کی مرضی سے چنتے تھے ۔ اور بعض اوقات پوری زندگی بھی دوسروں کی خوشنودی میں گزاردیتے تھے ۔ اس رات فرشتہ ایک بلند عمارت کی چھت پربیٹھا شہر کی روشنیاں دیکھتا رہا، نیچے لاکھوں انسان تھے ، مگراسے یوں محسوس ہوا جیسے ہرشخص اپنے ساتھ ایک ان دیکھی زنجیر گھسیٹ رہا ہو، تب اس کے دل میں ایک سوال پیدا ہوا، اگر انسان دوسروں کی رائے کا غلام ہے ، تو پھراس کا مالک کون ہے ؟ وہ خود۔ یا وہ لوگ جن سے وہ ہروقت ڈرتا رہتا ہے ؟ اور اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے فرشتے نے اگلی صبح شہرکے دوسرے حصے کا رخ کیا۔
اگلی صبح فرشتہ شہرکے اُس حصے میں پہنچا جہاں نہ شیشے کی عمارتیں تھیں، نہ قیمتی گاڑیاں، نہ چمکتی ہوئی دکانیں، تنگ گلیاں تھیں، کچی دیواریں تھیں اورزندگی کی سختیاں ہردروازے سے جھانک رہی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر دولت مند لوگ غلام ہیں تو شاید یہاں اسے آزادی مل جائے ، ایک گلی کے کونے پراس نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا، اس کے کپڑے سادہ تھے ، گھر چھوٹا تھا، جیب تقریباً خالی تھی، مگرچہرے پرعجیب سا سکون تھا، فرشتے نے اس کے پاس بیٹھ کر پوچھا، کیا تم خوش ہو؟ بوڑھا مسکرایا،بولا، جتنا ایک انسان ہوسکتا ہے ، فرشتے نے پوچھا، تمہارے پاس تو زیادہ کچھ نہیں ہے ، پھر بھی تم مطمئن کیوں ہو؟ بوڑھے نے جواب دیا، کیونکہ میں نے اپنی خواہشات کو اپنی اوقات کے مطابق رکھا ہے ، اپنی اوقات کو خواہشات کے مطابق نہیں، یہ جواب سن کر فرشتہ چونک گیا،پھراس نے کئی دن اس بوڑھے کے ساتھ گزارے ۔ اس دوران اس نے دیکھا کہ بوڑھا کسی انسان سے نہیں ڈرتا تھا، مگر ایک چیز سے ضرور ڈرتا تھا؛ اپنے ضمیر سے ، وہ جھوٹ نہیں بولتا تھا، کسی کا حق نہیں مارتا تھا، اور رات کو سکون سے سوتا تھا، فرشتے نے سوچا کہ شاید اسے آزادی کا راز مل گیا ہے ۔ مگرچند دن بعد ایک اور حیرت اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ اسی بستی میں رہنے والے بہت سے غریب لوگ بھی آزاد نہیں تھے ، کوئی حسد کا غلام تھا، کوئی غصے کا، کوئی نفرت کا، کوئی لالچ کا۔ تب فرشتے کو پہلی بار احساس ہوا کہ غلامی کا تعلق دولت یا غربت سے نہیں، ایک امیر آدمی بھی غلام ہوسکتا ہے ، اور ایک غریب بھی۔اصل زنجیریں ہاتھوں اور پاؤں میں نہیں ہوتیں، دل اور دماغ میں ہوتی ہیں، اس رات فرشتہ بہت دیر تک سوچتا رہا، جنت میں اس نے فرشتوں کو دیکھا تھا، ان کے پاس خواہشات نہیں تھیں، اس لیے ان کی آزمائش بھی نہیں تھی، لیکن انسان کو خواہش دی گئی تھی، اختیاردیا گیا تھا، اور یہی اس کا امتحان تھا، اچانک اسے احساس ہوا کہ زمین پر سب سے خطرناک غلامی کسی بادشاہ، کسی حکومت یا کسی طاقتور انسان کی غلامی نہیں، سب سے خطرناک غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے ، کیونکہ جو شخص اپنی خواہشات کا قیدی بن جائے ، وہ سچ جانتے ہوئے بھی جھوٹ بولتا ہے ، انصاف جانتے ہوئے بھی ظلم کرتا ہے ۔ اور حق پہچانتے ہوئے بھی باطل کا ساتھ دیتا ہے ۔فرشتے نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا، اب میں سمجھنے لگا ہوں کہ انسان کو اشرف المخلوقات کیوں کہا گیا تھا،اس لیے نہیں کہ وہ سب سے طاقتور ہے ، بلکہ اس لیے کہ اسے اپنی زنجیریں توڑنے کا اختیار دیا گیا تھا۔لیکن۔کسی کو دولت کی دوڑ نے قید کر رکھا تھا، کسی کو شہرت کی بھوک نے ، کسی کو اقتدار کی خواہش نے ، اور کسی کو نفرت کی سیاست نے ،تب اسے احساس ہوا کہ زمین پر آزادی کا سب سے بڑا دشمن جیل کی دیواریں نہیں، بلکہ وہ خیالات ہیں جو انسان سوچے بغیر قبول کرلیتا ہے ، وہ انسان جو سوال کرنا چھوڑ دے ، آہستہ آہستہ غلام بن جاتا ہے ، وہ انسان جو اپنے ضمیر کی آواز سننا چھوڑ دے ، آہستہ آہستہ غلام بن جاتا ہے ۔ اور وہ معاشرہ جو سچ سے زیادہ نعرے پسند کرنے لگے ، آہستہ آہستہ غلام بن جاتا ہے ۔
فرشتہ کئی ماہ زمین پر رہا،اس نے بادشاہ بھی دیکھے ، فقیر بھی،حکمران بھی دیکھے ، محکوم بھی،امیر بھی دیکھے ، غریب بھی۔ آخرکار جب اس کی واپسی کا وقت آیا توآسمان نے ان سے سے پوچھا ۔ زمین کے انسان کیسے ہیں؟ فرشتہ کچھ دیر خاموش رہا، پھراس نے جواب دیا، میں نے وہاں عجیب مخلوق دیکھی۔ انہیں آزادی دی گئی تھی، مگر وہ اکثر غلامی منتخب کر لیتے ہیں۔ انہیں عقل دی گئی تھی، مگر وہ اکثر دوسروں کے ذہن سے سوچتے ہیں، انہیں ضمیر دیا گیا تھا، مگر وہ اکثر خواہشات کی آواز سن لیتے ہیں۔ پھر وہ مسکرایا اور بولا۔!! مگرمیں نے کچھ ایسے انسان بھی دیکھے ہیں جو واقعی آزاد ہیں،وہ سچ بولتے ہیں اگرچہ نقصان ہو، وہ انصاف کرتے ہیں اگرچہ تنہا رہ جائیں، وہ اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے اگرچہ دنیا ان کے خلاف ہوجائے ۔ اوریہی چند لوگ زمین کی اصل امید ہیں۔ واپسی سے پہلے فرشتے نے آخری بارزمین کی طرف دیکھا اور ایک جملہ کہا، انسان کی سب سے بڑی کامیابی آسمان تک پہنچنا نہیں، بلکہ اپنے اندرموجودغلام کو شکست دینا ہے ۔


متعلقہ خبریں


مضامین
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اگر موت کہانی سنانے لگے ! وجود اتوار 21 جون 2026
اگر موت کہانی سنانے لگے !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر