وجود

... loading ...

وجود

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

پیر 22 جون 2026 سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

محمد آصف

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنے کردار، بصیرت، عدل، دیانت اور قیادت کے ذریعے نہ صرف اپنے عہد کو
روشن کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کے مینار قائم کیے ۔ سیدنا عمر بن خطاب انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ہیں جنہیں
رسول اللہ ۖ نے ”فاروق” کا لقب عطا فرمایا، کیونکہ آپ حق اور باطل کے درمیان واضح فرق کرنے والے تھے ۔ آپ کی شخصیت میں
جلال اور جمال، قوت اور رحم، حکمت اور شجاعت، عبادت اور قیادت کا ایسا حسین امتزاج موجود تھا جس کی مثال تاریخِ عالم میں کم ہی ملتی
ہے ۔ اسلام کی سربلندی، اسلامی ریاست کی تشکیل، عدل و انصاف کے قیام، انتظامی اصلاحات، فلاحی نظام کی بنیاد اور عالمی سطح پر اسلامی
پیغام کے فروغ میں سیدنا عمر فاروق کا کردار ناقابلِ فراموش ہے ۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ جب قیادت تقویٰ،
اخلاص اور احساسِ جوابدہی سے مزین ہو تو قومیں عروج کی منازل طے کرتی ہیں۔
رسول اللہ ۖ نے سیدنا عمر فاروق کے مقام و مرتبہ کو مختلف مواقع پر بیان فرمایا۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی
ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے ۔ یہ الفاظ آپ کی فہم و فراست، دینی بصیرت اور غیر معمولی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ کے بارے
میں نبی کریم ۖ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس راستے سے عمر گزرتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ دیتا ہے ۔ یہ اعزاز اس بات کا مظہر ہے کہ
آپ کی شخصیت حق کے ساتھ ایسی مضبوط وابستگی رکھتی تھی کہ باطل کی قوتیں آپ کے سامنے ٹھہر نہ سکتی تھیں۔ اسلام قبول کرنے سے قبل
آپ اپنی جرات اور مضبوط ارادے کے لیے مشہور تھے ، لیکن اسلام کی دولت ملنے کے بعد یہی قوت دینِ حق کی سربلندی کے لیے وقف
ہوگئی۔ آپ کے قبولِ اسلام نے مسلمانوں کو نئی قوت، حوصلہ اور اعتماد عطا کیا اور اسلام کی دعوت کھل کر سامنے آنے لگی۔
سیدنا عمر فاروق کا دورِ خلافت اسلامی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جسے عدل، انتظامی مہارت اور فتوحات کے حوالے سے سنہری
دور کہا جاتا ہے ۔ آپ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی خود کو عوام کا خادم قرار دیا اور حکمرانی کو اقتدار نہیں بلکہ امانت سمجھا۔ آپ راتوں
کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تاکہ رعایا کے حالات سے آگاہ رہ سکیں۔ اگر کسی گھر میں فاقہ ہوتا یا کوئی ضرورت مند مدد کا محتاج ہوتا تو
خلیفہ ٔ وقت خود اس کی مدد کے لیے پہنچ جاتے ۔ تاریخ میں ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک رات آپ نے ایک عورت اور اس کے بچوں کو بھوک
سے روتے دیکھا تو بیت المال سے آٹا اور دیگر سامان اپنے کندھوں پر اٹھا کر لائے اور اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کرکے بچوں کو کھلایا۔ یہ
منظر اس حکمران کی تصویر پیش کرتا ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں رہتا تھا۔
سیدنا عمر فاروق نے اسلامی ریاست کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے بے شمار انتظامی اصلاحات نافذ کیں۔ آپ نے باقاعدہ بیت المال کا نظام قائم کیا، عدالتی نظام کو منظم کیا، صوبائی حکومتوں کی تشکیل کی، گورنروں کے اختیارات اور احتساب کا نظام وضع کیا اور فوجی
نظم و ضبط کو مضبوط بنایا۔ آپ کے دور میں مردم شماری، اراضی کا ریکارڈ، مالیاتی نظام اور سرکاری دستاویزات کے تحفظ کے لیے اقدامات
کیے گئے ۔ ہجری کیلنڈر کا اجراء بھی آپ کا ایک عظیم کارنامہ ہے جو آج بھی پوری امت مسلمہ کے لیے وقت کی پیمائش کا اسلامی معیار ہے ۔
آپ نے نہ صرف ریاستی امور کو منظم کیا بلکہ حکمرانوں کے لیے احتساب کا ایسا اصول قائم کیا جس کی مثال دنیا کی سیاسی تاریخ میں کم ملتی
ہے۔ آپ گورنروں کے اثاثوں کا جائزہ لیتے اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی کرتے تھے تاکہ کوئی بھی عہدیدار اپنے منصب کا ناجائز
فائدہ نہ اٹھا سکے ۔
اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینے میں بھی سیدنا عمر فاروق کا کردار نمایاں ہے ۔ آپ نے بیواؤں، یتیموں، معذوروں،
بوڑھوں اور ضرورت مندوں کے لیے وظائف مقرر کیے ۔ نومولود بچوں کے لیے بیت المال سے وظیفہ جاری کیا گیا۔ غیر مسلم رعایا کے حقوق
کا بھی خاص خیال رکھا گیا اور انہیں مکمل مذہبی آزادی فراہم کی گئی۔ آپ کا اصول تھا کہ ریاست کی ذمہ داری صرف مسلمانوں تک محدود
نہیں بلکہ ہر اس فرد تک ہے جو اسلامی ریاست کے زیرِ سایہ زندگی گزار رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے دور میں عدل و انصاف کا
دائرہ مذہب، نسل اور قومیت کی حدود سے بلند ہو کر تمام انسانوں تک پھیل گیا تھا۔
سیدنا عمر فاروق کی فتوحات بھی تاریخ کا ایک عظیم باب ہیں۔ آپ کے دور میں اسلامی ریاست کی سرحدیں بے مثال وسعت اختیار کر
گئیں۔ عراق، شام، مصر، فلسطین، ایران اور دیگر کئی علاقوں میں اسلام کا پرچم بلند ہوا۔ تاہم یہ فتوحات محض جغرافیائی توسیع نہیں تھیں بلکہ
عدل، امن اور انسانی وقار کے فروغ کا ذریعہ بنیں۔ بیت المقدس کی فتح کے موقع پر آپ کا طرزِ عمل دنیا کے حکمرانوں کے لیے ایک مثال
بن گیا۔ آپ انتہائی سادگی کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے اور مقامی آبادی کو جان، مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دی۔ اس
رویے نے واضح کیا کہ اسلام کی اصل قوت تلوار نہیں بلکہ انصاف، اخلاق اور حسنِ سلوک ہے ۔
آپ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو مشاورت اور اجتماعی دانش پر یقین تھا۔ اگرچہ آپ غیر معمولی ذہانت اور بصیرت رکھتے تھے ، لیکن پھر
بھی اہم فیصلوں میں صحابئہ کرام سے مشورہ کرتے تھے ۔ آپ جانتے تھے کہ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں رائے کا احترام اور اجتماعی
سوچ کو اہمیت دی جائے ۔ یہی اصول آج کی جمہوری اور انتظامی روایات میں بھی کامیابی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے ۔ سیدنا عمر نے اس
حقیقت کو صدیوں پہلے عملی جامہ پہنا دیا تھا۔
سیدنا عمر فاروق کی زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اقتدار کا اصل مقصد خدمت ہے ، برتری نہیں۔ آج دنیا میں حکمرانی کے مختلف ماڈلز
موجود ہیں، لیکن عوامی خدمت، احتساب، قانون کی بالادستی، معاشرتی انصاف اور فلاحی ریاست کے جو اصول جدید دنیا میں کامیاب تصور
کیے جاتے ہیں، ان کی بہترین مثال سیدنا عمر فاروق کے دورِ خلافت میں ملتی ہے ۔ اگر آج کے حکمران اور معاشرے ان اصولوں کو اپنالیں تو
بے شمار سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل کا حل ممکن ہو سکتا ہے ۔
سیدنا عمر فاروق کی شہادت کا دن ہمیں ان کی عظیم قربانیوں، خدمات اور کردار کی یاد دلاتا ہے ۔ آپ نے نمازِ فجر کے دوران حملہ آور کے
وار سے زخمی ہو کر جامِ شہادت نوش کیا، لیکن آپ کی زندگی کا پیغام آج بھی زندہ ہے ۔ آپ کا عدل، تقویٰ، دیانت، احساسِ ذمہ داری اور
انسان دوستی ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔
سیدنا عمر فاروق صرف ایک عظیم خلیفہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ فکر، ایک مثالی حکمران اور ایک عادل قائد تھے ۔ تاریخِ انسانیت میں ان کا
نام ہمیشہ اس شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے طاقت کو انصاف کے تابع کیا، اقتدار کو خدمت کا ذریعہ بنایا اور انسانیت کو عدل و
مساوات کا ایسا درس دیا جو رہتی دنیا تک زندہ رہے گا۔ ان کی سیرت کا مطالعہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ قوموں کی اصل ترقی عمارتوں،
فتوحات یا دولت میں نہیں بلکہ عدل، دیانت، خدمتِ خلق اور خوفِ خدا میں پوشیدہ ہے ، اور یہی وہ سنہرا پیغام ہے جو سیدنا عمر فاروق کی
زندگی آج بھی پوری انسانیت کو دے رہی ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر