... loading ...
ریاض احمدچودھری
92 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ بھی بھارت کو نہ بچا سکا جبکہ محدود دفاعی بجٹ کے باوجود پاکستان نے عسکری برتری کا لوہا منوایا۔عسکری میدان میں زیادہ دفاعی اخراجات کی بنیاد پر برتری کے بھارتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔عالمی تحقیقاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا کہ خطے میں جاری حالیہ تنازع میں بڑے دفاعی بجٹ کے باوجود بھارت کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ انتہائی محدود دفاعی بجٹ کے باوجود پاکستان نے اپنی روایتی عسکری مہارت اور جنگی برتری کا لوہا منوا لیا ہے۔
سال 2025 میں بھارت دنیا بھر میں دفاعی اخراجات کرنے والا پانچواں بڑا ملک رہا، جس کے فوجی اخراجات 92.1 ارب ڈالر کی خطیر رقم تک پہنچ گئے تھے۔اس کے برعکس سال 2025 میں پاکستان کے کل فوجی اخراجات محض 11.9 ارب ڈالر رہے، جو کہ بھارتی اخراجات کے مقابلے میں کئی گنا کم ہیں۔حالیہ بجٹ دستاویزات میں کہا گیا کہ بھارت نے مالی سال 2026ـ27 کے لیے اپنے دفاعی بجٹ میں مزید تقریباً 15 فیصد کا بھاری اضافہ کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان نے اپنے معاشی حالات کے پیشِ نظر مالی سال 2026ـ27 میں اپنے دفاعی بجٹ کو صرف 3 ہزار ارب روپے تک انتہائی محدود رکھا ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان زمینی حقائق کے بعد پاکستان کے دفاعی بجٹ پر کیا جانے والا گمراہ کن پروپیگنڈا مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔ جدید جنگوں میں صرف اندھا دھند پیسہ اور بڑا بجٹ ہی سب کچھ نہیں ہوتا، بلکہ فوج کی اعلیٰ تربیت، جذبہ اور بہترین جنگی حکمتِ عملی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کھربوں ڈالرز کے ہتھیار بھی بھارت کو میدانِ جنگ میں جیت نہ دلا سکے۔ماہرین نے مزید واضح کیا کہ پاکستان کے محدود دفاعی بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ فوجیوں کی تنخواہوں، پینشن اور روزمرہ کے ضروری اخراجات پر صرف ہوتا ہے۔تاہم بدلتے ہوئے علاقائی چیلنجز اور جدید جنگی تقاضوں کے باعث دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے بجٹ میں ناگزیر اضافہ ملکی دفاع کے لیے انتہائی ضروری ہے۔محدود دفاعی وسائل کے باوجود پاکستان نے معرکہ حق میں اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جسے دفاعی ماہرین نمایاں کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی دفاعی امور کے تحقیقی ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں بھارت دنیا کے بڑے دفاعی اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل رہا، جبکہ اس کے فوجی بجٹ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔بھارت کے دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پاکستان کے دفاعی اخراجات نسبتاً کم سطح پر رہنے کے باوجود سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
بھارت نے پاکستان کے ساتھ مئی میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد اپنے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر دیا۔بھارتی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2026ـ27 کے لیے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاع کے لیے 85 ارب 40 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔لوک سبھا میں پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق دفاعی اخراجات میں اضافے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا حصول، ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کی خریداری، اور دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق اس بجٹ کے ذریعے خریداری کے عمل کو آسان بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال پر بھی توجہ دی جائے گی۔ 2025 میں بھارت کے فوجی اخراجات 8.9 فیصد اضافے کے بعد 92.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے،بھارت سے جنگ کے باوجود 2025 میں پاکستان کے فوجی اخراجات 11 فیصد اضافے کے بعد صرف 11.9 ارب ڈالر رہے۔ بھارتی حکام کے مطابق بھارت نے 27ـ2026 میں دفاعی بجٹ کو تقریباً 15 فیصد اضافہ کیساتھ 80 ارب ڈالر(7.85 لاکھ کروڑ روپے) تک مختص کر دیا۔ بھارت جیسے دشمن کے باوجود بھی حکومت پاکستان نے 27ـ2026 میں دفاعی بجٹ 10.8 ارب ڈالر (3 ہزار ارب روپے) تک محدود رکھا۔
عالمی ماہرین کے مطابق 2025 میں کئی گنا زیادہ دفاعی بجٹ اور فوجی اخراجات بھی بھارت کو میدان جنگ میں جیت نہ دلا سکے،پاکستان کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے اکثر گمراہ کن اور حقائق کے منافی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ جدید جنگی تقاضوں اور انسدادِ دہشتگردی کی ضروریات کے باعث پاکستان کیدفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے،پاکستان کے دفاعی بجٹ کا 80 فیصد سے زائد حصہ منٹینس، تنخواہوں اور دیگرلازمی اخراجات پر خرچ ہو کر قومی معیشت کے استحکام میں معاون بنتا ہے۔ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر ثابت کیا کہ جدید جنگوں میں بجٹ کیساتھ تربیت، حکمت عملی اور دلیرانہ قیادت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
٭٭٭