وجود

... loading ...

وجود
طلاق جہالت سے پارلیمنٹ تک الطاف ندوی کشمیری - منگل 02 مئی 2017

طلاق کا لفظ کاٹ میںدودھاری تلوار سے زیادہ تیز ثابت ہواہے ۔اس کا زخم خنجرکے زخم کی طرح غیر مندمل ہوتا ہے ۔یہ رشتوں کے کاٹنے کے لیے اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح استرا بالوں کو مونڈھنے کا کام انجام دیتا ہے ۔یہ شوہر کوبیوی سے کاٹتا ہے اور بیوی کو شوہر اور بچوں سے جدا کرتا ہے ۔یہ خوشحالی اور شادمانی کوغم و اندوہ میں بدل دیتا ...

طلاق جہالت سے پارلیمنٹ تک

دروازہ وجود - پیر 01 مئی 2017

نکسن نے اپنی مشہور کتاب ”لیڈرز“ میں عظیم لیڈرز کی پہچان یوں بتائی تھی کہ ” اُن کی قوت فیصلہ میں تیزی ہوتی ہے جس سے وہ مہلک قسم کی اغلاط سے بچے رہتے ہیں۔ اور کسی بہتر موقع کو پہچاننے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔“ ایک ”عظیم“ رہنما کے طور پروزیرا عظم نوازشریف کو اس میزان پر تولا نہیں جاس...

دروازہ

سندھ کے ڈاکوؤں سے این آر او مختار عاقل - پیر 01 مئی 2017

سندھ کی آبادی بے تحاشہ بڑھ رہی ہے اور وسائل سکڑتے جارہے ہیں۔ وہ تو سپریم کورٹ اور پاک فوج کو داد دینی چاہیے کہ مردم شماری کے کام کا آغاز ہوگیا۔ فوج کی شمولیت سے امکان یہی ہے کہ آبادی کا درست تخمینہ لگایا جائے گا تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوسکے۔ صوبائی وزیر برائے محکمہ ب...

سندھ کے ڈاکوؤں سے این آر او

امریکا کو کیڑے پڑیں احمد اعوان - اتوار 30 اپریل 2017

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بے شک اپنے اندربہت سی کشش بھی رکھتے ہیں ، دنیاکے ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کوتقریباًتمام بنیادی سہولیات دستیاب ہیں ، وہاں کے لوگوں کو پانی ،بجلی ،گیس ،نوکری ،قرضہ ،تعلیم ، خوراک اورطب جیسی تمام بنیادی سہولیات دستیاب ہیں ۔ہم ان تمام چیزوں کاذکراس وجہ سے ک...

امریکا کو کیڑے پڑیں

2018ء میں مالیاتی جھٹکا عالمی مالیاتی نظام بدل دے گا محمد انیس الرحمٰن - اتوار 30 اپریل 2017

افسوس صد افسوس کہ وطن عزیز میں سیاستدانوں نے ملک اور قوم کو ایسے مدار کے گرد گھما دیا ہے جو اسے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی بڑی تبدیلیوں سے آگاہی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں ۔ دنیا تیزی کے ساتھ تبدیلی کی جانب گامزن ہے لیکن وطن عزیز میں ہر انسان اس عالمی تبدیلی کو محض اپن...

2018ء میں مالیاتی جھٹکا عالمی مالیاتی نظام بدل دے گا

لاشعوری دباؤ وجود - هفته 29 اپریل 2017

آدمی حیران ہو جاتا ہے۔کیا واقعی وزیراعظم نوازشریف نے سجن جندال سے اس موقع پر ملاقات کی سبیل نکالی ہے؟ اُن کے ذہن میں کیا رہا ہوگا؟ظاہر ہے کہ ہم فلسفی برٹرینڈ رسل کے تشکیکی مضامین تو نہیں پڑھ رہے جنہیں اُٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینکا جاسکے۔یہ مری کی ملاقات ہے۔ جس کی گرمی ملک بھر...

لاشعوری دباؤ

اسران کا امتحان ( آخری قسط) محمد اقبال دیوان - هفته 29 اپریل 2017

زینب کے انٹرویو کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ سامنے ایک اسکرین پر سوال جواب لکھ کر بیان ہونے تھے۔اگر کوئی بات قابل وضاحت ہونی تھی تو اسے زینب خود یا نائمہ کے ذریعے سمجھایا جاسکتا تھا۔تین عدد ڈاکٹر سامنے بیٹھے تھے۔ان کا تعارف زینب کے سامنے رکھے لیپ ٹاپ پر لہرارہا تھا۔ایک سعودی عرب کا ڈ...

اسران کا امتحان ( آخری قسط)

انصاف اور ملین ڈالر درخت وجود - جمعه 28 اپریل 2017

قحط الرجال کا ماتم کرنے والا بھی لحد میں اُتر گیا۔گمنامی جسے راس آئی۔ بغداد کے بزرگ نے کہا تھا ’’عافیت گمنامی میں ہے۔‘‘ ہر کسی کو یہ میسر کہاں؟حیرت ہے کہ حیات کو سرکاری ملازمت میں بسر کرنے اور فعال زندگی کی تمام حرکیات سے نباہ کرنے والے نے بالآخر زندگی کو گمنامی کی نذر کیا۔کیسے...

انصاف اور ملین ڈالر درخت

اسران کا امتحان محمد اقبال دیوان - جمعه 28 اپریل 2017

(پہلی قسط) نوٹ(اسماء الرجال و مقام کے حالات و واقعات کم و بیش وہی ہیں جو کالموں میں بیان کیے گئے ہیں) پچھلے دنوں آپ نے ہمارے تین کالم’’ دشمنوں کے درمیاں‘‘ یقینا پڑھے ہوں گے۔مونٹی میاں کی ہمشیرہ ڈاکٹر مینو ماں جو ماہر امراض جلد اور تن تراش ہیں وہ تو آپ کو یاد ہی ہوں گی۔ان کی ا...

اسران کا امتحان

تحریک ِکشمیر دلالوں کے نرغے میں الطاف ندوی کشمیری - جمعه 28 اپریل 2017

یوں تو انسانی سماج دلالوں سے ہر وقت پریشان رہتا ہے مگر تحریک کشمیر کے دلالوں کی کہانی کئی حوالوںسے انتہائی نرالی ہے ۔دلال باضمیراور دیانت دار ہوتو اس کے کاروبارپر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ہے ،مگر جب معاملہ کسی قوم کا ہومسئلہ سنگین تر ین بن جاتا ہے اس لیے کہ قوموں کے اجتماع...

تحریک ِکشمیر دلالوں کے نرغے میں

زندگی مخالف شاہد اے خان - منگل 25 اپریل 2017

بھلا کون سا ایسا شخص ہوگا جس نے کسی بیماری یا انفیکشن ہونے کی صورت میں کوئی اینٹی بایوٹک دوا نہ کھائی ہو۔ ہمارے کئی ڈاکٹر اور نیم ڈاکٹر حضرات اینٹی بایوٹک کو ہر مرض کی دوا سمجھتے ہوئے ہر مریض کو اینٹی بایوٹک دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اینٹی بایوٹک دوا ہوتی کیا ہے؟ یہ تو اس کے نام ...

زندگی مخالف

سیاسی جماعتوں کی گولہ باری مختار عاقل - پیر 24 اپریل 2017

پاکستانی دنیا کی انوکھی قوم ہیں‘ یہ نواز نے پر آئے تو پہاڑوں سے بلند خطائیں معاف کردیں اور کسی کو اقتدار سے باہر کرنا ہوتو چینی کی قیمت میں چار آنے کا اضافہ بھی برداشت نہ کریں۔ خواجہ ناظم الدین جیسے شریف وزیر اعظم کو”قائد قلت“ کا خطاب دے ڈالیں اور اس کی مٹی پلید کردیں۔ شاید اسی...

سیاسی جماعتوں کی گولہ باری

کچھ ہوش جو آیا تو ’’پاناما‘‘نہیں دیکھا محمد اقبال دیوان - پیر 24 اپریل 2017

کہتے ہیں جس کو شیام (امریکا) وہ آنند، قند(شریں) ہے جگ میں اسی کے دھرم (اسٹیبلشمنٹ )کی پھیلی سوگند(خوشبو)ہے لیلا ، رچانے والا وہی کشن چند ہے چھتیس لاکھ راگنی مرلی (عرب ممالک) میں بند ہے۔ ہم کو تو مرلی والے کی مرلی پسندہے نہ میں جانوں آرتی بندھن(عمران خان) نہ پوجا کی ریت م...

کچھ ہوش جو آیا تو ’’پاناما‘‘نہیں دیکھا

تنقیدبادشاہ گرپرکریں احمد اعوان - اتوار 23 اپریل 2017

یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ اس ملک میں اب کوئی کسی کواس بنیاد پرالیکشن نہیں ہراسکتا کہ اگلاکرپٹ ہے، دوسرے معنوں میں اگرکسی شخص کے بارے میں یہ بات ثابت ہوجائے کہ وہ کرپٹ ہے، بدمعاش ہے توکم ازاکم ایسے شخص کوالیکشن تونہیں ہراسکتے ۔لوگ ایسے آدمی کوآج بھی پسندکرتے ہیں جس نے جیل کاٹی ہو...

تنقیدبادشاہ گرپرکریں

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پر آتے محمد اقبال دیوان - هفته 22 اپریل 2017

مومن مبتلا محمد اقبال دیوان فراز کو خود سے یہ گلہ بہت تسلسل سے رہا کہ وہ اپنے دل کے حالات سب سے بیاں کرتے پھرتے تھے اور انہیں محبتیں کرنا نہیں آتیں تھیں۔ان کے محبوب بھی پریانکا چوپڑہ کی مشہور سیریز Quantico جیسے ہوتے تھے۔ ابتدا میں تو بالکل پلے نہ پڑتے تھے کہ چاہتے کیا ہیں۔ اسی...

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پر آتے

پاناماہنگامہ باقی ہے میرے دوست رضوان رضی - هفته 22 اپریل 2017

اگر توبات سیاسی اخلاقیات کی ہوتی یا پھر کسی بھی قانونی موشگافی کی تو یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہوتی کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پاناماقضیئے کے فیصلے کے اعلان کے ساتھ ہی میاں محمد نواز شریف اخلاقی برتری کے ساتھ ساتھ حقِ حکمرانی کا قانونی اور آئینی جواز بھی کھو چکے ہیں۔ لیکن پاکستا...

پاناماہنگامہ باقی ہے میرے دوست

جنوبی کشمیر کے دہشت ناک حالات کی اصل کہانی الطاف ندوی کشمیری - جمعه 21 اپریل 2017

قارئین کو اچھی طرح یاد ہو گا کہ 2016ء کے عوامی احتجاج سے قبل بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ ترین فوجی آفیسرجنرل ڈوانے ببانگ دہل یہ بات کہی تھی کہ جنوبی کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور یہاں ہماری حالت بطخوں کے مانند ہو چکی ہے ۔عوام کھل کر عسکریت پسندوں کی حمایت کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان...

جنوبی کشمیر کے دہشت ناک حالات کی اصل کہانی

عبرت ناک انجام کے لیے تیار رہیں احمد اعوان - منگل 18 اپریل 2017

ہم اپنے ملک میں ہرکام کرنے سے پہلے اس کی مثال ان ممالک سے لیتے ہیں جہاں ترقی ہوچکی ہے۔ہمارے ملک میں تعلیم ،صحت ،ٹرانسپورٹ سے لے کرہربڑے منصوبے میں امریکا کایاچین کاہاتھ ہوتاہے۔ہم دنیابھرمیں کشکول اٹھاکربھیک مانگتے ہیں اوراس بھیک سے ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں ۔ بھیک سب مانگتے ہیں...

عبرت ناک انجام کے لیے تیار رہیں

”سندھ کارڈ“ پھر میدان میں مختار عاقل - پیر 17 اپریل 2017

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو یہ جان کر بہت دکھ ہوا ہے کہ جنوبی پنجاب میں شرح خواندگی صرف 12فیصد ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس انہیں اس بات کا ہونا چاہیے کہ اندرون سندھ 36فیصد سے زائد بچے غربت و افلاس کی وجہ سے اسکول ہی نہیں جاتے۔ پاکستان دو لخت ہونے کے بعد 1972...

”سندھ کارڈ“ پھر میدان میں

پڑئیے گر بیمار شاہد اے خان - اتوار 16 اپریل 2017

ہم سب زندگی میں کبھی نہ کبھی بیمار پڑتے ہیں، یعنی بیمار پڑنا بالکل نارمل ہے،زندگی ہے تو دکھ بیماری بھی آئے گی۔ ویسے ہلکی پھلکی بیماری نزلہ زکام کھانسی بخار تو چلتا رہتا ہے ہم اس قسم کی بیماریوں کی کچھ زیادہ فکر بھی نہیں کرتے۔ہاں خدا ناخواسہ کوئی بڑی بیماری لگ جائے یا کوئی حادثہ ...

پڑئیے گر بیمار

پاک افغان مقدر مشترک ہے (آخری قسط) جلال نورزئی - هفته 15 اپریل 2017

روس نے نور محمد ترکئی کوعظیم استاد اور مصلح کا خطاب دیا ،بلاشبہ وہ ایک ادیب اور دانشور تھے ۔گویا پاکستان کی سلامتی کو نئے اندیشوں اورخطرات نے گھیر لیا۔ جنرل ضیاء الحق نے نور محمد تر کئی کے نام خط میں مبارکباد بھیج دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دوستانہ تع...

پاک افغان مقدر مشترک ہے (آخری قسط)

پاک افغان مقدر مشترک ہے (قسط1 جلال نورزئی - جمعه 14 اپریل 2017

افغانستان میں امن کا امکان ہنوز گہرے بادلوں میں چھپا ہوا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے اور برادرانہ تعلقات کا منظر نامہ بھی اطمینان بخش نہیں ۔ امریکی اور نیٹو فورسز افغانستان میں موجود ہیں۔ بھارت بھی پوری طرح افغان حکومت پر اثر انداز ہے۔ در حقیقت امریکا قابض کی حیثیت س...

پاک افغان مقدر مشترک ہے (قسط1

مسلمانوں کے پیٹ پر مودی کی لات شاہد اے خان - جمعرات 13 اپریل 2017

کسی کے پیٹ پر لات مارنا پرانا محاورہ ہے،یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی پر روزگار کے دروازے بند کر دیے جائیں۔ بھارت سرکار نے اس محاورے کو حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ گائے کے پجاریوں نے گؤ ماتا کے نام پر گوشت فروشوں اور گوشت کھانےوالوں کے پیٹ پر لات ماردی ہے۔ مودی کے چہیتے سنگھ پریو...

مسلمانوں کے پیٹ پر مودی کی لات

کاش،مشتاق سکھیرا ایسے نہ کرتے ۔۔۔!! ذوالفقار احمد راحت - بدھ 12 اپریل 2017

یہ درست ہے کہ شخصیات کے مقابلے میں ادارے اہم ہوتے ہیں مگر بعض شخصیات بھی ایسی ہوتی ہے کہ ان کی پرفارمنس اور اعمال کی وجہ سے ان کا قد ادارے سے بھی بڑا لگنے لگتا ہے بلکہ ایسی شخصیات یا ایسے لیڈر اپنے اپنے ادارے کی پہچان، وقار اور عزت بن جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں پاک فوج کے سپہ سالار ...

کاش،مشتاق سکھیرا ایسے نہ کرتے ۔۔۔!!

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر