وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں وجود - بدھ 05 اگست 2020

آئیے ایک منٹ خاموش ہو جاتے ہیں، تھوڑا اور’’ ایثار‘‘ کرتے ہیں، یوم استحصال مناتے ہیں۔ اگر یہ ایک منٹ کی خاموشی دو منٹوں پر محیط ہوجائے تو سماجی رابطوں کے متوزای ذرائع ابلاغ پر غلغہ تو یہ ہے کہ کشمیر کیا، فلسطین بھی آزاد ہو جائے گا۔ افسوس ! افسوس!! اس طرز فکر سے اب گھِن آنے لگی ہے۔ اس بات کو اب پون صدی بیت گئی،اپریل 1936ء کو سید مودودیؒ کے ’’اشارات‘‘ میں نکتہ بیان کردیا گیا : ’’قوت ڈھل جانے کا نام نہیں ہے ، ڈھال دینے کا نام ہے ۔ مُڑ جانے کو قوت نہیں کہتے ، موڑ دینے کو کہت...

مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

یہ آخری حملہ نہیں، جاگتے رہیں!! وجود - بدھ 01 جولائی 2020

یہ جاگنے کاوقت ہے۔ جاگو اور جگاؤ!!! بھارتی اہداف بالکل واضح ہیں، اور اب بے چینی بھی! پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ اس کی نشاندہی کرتا ہے۔ دشمن یہاں نامراد ہوا، مگر اُس کی خواہشات اُسے پاگل بنائے دیتی ہے، یہ آخری حملہ نہیں، جاگتے رہیں!! پاکستان کے ساتھ کچھ عجیب مسئلے ہیں۔ بھارت اس کا ازلی دشمن ہے، مگر پاکستان کے سیاسی حالات وحادثات قومی ترجیحات کو اُتھل پتھل کر دیتے ہیں۔ جس کا مکمل فائدہ دائم بھارت اُٹھاتا ہے۔ قومی سیاست میں جماعتی ذہن نے ملکی مفادات کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ...

یہ آخری حملہ نہیں، جاگتے رہیں!!

ناکامی کی چیخ وجود - هفته 27 جون 2020

چیخوں سے انسان کبھی رہائی نہیں پاتا، اور ناکامی کی چیخ سب سے بھیانک چیخ ہے۔ یہ چیخ اب وزیراعظم عمران خان کے تعاقب میں ہے!ہمارے ارد گرد گھومنے والی ہنڈا گاڑیاں ہمیں ایک جاپانی انجینئر ”سوچیرو ہونڈا“کی یاد دلاتی ہے، جس نے 1948ء میں ہونڈا موٹر کمپنی کی بنیاد رکھی۔ سوچیرو ہونڈا نے کیا زندگی آمیز اور ولولہ انگیز فقرہ کہا:کامیابی ننانوے فیصد ناکامیوں کا نام ہے“۔ (Success is 99 percent failure.) امریکی مصنف زگ زیگلرکو بھی یہاں فراموش کرنے کا دل نہیں چاہتا، لکھا:ناکامی تو کبھی نہ خ...

ناکامی کی چیخ

صوبے پوچھتے نہیں وجود - بدھ 24 جون 2020

کیا عمران خان کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک رہی ہے؟ درحقیقت پاکستان میں قیادت کی تلاش ایک اہم موضوع ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں سے بھٹو اور چار دہائیوں سے شریفوں کی قیدی سیاست اپنے نئے رخ ورخسار سنوارنے اور بال وپرتلاشنے کے جتن میں منہ کے بل گرتی جارہی ہے۔ عمران خان کا تجربہ کیسا رہا؟ یہ سوال اب منہ زور ہوتا جارہا ہے۔ سابق امریکی صدر نکسن اپنی کتاب ”لیڈرز“ میں موزوں طور پر ہمیں بتاتا ہے کہ کوئی بھی عظیم کام عظیم انسانوں کے بغیر نہیں ہوتا۔ انسانوں کے لیے لفظ”عظیم“ تقاضے بھی عظیم پی...

صوبے پوچھتے نہیں

شاندار سیاست کارانہ جبلت وجود - منگل 23 جون 2020

گاہے خیال آتا ہے ، ہم کیسی قوم بن گئے؟ہمارا کوئی منظر ہے نہ تہہ منظر!!ہم چاہتے کیا ہیں ، کچھ معلوم نہیں۔ تعصبات ، مفادات اور ذاتیات، فیصلہ کن عاملین ہیں۔ کوئی نظریہ، کوئی استدلال ، کوئی منطق ہماری رہنمانہیں۔ اور اب یہ جسٹس فائز عیسیٰ کیس!! فیصلہ کیا آیا، ہم سب بے نقاب ہوگئے۔ فیصلہ آیا تو ملک کے انتہائی قابل وکلاء میںشامل منیر اے ملک کے چہرے پر ایک فاتحانہ وفو ر تھا وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل تھے۔ سپریم کورٹ بار کے مختلف سابق صدور انتہائی پرجوش تھے۔حامد خان، امان اللہ...

شاندار سیاست کارانہ جبلت

بس نقشہ بگڑ گیا! وجود - پیر 15 جون 2020

سنتھیارچی نے میٹھی کہانیوں میں زہر گھول دیا!یہی تاریخ ہے، بخدا یہی تاریخ! تلخ، بہت تلخ۔ تھوکوں کے فرقے کی تاریخ، حکمرانوں کی تاریخ!! درحقیقت پاکستان کی تاریخ کے پہلے سلیکٹڈ سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ بعد میں پیپلزپارٹی اس تاریخ کو بدلنے کی مسلسل جدوجہد کرتی رہی، مگر ماضی پنسل سے لکھا ہوا نہیں ہوتا کہ اُسے ربر سے مٹا دیا جائے۔سر شاہنواز بھٹو کی دوسری بیوی خورشید بیگم کے بطن سے ذوالفقار علی بھٹو نے جنم لیا تھا۔ اُن کی ماں کو سر شاہنواز بھٹو کے خاندان نے کبھی قبول نہیں کی...

بس نقشہ بگڑ گیا!

پاکستان کی بارہ حکمران عورتیں وجود - جمعه 12 جون 2020

ایک ہے سنتھیارچی، یادش بخیر ایک تھی جنرل رانی، تھوکوں کے فرقے کی پرنانی! ناہید مرزا سے قدم بڑھاتے ہوئے بیچ میں ایک دور ایوب خان کا آتا ہے اور ایک قصہ کرسٹن کیلر کا۔ بیگم ناہید مرزا کے سوئمنگ پول میں لڑکیاں نہیں کہانیاں بھی تیرتی تھیں، اسکندرمرزا سے صرف اقتدارکہاں، یہ کہانیاں بھی منتقل ہوئیں۔ ایوب خان بیگم ناہید کے سوئمنگ پول پر الطاف گوہر کی سخت پہرے داری کے باعث بہت سی کہانیوں سے بچنے میں کامیاب ضرور ہوئے، مگر وہ ایک دوسرے سوئمنگ پول کی ڈبکیوں میں اپنی کہانی چھوڑ آئے۔ برطان...

پاکستان کی بارہ حکمران عورتیں

میری بلیوں کا کیا ہوگا؟ وجود - جمعرات 11 جون 2020

تاریخ کو اڈھیڑا جائے، بے رحم سچائی سے آنکھیں چار کی جائے تو ”تھوکوں کے فرقے“ کی پہلی سرپرست ایک خاتون نکلے گی۔ناہید مرزا!اسکندر مرزا کی دوسری بیگم۔ ایک غیر ملکی نژاد، ایرانی کُرد۔ ناہید مرزا کے بچھائے جال نے پاکستانی سیاست کو آج بھی اپنے نرغے میں لے رکھا ہے۔”بھٹوعنصر“ کسی اور کے نہیں اسی ناہید مرزا کے مرہون منت ہے،اگر چہ اس تاریخ کو بہت بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اقتدار پر گرفت اور سیاست دانوں کو حاشیے پر رکھنے کا پہلا خواب فوج نے نہیں بیوروکریسی نے دیکھا تھا۔ ابتدا سے ہی حقا...

میری بلیوں کا کیا ہوگا؟

تھوکوں کا فرقہ وجود - بدھ 10 جون 2020

سنتھیارچی ایسی عورتیں خود میں سمائی نہیں دیتیں۔ میلان کنڈیرا کے ناول ”IDENTITY“ کا کردار”شونتال“ ذہن میں اُبھرتا ہے۔لطیف سبھاؤ، شعلوں کی طرح رقص کرتا لبھاؤ اور آنکھوں میں باہمی ساز باز کا سجھاؤ۔پھر زندگی پر پژمردگی کا کوئی لمحہ اُترتا ہے، کوئی احساس دماغ میں جاگزیں ہوتا ہے جیسے کمرے میں کوئی چیز غلط رکھ دی گئی ہو۔ شونتال کے اسی احساس نے اُس کی ایک فقرے سے جنگ کرائی، جب وہ بولتی ہے:مرد اب مڑکے مجھے نہیں دیکھتے“۔ یہ احساس ہر ”شونتال“ کے اندر ایک آپا دھاپی پیدا کرتا ہے۔ یہی آپا...

تھوکوں کا فرقہ

پاکستان کو”او ایل ایکس“بننے سے بچائیں! وجود - جمعه 05 جون 2020

ملک ریاض اور اب یہ عظمیٰ خان!! الحفیظ الامان!! قومیں کردار سے بنتی ہیں۔پاکستان کو او ایل ایکس نہ بننے دیں، حضرت علامہ اقبالؒ نے خبردار کیا تھا، خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے! آگے فرمایا: کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہوگا آسان دولت نے پاکستان کی سماجی اقدار کو چاٹنا شروع کردیا۔ ہم قومی ریاست کو بتدریج ایک ایسی سطح پر لے گئے جہاں ہر چیز سیاست کی پست سطح پر نفع نقصان کے تناظر میں طے ہوتی ہے۔ صحیح و غلط اور حق وباطل کا کوئی تناظر موجود نہیں۔ البتہ باتیں بہت ہیں۔ یہ م...

پاکستان کو”او ایل ایکس“بننے سے بچائیں!

نسل کشی کا تاریخی جنون وجود - بدھ 03 جون 2020

امریکی زوال علامتوں میں ڈھونڈتے تھے مگریہ توکہانیوں میں ملا۔ جارج فلوئڈ تو بس ایک نام ہے۔ سیاہ فام باشندوں پر ظلم کی ایک تاریخ ہے۔ یہ تاریخ کی کہانی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے باہر سیاہ فام باشندے جارج فلا ئیڈ کے قتل کے خلاف احتجاج کررہے تھے تو دنیا کا سب سے طاقت ور شخص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ زیر زمین خفیہ بنکر میں جا چھپا۔ کیا یہ محض مظاہرین کے نعروں کا دباؤ تھا؟ نہیں، اس کے پیچھے تاریخ کا بھی ایک دباؤ ہے۔ یہ اُسی تاریخ کی کہانی ہے۔ جس میں ایک نہیں کروڑوں جارج فلا ئیڈ جان کی بازی ہار گ...

نسل کشی کا تاریخی جنون

یہ کون لوگ ہیں؟ وجود - منگل 02 جون 2020

یہ کون لوگ ہیں جن کے دلوں پر سانپ لوٹتے ہیں، جنہیں کوئی کل قرار نہیں پڑتا۔ یہ دن بھی دیکھنے تھے، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی قبر مبارک کی بے حرمتی!، یاللعجب یہ دن بھی دیکھنے تھے!!!کیا عجب کہ یہ امت دوبارہ جی اُٹھے، ققنس کی طرح اس کی راکھ پر کوئی حیات افزا مینہ برسے، کوئی بیل بوٹے اُگیں۔ خلفائے راشدین کا دور ختم ہوگیا، پھر وہ کیا دور تھا جب عیسائی شاعر اخطل، خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دربار میں اِٹھلائے پھرتا۔ گلے میں سونے کی صلیب لٹکائے آتا، داڑھی کے بالوں سے شراب کے قطرے ٹپک...

یہ کون لوگ ہیں؟

طیارہ حادثہ اور گروہی مفادات کا سفاکانہ کھیل وجود - جمعرات 28 مئی 2020

بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے دیگر شعبوں کی طرح ہوابازی کی صنعت میں بھی مختلف فشاری گروہ پائے جاتے ہیں۔ مافیا راج میں شکر، آٹااور بجلی سے لے کر تعمیرات تک کوئی شعبہ بھی ایسا نہیں جہاں طاقت ور طریقے سے مختلف ”لابیز“اپنے اپنے مفادات کے لیے کام نہ کرتی ہوں۔ ”لابیز“کی ضرورت ہی تب پڑتی ہے جب مفادات جائز نہ ہو، اور اس کے تحفظ کے لیے روایتی طریقے کام نہ کرسکتے ہوں۔ پاکستان میں مفادات کی جنگ اتنی بھیانک شکل اختیار کرگئی ہے کہ مختلف جتھوں، گروہوں اور لوگوں نے اس کے لیے مجرمانہ طریقے سے ...

طیارہ حادثہ اور گروہی مفادات کا سفاکانہ کھیل

طیارہ حادثہ اور سوالات وجود - بدھ 27 مئی 2020

قوم کے ساتھ سب سے بڑا حادثہ یہ ہوا کہ من حیث القوم فکر صحیح سے محروم ہو گئی۔ پی آئی اے کا حادثہ تو بہت چھوٹا ہے۔فکرِ صحیح سے محرومی ہماری ہر تکلیف کو دُگنا کردیتی ہے،حادثوں کومزید بھیانک بنادیتی ہے۔ کورونا وبا کے ہنگام حکومتوں کے تیور تبدیل نہیں ہوئے۔ معمول کی اموات کو غیر معمولی قراردے کر قوم کو زندگی کے تحفظ کا درس جاری ہے، لوگوں کی آزادیاں سلب کی جارہی ہیں۔ معمول کے امراض کو کووڈ۔19 کے کھاتے میں ڈال کر غیر معمولی اقدامات اور امداد کی یافت کا سفاکانہ کھیل چاروں کھونٹ رچایا...

طیارہ حادثہ اور سوالات

چین نے ڈالر کی معیشت خطرے میں ڈال دی! وجود - اتوار 24 مئی 2020

دنیا کا معاشی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ چین ڈالر کے جبر سے خود کو نکال رہا ہے۔عالمی سطح پر ڈالر کے مستقبل پر اُٹھنے والے سوالات روز بروز تیز سے تیز تر ہورہے ہیں۔ چین کیا کررہا ہے؟ یہ سمجھنا نہایت ضرور ی ہے تاکہ اگلے وقتوں کی انقلابی تبدیلیوں کا فہم حاصل ہوسکے۔ چین نے سب سے پہلے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اکٹھ آسیان پلس تھری کے ممالک برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، اور ویتنام سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دیا۔ جا...

چین نے ڈالر کی معیشت خطرے میں ڈال دی!

کیش ٹریش وجود - جمعرات 21 مئی 2020

ذرا ہم چونکتے ہیں، مگر زیادہ نہیں۔ دنیا کی نئی شکل وصورت کے ممکنہ آثار میں ہم واضح طور پر کاغذی کرنسی کا مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ پھر بھی ذرا سے چونکنے کی بات ہے، جب 18.7 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے اناسی ویں امیر ترین شخص اور دنیا کی سب سے بڑی ہیج فنڈ کمپنی بریج واٹر کے روح رواں ”رے ڈیلیو“(Ray Dalio) کہتے ہیں: کیش دراصل ٹریش ہے“۔چند سری حکومت کے ایک ممکنہ عالمی نقشے میں رے ڈیلیو بھی جارج سوروس(دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینج کو اُتھل پتھل کرنے والا) کے ساتھ ایک سرے پر کھڑے نظر آتے ہیں...

کیش ٹریش

بھارت کی چین کے خلاف محاذ آرائی وجود - پیر 18 مئی 2020

بھارت انتہائی تیزی سے چین کے خلاف ایک ”ہائبرڈ جنگ“ میں شدت لارہا ہے۔ کیا ہمارے کان کھڑے ہیں، ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں؟اس محاذ پر نظر آنے والی کارروائیوں کی کچھ جھلکیاں انتہائی دلچسپ ہیں۔ ٭ایل اے سی (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) پر چین کے خلاف بھارت کی تازہ جھڑپیں ٭بھارت میں ایک اقتصادی قوم پرستی کا چین کے خلاف اُبھار، جس میں چینی کمپنیوں کو بھارتی معاشی متن سے ہٹا کر حاشیوں میں ڈالا جارہا ہے۔ ٭ بھارت ورلڈ ہیلتھ اسمبلی (ڈبلیو ایچ اے) کی قیادت کے خواب کی تعبیر کی دہلیز پر کھڑا ہ...

بھارت کی چین کے خلاف محاذ آرائی

ویکسین اور بل گیٹس وجود - جمعه 15 مئی 2020

دنیا بھر میں ویکسین کا پروپیگنڈا تیزی رفتاری سے جاری ہے۔ دنیا عجیب وغریب نمونے پر چل رہی ہے، جس بیماری کو ابھی طبی سائنس پوری طرح پہچان بھی نہیں پائی، اس کے ویکسین سے علاج پر عالمی صحت کے نگران و قائدین اتفاق کرچکے ہیں۔ نائیجیریا کی سیاسی جماعتوں نے اِسے قیاس آرائیوں پر مبنی علاج کہا۔ مغربی ممالک کے اکثر حکمرانوں کی زبان پرویکسین کا ذکر مچلتا رہتا ہے۔ ہمارے پیارے وزیراعظم اور تبدیلی سرکار کے مبلغ و داعی عمران خان کے کنجِ لب سے بھی ویکسین کا ذکر پرانے زمانے کی کسی بھارتی اداکا...

ویکسین اور بل گیٹس

ویکسین کی بکواس وجود - جمعرات 14 مئی 2020

ٹیکنالوجی عہد جدید کے انسان کا مذہب ہے۔ ”ترقی“ کے خلاف گفتگو اب جہالت کہاں گناہ بن چکی۔ روشن خیالی اس مذہب میں عقیدہ کی طرح راسخ ہے۔ مجال ہے کوئی”نجس“ ذہن اس پر سوال اُٹھاسکے۔ سوال اُٹھانا سائنس کی ریت بتائی جاتی ہے۔ مگر عہد جدید کے ”جانوروں“ کو بتادیا گیا ہے کہ سوال کہاں اُٹھانا ہے؟ سوال وہ مقدس ہے جو مذہب کے خلاف اُٹھے، یہ سائنس ہے، فلسفہ ہے، روشن خیالی ہے۔ اگر سوال خود سائنس پر اُٹھے تو یہ جہالت ہے، عہدِ تاریک کا تعفن ہے۔ماضی کا مزار ہے۔ اور ہاں سازش بھی ہے۔ سائنس کے نام پ...

ویکسین کی بکواس

نئی دنیا کی خوراک وجود - بدھ 13 مئی 2020

افسوس! ہماری حرماں نصیبیوں کے سیاہ بادل ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ کورنا وبا کے ہنگام پارلیمان کی کارروائیاں دیکھ کر لگتا ہے کہ مغل بادشاہوں کے آخری دور کی درباری بحثیں چل رہی ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے، دنیا کی تشکیلِ نو ہو رہی ہے۔ قومی ریاستوں کی طاقت ٹیکنالوجی کے ذریعے سلب کی جارہی ہے۔ ریاستوں کے مزاحمتی قوت کے معروف طریقے تاریخ کے حاشیوں میں جارہے ہیں۔ عالمی قوت کا نیا متن گلوبل نگرانی کے نئے دور میں جاکر نئے حروف سے نئے معانی ڈھونڈ رہا ہے۔ سخت ترین نگرانی کے نظام کو ٹیکنالوجی کے ...

نئی دنیا کی خوراک

لاک ڈاؤن اور گورکن کی نفسیات وجود - منگل 12 مئی 2020

کیا ہم تاریخ کے چوراہے پر پڑے رہیں گے؟ بے سمت، بے منزل! کیا یہی لوگ ہمارا مقدر ہیں؟جنہوں نے اپنے ذہن مغرب میں رہن رکھوا دیے، اور ہم سے جبراً اپنے ذہنوں کی اطاعت مانگتے ہیں؟ کوئی بلند خیال انہیں چھوتا نہیں۔یہ کبھی اپنے تعصبات اور ادنیٰ سیاسی مفادات سے بلند نہیں ہوتے۔لفظوں کے خراچ اور عمل کے قلاش۔ ایک ایسی مخلوق ہم پر حکومت کرتی چلی آتی ہے، جس کے پاس باتیں کرنے کے لیے الفاظ کم نہیں پڑتے اور عمل کے لیے ابتدائی قدم بھی اُنہیں سوجھتا نہیں۔ 427سال قبل ازمسیح میں سقراط نے کہا تھا:ل...

لاک ڈاؤن اور گورکن کی نفسیات

ہر مسیحا کو جنوں جشن ِ مسیحائی کا وجود - پیر 11 مئی 2020

بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!!! سندھ پر ایسے حکمران مسلط ہیں، جنہیں کچھ سمجھایا ہی نہیں جاسکتا! مگر یہ ڈاکٹرز، یہ ہمارے چارہ گر!!!کچھ خدا کا خوف کریں!!فیض احمد فیض پر جانے کیا بیتی ہوگی، کہا: ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے سندھ حکومت جب دباؤ میں ہوتی ہے تو اچانک کچھ ڈاکٹرز میدان میں کودتے ہیں،اور لاک ڈاؤن میں نرمی کو خطر ناک باور کراتے ہیں۔ اُن کا بیانیہ طے شدہ ہوتا ہے۔ سب سے پہلے وہ کورونا کے مریضوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ...

ہر مسیحا کو جنوں جشن ِ مسیحائی کا

چین امریکا تعلقات پر جنگ کے سائے وجود - اتوار 10 مئی 2020

کیا تاریخ کے ماتھے پر کوورنا وائرس،چین امریکا جنگ کا ایک اشارہ بننے جارہا ہے؟ آثار نمایاں ہیں۔امریکا نے چین مخالف ایک وسیع اور محیط تر ہائبرڈ جنگ کو کورونا وائرس سے منسلک کرکے تیز رفتار بنا دیا ہے۔ کچھ سرے پکڑتے ہیں۔ چین کی اعلیٰ انٹلیجنس کی جانب سے ایک رپورٹ صدر شی جن پنگ کو پیش کی گئی ہے، رپورٹ کورونا وائرس کے حوالے سے دنیا بھر میں چین کے خلاف اُبھارے گئے جذبات سے متعلق ہے اور امریکا کے ساتھ کسی بھی فوجی تنازع کے خطرے کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے ماحصل کے طور پر یہ لکھا گیا ہ...

چین امریکا تعلقات پر جنگ کے سائے

کیا وینٹی لیٹر سے لوگ قتل ہورہے ہیں؟ وجود - هفته 09 مئی 2020

کورونا وائر س نے دراصل سائنس پر ایمان کو نشانا بنایا ہے۔ اس وائرس نے ہر قسم کی سائنس کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ مذہب کے خلاف سیکولر اور لبرل ذہنوں کا سب سے بڑا مقدمہ دراصل ”روشن خیالی“ کی ایک وبا تھی، جو سائنسی ترقی کے بطن سے پیدا ہوئی تھی۔ مذہب کے خلاف سائنس کو کھڑا کیا جاتا تھا اور کہاجاتا تھا کہ معلوم پر نامعلوم کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ کورونا وبا نے طبی سائنس کو تو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے، مگر باقی ہر قسم کی سائنس پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ معلوم اتنا معلوم نہیں لگتا ...

کیا وینٹی لیٹر سے لوگ قتل ہورہے ہیں؟