وجود

... loading ...

وجود
وجود

چلیں عمران خان کو گرفتار کر لیں، مگر ۔۔

منگل 07 مارچ 2023 چلیں عمران خان کو گرفتار کر لیں، مگر ۔۔

عمران خان کو گرفتار کر لیں، مگر عمران خان کے ذریعے قوم کو یرغمال نہ بنائیں۔ یہ خطرناک ثابت ہوگا۔
ملک ہمہ نوع بحرانوں کے نرغے میں ہے۔ قومی زندگی کے تمام شعبے مختلف زلزلوں سے لرز رہے ہیں۔ ملکی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ قومی معیشت بے اعتباری کے کمزور جھولے میں ہچکولے لے رہی ہے۔ یہاں تک کہ ملک دیوالیہ ہونے کی باتیں زباں زدِعام ہیں۔ سیاسی مسائل ختم ہونے کانام نہیں لے رہے۔ حکومت کسی بھی سطح پرعوام کے لیے کوئی امید پیدا نہیں کر سکی۔ پی ڈی ایم کی شکل میں صرف تحریک انصاف کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کا ”تجربہ” مل کر بھی بحرانوں پر قابو نہیں پا رہا۔ یہ ایک مضحکہ خیز صورت ِ حال ہے کہ ملک پر چار دہائیوں سے یہی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں ایک دوسرے کے خلاف حکومتیں کرتی آ رہی ہیں۔ اب یہ تمام جماعتیں مل کر کوسِ لمن الملک بجا رہی ہیں۔ ان کا ایک دوسرے کے خلاف سیاسی بیانیہ بھی نسیان کی نذر ہو گیا ہے۔ نواز لیگ کبھی گونجتی تھی، پیپلزپارٹی ملک کے لیے سیکورٹی خطرہ ہے، مگر اب وہ اس اتحادی حکومت میں نواز لیگ کے وزیر اعظم کی پہلی مضبوط ڈھال ہے۔ اسی طرح جناب زرداری نواز لیگ کے خلاف جو بیانیہ رکھتے تھے، وہ قابض شدہ زمینوں کے ملبے تلے دب چکا ہے یا نیب میں ختم ہونے والے مقدمات کے کرم خوردہ کاغذات کی مانند کٹ پھٹ گیا ہے۔ اب یہ سب متحد ہیں۔ جن کے نزدیک ملک کا سب سے بڑا بحران بجائے خود عمران خان ہیں۔ عمران خان پر چالیس مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ نیب، ایف آئی اے اور تمام احتسابی اداروں کی واحد سرگرمی عمران خان کو اُدھیڑنا ہے۔ عدالتوں میں عمران خان کو گھسیٹنا ہے۔ اب اسلام آباد اور پنجاب کی پوری پولیس کو عمران خان کے تعاقب میں لگا دیا گیا ہے۔ نیب ایک الگ پروانۂ گرفتاری لے کر زمان پارک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا مشن مسئلہ کشمیر کا حل نہیں، اب عمران خان کی گرفتاری ہے۔ اتحادی حکومت ملک میں جاری تمام بحرانوں کے جواب میں جو نسخہ آزما رہی ہے وہ عمران خان پر گرجنا برسنا ہے۔
یا للعجب! وفاقی وزیر خزانہ معیشت کی زبوں حالی پر جواب دیتے ہیں تو منہ سے عمران خان کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔ وزیر داخلہ ملکی سیکورٹی پر جواب دینے آتے ہیں تو عمران خان کو دھمکانا شروع کر دیتے ہیں۔ وزیر دفاع بات کرتے ہیں تو سرحدوں کی مخدوش صورت حال اور بھارتی سازشوں کے جواب میں عمران خان پر حملوں کے سوا کچھ نہیں بول پاتے۔ یہ کافی نہیں ہوتا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اپنے غیر ملکی دوروں سے فارغ اوقات میں جب کبھی عوام سے بات کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کا سہارا لیتے ہیں تو تمام بحرانوں کے جواب میں وہ ٹیپ کا یہی بند عمران خان سناتے ہیں۔ ملک کی وزیر اطلاعات کا واحد کام خشوع وخضوع کے ساتھ روزانہ دو تین بیانات عمران خان کے خلاف داغنا ہے۔ اس معاملے میں زباں کی پستی لازمی شرط ہوتی ہے۔ یہی ماجرا تارڑ کے لاحقے سے سیاست کو لاحق نون لیگی رہنماؤں کا بھی ہے، جن کے روزانہ کے معمولات میں عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس لازمی کر دی گئی ہے۔ یہ کافی نہیں، اتحادی حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے ہر چھوٹے بڑے رہنما کا یہ فریضہ ہے کہ وہ روزانہ عمران خان کے خلاف کوئی نہ کوئی سیاسی بیان ضرور داغے گا۔
سندھ کا رخ کر لیجیے، جہاں اپریل 2008ء سے پیپلزپارٹی حکومت کر رہی ہے۔ آصف علی زرداری کی مضبوط خریداری کی قوت نے اقتدار کی سودے بازی کا ایک نادیدہ راستا ڈھونڈ لیا ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کی عوامی حمایت کوئی ہے یا نہیں، آپ کو عوام ووٹ دیتے ہیں یا نہیں؟ یہ تو کم درجے کی باتیں ہیں، اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عوام آپ سے کتنی نفرت کرتے ہیں؟ فرق اس سے پڑتا ہے کہ آپ سیاسی بندوبست کو کتنا قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس میں ”چمک” سے کیا نتائج پیدا کرسکتے ہیں؟ یہ کوئی اور نہیں صرف زرداری صاحب سمجھ سکے ہیں کہ طاقت وروں کے لیے بھی اب اصل ہدف یہی رہ گیا ہے جو نہایت پست سطح سے پیپلزپارٹی کے سرکاری جتھے میں نظر آتا ہے، یہ سب دراصل ”مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے” کے مشترک ہدف کی لڑی میں پروئے وہ ہیرے ہیں جو صرف پاکستان میں ہی ملتے ہیں۔ اگر سندھ میں اس پورے جتھے پر ایک نگاہ ڈالیں تو یہ سب بھی یہی نسخۂ اکسیر پاچکے ہیں کہ سندھ کے وہ مسائل جن کا سرے سے کوئی تعلق بھی نہیں، اُس میں بھی بات کرتے ہوئے تان عمران خان پر ہی توڑی جانی چاہئے۔ چنانچہ سوال کچی آبادی پر قبضے کا ہو تو جواب پکا عمران خان کی مذمت کی صورت میں ملے گا۔ وزیر بلدیات سے زمینوں پر قبضے اور قبضہ مافیا کے سرپرستوں کا سوال کر لیجیے! وہ چمک کر عمران خان کی زمین میں ہی جواب دیں گے۔ کراچی میں سسٹم مافیا کے سیاسی سرپرستوں پر اُنگلی اُٹھائیں، جواب عمران خان پر مکے برسانے کی صورت میں ملے گا۔ کرپشن پر بات کریں، عمران خان پر تقریر شروع ہو جائے گی۔ نیب مقدمات کے خاتمے کا نکتہ اُٹھائیں، عمران خان کو گرانے اُٹھانے کا نغمہ سنائیں گے۔ پیپلزپارٹی حکومت کے پندرہ برس کی کارکردگی پوچھ لیں، جواب میں عمران خان کی کارکردگی پر سومناتی حملے شروع ہو جائیں گے۔ یہ عجیب مناظر روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ اسلام آباد سے لے کر لاہور تک اور لاہور سے کراچی تک اتحادی حکومت کے انگڑ کھنگڑ سے روزانہ درجنوں لوگ بس ایک ہی موضوع لے کر طلوع ہوتے ہیں اور وہ ہے عمران خان۔ حیرت ہے کوئی بور بھی نہیں ہوتا۔
اتحادی حکومت میں ایک جماعت وہ بھی ہے جو خود کو علمائے کرام کی جماعت کہتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کی تمام عالمانہ شان کا پانی بھی عمران خان کے نشیب میں جا کر مرتا ہے۔ کوئی مسئلہ اُٹھا لیں، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما منہ بنا بنا کے عمران خان کے نام کی جگالی شروع کردیتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی، اقتصادی، سماجی، علمی اور نفسیاتی سطح پر ان گنت ایسے مسائل ہیں جس میں ایک مذہبی ذہن کو رہنمائی درکار رہتی ہے، مگر کبھی یہ پیاس جمعیت علمائے اسلام کو بجھانے میں دلچسپی نہیں رہی۔ اس جماعت کی تمام تگ وتاز اقتدار کے گاتے گنگناتے راستوں کے لیے ہے، پھر جثے سے زیادہ حصے پر اِصرار کے لیے ہے۔ اس راہ میں حائل کسی بھی مسئلے میں ہدف وہی عمران خان رہتے ہیں۔ یہ جماعت بھی اتحادی حکومت میں کچھ وزارتیں لے اڑی ہیں، مگر ان سے کوئی بھی سوال کیا جائے، ان کی وزارتوں کا کوئی شرعی حال احوال تکلفاً پوچھ لیا جائے! جواب عمران خان پر سنگ باری کی صورت میں انتقاماً ہی ملے گا۔
ایک وقت تھا، عمران خان ایک دو نشستوں کا رہنما تھا۔ کوئی اس کو پوچھتا بھی نہ تھا۔ تب نوازشریف کی زبان سے عمران خان کا نام نہ نکلتا تھا۔ اب عَالم یہ ہے کہ نوازشریف کچھ بھی بولیں عمران خان اُن کے لرزتے لبوں پر مچلنے لگتے ہیں۔ اُن کی صاحبزادی مریم نواز کی سیاست کا مرکز ومحور عمران خان کی باجماعت مذمت رہ گیا ہے۔ پراسرار حالات میں لایا گیا یہ پورا بندوبست ایک ہدف کے ساتھ بندھا ہے اور وہ ہے عمران خان۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان منظر سے ہٹ گیا تو کیا ملک کے یہ مسائل ختم ہو جائیں گے؟ کیا پاکستان میں سیاسی تقسیم اور محاذ آرائی کی تاریخ دُہرائی نہ جاسکے گی؟ کیا اسحاق ڈار میں معاشی حالات سدھارنے کا شعور القا ہو جائے گا؟ کیا ڈالر روپے کو پچھاڑنا بند کر دے گا؟ کیا ملک کی معاشی سرگرمیوں میں کوئی تازہ روح پھونکی جا سکے گی؟ کیا ملک میں جاری حملے رُک جائیں گے؟ کیا پراسرار گرفتاریاں تھم جائیں گی؟ لاپتہ لوگوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ کیا زمینوں پر قبضے بند ہو جائیں گے؟ لاقانونیت کا سڑک راج ختم ہوجائے گا؟ مینڈیٹ کی چوری بند ہو جائے گی؟ سیاسی قیادتیں مسلط کرنے سے ہاتھ اُٹھا لیا جائے گا؟ عمران خان کو گرفتار کرنے سے کیا ہمارے بحرانوں کے خاتمے کا چمکتی دھوپ میں کوئی وردان اُترآئے گا؟ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کی مذمت اپنی ناکامیوں کی واحد ڈھال بن کر رہ گئی ہے۔ کمزور سیاست کو بچانے کی آڑ عمران خان کے خلاف بروئے کار آنے سے ملتی ہے۔ طاقت وروں سے ساز باز کے سارے گورکھ دھندے بھی عمران خان کے خلاف محاذ گرمانے سے چلتے ہیں۔ سو عمران خان تحریک انصاف سے زیادہ اس ناکام حکومت کی ضرورت ہے۔ مگر یہ مانے گا کون؟
جناب والا! عمران خان کو گرفتار ہی نہیں منظر سے بھی ہٹا دیں مگر چلیں اور کچھ نہیں یہ یقین دلا دیں کہ اشرافیہ بدمعاشیہ کی کینچلی اُتار پھینکے گی، نون لیگ آئندہ سچ بولنا شروع کر دے گی، پیپلزپارٹی ایماندار ہوجائے گی؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے ! وجود جمعرات 30 مئی 2024
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے !

امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار وجود جمعرات 30 مئی 2024
امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار

وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل وجود جمعرات 30 مئی 2024
وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل

چائے پانی وجود بدھ 29 مئی 2024
چائے پانی

دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟ وجود بدھ 29 مئی 2024
دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر