وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

پیر 30 ستمبر 2019 خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!!

وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔

قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شامی جنہیں غلام بناکر رومن اٹلی میں پہنچا دیا گیا۔ اپنی حس و صلاحیت سے آقانے اُنہیں تعلیم آشنا ہونے دیااور پھر وہ اپنے غیر معمولی ذہن سے لاطینی مصنف بن کر اُبھرا۔خوبصورت فقروں، محاوروں اور ضرب الامثال سے اُس نے اخلاقی تعلیم دی۔ اُن کاخطابت کے حوالے سے ایک فقرہ دنیا کی ہر زبان میں بطور مثال پیش کیا جاتا ہے، کہا:

’’Speech is the mirror of the soul; as a man speaks, so he is. ‘‘

’’خطابت روح کا آئینہ ہے، آدمی جو بولتا ہے، وہی وہ ہوتا ہے‘‘۔

فلسفی سینیکا نے خطابت کو ذہن کا آئینہ کہا ہے۔ یہ روح وذہن کے امتزاج سے مرتب ایک فی البدیہ تقریر تھی۔ جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گی۔پاکستانی ہی نہیں یہ عالم اسلام کی تمام مملکتوں کے حکمرانوں کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے ذہن وقلب کو رہن رکھوا چکے۔ اُنہوں نے مادی آسائشوں کے عوض اپنی اپنی مملکتوں کے مفاد کو سامراج کی قربان گاہ پر چھوڑ دیا۔ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق غلط تصورات کو رائج ہونے دیا۔ اور مغربی ممالک کو جھنجھوڑنے کی کبھی حقیقی کوشش نہیں کی۔ یہ مادی آسائشوں سے پیدا ہونے والی بدترین ذہنی غلامی تھی۔ افسوس کوئی ایک شخص بھی عالم اسلام میں ایسا نظر نہیںآتا جو تمام ذہنی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر دنیا کے سامنے پورے قد سے کھڑا ہوسکے۔ عمران خان نے یہ کوشش کی۔ دنیا میں ہر حقیقی تبدیلی دراصل ذہنی غلامی سے آزادی کے بعد آتی ہے۔ پاکستان سات دہائیوں قبل آزادی سے فیضیاب ہوا، مگر اس پر ہمیشہ ذہنی غلاموں نے حکومت کی۔ اپنے عوام پر سفاکانہ جکڑ بندی اور مغربی آقاؤں کے سامنے عاجزانہ سجدہ ریزی ان کی روش رہی۔ایسا کبھی نہ ہو سکا تھاکہ کوئی حکمران مغرب کو آئینہ دکھاتاکہ وہ ہمارے تمام مسائل کی وجہ ہے۔ اُن کے الفاظ منافقت کی سڑانڈ ہے۔ اُن کا عمل غلیظ تعصب کی کجرو مثال ہے۔ کاش کبھی تو ایسا ہوتا۔ للہ الحمد، ایک بار ایسا تو ہوا۔

یہ کسی بھی منزل کی جانب پہلا قدم ہوتا ہے جب انسان ذہنی غلامی سے آزاد ہوکر اپنے ظالموں کو پہچان کر اُنہیں للکارتا ہے۔عمران خان نے یہی کیا۔ اگرچہ اُنہیں پاکستان میں بھنبھوڑا جائے گا کہ یہ بدترین تعصبات کے ساتھ مکمل منقسم سماج بن چکا ہے۔ جہاں سیاسی دشمنیاں وطن ِ عزیز کے مفادات اور محبت سے بڑھ کر ترجیح پاچکی ہیں۔ یہاں کی طاقت ور اشرافیہ نے اس نکتے کو سمجھنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ تعصبات سے حکومت چلانے اور آہنی گرفت پیداکرنے کا نتیجہ کتنا خطرناک نکلتا ہے۔ جب وطن کی محبت ذاتی نفرت کے مقابلے میں چھوٹی پڑ جاتی ہے۔جب لوگ اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے دشمن ملکوں کی جانب دیکھنے لگتے ہیں۔ دیکھیے اُس بھارتی شاعر عرفان صدیقی کو بھی یہیں یاد آنا تھا:

عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا

مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

یہ مزاج پاکستان کے سیاسی متعصب حریفوں میں رچ بس گیا ہے۔ ایسا ذہن کہاں سے لائیں جو عمران خان کو اپنا سیاسی مخالف بھی سمجھتا ہو، مگر اُنہیں اپنے ملک کا وزیراعظم سمجھ کر وطن دشمنوں کو للکارتے ہوئے دیکھے تو اُنہیں خوش آئے۔مسلم امہ کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے اگر وہ دیانت دار دکھائی دے ، آزاد اور بے باک دکھائی دے، تو صرف اس پہلو سے وہ قابلِ تعریف سمجھا جائے۔اس کے لیے ایک اختلاف کی تہذیب درکار ہے، اس سے بڑھ کر تہذیبِ نفس بھی۔اس حرماں نصیبی پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے کہ یہ اپنے چور کو ساہوکار اور دوسروں کے ساہوکار کو چور کہنے اور سمجھنے والا سماج ہے۔ یہاں جائز حرف پزیرائی بھی موقع ملامت بنادی جاتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے خطاب سے قبل کے سوشل میڈیا کو ٹٹولیں۔وزیراعظم کو مضحکہ اڑاتے مشورے دیے جارہے تھے۔ ایسے ایسے اندیشے خوشی خوشی بیان کیے جارہے تھے کہ وزیراعظم کی غلطیوں کی امیدمیں اپنی دُکان بڑھانے کی بے تابی چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ ہمارے اس قومی مرض میں اب پیپ پڑ چکی ہے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ این آراو کرپشن کے خلاف نہیں بلکہ رویوں کی تہذیب کے لیے ہوناچاہئے۔

عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سارے اندیشے غلط ثابت کیے۔ اپنے خوش گمانوں کی لاج رکھی۔ اور پاکستان کا ہی نہیں عالم اسلام کا مقدمہ اس خوب صورتی سے پیش کیا کہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ عالم اسلام کے تما م ممالک کے عوام سے داد سمیٹی۔ درحقیقت عمران خان کا پورا دورہ ہی تفصیلی تجزیے کا متقاضی ہے مگر اُن کا خطاب سب پر حاوی اور بھاری ہو چکا ہے ۔لہذا بحث کادائرہ اب اس خطاب کی گونج تک ہی محدود رہ سکتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا خطاب پچاس منٹوں پر محیط تھا۔ عام طور پر کسی بھی سربراہ حکومت کے لیے یہاںپندرہ سے بیس منٹ مختص ہوتے ہیں۔ دنیا میں حکمرانوں کی جو قسم کوس لمن الملک بجاتی ہے وہ ان پندرہ منٹوں کو بھی حد سے زیادہ سمجھتی ہے۔

کیونکہ اُنہیں کھوکھلے لفظوں کے ساتھ خانہ پُری کرنی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی ماضی میں ایسے حکمران رہے جو کم سے کم وقت میں لکھے ہوئے خطاب سے جان چھڑانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس کے برعکس عمران خان نے پچاس منٹوں پر محیط خطاب کو تحریری نہیں بلکہ فی البدیہہ رکھا۔ گویایہ پرچی اور سرگوشی سے پاک خطاب تھا۔ خطاب سے قبل اسی سوشل میڈیا پر چرچے تھے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو خطاب بھی ’’سلیکٹ ‘‘کرکے دے دیا گیا ہے۔ جو وہ اچھے بچے کی طرح دیکھ کر پڑھ آئیں گے۔ اس شرمناک پروپیگنڈے کے درمیان وزیراعظم جنرل اسمبلی میں بسم اللہ الرحمان الرحیم کے ساتھ فی البدیہہ گونجے۔عمران خان کا خطاب اپنے پیشکش کے اندر انفرادیت کے چار بڑے پہلو رکھتا تھا۔
اولاً:جنرل اسمبلی کے منچ پر ایسا خطاب کسی بھی مسلم حکمران نے نہیں کیا تھا۔

ثانیاً:فی البدیہہ خطاب کی ہمت کے ساتھ وقت کی قید سے بے نیاز اور موضوع کے انتخاب میں مغربی ممالک کی ناراضی یا خوشی سے آزاد ہونے کی یہ روش اس سے پہلے کبھی دکھائی نہ دی۔
ثالثا: عمران خان کے ہم عصر سیاست دان اس اندازوتیور اور الفاظ وخطاب کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔
رابعاً: یہ خطاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ اس میں جذبے کا عمل دخل تھا۔جذبہ نہ ہو تو ایسے الفاظ زبان سے اس طرح ادا نہیں ہوسکتے۔

خطاب کی پیشکش کے ان عمومی پہلووؤں کے علاوہ خطاب کے مندرجات پر دھیان دیں تو اس کے اندر ایک موضوعی ہم آہنگی آدمی کو حیران کردیتی ہے کہ کوئی شخص پچاس منٹوں پر محیط اپنے خطاب کو ایک مرکزی خیال سے باندھ کر فی البدیہہ گفتگو کرنے کی ایسی قدرت کیسے رکھتا ہے۔ عمران خان کے خطاب کا مرکزی خیال’’ ریڈیکلائزیشن‘‘یعنی بنیاد پرستی اور اس کے متصادم مظاہر تھے۔ جنہیں اُنہوںنے چار نکات کے تحت مربوط کررکھا تھا۔ اسلاموفوبیا، ٹیررفنانسنگ، منی لانڈرنگ اور پھر حتمی طور پر ٹیررازم۔اس بنیادی تصور کے اندر رہ کر اُنہوں نے بھارتی وزیراعظم مودی کو بھی بے نقاب کیا، کشمیر کا مقدمہ بھی رکھا، اسلام کی حقیقی تصویر بھی پیش کی، ناموس رسالتﷺ کی عظمت کو بھی بیان کیا۔ مغرب کی دوغلی اور بیسوائی طبیعت کو بھی عریاں کیا۔ اگر اُن کے خطاب میں موضوعی تفہیم کے لیے اہم الفاظ دھیان میں رکھیں جو اُنہوںنے مختلف مواقع پر استعمال کیے تو اسلام کا لفظ 51مرتبہ استعمال ہوا۔خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺکا نام نامی، اسم گرامی 10مرتبہ استعمال کیا۔ عمران خان نے 15مرتبہ دہشت گردی کا لفظ، 14مرتبہ منی یا پھر منی لانڈرنگ، 10مرتبہ نوگیارہ حملوں، 7 مرتبہ پاکستان، 6 مرتبہ انسان اور 6 ہی مرتبہ اقلیتوںکا ذکر کیا۔ ہندو اور انڈیا کے الفاظ دو دو مرتبہ اُن کی زبان پر آئے۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں پہلی مرتبہ اس امر کا ذکر کیا کہ خودکش حملوں کی روایت مسلمانوںکی نہیں۔ نوگیارہ سے پہلے یہ حملے تامل ٹائیگرز کرتے تھے، جو ہندو تھے۔ مگر اس کے بعد اگلے ہی فقرے میں اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ کیا یہ ہندو دہشت گردی ہے، ظاہر ہے کہ نہیں۔ اس طرح ہندو بنیاد پرستی کو اجاگر کرنے کا جو سب سے بہترین اظہاریہ اختیار کیا جاسکتا تھا، وہ اُن کی جانب سے کیا گیا۔ عمران خان کا خطاب ہمہ پہلو معنویت کا حامل تھا۔ جس کے مزید گوشے اگلی تحریر کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔ یہاں صرف یہ نکتہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اس خطاب کے خلاف گفتگو کرنے کے لیے انسان کو انتہائی پست سطح پر جاکر بروئے کار آنا پڑتا ہے۔ اور سیاسی تعصب کی خرابی یہ ہے کہ وہ آدمی کواس پست سطح پر قانع بنادیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ محمد طاہر - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے محمد طاہر - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے محمد طاہر - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ محمد طاہر - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت محمد طاہر - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت

ترکی کی قبل از وقت بغاوت محمد طاہر - پیر 25 جولائی 2016

امریکا کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ دنیا کے حالات پر گرفت رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان حالات کی جس طرح چاہے تفہیم پیدا کرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ترک بغاوت پر جتنے پراگندہ خیال و حال پاکستان میں پیدا ہوئے، اُتنے خود ترکی میں بھی دکھائی نہیں پڑتے۔ مگر امریکا کے لیے تقدیر نے ترکی میں ایک الگ پیغام محفوظ رکھا تھا۔ مادرچہ خیالیم و فلک درچہ خیال است (ہم کس خیال میں ہیں اور آسمان کیا سوچ رہا ہے) پاکستان میں طرح طرح کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں۔ ایک ...

ترکی کی قبل از وقت بغاوت

مسخرے محمد طاہر - بدھ 22 جون 2016

یہ ہونا تھا! پاکستان کو اس کی تاریخ اور تہذیب سے کاٹنے کے ایک طویل اور مسلسل چلے آتے منصوبے میں ذرائع ابلاغ کا کردار کلیدی ہے۔ اس لیے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ پیمرا حمزہ علی عباسی پر پابندی کو مستقل برقرار رکھ پاتا۔ درحقیقت اس نوع کے اقدامات کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ اقدام عوامی دباؤ کو وقتی طور پر کافور کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ پیمرا کی طرف سے حمزہ علی عباسی پرعائد وقتی پابندی نے اُس دباؤ کو خاصی حد تک کم کر دیا ، جو عوام میں حمزہ علی عباسی کے خ...

مسخرے

سوال! محمد طاہر - اتوار 19 جون 2016

سوال اُٹھانا جرم نہیں مگر یاوہ گوئی!سوال علم کی کلید ہے۔ انسانی علوم کی تمام گرہیں سوال کی انگلیوں سے کُھلتی ہیں۔ مگر سوال اُٹھانے والے کے لیے ایک میرٹ بھی مقرر ہے۔ سوال جاہل کا نہیں عالم کا ہوتا ہے۔ استاد نے فرمایا کہ سوال پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح ہوتے ہیں اور جواب پہاڑ کے دامنوں کی طرح۔ اور پہاڑوں میں اختلاف اُس کے دامنوں کا اختلا ف ہے اُس کی چوٹیوں کا نہیں ۔ تمام پہاڑوں کی چوٹیاں یکساں ہوتی ہیں۔ سوال بھی انسانی ذہنوں میں چوٹیوں کی طرح یکساں چلے آتے ہیں۔ مگر اس کے الگ الگ زمان...

سوال!

مضامین
تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار