وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

دہشت ناک رویے

بدھ 10 اگست 2016 دہشت ناک رویے

terrorism-in-pakistan

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔

پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا رجحان ہرگزرتے دن تقویت پکڑتا گیا۔ یہ لڑائی اب تقریباً نصف صدی پر محیط ہوچکی ہے اور اس نے اپنی تاریخ ، نفرت اور جڑیں بنا لی ہیں۔ یہاں تک کہ اس لڑائی میں دونوں طرف استعمال ہونے والے غیر ریاستی جتھے اور گروہ خود بھی اتنی مہارت اور طاقت حاصل کرچکے ہیں کہ وہ ہاتھ سے بڑھ کر اب اپنی ہی جنگ کا دماغ بن چکے ہیں اور اپنے پالنے والوں سے بے نیاز رہ کربھی بقا کی لڑائی لڑنے کی سکت رکھتے ہیں۔مگر عملاً ان گروہوں کو اُن کی پالنے والی ریاستوں سے الگ کرنے اور خود اُن کے ہی خلاف استعمال کرنے کا کامیاب راستا امریکا نے نوگیارہ کے بعد پاکستان کے خلاف ڈھونڈا۔ امریکا افغانستان کی جنگ تو نہیں جیت سکا، مگر اُس نے پاکستان کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں اس طرح مبتلا کردیا ہے کہ پاکستان میں استعما ل ہونے والے مختلف گروہوں کو اُن کے اصل پالنے والوں سے چھین لیا۔ اور اُنہیں ردِ عمل کی نفسیات سے دوچار کرنے کے لئے عسکری اداروں کو اُن کے خلاف بتدریج اور آہستہ آہستہ ایسے اقدامات پر مجبور کیا کہ وہ گروہ اُن سے نفرت کرنے لگیں۔ کسی بھی لڑائی میں نفرت سے بڑھ کر اثاثہ اور اسلحہ کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ اب یہ نفرت اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ یہ گروہ پاکستان کے کھلے دشمنوں سے بھی ساز باز اور گانٹھ سانتھ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ اس خوف ناک رجحان کے لیے ہمارے پاس کسی بھی سطح پر کوئی تجزیہ موجود نہیں۔ یہی نہیں اس رجحان کے معمولی ادراک کی بھی صلاحیت کا بھی ہم کوئی مظاہرہ نہیں کرسکے۔ چہ چائیکہ اس حوالے سے کوئی دورس اور کثیر الجہتی حکمت عملی بنائی جاتی۔

آگے بڑھیں! چلیں ہم قومی ریاست پر صحیح اور غلط کے معروف معیارات کو تج دیتے ہیں اور اس پر ایمان لے آتے ہیں کہ جب بھی ریاست جو کچھ کرتی ہے، درست کرتی ہے۔نشاۃ ثانیہ اور نام نہاد تحریک اصلاح کے بطن سے برآمد ہونے والی بتدریج قومی ریاستوں کی موجودہ شکل وصورت 1919ء میں لیگ آف نیشن اور بعد ازاں اقوام متحدہ کی تشریحات نے بنائی ہے، پھر بھی اس سے قبل کی دنیائے انسانیت کو جہالت کی مخلوق مانتے ہوئے ایک ڈیڑھ صدی کی قومی ریاست کے اس تصور پر مکمل ایمان ہی لے آتے ہیں۔ اب کیا ایسی ریاست اپنے گزشتہ کل سے نجات پانے کی جدوجہد میں ہو، اور ایسے کل سے جس نے ایمان، عقیدہ اور نظریئے کے امتزاج سے کچھ جھوٹی سچی تشریحات پر گزارہ کیا ہو، تو ایسا فیصلہ قوم پر کیا وقت لائے گا؟ اس کا کوئی درست جائزہ لیا گیا تھا۔ اس کے لیے ریاست کو کس کس سطح پر کہاں کہاں بروئے کارآنا پڑے گا، کیا اس پر کوئی غورکیا گیا تھا؟مسئلہ یہ ہے کہ جدید ریاستوں میں فوج ملکوں کا ہاتھ ہوتی ہے، دماغ نہیں۔ اور پاکستان میں دماغ کا کام بھی ہاتھوں کے سپرد کردیا گیا ہے۔ کیونکہ یہاں دماغوں نے کبھی بھی کسی اعلیٰ درجے کی ذہانت کا مظاہرہ ہی نہیں کیا۔ اب ہاتھ جسم میں سوچنے کا کام کتنا کرسکتے ہیں ، بس اُتنا ہی ریاست میں عسکری ادارے بھی کررہے ہیں۔اس ’’بندر کی بلاطویلے کے سر ‘‘ والی ناموزوں مشقت نے پاکستان کو ایک ایسی صورتِ حال میں دھکیل دیا ہے کہ یہاں ہر نیا دن پہلے سے زیادہ پُرخطر بن کر سامنے آتا ہے۔

ریاست کو خطرات تو نظری ، فکری اور وجودی سطح کے ہیں مگر ریاست تو اس سکت کا بھی مظاہرہ نہیں کرپارہی کہ وہ روزمرہ کے عملی مسائل سے ہی نبر د آزما ہولے۔ اگر دہشت گرد ہمارے لیے روز ایک نئی طرز کی موت ایجاد کریں تو اُن کے اس طرزِعمل پر تو ادارے اور حکومت گنجائش کی ڈھال استعما ل کرسکتی ہے۔ مگر دہشت گرد اگر ایک ہی طرح سے بروئے کار آتے ہو، اور اُن کے اندازواطوار میں ایک’’ پیٹرن ‘‘ یا نمونہ موجود ہو، اور ہم پھر بھی اپنی قوم اور اداروں کو اس سے نبرد آزما ہونے میں ناکام پائیں ۔ تو اس کی کوئی معافی نہیں ہو سکتی۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں ایک خاص طرح کی ذہنیت کارفرما ہوتی ہیں۔ دہشت گردی کے لیے استعما ل ہونے والے ہاتھ تو اہداف پورے کرنے میں لگے رہتے ہیں مگر اس کے دماغ خاص طرح سے حرکت میں آتے ہیں ۔ مثلاً عام طور پر دہشت گردی کے لیے دسمبر اور اگست کی تاریخوں کا انتخاب سقوط ڈھاکا اور ماہ آزادی کی مناسبت سے کیا جاتا ہے۔ ان مہینوں میں اداروں کو زیادہ مستعد اور چوکس ہونا چاہئے، مگر افسوس ناک طور پر ہمارا طرزِ عمل حفظ ماتقدم یا پھر اقدامی نہیں بلکہ بعد از اقدام ردِ عمل سے عبارت ہوتا ہے۔سانحہ کوئٹہ کے ہی تناظر میں اس کا جائزہ لے لیں۔ ایساہی ایک واقعہ بالکل اسی انداز میں ٹھیک اسی تاریخ کو اسی شہر میں رونما ہو چکاہے۔ کوئٹہ میں ہی ایس ایچ او محب اللہ داؤی کو 8 اگست 2013ء کو نشانا بنایا گیا۔ جب اُن کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے لوگ جمع ہوئے تو اس پر خودکش حملہ کردیا گیا، جس کے نتیجے میں تیس افراد لقمہ اجل بن گیے۔ اسی طرح ایک بینک مینجر کے اہدافی قتل( ٹارگٹ کلنگ) کے بعد جب ہزارہ کمیونٹی کے لوگ اسی سول اسپتال کوئٹہ میں جمع ہوئے تو اُنہیں ماضی میں اسی طرح نشانا بنایا گیا۔ اس طریقہ واردات کو’’ بوبی ٹریپ‘‘(Booby trap)کہتے ہیں، جس میں پہلے ایک چھوٹا واقعہ کرکے لوگوں کو اُس کی طرف دھکیلا جاتا ہے ، اور پھر ایک زیادہ بڑی کارروائی میں اُنہیں نشانا بنا لیا جاتا ہے۔ نوگیارہ کے بعد کراچی میں ہونے والے ابتدائی دھماکوں میں اس طرز کو متعدد مرتبہ استعمال کیا گیا۔ میٹروول کے علاقے میں ایک امریکن کلچر سینٹر کے قریب اس نوع کی کامیاب واردات ہوئی تھی۔ جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکنا ہو کر واردات کے بعد ردِ عمل کے طریقے وضع کر لینے چاہئے تھے۔ یہ بات تو مانی جاسکتی ہے کہ پہلی کارروائی اچانک ہوتی ہے ،مگراس کے بعد ہونے والی کارروائی کے لیے کوئی حیلہ اور جواز نہیں مانا جاسکتا۔ کوئی کچھ بھی کہے ، سانحہ کوئٹہ میں اسپتال میں ہونے والا دھماکا دراصل قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کی نااہلی ہے۔

حیرت انگیز طور پرسرکاری ادارے اپنی ہر ناکامی کو زیادہ اختیارات کے مطالبے میں چھپالیتے ہیں۔ اور ہر حادثے کے بعد جواب دہی کے بجائے زیادہ طاقت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ایسی اُلٹی خوراک سے صرف پاکستان ہی چل سکتا ہے۔ دنیا کا کوئی دوسرا ملک نہیں ۔

اس رویئے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں ہر حادثے کو زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی جنگ میں کیوں تبدیل کردیا جاتا ہے؟ آخر کیوں ہم دہشت گردی کے متعلق اپنے فرسودہ رویوں پر غور نہیں کرتے؟اور کیوں ہر دہشت گردی کے بعد ہمارا ردِ عمل نہایت پست سطح کی گروہی تعبیرات کا آئینہ دار ہوتا ہے؟ ان سوالات پر غور اگلی تحریر پر اُٹھا رکھتے ہیں۔ابھی تو صرف اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ رویہ ہی فرق ڈالتا ہے۔ مگرہمارا رویہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کا فرق ڈالنے والا ہرگز نہیں۔


متعلقہ خبریں


افغانستان، مسجد میں بم دھماکا، 37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں جمعے کے روز ایک شیعہ مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جبکہ ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بم دھماکا ٹھیک اس وقت ہوا جب مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس بم دھماکے کا ہدف صوبے کی سب سے بڑی شیعہ مسجد بنی۔ طبی ذرائع کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان UNAMA نے امام باڑہ فاطمیہ مسجد پر ہوئے اس بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ...

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا،  37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی

ابوبکرالبغدادی کے نائب کی گرفتاری کے پیچیدہ آپریشن کی نئی تفصیلات جاری وجود - منگل 12 اکتوبر 2021

عراق کے وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے نام نہاد دولت اسلامیہ داعش کے مقتول سربراہ ابو بکر البغدادی کے نائب اور تنظیم کے بیرون ملک مالی امور کے انچارج سامی الجبوری کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری طرف عراقی فوج نے اس ہائی پروفائل گرفتاری کی مزید تفصیلات جاری کی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق عراق کی مسلح افواج کی جوائنٹ آپریشن کمانڈ نے بتایا کہ داعشی دہشت گرد کمانڈر کی گرفتاری کے لیے ایک نئی تکنیک استعمال کی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ سامی الجبوری کی گرفتاری اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم پیش ...

ابوبکرالبغدادی کے نائب کی گرفتاری کے پیچیدہ آپریشن کی نئی تفصیلات جاری

شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردوں کا حملہ، 5 سیکورٹی اہلکارشہید وجود - اتوار 03 اکتوبر 2021

شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے میں 5 سیکورٹی اہلکارشہید ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق شہداء میں ایف سی کے 4 جوان اورایک لیویز سب انسپکٹر شامل ہے۔ شہداء میں حوالدار اسحاق، حوالدار زاہد، لانس نائیک ولی ،لانس نائیک عبدالمجید اورلیویز انسپکٹر جاوید بھی شامل ہیں۔ علاقے میں دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردوں کا حملہ، 5 سیکورٹی اہلکارشہید

طالبان کی فتح نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو حوصلہ دیا ،امریکی تھنک ٹینک وجود - هفته 02 اکتوبر 2021

امریکی تھنک ٹھینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کرنے اور اپنے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کی کسی بھی جہادی کوشش کو پسپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بروکنگز کی رپورٹ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا اذیت ناک مسئلہ میں کہا گیا کہ افغانستان میں طالبان کی فتح نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو حوصلہ دیا ہے جس سے ملک میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس خوف میں اب یہ امکان شامل ہے کہ پ...

طالبان کی فتح نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو حوصلہ دیا ،امریکی تھنک ٹینک

دہشت گردی سے پاکستان کا کافی نقصان ہوا ،امریکا کا اعتراف وجود - هفته 02 اکتوبر 2021

امریکی محکمہ خارجہ میں ڈپٹی سیکرٹری وینڈی شرمن نے کہاہے کہ پاکستان کو تمام انتہا پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ میں ڈپٹی سیکرٹری وینڈی شرمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ ایک مضبوط شراکت داری کے خواہاں ہیں اور ہم تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلا امتیاز تسلسل کے ساتھ کارروائی کی توقع کرتے ہیں۔اس موقع پر امریکی ڈپٹی سیکرٹری نے پاکستان کے اس موقف کا بھی اعتراف کیا کہ دہشت...

دہشت گردی سے پاکستان کا کافی نقصان ہوا ،امریکا کا اعتراف

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود - پیر 30 ستمبر 2019

کپتان حیرتوں کی حیرت ہے!!! وہ ایک بار پھر سرخروہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک منفرد تجربہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کسی بھی سربراہ حکومت نے ایسا جاندار ، شاندار اور شاہکار خطاب کیا ہے۔ قبل ازمسیح کے پوبلیوس سائرس اچانک ذہن کے افق پر اُبھرتے ہیں، ایک آزاد شامی جنہیں غلام بناکر رومن اٹلی میں پہنچا دیا گیا۔ اپنی حس و صلاحیت سے آقانے اُنہیں تعلیم آشنا ہونے دیااور پھر وہ اپنے غیر معمولی ذہن سے لاطینی مصنف بن کر اُبھرا۔خوبصورت فقروں، محاوروں اور ضرب الامثال...

خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

خاتمہ وجود - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

جوتے کا سائز وجود - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

نوگیارہ وجود - اتوار 11 ستمبر 2016

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔ امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا...

نوگیارہ

دائرے وجود - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

ترکی: شادی کی تقریب میں دھماکے سے 51 افراد جاں بحق، 94 زخمی وجود - اتوار 21 اگست 2016

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت سے پہلے دہشت گردی کی منظم وارداتوں کا جو سلسلہ دیکھا گیا تھا وہ بغاوت کے بعد پھر شروع کر دیا گیا ہے۔ اب دہشت گردی کی وارداتوں میں کچھ نئے رجحانات بھی دیکھنے میں آرہے ہیں۔ جس کا تازہ اظہار شام کی سرحد کے قریب ترکی کے شہر غازی عنتب میں ایک شادی کی تقریب میں ہونے والے دھماکے سے ہوا ۔ جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 51 افراد جاں بحق اور 94 زخمی ہو گئے ہیں۔ غازی عنتب کے گورنر علی یرلی کایا کے مطابق ہفتے کی شب شاہین بے ضلع میں ہونے والی ایک شادی کی ای...

ترکی: شادی کی تقریب میں دھماکے سے 51 افراد جاں بحق، 94 زخمی

آزادی سے بیگانگی وجود - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

مضامین
دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام