وجود

... loading ...

وجود

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

جمعه 12 جون 2026 قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ
تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنامک سروے گزشتہ سال کی معاشی کہانی بھی بیان کرتا ہیمحمد اورنگزیب کی پریس کانفرنس

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پورے سال کی مالی کارکردگی پر مبنی اقتصادی سروے جاری کر دیا، حکومت کئی شعبوں میں اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام رہی۔قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی جب کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، معاشی ترقی کی شرح نمو3۔7فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901ڈالر ہوگئی۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ72 ملین ڈالر مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2۔89 فیصد رہی، ڈیری اورلائیو سٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصدحصہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح نمو 6۔1 فیصد رہی ، فوڈ ،ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا، سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوا، کھاد کی طلب میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4۔9 فیصد رہی۔وزیر خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی، ایف بی آر کے محصولات میں 10۔1 فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ 2 سال میں بتدریج کمی ہوئی، مہنگائی کی اوسط شرح 6۔7 فیصد رہی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، اوورسیز پاکستانیوں کے شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرونی ادائیگی کیلئے ترسیلات زر بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، چاول اور چینی کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی، ٹیکسٹائل کے شعبے کا برآمدات میں کلیدی کردار ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا ہوا فٹ بال استعمال ہوگا، سپورٹس کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد ہیں،جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، فری لانسرز کا حصہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے، مینو فیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں میں بہتری آئی، مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا صرف 0۔7 فیصد رہ گیا۔انہوں نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 252 ملین ڈالر رہ گیا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری 12۔7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء کیا گیا، ٹیکس محصولات میں 11۔3 فیصد اضافہ ہوا، وزیراعظم برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔محمد اورنگزیب نے بتایا کہ درآمدات میں کمی ہماری ترجیح ہے، زرعی قرضوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، ملک میں شرح خواندگی 63 فیصد ہوگئی ہے، صنعتوں کیلئے بجلی سستی کی گئی، صنعتی ٹیرف سے کراس سبسڈی ختم کی۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے لیے جولائی تا مارچ 2162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، غریب خاندانوں کے لیے بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھا کر 722۔5 ارب روپے کر دیا گیا، پی آئی اے، ایف ڈبلیو بی ایل اور ڈسکوز سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام تیز کیا گیا، وزارتوں کے انضمام اور پی ڈبلیو ڈی سمیت متعدد محکموں کو بند کرنے کے لیے رائٹ سائزنگ شروع کی گئی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔قومی اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے میں گروتھ کا ہدف 4۔5 فیصد کی بجائے ترقی کی شرح 2۔8 فیصد رہی، فصلوں کیلئے ترقی کا ہدف 3۔5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 2۔4 فیصد رہی ہے، لائیو سٹاک کیلئے ترقی کا ہدف 4۔2 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 3۔7 فیصد ہے جنگلات کیلئے ترقی کا ہدف 3۔5 فیصد تھا، شرح نمو2 فیصد ہے، ماہی گیری کیلئے ترقی کا ہدف3 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 1۔6 فیصد رہی، صنعت کیلئے ترقی کا ہدف 4۔3 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 3۔5 فیصد رہی۔معدنیات کیلئے ترقی کا ہدف 3 فیصد تھا جبکہ اس کی شرح نمو 0۔38 فیصد ہے، پیداواری شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 4۔7 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6۔6 فیصد رہی، بڑی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 3۔5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6۔1 فیصد رہی۔چھوٹی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 8۔9 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 8۔5 فیصد رہی، بجلی گیس اور واٹر سپلائی کی نمو کا ہدف 3۔5 تھا لیکن گروتھ منفی ریکارڈ ہوئی، بجلی گیس و واٹر سپلائی میں 10 فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔تعمیرات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 3۔8 فیصد جبکہ ترقی کی شرح 5۔7 فیصد رہی ہے، خدمات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 4۔09 فیصد ریکارڈ ہوئی، ہول سیل و ریٹیل کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3۔9 فیصد تھا اور شرح نمو 3۔7 فیصد رہی۔ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3۔4 فیصد کی نابت 2۔3 فیصد تک ریکارڈ ہوئی، ہوٹل انڈسٹری و فوڈ کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4۔1 فیصد جبکہ شرح نمو 3۔9 فیصد رہی، معلومات اور مواصلات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 5 فیصد کی نسبت 7۔5 فیصد رہی ہے۔ انشورنس اور مالیاتی شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 5 فیصد جبکہ گروتھ محض صفر 0۔32 فیصد رہی، رئیل سٹیٹ سیکٹر میں ترقی کا ہدف4۔2 فیصد جبکہ شرح نمو 3۔6 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے، شعبہ تعلیم میں شرح نمو 4۔5 فیصد کی نسبت ترقی کی شرح 5۔2 فیصد رہی ہے۔ سماجی شعبے کیلئے ترقی کی شرح 4 فیصد کی مسبت شرح نمو 6۔8 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے، نجی شعبے کے لیے ترقی کی شرح 4۔5 فیصد مقرر کی گئی تھی جبکہ شرح نمو 3۔6 فیصد رہی، اہم فصلوں کیلئے گروتھ منفی 4۔5 فیصد کی نسبت شرح نمو 0۔65 فیصد رہی ہے۔گندم کی پیداوار 4۔3 فیصد اضافے سے 2 کروڑ 96 لاکھ 5 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے، چاول کی پیداوار 2۔8 فیصد بڑھ کر 99 لاکھ 98 ہزار ٹن ریکارڈ ہوئی، گنے کی پیداوار میں 6۔2 فیصد اضافہ ہوا، پیداوار 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن رہی ہے۔ مکئی کی پیداوار 2۔68 فیصد کمی سے 87 لاکھ 94 ہزار ٹن رہی، کپاس کی پیداوار 0۔5 فیصد کمی کیساتھ پیداوار 70 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں رہی ہے، چنے کی پیداوار میں غیر معمولی 50۔4 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ملک میں آلو کی پیداوار 27۔6 فیصد جبکہ کیلے کی پیداوار 30۔8 فیصد بڑھ گئی ہے، آم، ہلدی اور مرچ کی پیداوار میں بالترتیب 11۔6، 25۔1 اور 9۔2 فیصد اضافہ ہوا، لائیو سٹاک شعبہ 3۔75 فیصد بڑھا، پیداوار میں 3۔46 فیصد اضافہ معاون ثابت ہوا۔مکئی کی پیداوار 8۔8 ملین ٹن جبکہ آلو پیداوار 389 ہزار ٹن رہی، سبزیوں کی پیداوار میں 12۔6 فیصداضافہ ہوا سبزیوں کی پیداوار 403 ہزار ٹن رہی، پھلوں کی پیداوار میں 2۔8 فیصداضافہ کیساتھ پیداوار 444 ہزار ٹن رہی۔


متعلقہ خبریں


ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

مضامین
بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر