وجود

... loading ...

وجود

لالچ مذکر یا مونث؟

جمعرات 05 نومبر 2015 لالچ مذکر یا مونث؟

urdu words

آئیے، آج ایک بچے کے خط سے آغاز کرتے ہیں جو غالباً بچوں کے رسالے ’ساتھی‘ کا قاری ہے۔ برخوردار نے لکھا ہے کہ ’’انکل‘ آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ ’’لالچ‘‘ مونث نہیں مذکر ہے، لیکن سنڈے میگزین (6 تا 12 ستمبر) میں ایک بڑے قلمکار نے صفحہ 6 پر اپنے مضمون میں کم از کم چھ بار لالچ کو مونث لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر دوسرے مضمون نگار نے بھی لالچ کو مونث ہی ثابت کیا ہے (بہشت کی لالچ)۔ اب آپ ہی بتائیے، ہم کس کی بات مانیں؟ ہماری تو اپنے دوستوں سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ لالچ مذکر ہے، مونث نہیں۔ اب اگر انہوں نے مذکورہ مضامین کو بطور سند پیش کردیا تو ہماری تو کچی ہوجائے گی۔‘‘

اب ہم کیا عذر پیش کریں! غنیمت ہے کہ کسی قاری نے صفحہ 7 کے مضمون میں ’’سبز زمرد‘‘ اور ’’سرخ یاقوت‘‘ پر اعتراض نہیں کیا۔ سنا ہے کہ زمرد سبز اور یاقوت سرخ ہی ہوتا ہے۔

چلیے، یہ تو ہوگیا گریبان کا احوال۔ آج کل پنجاب بھر میں گدھوں اور مُردار جانوروں کا گوشت پکڑا جارہا ہے۔ اس کے بارے میں ہر ٹی وی چینل ’’مذبحہ خانہ‘‘ کا ذکر کررہا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اردو کے نفاذ کا حکم تو جاری کردیا ہے لیکن زبان بگاڑنے والوں پر کوئی جرمانہ عائد کرنے کا ذکر نہیں۔ مذبح میں خانہ داخل ہے، چنانچہ مذبح خانہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح مقتل کو مقتل گاہ کہنا مناسب نہیں۔ خانہ اور گاہ لکھنا اتنا ہی ضروری ہو تو ذبح خانہ اور قتل گاہ کہہ دیا جائے۔ ایک ٹی وی چینل غالباً ’کیپٹل‘ پر ذبح خانہ سن کر خوشی ہوئی۔

گزشتہ دنوں پشاور میں طوفانِ بادوباراں آیا۔ جو خاتون اس کی خبر دے رہی تھیں انہوں نے ایک بار نہیں کئی بار طوفان کی ’ط‘ اور موسلا دھار کے ’م‘ پر زبر لگانا ضروری سمجھا۔ یعنی طَو اور مَو۔ شاید اس طرح طوفان کی شدت بڑھ جاتی ہو۔

عدالتِ عظمیٰ نے تو اردو کے عملی نفاذ کا حکم جاری کردیا، لیکن اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے برقی و غیر برقی ذرائع ابلاغ کا کردار اہم ہوگا۔ ٹی وی پر خبریں پڑھنے والوں/ والیوں کا تلفظ درست کرنے کا اہتمام بھی ہونا چاہیے۔ لیکن یہ کام کون کرے گا؟ منگل کو ایک ٹی وی چینل پر بلوچستان کے ایک اسکول کے بارے میں رپورٹ دی جارہی تھی کہ اردو پڑھانے والے اساتذہ کو بھی اردو نہیں آتی۔ ایسی صورت حال میں ہم چینی زبان سکھانے کا اہتمام کررہے ہیں۔ ایک فوری کام اخبارات کو یہ کرنا چاہیے کہ جو انگریزی الفاظ غیر ضروری طور پر اردو کا حصہ بنا دیے گئے ہیں ان کی جگہ اردو کے الفاظ شامل کیے جائیں۔ البتہ جو الفاظ اردو کا حصہ بن گئے اور عام آدمی بھی سمجھ لیتا ہے، ان کا متبادل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ مثال کے طور پر آرمی چیف کی جگہ سپہ سالار یا فوج کا سربراہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کا آج کل بڑا زور ہے۔ اسے ’قومی منصوبۂ عمل‘ کہا اور لکھا جائے تو بھی منصوبہ متاثر نہیں ہوگا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ’’چارٹر آف اکنامی‘‘ کا ذکر کررہے ہیں۔ اسے ’منشورِ معیشت‘ کہا جا سکتا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی کو بھی پڑھے لکھے لوگ’منشورِ جمہوریت‘‘ کہتے ہی ہیں، اس پر عمل ہو یا نہ ہو۔ ایسے ہی کوئی چیز ’’بورڈ آف انوسٹمنٹ‘‘ ہے۔ بورڈ کا ترجمہ مناسب نہیں تو اسے سرمایہ کاری بورڈ تو کہا جا سکتا ہے۔ بورڈ تو اب اتنا دخیل ہوگیا ہے کہ سڑکوں پر بھی لگا ہوا نظر آتا ہے اور تعلیم میں بھی، جیسے انٹرمیڈیٹ بورڈ۔ انٹر میڈیٹ پہلے کبھی انٹرنس کہلاتا تھا لیکن وہ بھی انگریزی ہے، میٹرک بھی…… جس کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

مرحوم روزنامہ امروز میں معروف سیاست دان نواب زادہ نصر اﷲ خان کوموسمی سیاستدان لکھا تھا اور جب استفسارکیا گیا تو انگریزی کی خبر سامنے کردی جس میں SEASONED سیاست دان لکھا تھا۔

ایسی ہی ایک اصطلاح ’’سافٹ امیج‘‘، ’’سافٹ کارنر‘‘ کی رائج ہوگئی ہے۔ اس کا مناسب ترجمہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔

کراچی سے شائع ہونے والے ایک اخبار کی شہ سرخی میں پڑھا ’’احسانات جتوائے‘‘۔ یہ بالکل ہی غلط ہے۔ یا توجتوائے کی جگہ گنوائے ہونا چاہیے تھا یا پھر ’’احسانات جتائے‘‘۔ شاید ایسا سہو جلدی میں ہوجاتا ہے۔

ہمارے کچھ دوست بھی آج کل مخبری کرکے ہماری مدد کررہے ہیں۔ لاہور سے افتخار مجاز نے خبر دی ہے کہ ایک چینل نے بتایاکہ ’’یوم دفاعِ پاکستان ملک بھر میں نیشنل ڈیفنس ڈے کے طور پر منایا گیا‘‘۔ انہوں نے ہی یہ اطلاع دی ہے کہ مرحوم روزنامہ امروز میں معروف سیاست دان نواب زادہ نصر اﷲ خان کو موسمی سیاستدان لکھا تھا اور جب استفسارکیا گیا تو انگریزی کی خبر سامنے کردی جس میں SEASONED سیاست دان لکھا تھا۔ معصومیت ملاحظہ کیجیے کہ پوچھا: کیا سیزن کو اردو میں موسم نہیں کہتے؟ جواز تو معقول تھا۔ نیوز ایڈیٹر نے بھی یونہی جانے دیا۔ یہ اُس وقت کی باتیں ہیں جب اردو اخبارات کو بھی انگریزی میں خبریں موصول ہوتی تھیں، چنانچہ ترجمے کے متعدد لطیفے ہوتے۔ اب اردو خبررساں ایجنسیوں کی بھرمار ہے اور وہ بھی کسی سے کم نہیں کہ وہاں ہم جیسے لوگ ہی بیٹھے ہیں، اور جو اخبارات کے دفاتر میں سب ایڈیٹر ہیں وہ بھی سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ اچھے پڑھے لکھے لوگوں سے سنا اور پڑھا جو تھیلی کی جگہ تھالی کے چٹے بٹے کہتے ہیں۔ جانے کیوں ؟


متعلقہ خبریں


فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرن...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی ...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجن...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ ا...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا ک...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے ز...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

نقص ِامن یا نقضِ امن اطہر علی ہاشمی - هفته 31 اکتوبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا...

نقص ِامن یا نقضِ امن

امرت سر اطہر علی ہاشمی - جمعرات 15 اکتوبر 2015

محترم عمران خان نیا پاکستان بنانے یا اسی کو نیا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا محاورہ بھی عنایت کردیا ہے۔10 اگست کو ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ قصور کے حوالے سے انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا ’’میرا سر شرم سے ڈوب گیا‘‘۔ انہوں نے دو محاوروں کو ی...

امرت سر

اینچا تانی کی کھینچا تانی اطہر علی ہاشمی - پیر 12 اکتوبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال معروف شاعر ظفر اقبال کے ’’اقبال زادے‘‘ ہیں۔ اردو سے محبت اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر پروگرام کرتے ہیں۔ پروگرام کی نوعیت تو کچھ اور ہے تاہم درمیان میں آفتاب اقبال اردو کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات بھی کر جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ...

اینچا تانی کی کھینچا تانی

بیرون ممالک اطہر علی ہاشمی - بدھ 16 ستمبر 2015

چلیے، آغاز اپنی غلطی سے کرتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ آئندہ بھی کریں گے۔ پچھلے شمارے میں سرزد ہونے والے سہو کی نشاندہی روات سے ایک ذہین شخص ذہین احمد نے کی ہے۔ روات اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، ممکن ہے اب بڑا شہر ہوگیا ہو، اسلام آباد کی قربت کا فائدہ ضرور ہوا ہوگا۔...

بیرون ممالک

رفاعی یا رفاہی اطہر علی ہاشمی - اتوار 06 ستمبر 2015

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن ا...

رفاعی یا رفاہی

مضامین
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات وجود بدھ 21 فروری 2024
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات

تشکیل سے پہلے نئی حکومت کا خاتمہ وجود بدھ 21 فروری 2024
تشکیل سے پہلے نئی حکومت کا خاتمہ

سمجھوتہ ایکسپریس : متاثرین 17 سال سے انصاف کے متلاشی وجود بدھ 21 فروری 2024
سمجھوتہ ایکسپریس : متاثرین 17 سال سے انصاف کے متلاشی

یہ کمپنی نہیں چلے گی!! وجود منگل 20 فروری 2024
یہ کمپنی نہیں چلے گی!!

امریکی جنگی مافیااورعالمی امن وجود منگل 20 فروری 2024
امریکی جنگی مافیااورعالمی امن

اشتہار

تجزیے
پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود پیر 19 فروری 2024
پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود جمعرات 11 جنوری 2024
گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا وجود جمعرات 11 جنوری 2024
سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

اشتہار

دین و تاریخ
دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود منگل 06 فروری 2024
حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر