وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

امرت سر

جمعرات 15 اکتوبر 2015 امرت سر

urdu words

محترم عمران خان نیا پاکستان بنانے یا اسی کو نیا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا محاورہ بھی عنایت کردیا ہے۔10 اگست کو ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ قصور کے حوالے سے انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا ’’میرا سر شرم سے ڈوب گیا‘‘۔ انہوں نے دو محاوروں کو یکجا کردیا۔ دیکھا جائے تو کوئی شخص اُس وقت تک پوری طرح نہیں ڈوبتا جب تک اس کا سر نہ ڈوبے۔ چُلّو بھر پانی میں ڈوبنا محاورہ تو ہے لیکن عملاً ممکن نہیں۔ ممکن ہے خان صاحب کو یہ کہنا اچھا نہ لگا ہو کہ ’’سر شرم سے جھک گیا‘‘۔ بہرحال‘ اخبارات میں جملے کی تصحیح ہوگئی۔

امرتسر میں ایک مخبوط الحواس کشمیری کو پکڑ کر بھارتی پولیس نے اُسے پاکستان کا جاسوس قرار دے دیا۔ ہمارے ایک ٹی وی چینل پر لطیفہ یہ ہوا کہ جو صاحب اس کی خبر دے رہے تھے انہوں نے’’ امرت سر‘‘ کے ٹکڑے بڑی بے دردی سے کردیے اور اسے ’’امر۔تسر‘‘ بنادیا۔ بھئی، جب امرتسر لکھا جائے گا تو ہمارے معصوم صحافی اسے امر۔ تسر ہی کہیں گے۔ اصل غلطی تو اُن کی ہے جو ملا کر لکھتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ’ امرت سر‘ اب بھی پاکستان میں معروف ہے اور کئی لوگ یہ نسبت استعمال کرتے ہیں۔ امرت معنوی اعتبار سے اردو میں بھی مستعمل ہے۔ امرت دھارا پہلے ہر گھر میں ہوتا تھا، اب بھی بازار میں دستیاب ہے اور محاورے میں شامل ہوچکا ہے۔ امرت دھارا بہت سی بیماریوں میں مختلف بدرقات کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ جو شخص مختلف مسائل میں کام آئے اُسے بھی امرت دھارا کہہ دیتے ہیں۔ عربی اور فارسی میں یہ تریاق ہے۔ امرت: آب حیات، اکسیر، بہت لذیذ، شیریں وغیرہ۔ اور ’’سر‘‘ کا مطلب ہے: دیوتا۔ تو امرت سر کا مطلب ہوا: ’’امرت کا دیوتا۔‘‘ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ ’’سر‘‘ ہندی میں ندی کو بھی کہتے ہیں۔ بہرحال امر۔تسر نہیں ہے۔ اب اگر اسی خبر کی پٹی میں یہ چل رہا تھا کہ کوئی ’’صبوت‘‘ نہیں ملا تو اس میں رپورٹر کی کوئی غلطی نہیں ہے۔

چلیے، ایک رپورٹر نے تو امرت سر کے ٹکڑے کردیے، لیکن جامعہ کراچی کی ایک استاد اکثر ٹی وی چینلز پر اپنا تجزیہ پیش کرتی رہتی ہیں۔ ان کے سر پر ہما کا سایہ ہے۔ وہ افغانستان کے معروف صوبے کنڑ کو ’’کن ٹر‘‘ کہہ رہی تھیں۔ لاہور سے جناب افتخار مجاز نے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ پیر کے دن‘ ایک ٹی وی چینل پر 7 سالہ بچے کی لاش گندے نالے سے ملنے کی خبر دی جارہی تھی اور اس کے ساتھ جو پٹی چل رہی تھی اُس میں 7 سالہ بچے کو ’’نومولود ‘‘ قرار دیا جارہا تھا۔ یہ پٹی صبح سے شام تک یونہی چلتی رہی مگر کسی نے تصحیح نہیں کروائی۔ یہ تو واضح ہے کہ اس چینل میں کسی کو نومولود کا مطلب نہیں معلوم ہوگا۔ ایک اخبار میں 3 years old girl کا ترجمہ تین سالہ بوڑھی لڑکی چھپا۔ معلوم کرنے پر جواب ملا کہ OLD کا ترجمہ بوڑھی‘ پرانی نہیں ہوتا؟ اس میں غلط کیا ہے؟

ہم نے سطورِ بالا میں تریاق کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بارے میں سعدی شیرازی کا یہ قول بہت مشہور ہے: تاتریاق از عراق آوردہ شود۔ بادگزیدہ مروہ شود۔

تریاق کے بارے میں ایک تحقیق یہ ہے کہ یہ یونان سے درآمدکیا گیا ہے۔ یونانی زبان میں اسے ’’شیر‘‘ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے: درندہ، جنگلی جانور، زہریلا جانور۔ اسی سے مشتق اسم صفت ’’شیریاکے‘‘ ہے یعنی زہریلے جانور سے متعلق۔ بعد میں اس کا اطلاق اُس دوا پر بھی ہونے لگا جو زہریلے جانور کے کاٹے کے علاج کے لیے دی جائے۔ یہی یونانی لفظ عربی میں تریاق کی صورت میں داخل ہوا۔ اسی سے انگریزی میں THERIAC بنا جس کے معنی بھی تریاق کے ہیں۔ لیکن یہ اب متروک ہوچکا ہے۔ اسی لفظ کی ایک اور صورت TREACLE ہے۔ یہ پہلے تریاق کے معنی میں بولا جاتا تھا لیکن آج کل اس لفظ سے وہ شیرہ مراد ہے جو شکر کی تلچھٹ سے نکلتا ہے۔ اسے راب بھی کہتے ہیں۔ الفاظ نے اسی طرح سفر کیا ہے اور یہ بڑا دلچسپ سفر ہے۔

تریاق کے بارے میں ایک تحقیق یہ ہے کہ یہ یونان سے درآمدکیا گیا ہے۔ یونانی زبان میں اسے ’’شیر‘‘ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے: درندہ، جنگلی جانور، زہریلا جانور۔

ایک مزے کی بات جو ہر اخبار میں نظر آتی ہے، وہ ہے ’’صوبائی وزیراعلیٰ‘‘۔ کیا وفاقی یا مرکزی وزیراعلیٰ بھی ہوتا ہے؟ صرف وزیراعلیٰ لکھنے سے تسلی نہیں ہوتی۔ ہمارے خیال میں تو وزیراعلیٰ صوبے ہی کا ہوتا ہے۔ ایک اخبار کے اداریے میں ایک جملہ ہے ’’سپریم کورٹ نے ہر پہلوؤں کا جائزہ لیا‘‘۔ ہم نے شاید پہلے بھی لکھا ہے کہ ’’ہر‘‘ اور ’’کسی‘‘ کے ساتھ واحد آنا چاہیے یعنی ’’ہر پہلو کا جائزہ‘‘ لکھنا کافی ہے۔ ایک بڑے عالم فاضل اور ایک دینی جماعت کے سربراہ کے مضمون میں ایک جملہ ہے ’’خطِ تنسیخ پھیر دی گئی‘‘۔ اور بھی کئی لوگ مذکر‘ مونث کا تعین دوسرے لفظ سے کرتے ہیں۔ تنسیخ چونکہ مونث ہے‘ اس لیے مضمون نگار نے ’’پھیر دی گئی‘‘ لکھا۔ جب کہ اس کا تعلق’’خط‘‘ سے ہے اور خط مذکر ہے۔

ادارہ یادگارِ غالب‘ کراچی ’’غالب‘‘ کے نام سے ایک مؤقر جریدہ شائع کرتا ہے جس میں اردو کے بڑے معتبر ادیبوں کی تخلیقات شامل ہوتی ہیں۔ تازہ ترین شمارہ نمبر 23 محترم ملک نواز احمد اعوان کے توسط سے ملا ہے۔ اس میں یوں تو سارے ہی مقالے اور مضامین پڑھنے کے قابل ہیں لیکن خالد حسن قادری کا سلسلۂ مضمون ’’الفاظ کا طلسم‘‘ خاصے کی چیز ہے۔ اس کا ذکر پہلے بھی آیا ہے۔ زیرنظر شمارے میں اس طلسم کو مزید آگے پھیلایا گیا ہے۔

خالد حسن قادری لکھتے ہیں کہ اردو کا مزاج بنیادی طور پر شہری ہے۔ یہ شہری مزاج ہونا اس کی خوبی بھی ہوسکتی ہے اور خامی بھی۔ الفاظ کا طلسم میں خالد حسن قادری نے کئی تقریباً متروک الفاظ کو زندہ بھی کیا ہے مثلاً ’’جھوجھرے پڑنا‘‘۔ سند میں میر تقی میرؔ کا شعر:

وہ دن کہاں کہ مست سر انداز خُم میں تھے
سراب تو جھوجھرا ہے شکستہ سبو کی طرح

سچی بات ہے کہ ہم نے پہلے کہیں یہ لفظ سنا نہ پڑھا۔ مطلب ہے ’’بال پڑے ہوئے برتن کی سی آواز‘ ٹھس آواز‘ کپڑے سینے میں اگر سلائی میں زیادہ جھول رہ جائے تو اس موقع پر بھی جھوجھرے پڑنا کہتے ہیں۔ اب خدا جانے میر صاحب کے سر میں کیا جھول رہ گیا یا بال پڑ گیا۔ بال پڑنا تو معلوم ہی ہے کہ چینی یا مٹی کے برتن میں بے احتیاطی کے سبب باریک سی لکیر پڑ جاتی ہے، اس سے وہ برتن ناقابلِ استعمال سمجھا جاتا ہے۔ قدیم اردو کا لفظ جھوجھرا یا جھوجھڑا انہی معنی میں ہے یعنی ٹوٹا ہوا‘ بال پڑا ہوا برتن۔ بجاکر دیکھیں تو کھنکھناتی ہوئی آواز نہ نکلے۔ یہ بال دل میں بھی پڑ جاتا ہے اور تعلقات میں بھی بال آجاتا ہے۔ بال آنکھ میں بھی پڑ جاتا ہے لیکن سور کا بال نہیں ہونا چاہیے۔

اور کئی ایسے الفاظ جو بھلائے جاچکے ہیں‘ خالد حسن نے ان کو زندہ کیا ہے۔ مثلاً چیت‘ اچیت‘ دوال‘ دوالی‘ چھیجنا (چھی جُنا) وغیرہ۔ دلچسپ مضمون ہے۔ گاہے گاہے اس سے استفادہ ہوتا رہے گا، اس میں کوئی اَڑچن بھی نہیں۔


متعلقہ خبریں


سانحہ آرمی پبلک اسکول: حکم دیں، ہم ایکشن لیں گے،وزیرِ اعظم سپریم کورٹ میں پیش وجود - بدھ 10 نومبر 2021

وزیرِ اعظم عمران خان سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے طلب کرنے پر پیش ہو ئے، روسٹرم پروزیراعظم نے کھڑے ہو کر کہاہے کہ میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں، ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، آپ حکم کریں، ہم ایکشن لیں گے۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے بدھ کو سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کیس کی سماعت کی ۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا ہے کہ اعلیٰ حکام کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے...

سانحہ آرمی پبلک اسکول: حکم دیں، ہم ایکشن لیں گے،وزیرِ اعظم سپریم کورٹ میں پیش

قومی اسمبلی میں حکومت کو تاریخی شکست، اپوزیشن کا بل روکنے کی کوشش ناکام وجود - بدھ 10 نومبر 2021

قومی اسمبلی میں حکومت کو تاریخی شکست ہوئی ، اپوزیشن کابل روکنے کی حکومتی کوشش ناکام ہوگئی،امیدوار پر انتخابی نشان تبدیل نہ کرنے کی پابندی لگانے کا بل پیش کرنے کی تحریک منظور کرلی گئی،قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعت ن لیگ کے رکن جاویدحسنین نے امیدوار پر7سال تک انتخابی نشان تبدیل نہ کرنیکی پابندی لگانے کا بل لانے کی تحریک پیش کی تو حکومت نے آئینی ترمیمی بل کی مخالفت کی۔حکومتی رکن ملیکہ بخاری نے تحریک مسترد کرنے کیلئے رائے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آئین ہرشخص کوکسی بھی سیاسی...

قومی اسمبلی میں حکومت کو تاریخی شکست، اپوزیشن کا بل روکنے کی کوشش ناکام

عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ وجود - پیر 08 نومبر 2021

پاکستان مسلم لیگ (ن )کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران نیازی کو قانون، جمہوریت اور سیاسی اخلاقیات کا ذرا بھی احترام ہے تو ڈسکہ الیکشن کے حوالے سے رپورٹ کے آنے کے بعد استعفیٰ دیں اور قانون کا سامنا کریں۔ڈسکہ الیکشن کی رپورٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کے سرمائے کی طرح لوگوں کے ووٹ اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار بھی لوٹنے اور چھننے کی کوشش ہو رہی ہے، ڈسکہ رپورٹ آگئی اور ووٹ چوری ثابت ہوچکی ہے، عمران نیازی بتائیں...

عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ

وزیراعظم کا 120 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان وجود - جمعرات 04 نومبر 2021

وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں پسے عوام کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیکج 120ارب روپے کا ہے جس سے13کروڑلوگ مستفید ہوں گے، 6ماہ تک پیکج کے تحت گھی،آٹا،،دال کی قیمت میں 30فیصد ڈسکاونٹ ملے گا۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے تناظر می ملک میں پیٹرول کی قیمت بڑھانے پڑے گی،دو خاندا ن ملک سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں ،کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں آدھی کردوں گا، بدھ کی شام قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ریلیف پیکج کے علاوہ احساس کے تحت 260ارب روپے کے...

وزیراعظم کا 120 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان

پی ٹی آئی،کالعدم ٹی ایل پی الیکشن اتحاد میرے ایجنڈے کا حصہ نہیں،مفتی منیب وجود - بدھ 03 نومبر 2021

حکومت اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی)کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے سابق چیئر مین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی میں الیکشن اتحاد کی باتیں کرنے والے اور کالعدم ٹی ایل پی جانیں۔ سابق چیئر مین رویت ہلال کمیٹی نے کہاکہ میرا کوئی سیاسی مشن نہیں۔ کالعدم ٹی ایل پی کے مظاہرین میں کسی کے پاس کلاشنکوف نہیں تھی، معاہدے کی تکمیل تک قدم بہ قدم ساتھ رہیں گے،رٹ آف دی گورنمنٹ کی داستانیں سنانے والوں کوکہتا ہوں حکمت سے کام لیا جاتا ہے۔...

پی ٹی آئی،کالعدم ٹی ایل پی الیکشن اتحاد  میرے ایجنڈے کا حصہ نہیں،مفتی منیب

ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان وجود - بدھ 20 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں قومی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔ وہاں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے، کیونکہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلا...

ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان

تم نے سب کو چور کہا،خود تحفے کی گھڑیاں بیچ دیں، مولانا فضل الرحمن وجود - اتوار 17 اکتوبر 2021

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تم نے سب کو چور کہا لیکن خود تحفے کی گھڑیاں بیچ دیں، ایسا لالچی اور بے وقوف کبھی نہیں دیکھا ،اب پی ڈی ایم نے تمہارا احتساب کرنا ہے، ہم نے ڈکٹیٹروں اور ان کے چیلوں کو چیلنج کیا ہے، عوام کا گناہ کیا ہے تم نے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑدیے؟بھارت آپ کے وجود پر حملہ کررہا ہے، تم نے کشمیر کا سودا کیا کیسے خود کو عوام کا نمائندہ سمجھتے...

تم نے سب کو چور کہا،خود تحفے کی گھڑیاں بیچ دیں، مولانا فضل الرحمن

عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان کی سابق اور پہلی اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ان کے سابق شوہر کو سیاسی طور پر نشانا بنانے کے لیے 'آلے' کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانوی اخبار 'ایوننگ اسٹینڈر' کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں 47 سالہ برطانوی نژاد جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ خود سے دگنی عمر کے شخص سے شادی کرنے کا فیصلہ آسان نہ تھا اور جن سے انہوں نے شادی کی وہ کوئی عام شخص نہیں تھے۔ جمائما گولڈ اسمتھ کے مطابق انہوں نے 21 سال کی عمر میں خود سے دُگنی عمر کے ایسے شخص سے ...

عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگلے جمعہ تک سب ٹھیک ہوجائے گا، معاملات طے ہوچکے ہیں، طریقہ کار کا اعلان 7 دن میں ہوجائے گا۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران شیخ رشید نے حکومت اور فوج میں کسی بھی نوعیت کے اختلاف کی تردید کی۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے، لیکن اس کے باوجود بعض باتوں کا جواب وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ بہت جلدی گھبرا جاتے ہیں، اس معاملے پر عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے لیا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میرے پاس ج...

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ

آزاد کشمیر میں بھی سیاسی بحران کے خدشات وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

آزاد کشمیر میں بھی سیاسی بحران کے خدشات پیدا ہونے لگے، وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کا وزیراعظم عمران خان کی جانب سے انتخاب سیاسی حلقوں میں خاصا حیران کن ثابت ہوا تھا۔ مگر وزیراعظم عمران خان نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر سردار عبدالقیوم نیازی کو وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب کرا دیا تھا۔ اب سردار عبدالقیوم نیازی کے لیے اپنی ہی حکومت کے وزراء دردِ سر بنتے جارہے ہیں۔ کشمیر کے وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی کی زیر صدارت ہونے والے پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اور ٹکٹ ہولڈرز...

آزاد کشمیر میں بھی سیاسی بحران کے خدشات

ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر، وزیر اعظم، آرمی چیف میں مشاورت مکمل ہوگئی، فواد چودھری وجود - بدھ 13 اکتوبر 2021

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہاہے کہ آئی ایس آئی کے نئے ڈی جی کے تقرر کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں فواد چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر پر مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئے تقرر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر سول اور فوجی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کے استحکام، سالمیت اور ترقی ک...

ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر، وزیر اعظم، آرمی چیف میں مشاورت مکمل ہوگئی، فواد چودھری

ڈی جی آئی ایس آئی کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا، عمران خان وجود - منگل 12 اکتوبر 2021

وزیر اعظم عمران خان ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر سے متعلق نوٹی فکیشن میں تاخیر پر پیدا ہونے والے ابہام کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں،ہم ایک پیج پر ہیں، معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتِ حال کا جائزہ لیاگیا، اجلاس میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر گفتگو ہوئی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن کے معاملے پ...

ڈی جی آئی ایس آئی کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا، عمران خان

مضامین
دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام