وجود

... loading ...

وجود

سب سے مہنگا آدمی کون؟

منگل 23 جون 2026 سب سے مہنگا آدمی کون؟

بے لگام / ستارچوہدری

تصورکیجیے!! ایک صبح آپ بیدار ہوں اوردنیا بدل چکی ہو۔ نہ عمارتیں بدلی ہوں، نہ حکومتیں، نہ بازاراور نہ ہی سڑکیں ،صرف ایک تبدیلی
آئی ہو،ہرانسان کے سینے پرایک تختی لگی ہو، جس پر اس کے دل کی اصل قیمت درج ہو۔ کسی کے سینے پرلکھا ہو،محبت۔ پانچ سو روپے۔۔
کسی پر، وفاداری۔ ہزار روپے۔ کسی پر،ضمیر۔ فروخت ہوچکا۔ اورکسی خوش نصیب کے سینے پر لکھا ہو،کردار۔ انمول۔ پھرشاید دنیا کا سب
سے بڑا انقلاب برپا ہوجائے۔ ہم صدیوں سے انسانوں کی قیمت ان کے لباس، گاڑی، بنگلے ، عہدے اور بینک اکاؤنٹ سے لگاتے آئے
ہیں، ہم نے دولت کو عزت کا مترادف بنا دیا۔اور کردارکوایک پرانی کتاب کے زرد صفحات میں دفن کر دیا،مگراگراصل قیمتیں ظاہرہوجائیں
توممکن ہے سب سے مہنگا آدمی وہ نکلے جس کی جیب خالی ہو اور سب سے سستا وہ جس کے پاس دولت کے انبار ہوں۔ شاید اس دن بازاروں میں اشیاء نہیں، انسانوں کی حقیقتیں بک رہی ہوں۔
ذرا سوچیے!! اس دن کتنے رشتے اچانک بے نقاب ہو جائیں گے۔وہ دوست جو برسوں سے وفاداری کے دعوے کررہا تھا، اس کے سینے
پرشاید لکھا ہو ”مفاد کے مطابق دستیاب”۔ وہ شخص جو ہرمحفل میں اخلاقیات کے لیکچر دیتا ہے ، ممکن ہے اس کے ضمیر کی قیمت ایک کپ چائے
سے بھی کم نکلے۔ اوروہ خاموش آدمی، جو کسی کونے میں بیٹھ کر اپنی محنت کی روٹی کھاتا ہے ، شاید اس کے کردار کی قیمت کسی خزانے سے زیادہ
ہو۔ پھرشاید شادیوں کے معیار بھی بدل جائیں، لوگ خاندان، دولت اورجائیداد کے بجائے دلوں پرلکھی قیمتیں پڑھنے لگیں،باپ بیٹی کے
لیے یہ نہ پوچھے کہ لڑکے کی تنخواہ کتنی ہے ، بلکہ یہ دیکھے کہ اس کی محبت کتنی سچی ہے اور اس کی وفاداری کتنی قیمتی۔ سیاست کے میدان میں تو
شاید سب سے بڑا زلزلہ آ جائے ،جلسوں کے اسٹیج پرکھڑے لیڈروں کے سینوں پراگر ان کے وعدوں کی اصل قیمت لکھی ہو توعوام کو لمبی
تقریروں کی ضرورت ہی نہ رہے ،ایک نظر کافی ہو۔ کچھ چہرے ایسے ہوں جن کے گرد ہزاروں محافظ کھڑے ہوں، مگران کے ضمیر کی قیمت
چند سکوں سے زیادہ نہ ہو۔ اورکچھ گمنام لوگ ایسے ہوں جن کے پاس کوئی عہدہ نہ ہو، مگران کی دیانت داری انمول لکھی ہو۔ شاید اس دن
ہمیں پہلی بارمعلوم ہو کہ دنیا میں سب سے بڑی غربت پیسوں کی نہیں، کردار کی ہے۔ اور سب سے بڑی دولت بینک بیلنس نہیں، بلکہ وہ دل
ہے جو اب تک فروخت نہیں ہوا، ہمیں یہ بھی پتا چلے ، ہم جنہیں عظیم سمجھتے تھے ، وہ کتنے معمولی تھے ، اور جنہیں معمولی سمجھتے تھے ، وہ کتنے عظیم تھے۔
لیکن شاید سب سے دلچسپ منظر بازاروں میں نظرآئے ، دکانداراشیاء نہیں، انسانوں کو دیکھ رہے ہوں،ایک طرف کروڑوں کی گاڑی سے اترنے والا شخص کھڑا ہو، مگراس کے سینے پرلکھا ہو،ایمان۔ معمولی قیمت پردستیاب۔ دوسری طرف ایک مزدور اپنے پسینے سے بھیگی قمیص میں کھڑا ہو، اوراس کے دل پر جگمگا رہا ہو،دیانت داری۔۔ انمول۔۔ اورپھرایک عجیب پریشانی بھی جنم لے ، بہت سے لوگ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے سینے پر لکھی قیمت مٹانے کی کوشش کریں،کوئی بہانے تراشے ، کوئی وضاحتیں دے ، کوئی دوسروں کو قصوروار ٹھہرائے ،مگرقیمتیں نہ بدلیں، کیونکہ وہ کسی سرکاری دفتر نے نہیں، انسان کے اعمال نے لکھی ہوں، تب شاید پہلی بار ہمیں احساس ہو کہ دنیا کا سب سے مشکل کام دولت کمانا نہیں، بلکہ اپنے دل کی قیمت بلند رکھنا ہے ، کیونکہ دولت چوری ہو سکتی ہے ، عہدہ چھن سکتا ہے ، شہرت مٹ سکتی ہے ، مگرایک بارگرجانے والا کرداربرسوں بعد بھی اپنی اصل قیمت واپس نہیں پا پاتا۔اورشاید اس دن سب سے زیادہ پریشان وہ لوگ ہوں جو اپنی ساری زندگی دوسروں کی نظر میں بڑے بننے کی کوشش کرتے رہے ، انہوں نے عالی شان گھر بنائے ، قیمتی لباس پہنے ، لمبی گاڑیاں خریدیں، اپنے نام کے ساتھ بڑے بڑے عہدے جوڑے ، مگراچانک معلوم ہو کہ ان کے دل پر لکھی قیمت ان سب چیزوں سے کہیں کم ہے ، وہ جتنا اپنے آپ کو مہنگا سمجھتے تھے ، حقیقت میں اتنے ہی سستے نکلے۔
اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جنہیں زندگی بھرکسی نے اہمیت نہ دی، وہ خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے ، نہ انہیں اخبارات کی سرخیاں ملیں، نہ ٹی وی کی اسکرینیں، نہ سوشل میڈیا کی شہرت، مگر جب ان کے سینوں پرلکھی قیمت پڑھی جائے تو معلوم ہو کہ وہی اس معاشرے کے اصل امیر لوگ ہیں۔ ایک استاد، جس نے نسلوں کو سنوارا، ایک ماں، جس نے اپنی خواہشات قربان کرکے بچوں کے خواب پورے کیے ، ایک مزدور، جس نے حلال روزی کے لیے ساری عمرپسینہ بہایا، ایک دوست، جو ہرمشکل وقت میں ساتھ کھڑا رہا، ان سب کے دلوں پرشاید ایک ہی لفظ لکھا ہو۔انمول۔ تب شاید دنیا کو پہلی بار احساس ہو کہ انسان کی قدر اس کے پاس موجود چیزوں سے نہیں، بلکہ اس کے اندرموجود خوبیوں سے ہوتی ہے ، مگرالمیہ یہ ہے کہ دلوں پرقیمتیں لکھی نہیں ہوتیں،اسی لیے دھوکا زندہ ہے ، منافقت زندہ ہے ، دکھاوا زندہ ہے ،ہم چہروں کو پڑھتے ہیں، دلوں کو نہیں،ہم الفاظ پر یقین کرلیتے ہیں، کردارکو جانچنے کی زحمت نہیں کرتے۔۔ اوریہی وجہ ہے کہ اکثر سستے لوگ مہنگے دکھائی دیتے ہیں۔ اوراصل قیمتی لوگ ہجوم میں گم ہوجاتے ہیں۔
شاید پھردنیا کا سب سے بڑا سوال یہ نہ ہو کہ آپ کے پاس کتنا ہے؟ بلکہ یہ ہو کہ آپ ہیں کیا؟ لوگ بینک بیلنس کے بجائے ضمیر کا
حساب پوچھیں،شہرت کے بجائے کردارکی قیمت جاننا چاہیں۔ اوردولت کے بجائے وفاداری کو سرمایہ سمجھیں، مگرقدرت نے شاید اسی لیے
دلوں پرقیمتیں نہیں لکھیں کہ انسان کوایک امتحان دیا جائے ،ہمیں چہرے دیکھ کر نہیں، کردا دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے ، ہمیں الفاظ نہیں، اعمال تولنے
ہیں، ہمیں یہ جاننا ہے کہ ہرچمکتی ہوئی چیزسونا نہیں ہوتی اورہرسادہ نظرآنے والا انسان معمولی نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تمام
بازارمل کربھی ایک اچھا ضمیر نہیں خرید سکتے ، کسی خزانے میں اتنی دولت نہیں کہ سچی محبت خریدی جا سکے ،کوئی طاقت ایسی نہیں جو وفاداری پیدا
کر دے۔اورکوئی نوٹ ایسا نہیں جو گرے ہوئے کردار کو دوبارہ بلند کر دے۔ اس لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ اگردلوں پرقیمتیں لکھی ہوتیں توہم دوسروں کے بارے میں کیا جانتے ، اصل سوال یہ ہے کہ اگرآج اچانک ہمارے اپنے سینے پرہماری قیمت ظاہرہوجائے توکیا ہم اسے فخر سے دنیا کو دکھا سکیں گے؟ کیونکہ انسان کی سب سے بڑی دولت وہ نہیں جو اس کی جیب میں ہوتی ہے ، بلکہ وہ ہے جو اس کے دل میں ہوتی ہے۔ اوربعض اوقات ایک غریب آدمی اپنے کردارکی وجہ سے پوری دنیا کے امیروں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ وجود منگل 23 جون 2026
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران وجود منگل 23 جون 2026
خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران

سب سے مہنگا آدمی کون؟ وجود منگل 23 جون 2026
سب سے مہنگا آدمی کون؟

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو وجود منگل 23 جون 2026
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو

موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر