وجود

... loading ...

وجود
وجود

دار۔و۔گیر پر پکڑ

بدھ 03 فروری 2016 دار۔و۔گیر پر پکڑ

urdu words

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے کہ ’’آپ نے دار و گیر کے عطف کو دار سے جوڑ کر دارو بنادیا‘ العجب‘‘۔ ہم نے کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا بلکہ ماہرین سے پوچھا تھا کہ دار و گیر میں دارو کیوں ہے۔ محمد انور علوی نے مزید دو غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ایک تو یہ کہ ’’قرون مظلمہ کا ترجمہ DARK AGE دیا ہے جبکہ قرون جمع ہے قرن کی، تو پھر ترجمہ بھی AGES ہوگا‘‘۔ بجا اور درست۔ دوسری ’’یہ کلیہ تو معروف ہے کہ جو عوام کی زبان پر چڑھ گیا وہی صحیح ہے۔ اس سلسلے میں جو دو اصطلاحیں ہم نے پڑھی سنی ہیں وہ ’غلط العام‘ اور ’غلط العوام‘ ہیں۔ ان میں سے اول الذکر صحیح بلکہ فصیح، جبکہ دوسری غلط‘‘۔ یہ بھی صحیح ہے اور ہم اس کے لیے اپنی مصروفیت کو جواز نہیں بناسکتے۔ ہمیں تو اس بات کی خوشی ہے کہ ہیڈ ماسٹروں کے ہیڈ بھی اس سلسلے کو مفید پاتے ہیں۔ طالب علمی کے زمانے میں تو کسی طالب علم کی یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ ہیڈ ماسٹر سے براہِ راست کلام کرسکے، الاّ یہ کہ سرزنش کے لیے طلب کیا جائے۔ ہمارے لیے یہ اطلاع دلچسپ ہے کہ ہیڈ ماسٹروں نے بھی اپنی تنظیم بنارکھی ہے۔ ویسے کیا اس کا اردو میں ترجمہ نہیں ہوسکتا مثلاً ’ضلعی تنظیم صدر مدرسان‘ یا ’صدر مدرسوں کی ضلعی تنظیم‘۔ محمد انور علوی اس پر ضرور غور کریں۔

لاہور سے جناب افتخار مجاز نے پوچھا ہے کہ صحیح لفظ ’اَہم‘ ہےیا ’اِہم‘؟ لغت کے اعتبار سے تو صحیح اَہم (الف پر زبر) ہے لیکن ایسے کئی الفاظ ہیں جو اردو میں آکر لیٹ جاتے ہیں۔

جب ہم دوسروں کی غلطیاں پکڑتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہماری غلطی کی نشاندہی بھی کی جائے۔ یہ کام منظر عباسی صاحب بڑے اہتمام سے کرتے ہیں ۔

لاہور سے جناب افتخار مجاز نے پوچھا ہے کہ صحیح لفظ ’اَہم‘ ہے یا ’اِہم‘؟ لغت کے اعتبار سے تو صحیح اَہم (الف پر زبر) ہے لیکن ایسے کئی الفاظ ہیں جو اردو میں آکر لیٹ جاتے ہیں۔ اہلِ پنجاب ’’اَحمد‘‘ کا تلفظ بہت صحیح اور عربی قاعدے کے مطابق (الف پر زبر) ادا کرتے ہیں، لیکن اہم یا احمد جیسے الفاظ کا تلفظ اردو میں زیر اور زبر کے درمیان ادا کیاجاتا ہے۔ عربی کا ایک لفظ ہے ’’لِین‘‘۔ مونث ہے اور اس کا مطلب ہے نرمی۔ ساکن ’و‘ اور ’ی‘ کی وہ آواز جب ان سے پہلے کوئی حرف مفتوح آئے مثلاً طَور۔شَے۔ لِین سے لینت ہے یعنی نرمی، ملائمت۔

افتخار مجاز نے ایک اور مخبری کی ہے۔ لکھتے ہیں: ایک میگزین میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے ایک کتاب کے بارے میں لکھتے ہوئے ترجمہ کی گئی چند لائنیں کوٹ کی ہیں (حوالہ دیا ہے)’’میں نے کچھ عرصہ اس بات پر غور و فکر کیا کہ آیا مجھے یہ یادداشتیں ’’آغاز سے شروع‘‘ کرنی چاہئیں۔‘‘یہ پرتگالی کی ترجمہ شدہ کتاب میں مترجم کی سطح ہے جو ڈاکٹر صاحب کو پسند آئی ہے۔ اگر یہ کسی پرتگالی کتاب کا ترجمہ ہے تو ممکن ہے پرتگالی میں آغاز سے شروع کیا جاتا ہو۔ لیکن یہ تو ہمارے اخبارات میں بہت عام ہے، یعنی آغاز اور شروع کی یکجائی ۔ ہوسکتا ہے انعام الحق جاوید کی نظر سے یہ جملہ نہ گزرا ہو جس کا کھوج افتخار مجاز نے لگایا ہے۔ بعض لوگ کھوج کو مونث بھی بولتے ہیں یعنی ’’کھوج لگائی‘‘۔ لیکن یہ پکّا پکّا مذکر ہے۔

ایک اور لفظ برقی ذرائع ابلاغ پر تواتر سے سننے میں آرہا ہے ’’کال عدم‘‘۔ اب چونکہ یہ کالعدم لکھا جاتا ہے تو ضروری ہوا کہ اسے پڑھا بھی ’’کال عدم‘‘ جائے۔ غنیمت ہے کہ ابھی ’’بالکل‘‘ کو کسی نے اسی طرح ’’بال کل‘‘ کہنا شروع نہیں کیا۔ اور کہتے بھی ہوں تو ہم نے نہیں سنا۔

جناب محمود شام بہت ہی سینئر صحافی ہیں، اتنے کہ جب ہم اسکول میں تھے تو انہیں نوائے وقت میں پڑھا کرتے تھے۔ وہ ایک رسالہ ’اطراف‘ کے نام سے بھی نکال رہے ہیں۔ اس میں بھی پروف کی کئی غلطیاں ہوتی ہیں، تاہم 2015ء کے آخری اور 2016ء کے پہلے شمارے میں صفحہ 10 پر ایک ذیلی سرخی ہے ’’عدم برداشت عدم تحفظ کو جنم دیتی ہے‘‘۔ شاید برداشت کی نسبت سے ’’دیتی ہے‘‘ لایا گیا ہے، لیکن اس کا تعلق ’’عدم‘‘ سے ہے جو مذکر ہے۔ چنانچہ صحیح جملہ یوں ہوتا ’’عدم برداشت عدم تحفظ کو جنم دیتا ہے‘‘۔ ممکن ہے مضمون نگار خاتون نے سوچا ہو کہ جنم دینا تو مونث کا کام ہے، مذکر کا نہیں۔

ہم لغت میں تصدیق کررہے تھے کہ واقعی کھوج مذکر ہے یا نہیں۔ کھ سے شروع ہونے والے الفاظ میں ایک لفظ ’’کھنّس‘‘ پر نظر پڑی۔ یہ کھنس پنجاب میں تو بہت عام ہے اور بعض لوگ اس کا تلفظ ’’خنس‘‘ بھی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے رہے کہ یہ خالص پنجابی لفظ ہے، لیکن لغت کے مطابق یہ ہندی سے اردو میں آیا ہے گو کہ اردو میں اس کا استعمال نہیں دیکھا۔ کھنّس کا مطلب ہے: نفرت، حقارت، دشمنی، بیر، عداوت، غصہ، حسد، رشک وغیرہ۔عوامی بول چال میں کہتے ہیں ’’اس نے اپنی کھنّس مجھ پر نکالی‘‘۔ کھنس سے ’’کھنسانا‘‘ ہے، مگر یہ تو اہلِ پنجاب بھی استعمال نہیں کرتے۔

خیبرپختون خوا کے وزیراعلیٰ جناب پرویز خٹک سیدھے آدمی ہیں۔وہ بھی اقتصادی راہداری پرتنقید میں حصہ لیتے ہوئے دو رویہ کو ’’دو روّیہ‘‘ کہہ رہے تھے۔ ’’کال عدم‘‘ والی مشکل یہاں بھی ہے کہ رویہ اور روّیہ (تشدید کے ساتھ) ایک ہی طرح لکھا جاتا ہے تو پھر بولا بھی ایک ہی طرح جائے گا۔ ممکن ہے پرویز خشک نے ایک ہی لفظ سے دونوں کام نکالے ہوں یعنی رویّے کی شکایت بھی کردی۔ لیکن قابل

تعریف بات یہ ہے کہ اردو اُن کی مادری زبان نہیں لیکن وہ اردو بولتے ہیں، چنانچہ تلفظ میں کسی گڑبڑ کی پکڑ نہیں کرنی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ کتنے ہی ایسے ’’اہلِ زبان‘‘ ہیں جن کی مادری زبان اردو ہے لیکن غلط سلط تلفظ کرتے ہیں۔ اور خود ہمارا تلفظ کون سا سوفیصد صحیح ہے!

جہاں تک ’’رویہ‘‘ کا تعلق ہے تو یہ ’’رو‘‘ سے ہے اور فارسی کا لاحقہ فاعل ہے، چلنے والے کا معنیٰ دیتا ہے جیسے تیزرو، راہرو۔ مرزا غالب کا مشہور شعر ہے:

رو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نَے ہاتھ باگ پہ ہے نہ پا ہے رکاب میں

رخش کا مطلب گھوڑا ہے، لیکن جانے کیوں بعض لڑکیوں کے نام رخشی رکھ دیے جاتے ہیں! رو فارسی مصدر رفتن سے صیغہ امر ہے۔ ’ر‘ پر پیش لگادیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے: منہ، چہرہ، شکل صورت، سامنے کا حصہ، سبب، وجہ، رعایت، لحاظ، امید، تمنا، آرزو، حیلہ، بہانہ وغیرہ۔ روپوش، روسیاہ، روپکار (تحریر، حکم، پروانہ)، روداد وغیرہ۔ جہاں تک روّیہ کا تعلق ہے تو یہ بھی فارسی سے آیا ہے اورآج کل تو بہت ہی آرہا ہے۔ مذکر ہے اور مطلب ہے: دستور، رسم و رواج، چال چلن، برتاؤ، روش، وضع وغیرہ۔ ایک ’رو‘ روئیدن مصدر سے صیغہ امر ہے جس کا مطلب ہے: اگنے والا…… جیسے خودرو، وغیرہ۔


متعلقہ خبریں


فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرن...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی ...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ ا...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا ک...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے ز...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

لالچ مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - جمعرات 05 نومبر 2015

آئیے، آج ایک بچے کے خط سے آغاز کرتے ہیں جو غالباً بچوں کے رسالے ’ساتھی‘ کا قاری ہے۔ برخوردار نے لکھا ہے کہ ’’انکل‘ آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ ’’لالچ‘‘ مونث نہیں مذکر ہے، لیکن سنڈے میگزین (6 تا 12 ستمبر) میں ایک بڑے قلمکار نے صفحہ 6 پر اپنے مضمون میں کم از کم چھ بار لالچ کو مونث لک...

لالچ مذکر یا مونث؟

نقص ِامن یا نقضِ امن اطہر علی ہاشمی - هفته 31 اکتوبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا...

نقص ِامن یا نقضِ امن

امرت سر اطہر علی ہاشمی - جمعرات 15 اکتوبر 2015

محترم عمران خان نیا پاکستان بنانے یا اسی کو نیا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا محاورہ بھی عنایت کردیا ہے۔10 اگست کو ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ قصور کے حوالے سے انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا ’’میرا سر شرم سے ڈوب گیا‘‘۔ انہوں نے دو محاوروں کو ی...

امرت سر

اینچا تانی کی کھینچا تانی اطہر علی ہاشمی - پیر 12 اکتوبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال معروف شاعر ظفر اقبال کے ’’اقبال زادے‘‘ ہیں۔ اردو سے محبت اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر پروگرام کرتے ہیں۔ پروگرام کی نوعیت تو کچھ اور ہے تاہم درمیان میں آفتاب اقبال اردو کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات بھی کر جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ...

اینچا تانی کی کھینچا تانی

بیرون ممالک اطہر علی ہاشمی - بدھ 16 ستمبر 2015

چلیے، آغاز اپنی غلطی سے کرتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ آئندہ بھی کریں گے۔ پچھلے شمارے میں سرزد ہونے والے سہو کی نشاندہی روات سے ایک ذہین شخص ذہین احمد نے کی ہے۔ روات اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، ممکن ہے اب بڑا شہر ہوگیا ہو، اسلام آباد کی قربت کا فائدہ ضرور ہوا ہوگا۔...

بیرون ممالک

رفاعی یا رفاہی اطہر علی ہاشمی - اتوار 06 ستمبر 2015

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن ا...

رفاعی یا رفاہی

مضامین
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر وجود هفته 15 جون 2024
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر

دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی! وجود هفته 15 جون 2024
دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی!

رات کاآخری پہر وجود هفته 15 جون 2024
رات کاآخری پہر

''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی وجود هفته 15 جون 2024
''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی

بجٹ اور میراثی وجود جمعه 14 جون 2024
بجٹ اور میراثی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر