وجود

... loading ...

وجود
وجود

رفاعی یا رفاہی

اتوار 06 ستمبر 2015 رفاعی یا رفاہی

Urdu

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب اردو بولتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں تم تو پنجابی بول رہے ہو۔ بات یہ ہے کہ پنجابی اردو کے بہت قریب ہے، صرف بعض الفاظ میں تلفظ کا فرق ہے۔ یہی نہیں بہت سے پنجابی دوستوں سے اردو محاورے اس دعوے کے ساتھ سنے ہیں کہ یہ پنجابی ہیں۔ اس میں حرج کوئی نہیں ہے۔ دراصل کئی ہندی محاورے اردو اور پنجابی میں در آئے ہیں۔ یہی نہیں، ان کا ترجمہ پشتو میں ہوا تو یہ پشتو ہوگئے۔ ہمارے ایک ساتھی پشتو محاورے کا ترجمہ سناتے ہیں تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ یہ تو اردو کا محاورہ ہے۔ محاوروں پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ ہمیں اسکول میں انگریزی محاوروں کا سلیس اردو ترجمہ پڑھایا جاتا تھا۔ مثلاً انگریزی کا محاورہ ہے کہ ’’بھونکنے والے کتے کاٹتے نہیں‘‘۔ اس کا ترجمہ ہمیں یہ پڑھایا گیا ’’جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں‘‘۔ دیکھا جائے تو دونوں ہی باتیں غلط ہیں یا سو فیصد صحیح نہیں ہیں۔ بھونکنے والا کتا کاٹ بھی لیتا ہے، اس محاورے پر اعتماد کرکے خطرہ مول نہ لیں۔ اسی طرح ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ بادل برسنے سے پہلے خوب گرجتے ہیں۔ ہمارے والد ڈانٹ ڈپٹ کے بعد ہاتھ بھی چھوڑ دیتے تھے اور محاورے کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔ یہی محاورے بنگالی اور سندھی میں بھی مل جائیں گے۔ برعظیم کی زبانوں کی ماں ’’سنسکرت‘‘ ہے، چنانچہ اس کے الفاظ مقامی زبانوں میں در آئے ہیں۔ پشتو پر فارسی کا اثر زیادہ ہے۔ جہاں تک اردو کا تعلق ہے تو اس کا بڑا حصہ عربی اور فارسی پر مشتمل ہے۔ انگریز کی آمد سے پہلے فارسی نہ صرف سرکاری زبان تھی بلکہ دفتری زبان ہونے کی وجہ سے ہر پڑھے لکھے شخص کی زبان بن گئی تھی۔ تعلیم کا آغاز شیخ سعدی کی گلستان، بوستان سے ہوتا تھا۔ بیشتر شعراء نے فارسی میں شاعری کی۔ مرزا غالب کا تو دعویٰ ہی یہ ہے کہ ان کی اصل شاعری فارسی میں ہے لیکن شہرت اردو شاعری سے ملی۔ علامہ اقبال کے کلام کا بڑا حصہ فارسی میں ہے۔ اب فارسی تو رہی نہیں اور اردو کو اس کا مقام ملا نہیں، انگریزی اس قوم کی مجبوری بن گئی ہے۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ زبان اپنے ساتھ اپنا کلچر، اپنی تہذیب بلکہ اپنا مذہب بھی لے کر آتی ہے۔ عربی چونکہ دینِ اسلام کی زبان ہے، اس لیے یہ بڑی حد تک نہ صرف اردو بلکہ مقامی زبانوں میں شامل ہے۔ شاید ہی اردو کا کوئی ایسا جملہ ملے جس میں عربی، فارسی کے الفاظ نہ ہوں۔ مثلاً ایک اخبار کی سرخی ہے ’’مشتبہ افراد کی گرفتاری معما بن گئی‘‘۔ اس میں مشتبہ، معما، افراد عربی الاصل ہیں اور گرفتاری فارسی۔ یہ ایک مثال ہے، آپ خود اخبار پڑھتے ہوئے یا گفتگو کرتے ہوئے غور کرسکتے ہیں۔

ہم نے سطور بالا میں لفظ ’’حرج‘‘ استعمال کیا ہے۔ یہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے: رکاوٹ، تنگی، سختی، نقصان، کمی، ضرر وغیرہ۔ اسی سے حارج ہے، مزاحمت کرنے والا۔ لیکن ایک اور لفظ ہائے ہوّز یعنی ہاتھی والی ہ سے ’’ہرج‘‘ ہے۔ یہ بھی عربی کا لفظ ہے اور اس میں ’ر‘ ساکن ہے یعنی ہَرْج۔ یہ مذکر ہے اور اس کا مطلب ہے: شورش، ہنگامہ، دنگا، گڑبڑ، فتنہ، نقصان، خسارہ، خلل، ڈھیل، دیر وغیرہ۔ اردو میں ہرجانہ ، ہرجہ وغیرہ مستعمل ہیں۔ عدالتی زبان میں ہرجہ، خرچہ کہا جاتا ہے۔ دونوں کے معانی قریب قریب ہیں چنانچہ ایک کی جگہ دوسرے کے استعمال میں کوئی ہرج نہیں۔

بدھ 29 جنوری کے جسارت میں یونس بارائی پر حملے کی خبر میں تین جگہ ’’رفاعی پلاٹ‘‘ چھپا ہے۔ حتی الامکان سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ رفاعی غلط ہے، یہ رفاہی ہے۔ رفاہ کا مطلب ہے: بہبود، آرام، چین، سکھ، بھلائی وغیرہ۔ عربی کا لفظ ہے اور ’’رفہ‘‘ کی جمع ہے۔ مگر اردو میں واحد ہی مستعمل ہے۔ رفاہ عام کے نام سے کراچی میں ایک بستی بھی ہے یعنی عوام یا خلقت کی بہبود کی سوسائٹی۔ لیکن اس بستی میں بھی ’’رفاع عام سوسائٹی‘‘ کے بورڈ لگے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ لغت میں ’’رفاع‘‘ کا لفظ نہیں ملا البتہ رفع ہے جو عام ہے۔ بلند کرنا، دور کرنا، معاملہ کو رفع، دفع کرنا تو آپ نے بھی سنا ہوگا۔ ’’ناجائز تجاوزات‘‘ بھی اخبارات میں عام ہیں، جب کہ تجاوزات بجائے خود ناجائز ہوتی ہیں۔

اخباروں میں ایک لفظ استعمال ہورہا ہے، وہ ہے ’’مواقعوں‘‘۔ جانے یہ مواقع کی جمع الجمع کس اصول کے تحت بنا لی گئی، صرف مواقع سے تسلی نہیں ہوتی۔ موقع کی جگہ موقعہ بھی صحیح نہیں ہے۔ ایک مضمون نگار نے ’’بلند و بانگ پہاڑی سلسلہ‘‘ لکھا ہے۔ ان دو الفاظ کے درمیان ’’واؤ‘‘ کا استعمال ویسے بھی غلط ہے، لیکن پہاڑ کا بانگ سے کیا تعلق ہے؟ بانگ تو آواز یا صدا کو کہتے ہیں، اذان کو بانگ کہا جاتا ہے۔ مرغ کی بانگ بھی سنی جاتی ہے۔ ایک بڑھیا نے گاڑی والوں سے ناراض ہوکر دھمکی دی تھی کہ میں اپنا مرغا لے کر چلی جاؤں گی، نہ اس کی بانگ سنو گے نہ نیند سے جاگو گے، پڑے سوتے رہ جاؤ گے۔ لیکن بلند و بانگ پہاڑ کا کیا مطلب ہوا؟ علامہ اقبال کا شعری مجموعہ ’’بانگ درا‘‘ اور لاہور کے استاد دامن کا مجموعہ کلام ’’بانگ دُہل‘‘ ہے۔ ممکن ہے جس پہاڑ پر یہ کتابیں رکھی ہوں یا بڑھیا کا مرغ چڑھ کر بانگ دے رہا ہو اُس کو بلند و بانگ کہا جا سکے۔

گزشتہ ماہ بھارت نے یوم جمہوریہ منایا۔ ایک مضمون میں پڑھا ’’بھارتی یوم جمہوریہ کا دن۔‘‘ ماہِ رمضان کا مہینہ، شب برأت کی رات بھی تو سنتے رہتے ہیں۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے دوست نے ’’لالچ‘‘ کے مونث ہونے کی بڑی دلچسپ دلیل دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں ’’لالچ بری بلا ہے‘‘۔ دراصل ’’بری‘‘ کا تعلق ’’بلا‘‘ سے ہے، لالچ سے نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ’’لالچ برا فعل ہے‘‘، تب؟ یہ گڑبڑ جسارت میں بڑی پابندی سے ہورہی ہے اور بار بار ٹھیک کروانے کے باوجود ’’کی اظہار تعزیت‘‘ چھپ جاتا ہے۔ فاضل سب ایڈیٹر کے ذہن میں شاید یہی ہوتا ہے کہ تعزیت تو مونث ہے لہٰذا ’’کی اظہارِ تعزیت‘‘ ہونا چاہیے۔ ہم سمجھاتے ہیں کہ اگر ’’کی‘‘ ایسی ہی ناگزیر ہے تو ’’اظہار‘‘ نکال دو۔ بری، برا، اچھی، اچھا وغیرہ کا تعلق بعد میں آنے والے لفظ سے ہے۔ اسی طرح کی، کو، کا وغیرہ کا بھی۔ لالچ بہرحال مذکر ہے خواہ بری بلا ہو یا بری حرکت۔ ہم نے کئی مضامین میں لالچ کو مونث بنتے دیکھا ہے۔

زبان کوئی بھی ہو، اگر غلطیوں سے پاک ہو تو اچھا اثر ڈالتی ہے۔ لیکن اچھی زبان کے لیے اغلاط سے گریز کے علاوہ بھی کچھ درکار ہے۔ ایک صاحب عامر لیاقت، جو نجانے کس طرح اپنے نام میں بڑے اہتمام سے ڈاکٹر کا سابقہ لگاتے ہیں، انہوں نے مضمون نگاری بھی شروع کی ہوئی ہے۔ وہ دینی اسکالر بھی کہلاتے ہیں اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ وہ صحافی بھی رہ چکے ہیں۔ 3 فروری کے اپنے مضمون ’’چہار درویش‘‘ میں مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ’’اسے ثالثی کی کوشش قرار دے کر مسئلہ پر مٹی ہی پا دوں۔‘‘ ان کے اس جملے میں خود ان کے لیے ذم کا پہلو ہے اور یہ کام مشکل بھی ہے۔ ادارتی صفحہ کے انچارج کو چاہیے تھا کہ ’’مٹی پاؤں یا مٹی ڈال دوں‘‘ کردیتے۔ لیکن بعض لکھنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ انچارج بھی اصلاح کی ہمت نہیں کرتا۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی وجود - پیر 25 جولائی 2016

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ کے حوالے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں صرف بیورو کریسی ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کے نفاذ کے خلاف مختلف وزراء بھی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیر...

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو ن...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرن...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی ...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجن...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ ا...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

پڑھتے کیوں نہیں؟ ارشاد محمود - جمعه 11 دسمبر 2015

ایک دوست کی فرمائش پر اردوڈائجسٹ خریدنے اسلام آبادکے ایک کتاب گھر جانا ہوا۔ غیر ارادی طور پرمالک سے گپ شپ شروع ہوگئی۔ کہنے لگا کہ ابھی بھی اردو ڈائجسٹ کے کافی قارئین ہیں لیکن سب معمر افراد ہیں۔ نوجوانوں میں خال خال ہی کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے حتیٰ کہ سب رنگ اور خواتین ڈائجسٹ کے ب...

پڑھتے کیوں نہیں؟

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا ک...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے ز...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

مضامین
جمہوریت کی پچ پر کھیلاجانے والا غیر جمہوری کھیل وجود جمعرات 29 فروری 2024
جمہوریت کی پچ پر کھیلاجانے والا غیر جمہوری کھیل

مریم نواز کے وعدے اور دعوے وجود جمعرات 29 فروری 2024
مریم نواز کے وعدے اور دعوے

آپریشن 'سوئفٹ ریٹارٹ' کے پانچ سال مکمل وجود جمعرات 29 فروری 2024
آپریشن 'سوئفٹ ریٹارٹ' کے پانچ سال مکمل

سیاسی کھچ۔ڑی۔۔ وجود بدھ 28 فروری 2024
سیاسی کھچ۔ڑی۔۔

جمہوریت کے خون سے لتھڑا ایوان وجود بدھ 28 فروری 2024
جمہوریت کے خون سے لتھڑا ایوان

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود منگل 06 فروری 2024
حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر