وجود

... loading ...

وجود

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران

منگل 23 جون 2026 خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران

میری بات/روہیل اکبر

اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ خاموشی کی ایسی چادر اوڑھ چکا ہے جہاں ہر شخص سب کچھ دیکھتا ہے مگر بولنے سے ڈرتا ہے۔ کہیں ظلم ہو رہا ہے، کہیں عورت غیر محفوظ ہے، کہیں غریب اپنے حق کے لیے دربدر پھر رہا ہے، کہیں نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں مایوس بیٹھا ہے اور کہیں مہنگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ رشتوں میں محبت کم ہوتی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا نے ایک ہی گھر میں رہنے والوں کے درمیان بھی فاصلے پیدا کر دیے ہیں مگر ان تمام مسائل کے باوجود ہم خاموش ہیں۔ہم ظلم کی خبر پڑھتے ہیں افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رشوت غلط ہے،ناانصافی غلط ہے، جھوٹ غلط ہے، عورت پر تشدد غلط ہے اور بچوں کے ساتھ زیادتی ایک سنگین جرم ہے مگر جب ان برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا وقت آتا ہے تو اکثر لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
شاید ہم یہ بھول چکے ہیں کہ خاموشی ہمیشہ امن کی علامت نہیں ہوتی بعض اوقات یہی خاموشی برائی کو طاقت دیتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ
جہاں لوگ حق بات کہنے سے ڈریں وہاں ظلم آہستہ آہستہ معمول بن جاتا ہے۔اسی خاموشی کے پس منظر میں ایک اور اہم سوال جنم لیتا ہے کہ
آخر اس ملک کا عام آدمی کس پر بھروسہ کرے؟ ہر الیکشن سے پہلے عوام کو نئے خواب دکھائے جاتے ہیں ترقی کے وعدے کیے جاتے ہیں،
مہنگائی ختم کرنے اور نوجوانوں کو روزگار دینے کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن اقتدار ملنے کے بعد اکثر یہ وعدے تقریروں اور نعروں تک
محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔عوام انتظار کرتی رہتی ہے کہ شاید اب حالات بدلیں گے، شاید اب زندگی آسان ہوگی مگر وقت گزرنے کے ساتھ
امیدیں مایوسی میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ایک عام آدمی کی زندگی کو دیکھیں تو اس کی صبح فکر سے شروع ہوتی ہے اور رات پریشانی پر ختم ہوتی
ہے۔ مہنگائی نے گھر کا بجٹ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ باپ اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے مگر پھر بھی اس کے
چہرے پر اطمینان نظر نہیں آتا۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر نوکریوں کی تلاش میں ہیں مگر مواقع محدود ہیں۔ ایسے میں جب وہ
سیاسی تقریریں سنتے ہیں تو ان کے دل میں امید سے زیادہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل کب نکلے گا؟
ان کے خواب کب پورے ہوں گے؟ اور وہ دن کب آئے گا جب سیاست صرف وعدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عملی تبدیلی بھی نظر آئے
گی؟حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک عورت کی عزت پامال ہوتی ہے تو یہ صرف اس کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔ اگر ایک
غریب بھوکا سوتا ہے تو یہ صرف اس کی قسمت نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر نوجوان مایوسی کا شکار ہیں تو اس کا اثر صرف ان
کی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ملک کے مستقبل پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی مسائل اور سیاسی ناکامیاں ایک دوسرے
سے جڑی ہوئی ہیں۔ جب انصاف کمزور ہو، روزگار کے مواقع محدود ہوں اور عوام کا اعتماد متزلزل ہو جائے تو معاشرہ خاموشی، بے بسی اور
مایوسی کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔عوام اب صرف خوبصورت الفاظ سننا نہیں چاہتی بلکہ ایسے رہنما چاہتی ہے جو ان کے درمیان رہیں،
ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مخلصانہ کوشش کریں۔
قومیں صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ سچائی، دیانت، محنت اور عملی اقدامات سے آگے بڑھتی ہیں۔ عوام کا اعتماد ایک دن میں
حاصل نہیں ہوتا بلکہ اچھے کردار، سچے وعدوں اور مسلسل خدمت سے جیتا جاتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کو ذاتی مفادات سے
نکال کر عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے اور معاشرے کو بے حسی اور خاموشی کے اندھیروں سے باہر نکالا جائے۔ اختلافِ رائے جمہوریت
کا حسن ہے مگر ایسا اختلاف جو ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن جائے، وہ قوموں کو کمزور کر دیتا ہے۔ اگر سیاست دان اپنی توانائیاں ایک
دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے عوام کی بھلائی پر صرف کریں اور اگر معاشرے کے افراد ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف آواز بلند کرنے
کا حوصلہ پیدا کریں تو یقیناً بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک کے لوگ بہت صبر کرنے والے ہیں۔ وہ آج بھی امید رکھتے
ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب وعدے صرف الفاظ نہیں رہیں گے بلکہ حقیقت بنیں گے، جب عام آدمی خود کو تنہا محسوس نہیں کرے گا،
جب نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس نہیں ہوں گے اور جب عوام کو یہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ آخر وہ کس پر بھروسہ کریں۔ لیکن
اس خواب کی تعبیر اسی وقت ممکن ہے جب ہم خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کریں۔کیونکہ ایک مضبوط ملک کی
بنیاد عوام کے اعتماد پر ہوتی ہے اور جب یہ اعتماد قائم ہو جائے تو ترقی کا راستہ خود بخود کھل جاتا ہے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ خاموش معاشرے،
ٹوٹے ہوئے اعتماد اور مایوس نسلیں کسی قوم کو منزل تک نہیں پہنچا سکتیں۔
آج ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ جب معاشرہ بدلنے کے لیے آواز بلند کرنے کا وقت تھا تو ہم کہاں کھڑے تھے؟ اس لیے
کہ بعض اوقات خاموشی صرف خاموشی نہیں رہتی بلکہ ایک ایسا جرم بن جاتی ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ وجود منگل 23 جون 2026
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران وجود منگل 23 جون 2026
خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران

سب سے مہنگا آدمی کون؟ وجود منگل 23 جون 2026
سب سے مہنگا آدمی کون؟

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو وجود منگل 23 جون 2026
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو

موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر