وجود

... loading ...

وجود

نقص ِامن یا نقضِ امن

هفته 31 اکتوبر 2015 نقص ِامن یا نقضِ امن

urdu words

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا حلف بھی اردو میں لیا ہے۔ سرکاری سطح پر قومی زبان اردو کی جب اہمیت مسلّم ہوجائے گی تو اردو بولنے، لکھنے میں بھی بہتری آئے گی۔ چین سے تعلقات کے پیش نظر چینی زبان سکھانے کا سرکاری اہتمام کیا جارہا ہے تو کیا عجب کہ صحیح اردو سکھانے پر بھی توجہ دی جائے اور ٹی وی چینل والوں کا تلفظ بھی درست ہوجائے جو ہمارے بچوں کا تلفظ خراب کررہے ہیں۔ مہربخاری صِفَتْ کو صِفْت بروزن گفٹ (Gift) کہیں گی تو سننے والے اسے ہی سند سمجھیں گے۔ مہر سے یاد آیا کہ کچھ لوگ سردمِہری کو بھی سرد مُہری کہتے ہیں۔

اردو کو فروغ دینے کے لیے پہلے اپنے اداروں کے نام اردو میں لکھے جائیں۔ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اچھا بھلا نام ’ادارۂ ترقیات کراچی‘ ہے مگر کتنے لوگ، اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ نام لیتے ہیں! بلکہ اس کا مخفف کے ڈی اے ہی رائج ہے۔ اب یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ اردو میں نام رکھیں تو مخفف کیا ہو، کیا ’ا۔ ت۔ ک۔‘

بلدیہ کراچی بھی آسانی سے کے ایم سی ہوگیا۔ غور کریں تو ہمارے تمام ادارے اور محکمے انگریزی زدہ اور غیر ملکی ہیں۔ مثلاً ایف آئی اے، سی آئی ڈی، واٹراینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، واٹر اینڈ سیوریج، کراچی اسٹاک ایکسچینج وغیرہ۔ بیشتر سیاسی جماعتوں کے نام میں انگریزی شامل ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان نیشنل پارٹی وغیرہ وغیرہ۔

کسی ایک دن کے اردو اخبارات اٹھاکر دیکھ لیں، سرخیوں اور متن میں انگریزی الفاظ کی بھرمار ہوگی۔ مثال کے طور پر ڈکٹیشن، نیشنل ایکشن پلان، مارکیٹ کریش، یوٹرن، ٹارگٹڈ آپریشن، بریک تھرو، پی۔ اے۔ سی، کرپشن، پارکنگ فیس، ایس بی سی اے (سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی)، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، پنشنرز اسکینڈل، فیکٹ ایگزیبیشنز، ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم، سول ایوی ایشن اتھارٹی (محکمہ شہری ہوا بازی)، نوٹی فکیشن وغیرہ۔ یہ صرف ایک اخبار (25 اگست) سے ’’مشتے از خروارے‘‘ ہے۔ دوسرے اخبارت میں بھی یہی صورت حال ہے۔ ان میں کئی الفاظ ایسے ہیں جن کا اردو میں عام فہم متبادل موجود ہے۔ اور جن کا مناسب اور عام فہم متبادل موجود نہیں ان کا ترجمہ متواتر شائع ہو تو عام فہم ہوجائے گا، جیسے انگریزی کے مذکورہ الفاظ۔ ایک کم تعلیم یافتہ شخص تو ان بھاری بھرکم انگریزی الفاظ سے پہلے ہی مانوس نہیں ہے۔ معاملات ’’الارمنگ‘‘ ہیں۔ اس سے مشکل ہے ’’نیشنل انرجی ایفی شئنسی۔ خدا جانے یہ کیا ہے!

چلیے، اس کام میں تو وقت لگے گا لیکن اخبارات میں جو نثر لکھی جارہی ہے وہ تو ذمہ داران کی ذرا سی توجہ سے درست ہوسکتی ہے۔ ایک کثیرالاشاعت اخبار میں آدھے صفحہ پر میجر جنرل ضیاء الدین مرحوم کے بارے میں تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے جو ریٹائرڈ کرنل اعظم قادری نے لکھا ہے۔ اس میں ’’کھوج‘‘ کو مونث لکھا ہے، جب کہ خواہ کتنی ہی پرانی تہذیبوں کا کھوج لگایا جائے، یہ مذکر ہی رہے گا۔ حیرت ہے کہ اسی مضمون میں کرنل صاحب نے ’’کیڈٹ کور‘‘ کو کورپس لکھا ہے، جب کہ CORPS کا تلفظ ’کور‘ ہے۔ لغت میں اس تلفظ کی وضاحت ’’KOHR‘‘ سے کی گئی ہے۔ یہ ایسا تلفظ ہے جس سے ہر فوجی واقف ہے۔ اور جہاں تک کورپس(CORPSE) کا تعلق ہے تو اس کا مطلب لاش ہے۔ ذمہ داران کو تصحیح کردینی چاہیے تھی۔ لیکن منگل 25 اگست کے اسی شمارے میں کالم نگار علی معین نوازش جنرل ضیاء الحق کو 14اگست 1989ء کی تقریب میں موجود دکھا رہے ہیں۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ وہ اگست 1988ء میں شہید ہوگئے تھے۔ کسی کا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ شہید مرتے نہیں، زندہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ممکن ہے کہ شہید ضیاء الحق اگلے سال کی تقریب دیکھنے آگئے ہوں اور صرف علی معین کو نظر آئے ہوں۔

لاہور سے ہمارے ’’نادیدہ‘‘ کرم فرما جناب افتخار مجاز نے ایک اور کالم نگار جناب صالح ظافر کی ڈائری کی طرف توجہ دلائی ہے، جنہوں نے میاں نوازشریف کے کراچی میں خطاب کے بارے میں لکھا کہ ’’ان کی حس ظرافت زیادہ ہی پھڑک اٹھا‘‘۔ ہمیں تو اس میں اعتراض کا کوئی پہلو نظر نہیں آیا سوائے اس کے کہ ’’حس‘‘ مذکر ہوگئی۔ اب یہ وزیراعظم کی حس تھی، اسے تو مذکر ہی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس کو مذکر بنانے کے لیے ’’ان کا‘‘ لکھنا زیادہ بہتر ہوتا۔ اور اگر حسِ ظرافت کے پھڑکنے پر اعتراض ہے تو بھائی اگر ’’رگِ ظرافت‘‘ پھڑک سکتی ہے تو حس بھی پھڑک سکتی ہے۔ کسی کا مصرع ہے ’’پسلی پھڑک اٹھی ہے نگہِ انتخاب کی‘‘۔ یعنی نگاہ کی پسلی بھی ہے اور پھڑکتی بھی ہے۔میرا نیس تو یہ بھی کہہ گئے کہ ’’پڑ جائیں لاکھ آبلے پائے نگاہ میں‘‘۔ گویا نگاہ کی صرف پسلیاں ہی نہیں، پیر بھی ہوتے ہیں۔ پھر ہاتھ بھی ہوتے ہوں گے۔ چنانچہ حس اگر ’بے حس‘ نہ ہو تو پھڑک بھی سکتی ہے اور بھڑک بھی۔ یہ چھوٹی موٹی کوتاہیاں یا سہوِ قلم ہے جسے مدیران خود ٹھیک کرسکتے ہیں بشرطیکہ انہیں صحیح، غلط کا علم ہو۔ ایک کالم نگار نے جسارت میں لکھا ہے ’’احساس محرومی بڑھتی ہے‘‘۔ انہوں نے مذکر، مونث کا تعین محرومی سے کیا ہے۔ جسارت ہی میں ایک فاضل سب ایڈیٹر اب بھی عوام کو مونث واحد لکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے وہ بھی ٹی وی پروگرام زیادہ دیکھتے ہوں۔

ایک لفظ ہے نقض امن۔ اس کے آخر میں ’ص‘ نہیں ’ض‘ ہے لیکن اس کو عموماً نقص امن لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ایک ٹی وی اینکر نے تو ’ن‘ پر پیش بھی لگا دیا۔

ایک لفظ ہے نقض امن۔ اس کے آخر میں ’ص‘ نہیں ’ض‘ ہے لیکن اس کو عموماً نقص امن لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ایک ٹی وی اینکر نے تو ’ن‘ پر پیش بھی لگا دیا۔ غالباً انہوں نے اس کا تعلق نقصان سے جوڑا۔ اب کہیں نقض امن لکھیں تو پروف ریڈر ٹھیک کردیتے ہیں، اور کسی کے سامنے بولو تو پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ یہ بات اپنی جگہ کہ نقص کہنا زبان پر آسان ہے۔ لیکن یہ لفظ ہے نقض ہی۔ اس سے اور بھی مشتقات ہیں مثلاً ’’متناقض، تناقض، نقیض وغیرہ۔ متناقض کا مطلب ہے: مخالف، برعکس، الٹا، خلاف۔ اور نقض کا مطلب ہے: جھگڑا، فساد، امن شکنی۔ نقض اور امن دونوں الفاظ عربی کے ہیں، مگر یہ ترکیب فارسی ہے۔ نقض عہد کا مطلب ہوگا: وعدہ خلافی، عہد شکنی۔ اور نقص (ن پر زبر) کا مطلب ہے: کم کرنا، کم ہونا، کجی، کوتاہی، کسر، عیب، برائی، کھوٹ وغیرہ۔

ماہنامہ ’قومی زبان‘ کے شمارہ اگست میں ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا مضمون ’’ذرائع ابلاغ اور املائی مسائل‘‘شائع ہوا ہے۔ یہ پورا مضمون ایسا ہے جسے پورے کا پورا اور بار بار شائع کیا جائے۔ ہم اس کا ایک اقتباس پیش کیے دیتے ہیں:

’’ٹی وی کے بیشتر چینل لفظ ’’عوام‘‘ کو مذکر اور جمع کی بجائے (کے بجائے) مونث اور واحد بولتے ہیں یعنی ’’عوام سوچ رہی ہے‘‘۔ ان کی دیکھا دیکھی اب اخبارات بھی اسی طرح لکھنے لگے ہیں …… املا کی بھی عجیب غلطیاں دکھائی دینے لگی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اردو کے ایک بہت بڑے اخبار میں خانہ پُری کو خانہ پوری لکھا ہوا دیکھا۔ یہی اخبار دکھانا کو دیکھانا لکھنے لگا ہے۔ ایم فل کا ایک مقالہ راقم کے پاس تنقیح کے لیے بھیجا گیا۔ اس مقالہ نگار نے بٹھانا کا املا بیٹھانا اور دکھانا کا املا دیکھانا کیا تھا۔ اب تو ایک بڑا اخبار بالکل کوبلکل لکھنے لگا ہے۔‘‘

امید ہے کہ مذکورہ طالب علم نے ایم فل کرلیا ہوگا اور اب پی ایچ ڈی کی تیاری کررہے ہوں گے۔ ایک جماعت نے یوم اردو منانے کا اعلان کیا ہے اور اس کی طرف سے جاری خبر میں لکھا ہے کہ ’’اسمبلی حال سے ریلی نکالی جائے گی‘‘۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی وجود - پیر 25 جولائی 2016

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ کے حوالے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں صرف بیورو کریسی ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کے نفاذ کے خلاف مختلف وزراء بھی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیر...

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو ن...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرن...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی ...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجن...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ ا...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

پڑھتے کیوں نہیں؟ ارشاد محمود - جمعه 11 دسمبر 2015

ایک دوست کی فرمائش پر اردوڈائجسٹ خریدنے اسلام آبادکے ایک کتاب گھر جانا ہوا۔ غیر ارادی طور پرمالک سے گپ شپ شروع ہوگئی۔ کہنے لگا کہ ابھی بھی اردو ڈائجسٹ کے کافی قارئین ہیں لیکن سب معمر افراد ہیں۔ نوجوانوں میں خال خال ہی کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے حتیٰ کہ سب رنگ اور خواتین ڈائجسٹ کے ب...

پڑھتے کیوں نہیں؟

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا ک...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے ز...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

مضامین
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات وجود بدھ 21 فروری 2024
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات

تشکیل سے پہلے نئی حکومت کا خاتمہ وجود بدھ 21 فروری 2024
تشکیل سے پہلے نئی حکومت کا خاتمہ

سمجھوتہ ایکسپریس : متاثرین 17 سال سے انصاف کے متلاشی وجود بدھ 21 فروری 2024
سمجھوتہ ایکسپریس : متاثرین 17 سال سے انصاف کے متلاشی

یہ کمپنی نہیں چلے گی!! وجود منگل 20 فروری 2024
یہ کمپنی نہیں چلے گی!!

امریکی جنگی مافیااورعالمی امن وجود منگل 20 فروری 2024
امریکی جنگی مافیااورعالمی امن

اشتہار

تجزیے
پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود پیر 19 فروری 2024
پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود جمعرات 11 جنوری 2024
گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا وجود جمعرات 11 جنوری 2024
سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

اشتہار

دین و تاریخ
دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود منگل 06 فروری 2024
حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر