وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اینچا تانی کی کھینچا تانی

پیر 12 اکتوبر 2015 اینچا تانی کی کھینچا تانی

urdu words

عزیزم آفتاب اقبال معروف شاعر ظفر اقبال کے ’’اقبال زادے‘‘ ہیں۔ اردو سے محبت اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر پروگرام کرتے ہیں۔ پروگرام کی نوعیت تو کچھ اور ہے تاہم درمیان میں آفتاب اقبال اردو کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات بھی کر جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بتایا کہ ’’کھینچا تانی‘‘ اصل میں اینچا تانی ہے۔ کپڑا بُنتے ہوئے دائیں سے بائیں اور اوپر سے نیچے دو دھاگے چلتے ہیں جو اینچا تانی کہلاتے ہیں۔ یقینا یہ الفاظ لغت میں موجود ہیں۔ اسی کو تانا بانا بھی کہا جاتا ہے۔

لغت کے مطابق ’’اینچا تانی‘‘ یا اینچا کھینچی کا مطلب کشاکش، کش مکش، بکھیڑا، کھینچا کھینچ ہے۔ اسی سے ایک لفظ ’’اینچن‘‘ ہے یعنی کشا کش اور کھینچا تانی۔ ایک مثل ہے ’’اینچن چھوڑ گھسیٹن میں پڑے‘‘۔ یعنی ایک آفت سے دوسری بڑھ کر ثابت ہوئی، الٹی بلا گلے پڑی۔ ’’اینچنا‘‘ کا ایک مطلب ضامن ہونا بھی ہے۔

لیکن کھینچا تانی یا کھینچ تان ایک الگ ترکیب اور مستقل لفظ ہے۔ کھینچ (’ک‘ پر زبر) اور کھینچ (’ک‘ پر زیر)کا مطلب کشش، کھچاؤ، کمی، قلت، قحط، کال وغیرہ۔ کسی کی آمدنی کم ہو تو کہا جاتا ہے: ہاتھ کھینچ کر خرچ ہورہا ہے یا کھینچ تان کرکے اخراجات پورے کیے جارہے ہیں۔ اب ذرا یہاں لفظ ’’اینچا تانی‘‘ استعمال کرکے دیکھیں۔ کھینچ بلانا کا مطلب ہے زبردستی بلانا۔ تھانیدار صاحب کسی کو اینچ بلائیں تو وہ ہرگز نہیں آئے گا اِلاّ یہ کہ پہلے اسے مطلب سمجھایا جائے۔ کھینچا تانی کا مطلب ہے: کشاکش، لڑائی جھگڑا۔ کھینچنا کا مطلب ہے: گھسیٹنا، تاننا، جذب کرنا، چوسنا، غرور کرنا، اکڑنا، جلد جلد لکھنا، تصویر بنانا، عکس اتارنا، میان سے تلوار نکالنا (کھینچ لی تلوار جب حیدرؓ کرار نے)، باہر لانا، لٹکانا، چڑھانا، روکنا، سمیٹنا، لمبا یا ٹھنڈا سانس لینا، حلقہ بنانا، گھیرنا، احاطہ کرنا، نقش کرنا، اوپر لانا، اوپر چڑھانا، جکڑنا، باندھا، برداشت کرنا، گرفتار کرانا، مہنگا کرنا وغیرہ متعدد معانی ہیں۔ البتہ ایک معنی ’’اینچنا‘‘ بھی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اصل لفظ کھینچا تانی نہیں، اینچا تانی ہے۔ ورنہ تو کھینچ تان سے متعلق تمام الفاظ بے کار جائیں گے۔ عملاً صورت حال یہ ہے کہ اینچا تانی اب صرف لغت میں رہ گیا ہے۔ بھلا کوئی یہ کہے گا کہ اس نے ٹھنڈا سانس اینچا، یا مضمون اینچ کر رکھ دیا! بہرحال آفتاب اقبال نے ایک متروک لفظ کو زندہ کرنے کی کوشش توکی ہے۔ رشید حسن خاں نے بھی اینچن کا محاورہ استعمال کیا ہے ’’اینچن چھوڑ گھسیٹن میں نہ پڑ جاؤں‘‘ یعنی اصل بات کے بجائے (بعض لوگ ’کی بجائے‘ بھی لکھتے ہیں جو صحیح نہیں ہے) کسی دوسری بات پر برا نہ سننا پڑے۔ ’’ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی: کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی‘‘ (مرزا فرحت اﷲ بیگ) سے ایک جملہ نقل کیا ہے: ’’بہت کچھ لکھ لیا تھا، وہ پھاڑ ڈالا کہ کہیں اینچن چھوڑ گھسیٹن میں نہ پڑ جاؤں۔‘‘

’’مقدار اور تعداد‘‘ کا استعمال اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں عموماً غلط ہورہا ہے۔ مثلا ’’بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد‘‘ اور ’’بڑی تعداد میں منشیات پکڑی گئیں‘‘۔ مقدار اُس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو تولی یا ناپی جاسکے۔ اب یہ تو نہیں کہا جائے گا کہ پائپ لائن پھٹنے سے بھاری تعداد میں پانی ضائع ہوگیا، یا دودھ میں پانی کی تعداد بڑھ گئی۔ اسلحہ کے لیے مقدار کا لفظ استعمال کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اسے تولا گیا ہے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہوتا ہو۔ یہ تو معلوم ہی ہوگا کہ اسلحہ جمع ہے لیکن بطور واحد استعمال ہوتا ہے۔ البتہ اسلحہ خانہ لکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ قباحت یہ ہے کہ اگر ’’سِلاح خانہ‘‘ لکھا جائے تو لوگ پوچھتے ہیں یہ کیا ہے؟

’’قلع قمع‘‘ کو اکثر قلعہ قمع لکھا دیکھا۔ جب قلع، قلعہ بن جائے تو قمع کو بھی قمحہ یا قمعہ کردینا چاہیے۔ ’’قلع‘‘ اور ’’قلعہ‘‘ دونوں الگ الگ ہیں۔ قلع عربی کا لفظ ہے اور مطلب ہے ’’ڈھانا‘‘۔ اسی طرح قمع بھی عربی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے ’’توڑنا، زخمی کرنا‘‘۔ دونوں کے معانی قریب قریب ہیں یعنی ڈھانا، توڑنا۔ کسی کا قلع قمع کیا جائے تو صرف ڈھانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اسے اچھی طرح توڑنا بھی پڑے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ضرب عضب میں دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا گیا۔ لیکن کیا دہشت گردوں کے لیے یہ اصطلاح مناسب ہے؟ انہوں نے اپنے جو قلعے بنا رکھے ہیں انہیں تو ڈھایا اور توڑا جا سکتا ہے، دہشت گردوں کو ڈھانا کسی کُشتی ہی میں ممکن ہے۔ برسوں سے یہ سن رہے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی۔ یہاں شاید قمع کی ترکیب استعمال ہوجائے، مگر ہوتی نہیں۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ برسوں سے مسلسل کمر توڑنے کے باوجود یہ ٹوٹی کمر والے ستم ڈھا رہے ہیں۔

’’گئی اور گئیں‘‘ کے استعمال میں بھی بے احتیاطی ہوجاتی ہے۔ منگل کو جسارت کی اشاعت میں ایک ذیلی سرخی ہے ’’قیمتی گاڑیاں خریدی گئیں تھیں‘‘۔ اصول یہ ہے کہ اگر جملہ گئیں، آئیں، رہیں وغیرہ پر ختم ہورہا ہے تو صحیح ہے، لیکن اگر اس کے آگے تھیں، ہیں وغیرہ آرہے ہوں تو سابقہ واحد ہوجائے گا یعنی ’’گئی تھیں، آئی تھیں، رہی تھیں وغیرہ۔ آج کل عموماً اس کا لحاظ نہیں رکھا جارہا۔ ایک شاعر کا مصرع دیکھیے:

گئی رتوں کی بات ہے، تمہیں تو یاد ہی نہیں

یہاں ’’گئیں رتوں‘‘ نہیں کہا گیا۔ ایک جملہ ہے: ’’کل وہ میرے گھر آئیں تھیں‘‘۔ یہاں بھی ’’آئی تھیں‘‘ ہونا چاہیے خواہ آنے والی ایک ہو یا کئی……

بھلا کوئی یہ کہے گا کہ اس نے ٹھنڈا سانس اینچا، یا مضمون اینچ کر رکھ دیا! بہرحال آفتاب اقبال نے ایک متروک لفظ کو زندہ کرنے کی کوشش توکی ہے۔

تاریخِ تصوف پر ایک کتاب دیکھ رہا تھا۔ اس میں بڑے بڑے کا جملہ ہے: ’’فرقہ سہیلیہ مریدوں کی تربیت و پرورشِ روحانی میں ’’یدِبیضا‘‘ رکھتا ہے‘‘۔ یہاں یدِطولیٰ ہونا چاہیے۔ یدِبیضا تو حضرت موسیٰؑ کو بطور کرامت عطا کیا گیا تھا۔ بیضا سفید کو کہتے ہیں اور حضرت موسیٰؑ کی ہتھیلی چاندی کی طرح چمکتی تھی۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم ’’ایام بیض‘‘ کے روزے بڑے اہتمام سے رکھتے تھے۔ یہ قمری مہینے کی 14,13 اور 15 کی تاریخیں ہیں جن میں چاند خوب چمکتا ہے اور راتیں روشن ہوتی ہیں۔ انڈہ سفید ہوتا ہے اسی لیے اسے بھی بیضہ کہتے ہیں۔ عربی میں رنگ بھی مذکر، مونث ہوتے ہیں۔ آخر میں الف آئے تو مونث…… جیسے سودا، صفرا، زرقا، حمرا، بیضا وغیرہ۔ مذکر اسود، اصغر، ارزق، احمر وغیرہ۔

ایک غلطی جو ہم سے بھی صادر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ’’دوران‘‘ کے بعد ’’میں‘‘ آنا چاہیے۔ بعض لوگ اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ ’’اس اثنا میں‘‘ لکھنے سے تعرض نہیں کرتے جو فارسی کے ’’دریں اثنا‘‘ کا ترجمہ ہے۔ بہت کم لوگوں کو ’’دوران میں‘‘ لکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک دلچسپ جملہ دیکھا ’’کام کرنے کا طریقہ کار‘‘۔ ارے بھائی ’کام‘ اور ’کار‘ ایک ہی چیز تو ہے۔ ’کار‘ فارسی میں کام کو کہتے ہیں۔ ’’ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند‘‘ یا اقبال کا یہ مصرع ’’کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر‘‘۔


متعلقہ خبریں


فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔ ’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نا...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے ...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ج...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔ ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم ع...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

لالچ مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - جمعرات 05 نومبر 2015

آئیے، آج ایک بچے کے خط سے آغاز کرتے ہیں جو غالباً بچوں کے رسالے ’ساتھی‘ کا قاری ہے۔ برخوردار نے لکھا ہے کہ ’’انکل‘ آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ ’’لالچ‘‘ مونث نہیں مذکر ہے، لیکن سنڈے میگزین (6 تا 12 ستمبر) میں ایک بڑے قلمکار نے صفحہ 6 پر اپنے مضمون میں کم از کم چھ بار لالچ کو مونث لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر دوسرے مضمون نگار نے بھی لالچ کو مونث ہی ثابت کیا ہے (بہشت کی لالچ)۔ اب آپ ہی بتائیے، ہم کس کی بات مانیں؟ ہماری تو اپنے دوستوں سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ لالچ مذکر ہے، مونث نہیں۔ ...

لالچ مذکر یا مونث؟

نقص ِامن یا نقضِ امن اطہر علی ہاشمی - هفته 31 اکتوبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا حلف بھی اردو میں لیا ہے۔ سرکاری سطح پر قومی زبان اردو کی جب اہمیت مسلّم ہوجائے گی تو اردو بولنے، لکھنے میں بھی بہتری آئے گی۔ چین سے تعلقات کے پیش نظر چینی زبان سکھانے کا سرکاری اہتمام کیا جارہا ہے تو...

نقص ِامن یا نقضِ امن

امرت سر اطہر علی ہاشمی - جمعرات 15 اکتوبر 2015

محترم عمران خان نیا پاکستان بنانے یا اسی کو نیا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا محاورہ بھی عنایت کردیا ہے۔10 اگست کو ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ قصور کے حوالے سے انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا ’’میرا سر شرم سے ڈوب گیا‘‘۔ انہوں نے دو محاوروں کو یکجا کردیا۔ دیکھا جائے تو کوئی شخص اُس وقت تک پوری طرح نہیں ڈوبتا جب تک اس کا سر نہ ڈوبے۔ چُلّو بھر پانی میں ڈوبنا محاورہ تو ہے لیکن عملاً ممکن نہیں۔ ممکن ہے خان صاحب کو یہ کہنا اچھا نہ لگا ہو کہ ’’سر ...

امرت سر

بیرون ممالک اطہر علی ہاشمی - بدھ 16 ستمبر 2015

چلیے، آغاز اپنی غلطی سے کرتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ آئندہ بھی کریں گے۔ پچھلے شمارے میں سرزد ہونے والے سہو کی نشاندہی روات سے ایک ذہین شخص ذہین احمد نے کی ہے۔ روات اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، ممکن ہے اب بڑا شہر ہوگیا ہو، اسلام آباد کی قربت کا فائدہ ضرور ہوا ہوگا۔ پچھلے شمارے میں ہم نے ’’بانگ دہل‘‘ استاد دامن کے دامن میں ڈال دی تھی۔ یہ معرکتہ الآرا مجموعہ استاد امام دین گجراتی کا ہے جن کا ایک شعر یہ ہے: تیری اماں نے پکائے مٹر مام دینا تو کوٹھے پہ چڑھ ...

بیرون ممالک

رفاعی یا رفاہی اطہر علی ہاشمی - اتوار 06 ستمبر 2015

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب ارد...

رفاعی یا رفاہی