وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
جب بھی مسلمان اللہ اوررسول ﷺ کے نام پرمتحدہوئے کامیابی حاصل کی ‘پروفیسر احمدرفیق وجود - بدھ 14 مارچ 2018

معروف سیاست دان اور سابق صوبائی وزیر ایم ، اے رؤف صدیقی اور عبدالحسیب کی جانب سے بین الاقوامی شہرت یافتہ فلاسفر اور مفکر اسلام پروفیسر احمد رفیق اختر کے اعزازمیں تقریب کااہتمام ‘پروفیسراحمد رفیق نے خصوصی لیکچر دیا جس کا عنوان تھا ’’ قومی کردار اور روحانیت ‘‘ یہ لیکچر تاز زو لوجیکل گارڈن فیڈرل بی ایریا میں دیا گیا جہاں کثیر تعداد میں خواتین وحضرات موجود تھے انتظامیہ میں ظہیر خان ، ڈاکٹر محمد علی خالد ، شائق احمد کے نام بھی شامل تھے ۔ جبکہ مہمانوں میں سینیٹر فروغ نسیم خالد مقب...

جب بھی مسلمان اللہ اوررسول ﷺ کے نام پرمتحدہوئے کامیابی حاصل کی ‘پروفیسر احمدرفیق

پرانی دہلی کی زبانیں اور لہجے وجود - اتوار 10 ستمبر 2017

پرانی دہلی کی پیچیدہ گلیوں کے نام قدیم دستکاریوں اور تجارت کے اعتبار سے رکھے گئے ہیں ۔ جیسے سوئی والاں یعنی درزیوں کی گلی، پھاٹک تیلیاں یعنی تیل نکالنے والوں کی گلی، کناری بازار یعنی کنارا یا کڑھائی بازار، گلی جوتے والی یعنی موچیوں کی گلی، چوڑی والاں یعنی چوڑی بنانے والوں کے گھر، اور قصاب پورہ یعنی وہ جگہ جہاں قصائی اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔ کاریگر، تاجر اور محنت کش یہاں رہے، کام کیا اور کمایا۔ ایک وقت تھا کہ جب یہ گلیاں اردو کی ایک بڑی ہی مزیدار اور محاوراتی بولی سے گونج رہی ...

پرانی دہلی کی زبانیں اور لہجے

مستقبل کی زبان کون سی ہوگی؟ وجود - هفته 26 ستمبر 2015

لسانی اعتبار سے امریکا کو دنیا  پر ایک برتری حاصل ہے، ملک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں یعنی انگریزی اور ہسپانوی، دنیا بھر میں بھی سب سے زیادہ بولی جاتی ہیں۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی طلباء کو نئی زبانیں سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے؟ ماڈرن لینگویج ایسوسی ایشن کی تحقیق کے مطابق انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں کی تعلیم حاصل کرنے والے امریکی طلباء کی تعداد میں ویسے ہی 4 سالوں میں ایک لاکھ کی کمی آئی ہے۔ وجہ سادہ سی ہے، فرانسیسی سیکھنے سے زیادہ بہتر اقتصادیات کی تعلیم کو...

مستقبل کی زبان کون سی ہوگی؟

ڈاکٹر عمران فاروق کی شاعری وجود - بدھ 16 ستمبر 2015

ڈاکٹر عمران فاروق کی زندگی میں اکثر اُن کا کلام بھی منظر عام پر آتا رہتا تھا۔ اگرچہ اُن کی شاعری پر نقاد سوال اُٹھاتے تھے۔ اور ایک طبقے میں یہ بات بھی مشہور تھی کہ ایم کیوایم کے مختلف رہنماؤں کے نام سے منظرعام پر آنے والی شاعری کچھ شعرائے کرام کے مرہونِ منت ہے، مگر ان تمام اعتراضات کے باوجود ڈاکٹر عمران فاروق کی شخصیت کا یہ پہلو بھی خاصے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ رکھتا تھا۔ ذیل میں اُن کی شاعری کے چند نمونے پیشِ خدمت ہے۔ کچھ نہیں بدلا کسی کے جانے یا آنے کے بعد ایک چہ...

ڈاکٹر عمران فاروق کی شاعری

اردو ہے میرا نام اقبال اشعر - بدھ 09 ستمبر 2015

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی میں میر کی ہم راز ہوں غالب کی سہیلی دکن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا سودا کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا ہے میر کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا میں داغ کے آنگن میں کِھلی بن کے چنبیلی اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی میں میر کی ہم راز ہوں غالب کی سہیلی غالب نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا حالی نے مروت کا سبق یاد دلایا اقبال نے آئینہ حق مجھ کو دکھایا مومن نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی میں میر کی ہم...

اردو ہے میرا نام

شمس الرحمٰن فاروقی کا اعتراض اطہر علی ہاشمی - بدھ 09 ستمبر 2015

آج کل مذاکرات کا موسم ہے، چنانچہ ’’فریقین‘‘ کا لفظ بار بار پڑھنے اور سننے میں آرہا ہے۔ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ’’فریقین‘‘ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ مثلاً یہ پڑھنے اور ٹی وی پر سننے میں آرہا ہے ’’تینوں فریقین‘‘، ’’چاروں فریقین‘‘ یا پھر ’’دونوں فریقین‘‘۔ فریقین کہتے ہی دو فریقوں کو ہیں اور یہ فریق کی جمع ہے، لیکن ایسی جمع نہیں کہ فریقین تین، چار ہوجائیں۔ اگر دو سے زائد ہوں تو بہتر ہے کہ ’’تینوں فریق‘‘ یا ’’چاروں فریق‘‘ کہا اور لکھا جائے...

شمس الرحمٰن فاروقی کا اعتراض

مورچہ محمد طاہر - اتوار 06 ستمبر 2015

زبان کسی بھی تہذیب کا پہلا مورچہ ہے۔اردو محض زبان نہیں۔ اسی کے دم سے برصغیر میں مسلمانوں کے نظریاتی اور ثقافتی وجود کی ترتیب وتہذیب ہوئی۔یہ ہماری قومی خودی کا ایک قلعہ ہی نہیں ہماری اجتماعیت کو باندھے رکھنے کی ایک رسّی بھی ہے۔ تحریک ِ پاکستان میں اردو زبان کے مسئلے کو ایک بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ’’اردو ہندی تنازع‘‘ نے برصغیر کے مسلمانوں میں سب سے پہلے شکوک پیدا کئے تھے۔ یہ بات کسی اور نے نہیں تقسیم کے سب سے بڑے مخالف گاندھی نے کہی تھی کہ ’’یہ زبان ...

مورچہ

رفاعی یا رفاہی اطہر علی ہاشمی - اتوار 06 ستمبر 2015

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب ارد...

رفاعی یا رفاہی

جامعہ تلاشی اطہر علی ہاشمی - هفته 05 ستمبر 2015

گزشتہ بدھ کو لاڑکانہ میں ایک اور صحافی قتل ہو گیا۔ ٹی وی چینل اب تک کے نمائندے نے اس کی خبر دیتے ہوئے مرحوم کو صحافیوں کے ’’ہر۔اول‘‘ دستے میں شمار کیا۔ ٹی وی چینل میں بیٹھے ہوئے افراد نے بھی تصحیح نہیں کی کیونکہ یہ لفظ بار بار سننے میں آیا۔ لاڑکانہ کا نمائندہ ہی نہیں ہم نے صحافت سے تعلق رکھنے والے اپنے دیگر ساتھیوں سے بھی ’’ہر۔ اوّل‘‘ سنا ہے۔ چلیے اول تک تو ٹھیک ہے لیکن کیا ان لوگوں نے کبھی یہ بھی غور کیا کہ یہ ’’ہر‘‘ کیا ہے؟ کیا یہ انگریزی کا HER ہے یا کچھ اور۔ ہم اپنے ساتھ...

جامعہ تلاشی

سرکاری سوال و جواب اور عدلیہ کے فیصلے اردو میں ہوں: منصفِ اعلیٰ عدالت عظمیٰ جواد ایس خواجہ وجود - منگل 01 ستمبر 2015

منصفِ اعلیٰ عدالت عظمیٰ جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ عدلیہ کے تمام فیصلے اور سرکاری سوال وجواب قومی زبان اردو میں ہوں ۔ وزیراعظم سمیت تمام منصفین قومی زبان میں حلف اُٹھائیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ ملک میں عدل وانصاف کا بول بالا ہواور عام سائل عدالت میں کھڑے ہو کر سکون محسوس کرے۔ اعلیٰ عدلیہ کے منصفیں عزت اور وقار سے زندہ رہیں۔ اور اپنے عمل سے معاشرے میں بلند مقام حاصل کریں ۔ اُنہوں نے وزیرآباد کے وکلاء کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے تمام فیصلے اردو زبان ...

سرکاری سوال و جواب اور عدلیہ کے فیصلے اردو میں ہوں: منصفِ اعلیٰ عدالت عظمیٰ جواد ایس خواجہ

وہ میرا بیٹا نہ رہا ہوگا!!! وجود - جمعه 28 اگست 2015

پیرس میں میری ملاقات ایک مصور سے ہوئی جو داغستانی تھا۔ انقلاب کے کچھ ہی دن بعد وہ تعلیم کی غرض سے اٹلی چلا گیا۔وہیں اُس نے ایک اطالوی خاتون سے شادی کرلی اور ہمیشہ کے لئے بس گیا۔بے چارہ پہاڑی رسم ورواج کا ساختہ پرداختہ تھااِس لئے اِس نئے وطن میں بسنے اور وہاں کے ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالنے میں اُسے خاصی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔خود کو اِس نئی دنیا کا عادی بنانے کے لئے اُس نے سیر وسیاحت کا سہارا لیا۔دور دراز ملکوں کی راجدھانیوں میں دل بہلانے کی کوشش کی، مگر جہاں بھی گیاوطن کی ی...

وہ میرا بیٹا نہ رہا ہوگا!!!

کچھ کوسنوں کے بارے میں وجود - جمعه 28 اگست 2015

’’خدا کرے تیرے بچے اُس زبان سے محروم ہو جائیں جو اُن کی ماں بولتی ہے۔‘‘ یہ کوسنا میں نے ایک عورت کو دوسری عورت کو دیتے ہوئے سنا ہے۔ جن دنوں میں اپنی نظم ’’پہاڑی عورت‘‘ لکھ رہا تھاتو مجھے کچھ کوسنوں کی ضرورت محسوس ہوئی جنہیں نظم میں ایک تند خو اور غصہ ور عورت کی زبان سے ادا کرنا تھا۔مجھے خبر ملی کہ بہت دور کسی پہاڑی گاؤں میں ایک ایسی عورت رہتی ہے جس کا کوسنے دینے میں پاس پڑوس میں کوئی جواب نہیں۔یہ خبر ملتے ہی میں اُس عجیب وغریب کردار سے ملنے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ وہ موسم...

کچھ کوسنوں کے بارے میں

آئی بات تمہاری سمجھ میں؟ وجود - جمعه 28 اگست 2015

ابو طالب ایک بار ماسکو گئے۔ سڑک پر انہیں کچھ معلوم کرنے کی ضرورت پڑی۔ غالباً بازار کا راستا۔انہوں نے ایک راہ گیر سے پوچھا۔ اب اسے اتفاق ہی کہئے کہ انہوں نے جس سے سوال کیا وہ انگریز تھا۔ ابوطالب کو اس پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ماسکو کی سڑکوں پر بہت سارے غیر ملکی گھومتے پھرتے مل جاتے ہیں۔انگریز ابوطالب کی بات نہ سمجھ سکا۔اُس نے خود اُن سے ہی سوالات شروع کر دیئے۔پہلے انگریزی زبان میں، پھر فرانسیسی میں، پھر ہسپانوی زبان میں، غرضیکہ اُس نے مختلف زبانوں میں انہیں اپنی بات سمجھا...

آئی بات تمہاری سمجھ میں؟

مکتبۂ فکر اور تقرری اطہر علی ہاشمی - جمعرات 27 اگست 2015

صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ ’’نہ تم باز آؤ، نہ ہم باز آئیں‘‘۔ ہم عوام کو مرد بنانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن یہ جو برقی ذرائع ابلاغ ہیں، یہ ہمارے مقابلے پر ڈٹے ہوئے اور عوام کو ’’مونث‘‘ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ ذرائع ابلاغ برق رفتار بھی ہیں اور چوبیس گھنٹے غلطی کا ابلاغ کرتے رہتے ہیں۔ سمع و بصر دونوں طرف سے حملہ آور ہیں۔ اس پر مستزاد جو سیاستدان ٹی وی چینلوں پر جلوہ فرما ہوتے ہیں وہ بھی عوام کو مونث ہی کہتے ہیں۔ حال یہ ہوگیا ہے کہ خود ہمارے بچے بھی یہی بولنے لگے ہیں کہ ’’عوام ...

مکتبۂ فکر اور تقرری

میں نے جانا ہے اطہر علی ہاشمی - منگل 25 اگست 2015

سردی خوب پڑ رہی ہے، تھرتھری چھوٹ رہی ہے، برسوں کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ کوئٹہ اور شمالی علاقوں کا حال جانے کیا ہو، ایسے میں گرما گرم کافی کا تصور ہی خوش آئند ہے۔ ایک مہمان سے پوچھا: چائے چلے گی یا کافی؟ جواب ملا: چائے کافی ہے۔ کافی پینے کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن بولنے اور لکھنے میں اس کا استعمال عموماً غلط ہوتا ہے۔ مثلاً آج کافی سردی پڑ رہی ہے، مضمون میں کافی غلطیاں ہیں یا وہ کافی شورہ پشت ہے۔ یہاں ’کافی‘ کا استعمال صحیح نہیں ہے۔ ’کافی‘ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے: کام نکل جا...

میں نے جانا ہے
مضامین
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 13 نومبر 2019
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر)

پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

اشتہار