وجود

... loading ...

وجود

میں نے جانا ہے

منگل 25 اگست 2015 میں نے جانا ہے

سردی خوب پڑ رہی ہے، تھرتھری چھوٹ رہی ہے، برسوں کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ کوئٹہ اور شمالی علاقوں کا حال جانے کیا ہو، ایسے میں گرما گرم کافی کا تصور ہی خوش آئند ہے۔ ایک مہمان سے پوچھا: چائے چلے گی یا کافی؟ جواب ملا: چائے کافی ہے۔ کافی پینے کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن بولنے اور لکھنے میں اس کا استعمال عموماً غلط ہوتا ہے۔ مثلاً آج کافی سردی پڑ رہی ہے، مضمون میں کافی غلطیاں ہیں یا وہ کافی شورہ پشت ہے۔ یہاں ’کافی‘ کا استعمال صحیح نہیں ہے۔ ’کافی‘ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے: کام نکل جانے کے قابل۔ اسی سے کفایت ہے، یعنی حسب ضرورت فائدہ حاصل ہونا۔ اردو میں بچت اور کمی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔’’ کافی ہونا ‘‘کا مطلب ہے: ضرورت کے مطابق ہونا۔ مکتفی ہونا۔ یعنی اس کے بعد مزید کی ضرورت نہ پڑے۔ رب کریم کے بارے میں کہا گیا ہے ’’وکفا باللّٰہِ وکیلا‘‘ یعنی اللہ ہی ہمارے لیے بطور وکیل کافی ہے، اس کے بعد کسی اور کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ کافی سردی ہورہی ہے یا غلطیاں کافی ہیں وغیرہ، تو یہ بالکل بے معنی بات ہوگی۔ البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ’’چائے کافی ہے‘‘۔ لیکن اس کافی کا غلط استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ پینے والی کافی مہنگی بہت ہے۔

اسی طرح خونی اور خونیں میں فرق ملحوظ نہیں رکھا جا رہا۔ ایک مضمون میں پڑھا ’’فلاں سے خونی رشتہ ہے‘‘۔ خونی فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے قاتل، خونریز، ظالم، سفاک۔ جب کہ خونیں کا مطلب ہے ’’خون سے نسبت رکھنے والا‘‘۔ یہ ضرور ہے کہ بعض رشتے خونی ہوگئے ہیں اور ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ اپنوں ہی نے خون کردیا۔ بیٹے نے باپ کا قتل کردیا۔ لیکن رشتوں کے لیے خونی کی جگہ خونیں استعمال کرنا چاہیے۔ مثلاً فلاں شخص سے میرا خونیں تعلق ہے۔ یعنی دونوں میں ایک ہی خون دوڑ رہا ہے خواہ وہ سفید ہی کیوں نہ ہوگیا ہو۔ غالباً ریڈ بلڈ سیلز کی کمی سے خون سفید ہوجاتا ہوگا۔ کنایتہً عاشق کو بھی خونیں جگر کہتے ہیں، کیوں کہتے ہیں یہ بتانا مشکل ہے۔

ہمارے سامنے اگر کوئی ایسی تحریر آتی تھی جس میں ’’پزیر‘‘ لکھا ہو تو ہم اسے ’’ز‘‘ کے بجائے ’’ذ‘‘ سے کردیتے تھے یعنی پذیر۔ ایک ادبی رسالے میں پزیر دیکھا تو لغت سے رجوع کیا۔ معلوم ہوا کہ ہم غلطی پر تھے اور یہ پزیر ہی ہے۔ یہ لاحقہ فاعلی ہے۔ فارسی مصدر پزیرفتن سے صیغہ امر، قبول کرنے والا، پکڑنے والا کے معانی دیتا ہے جیسے ترقی پزیر۔ اسی سے پزیرائی ہے یعنی قبولیت۔ کچھ لوگوں نے پوچھا ہے کہ یہ سابقہ اور لاحقہ کیا ہوتا ہے؟ بھئی ’’لاحق ہوجانا‘‘ تو سنا ہوگا، بولا بھی ہوگا ’’مرض لاحق ہوگیا‘‘، ’’عارضہ لاحق ہوگیا‘‘ یا ملحقہ وغیرہ، یعنی جو پیچھے پڑجائے۔ لاحقہ وہ ہے جو کسی لفظ کے بعد میں آئے اور سابقہ وہ جو پہلے آئے۔ اس سے سابقہ تو پڑا ہوگا۔ یہ دراصل سبق سے ہے۔ اردو میں عام طور پر سبق پڑھا جاتا ہے یا سبق لیا جاتا ہے۔ لیکن عربی میں سبق گھڑدوڑ کی شرط یا کسی لفظ کے پہلے حصہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے ’’سبقت لے جانا‘‘ ہے۔ ہمارے خیال میں سبق پڑھنا ان ہی معنوں میں آیا ہے کہ پہلے جو پڑھایا گیا تھا اسے دوہراؤ۔ مزید تفصیل پھر کبھی سہی۔ اِس وقت تو ہاتھ ٹھٹھر رہے ہیں۔

لاہور سے ایک اسکول کے استاد نے فون پر کہا ہے کہ ’’املا‘‘ مونث ہی ہے اور آپ نے اسے مذکر قرار دیا ہے۔ ہم نے تو اسے مذکر اور مونث دونوں ہی تسلیم کرلیا تھا۔ اس حوالے سے طالب الہاشمی کی کتاب ’’اصلاح تلفظ و املا‘‘ شائع کردہ القمر انٹرپرائزز، اردو بازار لاہور میں ایک دلچسپ تحریر نظر سے گزری۔ ملاحظہ کیجیے:

’’لفظ املا کی تذکیر و تانیث مختلف فیہ ہے۔ فصحائے اردو میں سے بعض نے اسے مذکر استعمال کیا ہے اور بعض نے مونث۔ مشہور شاعر حضرت تسلیم نے اس شعر میں املا کو مذکر باندھا ہے:

عالمِ وحشت میں جب لکھا کوئی خط فراق
ربط بگڑا میری انشا کا غلط املا ہوا

اس کے برعکس جناب رشک نے اس شعر میں املا کو مونث باندھا ہے:

نامہ جاناں ہے یا لکھا مری تقدیر کا
خط کی انشا اور ہے لکھنے کی املا اور ہے

بعض ماہر لسانیات کے نزدیک املا کی تذکیر کو ترجیح حاصل ہے مگر پنجاب کے بیشتر اہلِ قلم اسے مونث ہی بولتے اور لکھتے ہیں۔‘‘

مونث سے دلچسپی فطری ہے اور ہم نہ ماہر لسانیات ہیں نہ ہی فصحائے اردو میں شمار کے لائق۔

اسی کتاب سے ایک اور حوالہ، اور یہ غلطی بہت عام ہے۔ (غلطی بھی غل طی ہو گئی ہے جب کہ غ اور ل دونوں پر زبر ہے) طالب الہاشمی لکھتے ہیں: ’’میں نے کراچی جانا ہے۔ اس نے آپ سے کچھ کہنا ہے۔ یہ غلط ہے۔ اردو میں ’نے‘ کے ساتھ فعل مصدری (کرنا، آنا، جانا، اٹھنا، بیٹھنا، کہنا وغیرہ) کا استعمال درست نہیں۔ ایسے جملوں میں ’نے‘ کی جگہ ’کو‘ استعمال کرنا چاہیے۔ ہاں فاعل کی صورت تبدیلی کردی جائے تو ’’نے‘‘ اور ’’کو‘‘ دونوں کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مذکورہ جملوں کی صحیح صورت یہ ہو گی ’’مجھ کو کراچی جانا ہے‘‘ یا ’’مجھے کراچی جانا ہے‘‘۔’’ اس کو آپ سے کچھ کہنا ہے‘‘ یا ’’اسے آپ سے کچھ کہنا ہے‘‘۔ میں نے آنا، میں نے جانا عموماً پنجاب میں مستعمل تھا، اب ہر جگہ ہے۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی وجود - پیر 25 جولائی 2016

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ کے حوالے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں صرف بیورو کریسی ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کے نفاذ کے خلاف مختلف وزراء بھی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیر...

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو ن...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرن...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی ...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجن...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ ا...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

پڑھتے کیوں نہیں؟ ارشاد محمود - جمعه 11 دسمبر 2015

ایک دوست کی فرمائش پر اردوڈائجسٹ خریدنے اسلام آبادکے ایک کتاب گھر جانا ہوا۔ غیر ارادی طور پرمالک سے گپ شپ شروع ہوگئی۔ کہنے لگا کہ ابھی بھی اردو ڈائجسٹ کے کافی قارئین ہیں لیکن سب معمر افراد ہیں۔ نوجوانوں میں خال خال ہی کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے حتیٰ کہ سب رنگ اور خواتین ڈائجسٹ کے ب...

پڑھتے کیوں نہیں؟

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا ک...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے ز...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

مضامین
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے! وجود جمعه 19 جولائی 2024
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے!

نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر وجود جمعه 19 جولائی 2024
نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر

سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے ! وجود جمعه 19 جولائی 2024
سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے !

معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!! وجود بدھ 17 جولائی 2024
معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!!

عوام کی طاقت کے سامنے وجود بدھ 17 جولائی 2024
عوام کی طاقت کے سامنے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں وجود پیر 08 جولائی 2024
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر