وجود

... loading ...

وجود

مکتبۂ فکر اور تقرری

جمعرات 27 اگست 2015 مکتبۂ فکر اور تقرری

Urdu

صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ ’’نہ تم باز آؤ، نہ ہم باز آئیں‘‘۔ ہم عوام کو مرد بنانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن یہ جو برقی ذرائع ابلاغ ہیں، یہ ہمارے مقابلے پر ڈٹے ہوئے اور عوام کو ’’مونث‘‘ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ ذرائع ابلاغ برق رفتار بھی ہیں اور چوبیس گھنٹے غلطی کا ابلاغ کرتے رہتے ہیں۔ سمع و بصر دونوں طرف سے حملہ آور ہیں۔ اس پر مستزاد جو سیاستدان ٹی وی چینلوں پر جلوہ فرما ہوتے ہیں وہ بھی عوام کو مونث ہی کہتے ہیں۔ حال یہ ہوگیا ہے کہ خود ہمارے بچے بھی یہی بولنے لگے ہیں کہ ’’عوام کچھ کرتی ہی نہیں‘‘۔ جو مضامین موصول ہوتے ہیں ان میں عوام کو مذکر بناتے بناتے جی ’’اوب‘‘ جاتا ہے۔ اوب کا لفظ اب متروک ہوتا جارہا ہے حالانکہ اکتاہٹ کے معنوں میں اچھا ہے، ہندی الاصل ہے۔

گزشتہ دنوں (پیر،27 جنوری) جسارت کی ایک خبر میں ’’2 ٹوک‘‘ پڑھ کر جی خوش ہوگیا۔ اب شاید دوراہا، دو طرفہ، دوبار وغیرہ بھی اسی طرح لکھا جائے۔ کچھ تو اردو کی خبرایجنسیاں اپنا کمال دکھاتی ہیں اور کچھ نیوز ڈیسک پر بیٹھے ہوئے ماہرین اور پھر پروف ریڈر صرفِ نظر کرتے ہیں۔ یہی کیا، بڑے معروف قلم کاروں اور ادیبوں کو مذبح خانہ اور مقتل گاہ لکھتے ہوئے دیکھا ہے جو چھپا بھی ہے۔ ان الفاظ میں خانہ اور گاہ غیر ضروری ہیں۔ مصالحہ اور مسالہ تو متنازع فیہ ہیں۔ اصل تو مصالحہ ہی ہے جس کا مطلب ہے ’’اصلاح‘‘ کرنے والا۔ حکیموں اور ماہرین مطبخ نے طویل تجربے کے بعد ایسے مصالحے تیارکیے جو نہ صرف کھانے کی اصلاح کریں بلکہ ایک دوسرے کے نقصانات کا ازالہ بھی کریں۔ تاہم اب لوگوں نے سہولت کے لیے اسے ’’مسالہ‘‘ کرلیا ہے۔ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ یہ بھی ٹھیک ہے کہ یہ چیزیں مسل کر ڈالی جاتی ہیں۔ مگر اب مسلنے اور پیسنے کا جھنجھٹ ہی ختم ہوتا جارہا ہے۔

ایک اور معاملہ ہے جس سے ہم مسلسل الجھتے رہتے ہیں، اور وہ ہے ’’لیے، دیے، کیے وغیرہ۔ یہ الفاظ ہمزہ کے ساتھ لئے، دئے، کئے اتنی کثرت سے لکھے جارہے ہیں کہ شاید کچھ عرصہ بعد ان ہی کو فصیح قرار دے دیا جائے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمزہ کے ساتھ تو تلفظ بدل جاتا ہے، مثلا ’’گئے‘‘۔ اب اسی وزن پر لئے اور کئے وغیرہ کو پڑھنا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ لغت میں بھی یہ الفاظ لیے، دیے، کیے یعنی ہمزہ کے بجائے ی کے نکتوں کے ساتھ ہیں۔ سید مودودیؒ زبان کے لحاظ سے بھی مستند ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام تحریروں اور تفہیم القرآن میں بھی اسی طرح استعمال کیا ہے، لیکن اُس وقت حیرت ہوتی ہے جب مولانا مرحوم کے خوشہ چین اور جماعت کے عہدہ دار اس کا لحاظ نہیں رکھتے جیسے انہوں نے مولانا کو توجہ سے پڑھا ہی نہ ہو۔ تاہم حافظ محمد ادریس صاحب اس کا خاص خیال رکھتے ہیں اور لیے، دیے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں منصورہ سے ایک ہدایت نامہ بسلسلہ انتخابات جاری ہوا جس میں ’’میعاد‘‘ کو معیاد لکھا گیا ہے۔ یقینا یہ کمپوزنگ کی غلطی ہوگی۔

’’آئے روز‘‘ کی غلطی بہت عام ہے۔ بقول طالب الہاشمی یہ زبردستی کی ترکیب ہے۔ اس کا لکھنا اور بولنا روزمرہ کے خلاف ہے۔ صحیح روزمرہ ’’آئے دن‘‘ ہے۔ اسی طرح ’’دن بہ دن‘‘ کی ترکیب بھی غلط ہے۔ ہم نے ایک جگہ ’’دن پر دن‘‘ لکھا تو کمپوزر نے ہماری ’’تصحیح‘‘ کردی۔ یا تو دن پر دن لکھا جائے یا روز بروز۔ ’’آئے روز‘‘ کی طرح ’’دن بہ دن‘‘ بھی روزمرہ کے خلاف ہے۔ ایک ترکیب ’’مکتبہ فکر‘‘ بہت عام ہے۔ یہ غلط ہے۔ صحیح ترکیب ’’مکتب فکر‘‘ ہے۔ جمع کی صورت میں مکاتیب فکر کے بجائے ’’مکاتب فکر‘‘ لکھنا چاہیے کیونکہ مکتب کی جمع مکاتب ہے، مکاتیب نہیں۔ مولانا مرحوم نے ہمیشہ مکتب فکر لکھا ہے اور ہم نے بھی اپنی اصلاح کرلی ہے، ورنہ ہم بھی مکتبۂ فکر لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔

’’تقرر‘‘ کی جگہ ’’تقرری‘‘ بہت عام ہوگیا ہے۔ اخبارات میں یہی لکھا جارہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انکساری، تنزلی، قراری وغیرہ بھی ماہرین لسانیات کی رائے میں بالکل غلط ہیں ورنہ فصاحت کے خلاف تو ہیں ہی۔ جو، کاش اور گو کے ساتھ ’’کہ‘‘ کا اضافہ بھی فصاحت کے خلاف ہے لیکن ’’جو کہ‘‘، ’’کاش کہ‘‘، ’’گو کہ‘‘ بہت عام ہے۔ کہیں پڑھا تھا کہ ’’تابع دار‘‘ بھی غلط ہے۔ اس کا مطلب تابع رکھنے والا ہے نہ کہ اطاعت گزار۔ چنانچہ بہتر ہے کہ صرف تابع لکھا جائے۔

اب آتے ہیں کراچی سے موصول ہونے والے ایک خط کی طرف۔ خط جناب سلیم الدین کی طرف سے ہے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے ٹی وی چینلز پر تلفظ کی عام غلطیوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔ امید ہے کہ وہ آئندہ بھی توجہ دلاتے رہیں گے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ یہ کالم ’’صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے‘‘۔ جناب سلیم الدین لکھتے ہیں:

’’میں نے کل ہی فرائیڈے اسپیشل، 13 سے 19 نومبر اور 22 سے 28 نومبر کو پڑھا۔ زباں بگڑی میں دو باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔

وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

اس شعر کو محترم استاد شان الحق حقی نے میر ہی کا ثابت کیا تھا لیکن یہ شعر فکر رامپوری کا بھی نہیں ہے۔ یہ شعر عزم رامپوری کا ہے، ان کے دیوان میں موجود ہے، اور یوں ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو عزمؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

بزم اور عزم ہم قافیہ ہیں اور اس سے شعر کا حسن بھی بڑھ گیا ہے۔

2۔ دو چشمی ھ اردو کا کوئی حرف نہیں ہے، لہٰذا کوئی لفظ اس سے شروع نہیں ہوتا ہے۔ یہ دوسرے حرف کے ساتھ مل کر آواز دیتا ہے۔

جیسے ب کے ساتھ ’بھ، پھ، تھ، ٹھ، چھ، وغیرہم۔ یہ ملا کر پڑھے جاتے ہیں، جب کہ ’’ہ‘‘ حرف کی علیحدہ آواز دیتا ہے۔

بہاری (بے ہاری)، بھاری (بھ ا ر ی)، دہلوی (دے ہل و ی)، دھلوی (دھ لوی) وغیرہ۔ اردو کا مزاج عربی کا نہیں ہے۔ امید ہے تصحیح فرما لیں گے۔‘‘

ہمارا خیال ہے کہ میرؔ سے منسوب شعر کے پہلے مصرع پر کئی شعرا نے حق جمایا ہے۔ کچھ شعر ہم نے جمع بھی کیے تھے۔ ان میں سے ایک میں نہ تو فکر تھا نہ عزم، بلکہ یہ کوئی ’’برق صاحب‘‘ تھے۔ انہوں نے بھی بزم میں جاکر چراغ گل کردیے تھے۔ بہرحال، سلیم الدین صاحب کا شکریہ۔ دوچشمی ھ پر ہماری رائے محفوظ ہے۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی وجود - پیر 25 جولائی 2016

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ کے حوالے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں صرف بیورو کریسی ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کے نفاذ کے خلاف مختلف وزراء بھی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیر...

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو ن...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرن...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی ...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجن...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ ا...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

پڑھتے کیوں نہیں؟ ارشاد محمود - جمعه 11 دسمبر 2015

ایک دوست کی فرمائش پر اردوڈائجسٹ خریدنے اسلام آبادکے ایک کتاب گھر جانا ہوا۔ غیر ارادی طور پرمالک سے گپ شپ شروع ہوگئی۔ کہنے لگا کہ ابھی بھی اردو ڈائجسٹ کے کافی قارئین ہیں لیکن سب معمر افراد ہیں۔ نوجوانوں میں خال خال ہی کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے حتیٰ کہ سب رنگ اور خواتین ڈائجسٹ کے ب...

پڑھتے کیوں نہیں؟

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا ک...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے ز...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

مضامین
عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

ثمربار یا بے ثمر دورہ وجود هفته 03 دسمبر 2022
ثمربار یا بے ثمر دورہ

حاجی کی ربڑی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
حاجی کی ربڑی

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی وجود جمعرات 01 دسمبر 2022
پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

اشتہار

تہذیبی جنگ
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا وجود اتوار 13 نومبر 2022
ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا

فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت وجود منگل 08 نومبر 2022
فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود هفته 03 دسمبر 2022
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی وجود هفته 26 نومبر 2022
بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس وجود پیر 21 نومبر 2022
پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس

بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے وجود اتوار 20 نومبر 2022
بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار