وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پرانی دہلی کی زبانیں اور لہجے

اتوار 10 ستمبر 2017 پرانی دہلی کی زبانیں اور لہجے

پرانی دہلی کی پیچیدہ گلیوں کے نام قدیم دستکاریوں اور تجارت کے اعتبار سے رکھے گئے ہیں ۔ جیسے سوئی والاں یعنی درزیوں کی گلی، پھاٹک تیلیاں یعنی تیل نکالنے والوں کی گلی، کناری بازار یعنی کنارا یا کڑھائی بازار، گلی جوتے والی یعنی موچیوں کی گلی، چوڑی والاں یعنی چوڑی بنانے والوں کے گھر، اور قصاب پورہ یعنی وہ جگہ جہاں قصائی اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔ کاریگر، تاجر اور محنت کش یہاں رہے، کام کیا اور کمایا۔
ایک وقت تھا کہ جب یہ گلیاں اردو کی ایک بڑی ہی مزیدار اور محاوراتی بولی سے گونج رہی ہوتی تھیں ، اس زبان کو کرخنداری کہا جاتا تھا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ کارخانوں میں کام کرنے والوں کی بولی تھی، لیکن کئی دیگر مزدور برادریوں نے بھی اس بولی کو اختیار کر لیا تھا۔
کرخنداری زبان پر سماجی و زبانی اعتبار سے سب سے پہلی تحقیق سینئر اردو دانشور گوپی چند نارنگ نے 1961 میں پیش کی۔ ان کے اندازے کے مطابق یہ زبان علاقے کے چاروں طرف، چاندنی چوک، فیض بازار، آصف علی روڈ اور لاہوری گیٹ میں 50 ہزار کے قریب لوگ استعمال کرتے ہیں ۔لیکن نارنگ کی تحقیق کے دنوں سے اب تک پرانی دہلی میں زبردست تبدیلی رونما ہو چکی ہے ۔ کئی اقسام کی دستکاریاں اور پیشے دم توڑ چکے ہیں اور پرانے وقتوں کے رہائشی دہلی کے نئے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں ۔ وہ لوگ جو یہیں پر رہے اور اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ گئے ان کی زبان اتنی خالص نہیں رہ پائی کہ خود کو قائم رکھ پاتی۔
پرانے لہجوں کی تلاش
فوزیہ ایک اداکارہ اور د استان گو ہیں ، جو اسی علاقے میں پلی بڑھی ہیں ، انہوں نے اس زبان کو خاتمے کی دہلیز تک آتے دیکھا ہے۔ ان کا خاندان چار نسلوں سے ترکمان گیٹ کے قریب پہاڑی بھوجلا کے علاقے میں قیام پزیر ہے جہاں کرخنداری کا استعمال کسی دور میں کافی عام تھا۔جب تک ان کی دادی زندہ تھیں اور جب تک معیاری اردو یا ہندی نے اس زبان کی جگہ لینا شروع نہیں کی تھی، تب تک ان کے گھر میں بھی یہ زبان استعمال ہوتی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس زبان کے چند نقوش روز مرہ کے استعمال میں رچ بس گئے ہیں ۔
کرخنداری زبان کے مانوس لہجوں اور دوستانہ خوش نوائی کی تلاش میں داستان گو نے دو سال قبل ترکمان گیٹ کی گلیوں کو چھان مارا۔ فوزیہ کہتی ہیں کہ “کرخنداری بولنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گننے جتنی بچی ہے۔ اس زبان کو بے سلیقہ اردو تصور کیا جاتا ہے اس لیے لوگ جب آپ سے ملتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ میرا تعلق دِلی 6 سے ہے تو وہ کہتے ہیں کہ “ارے، لیکن آپ وہ مزاحیہ اردو تو نہیں بولتے۔”داستان گو اب گوپی چند نارنگ کی تحقیق، اپنی یادوں اور تاریخ دان و سماجی کارکن سہیل ہاشمی کے شہر کے بارے میں علمی خزانے کی مدد سے کرخنداری زبان یا لہجے میں ڈرامائی مضامین ترتیب دیتی ہیں ، جنہیں وہ مختلف فورمز پر پیش کرتی رہتی ہیں ۔
گزشتہ سال انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں منعقد ہونے والے ہندوستانی زبانوں کے فیسٹیول ‘سمانوے’ کے موقع پر فوزیہ نے ’دلی کے دھوبیوں کی زبان’ اور ’دلی کے نائیوں کی زبان’ پر بات کی۔کرخنداری زبان میں ‘اتنے میں ‘ چھوٹا ہو کر ‘اتے میں ‘ ہو جاتا ہے، نیچے، نیچو بن جاتا ہے، لونڈا یا لڑکا، لمڈا بن جاتا ہے، وہاں ، واں بن جاتا ہے، اس نے وسنے اور اچانک، اچانچک بن جاتا ہے اور کبھی، کبھوں ۔ہاشمی، جو قلعہ بند شہر میں مشہور ثقافتی چہل قدمیوں کی سربراہی کرتے ہیں ، نے بتایا کہ یہ پتہ لگانا تو بہت ہی کٹھن کام ہے کہ کرخنداری زبان شروع کہاں سے ہوئی لیکن لگتا ہے کہ جب 17 ویں صدی کے دوران شاہجہاں آباد—جو اب دہلی 6 ہے۔ وجود میں آ رہا تھا، شاید تب ہی اس کی ابتدا ہوئی ہو۔ شہر میں جب مختلف کاروبار ترقی پانا شروع ہوئے، تب ہر ایک نے ایک بڑی ہی منفرد لغت اختیار کر لی۔ ہاشمی نے بتایا کہ “دنیا کے تمام پرانے شہروں میں ایسے علاقے پائے جاتے ہیں جہاں ایک جیسی دلچسپی رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہے اور ایک ساتھ کام کیا۔ دہلی میں بھی ایسا ہوا ہے۔ مختلف پیشوں سے وابستہ لوگوں کے پاس اپنے مخصوص کاروباری لفظوں کے لیے اپنی ایک مخصوص لغت تھی۔ مثلاً، پرانی دہلی میں قصائی جس لکڑی کے ٹکڑے پر گوشت کاٹتے ہیں اس کے لیے مڈی لفظ کا استعمال کرتے ہیں ۔ قصاب پورہ میں اس لفظ کا استعمال کافی عام رہا ہوگا۔ نانبائیوں اور کبابیوں کی بھی اپنی اپنی ایک خاص بول چال ہوا کرتی تھی۔”ان کے نزدیک جو کاروباری لفظ اور اظہار کے طریقے عام تھے، انہوں نے آپس میں مل کر کرخنداری زبان کو تشکیل دیا۔ ہاشمی کہتے ہیں کہ 19 ویں صدی کے اوائل سے 20 ویں صدی کے اواخر تک مصنفین کے درمیان دہلی کی گلیوں کا لہجہ دلچسپی کا موضوع رہا۔نہ صرف شہر کی زبان بلکہ یہاں کی روایتی طرز زندگی کی جھلک بھی اردو ادب میں نظر آنا شروع ہوئی۔1857میں شہر میں ہونے والی تباہی کے بعد، شہر کی کھوتی ہوئی طرز زندگی کے لیے شہر کے مصنفین کے درمیان یاد ماضی کا شدید احساس پایا گیا۔ اس کھونے کے احساس نے ہی انہیں دہلی کی ثقافت، بشمول اس شہر کے مختلف کاروباروں سے جڑی زبان، کو قلمبند کرنے پر آمادہ کیا۔”
ان میں سے ایک مزاح نگار اشرف صبوحی بھی تھے۔ ان کا تخلیق کردہ گھمی کبابی نامی ایک کردار تھا جو ایک بڑی انوکھی طبعیت کا حامل کباب بنانے والا شخص ہوتا ہے۔ وہ قلعہ بند شہر کی زبان بولتا ہے اور اسے اپنے گاہکوں ، جن میں بڑی نامور شخصیات شامل ہوتی ہیں ، کے کہنے پر جلدی کام کرنا پسند نہیں اور نہ ہی ان کا رعب کرنا اچھا لگتا ہے۔ یہ کہانی اکثر داستان کی صورت میں داستان گو سناتے ہیں ۔صبوحی کے دیگر خاکوں مثلاً دلی کی چند عجیب ہستیاں اور غبارِ کارواں میں پرانی دہلی کی انوکھی خصوصیات، وہاں کے رہائشیوں اور وہاں کی زبان کو قلمبند کیا ہے۔مہیشور دیال نے ‘عالم میں انتخاب دہلی’ میں شہر کی گلیوں کی انوکھی روایات کو قلمبند کیا ہے۔ اس کتاب کے ابواب کے موضوعات کچھ یوں ہیں ، دلی کی بولی ٹھولی، پھیری والوں کی آوازیں ، دلی کے بانکے۔ اسی طرح کا یاد ماضی کی پیاس بجھانے والا تحریری کام لکھنؤ میں اودھی ثقافت پر بھی ہوا۔
خواتین کی زبان
فوزیہ کہتی ہیں کہ اردو کے مختلف لہجے اس لیے بھی دم توڑتے جا رہے ہیں کیونکہ انہیں ادبی یا خالص تصور نہیں کیا جاتا۔ لیکن میری دادی کی اردو بہت ثقافتی محسوس ہوتی تھی، ان کی زبان میری اردو سے تو کافی بہتر تھی کیونکہ ان کی زبان بہت ہی عمدہ اور محاروں سے بھرپور ہوا کرتی تھی۔ان کا ہر جملہ مسکراہٹ سے لبریز ہوتا اور اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی ثقافتی حوالہ ضرور شامل ہوتا۔مجھے کبھی نہیں یاد کہ انہوں نے کوئی جملہ بغیر کسی محاورے کے کہا ہو۔ وہ کہا کرتیں کہ ‘تم نے تو اپنا حدادہ کھو دیا ہے۔’ جس کا مطلب ہوتا ہے کہ تم بہت بے شرم ہو۔ وہ الفاظ جو ہمارے لیے غیر روایتی ہوا کرتے تھے وہ ان کا عام استعمال کیا کرتی تھیں ۔”
اداکارہ نے بتایا کہ، ان کی والدہ کی نسل تک کسی شخص کی اردو سن کر اس کے گاؤں یا شہر کا اندازاہو جاتا تھا — بریلی سے سہارنپور، اور پھر بھوپال تک۔ اس خاص قسم کی اردو کی باقیات نے فلموں میں بھی اپنی جگہ بنالی ہے جہاں صرف مزاحیہ کردار ہی لوگوں کو ہنسانے کے لیے ‘آریا، جاریا’ جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ۔
دلچسپ طور پر، جہاں گلیوں کی ایک خاص زبان کی جگہ جدید اردو لے رہی تھی وہاں وہ خواتین تھیں جنہوں نے گھروں کے اندر اپنی زبان کے ایک دوسرے رسیلے اور رنگیلے لہجے کو برقرار رکھا، جسے بیگماتی زبان پکارا جاتا ہے۔ یہ بیگمات اور ان کی دنیا — جن میں ان کے ملازم، ان کے دست نگر، پھوپھیوں ، چچیوں اور کزنز کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک، اور دھوبن و نائن وغیرہ شامل تھیں — کی زبان تھی. اس کا استعمال ہمیشہ صرف خواتین کے درمیان رہا، جس کی وجہ سے انہیں عاجزی اور شائستگی کا خیال نہیں رکھنا پڑتا تھا۔
بیگماتی زبان پر ایک سب سے زبردست کام امریکی دانشور گیل مینالٹ کے مضمون میں ملتا ہے۔ جس کا عنوان ہے بیگماتی زبان: خواتین کی زبان اور 19 ویں صدی کے دہلی کی ثقافت۔ اس مضمون میں 19 ویں صدی میں مسلمان خواتین کی خانقاہی زندگی کا بڑی ہی گہرائی سے جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس میں پریشانیاں ہیں اور گھروں تک محصوری ہے، مگر یہ ساتھ ساتھ زندہ دل اور شاہانہ بھی ہے۔ یہ زبان اس لیے بھی کافی مشہور ہے کیونکہ اس کا استعمال بے باک مصنفہ عصمت چغتائی کی تحاریر میں کہیں کہیں پڑھنے کو مل جاتا ہے۔
مینالٹ نے چاؤ چونچلے (خوبصورت نخرے)، تیری جان سے دور (خدا کی پناہ)، دو جی سے ہونا (حاملہ ہونا) جیسے لفظوں اور طرز اظہار کی نشاندہی کی ہے جو کہ خونی رشتہ داروں ، عورتوں کے آپسی تعلقات، زچگی کی باتوں ، رومانس، جنسی تعلقات اور شادی کے گرد گھومتی دنیا میں استعمال کیے جاتے تھے۔بیگماتی اور کرخنداری زبان کے درمیان اس کھو چکے زمانے کی اردو ضرور بہت ہی پرلطف رہی ہوگی اور رہنے کے لیے ایک مختلف رنگا رنگ دنیا ہوگی۔
مالینی نائر


متعلقہ خبریں


پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا وجود - بدھ 20 اکتوبر 2021

پاکستان بحریہ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگاتے ہوئے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔افواج پاکستان نے بھارت کی ایک اور چال کو ناکام بنا کر اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور اس مرتبہ یہ کارنامہ پاک بحریہ نے انجام دیا ہے جس نے جاسوسی اور جنگی مقاصد سے چوری چھپے پاکستان کی حدود میں گھسنے کی کوشش کرنے والی بھارتی آبدوز کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ بھارتی آبدوز کی حقیقی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔ 16/ اکتوبر کو بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود کے قریب موجود تھی اور پاک...

پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا

ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان وجود - بدھ 20 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں قومی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔ وہاں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے، کیونکہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلا...

ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان

پی ڈی ایم ملک گیر احتجاج پر کمربستہ، 20اکتوبر سے مظاہرے وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے ایک بار پھر انتخابی اصلاحات کیلئے مجوزہ ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دھاندلی کے ذریعے آنے والی حکومت کو شفاف انتخابات کیلئے فارمولا یا قانون دینے کا کوئی حق نہیں،نیب کا ادارہ ہی آمریت کی باقیات میں سے ہے ،یہ ہمیشہ مخالفین اور حزب اختلاف کے خلاف سیاسی انتقام کے طور پر استعمال ہوا ہے ،اس ادارے سے احتساب کی کوئی توقع نہیں ، ہم نئے الیکشن چاہتے ہیں ، اسمبلی کے اندر تبدیلی کی بات ہوتی تو پیپلز پارٹی کی بات مان لیتے،...

پی ڈی ایم ملک گیر احتجاج پر کمربستہ، 20اکتوبر سے مظاہرے

پاک فوج کے 6 اکتوبر کے فیصلوں پر عمل درآمد شروع، گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد کر دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق گوجرانوالا کینٹ میں کمان کی تبدیلی کی تقریب ہوئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کور کمانڈر گوجرانوالا تعینات کردیے گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر نے تقریب میں گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد کی۔ واضح رہے کہ پاک فوج میں 6 اکتوبر کو اہم تقرر وتبادلے کیے گئے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا ...

پاک فوج کے 6 اکتوبر کے فیصلوں پر عمل درآمد شروع، گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد

آرمی چیف کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ ، ادارے کی تیاریوں پر اطمیان کا اظہار وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی کی تیاریوں پر اطمیان کا اظہار کیا ہے ۔ پیر کو آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے استقبال کیا، اس موقع پر آرمی چیف کو داخلی سیکیورٹی امور اور افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ادارے کی تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔

آرمی چیف کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ ، ادارے کی تیاریوں پر اطمیان کا اظہار

سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق کولن پاول کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کا انتقال کورونا کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں سے ہوا۔خیال رہے کہ کولن پاول سابق امریکی صدر جارج بش جونیئر کے دور میں 2001 سے لیکر 2005 تک امریکا کے سیکرٹری خارجہ رہے۔افغانستان اور عراق پر امریکی حملے کے دوران کولن پاول ہی وزیر خارجہ تھے اور انہیں پہلے افریقی نژاد امریکی وزیرخارجہ ہونیکا اعزاز حاصل ہے۔سیاست میں آنے سے قبل کولن پاول امریکی فوج ک...

سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

وفاقی حکومت نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مہنگائی اور معاشی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں انہیں ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر ٹیکسز کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزراء کو پرائس کنٹرول کمیٹیوں پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزراء اپنے...

اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ

ڈاکٹر عشرت العباد خان کا ایک بار پھر سیاست میں آنے کا عندیہ وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایک بار پھر سیاست میں آنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف آپشنز پر غور کررہا ہوں، کچھ لوگ چاہتے ہیں میں سیاست اور ملک میں واپس نہ آؤں کیونکہ میرے آنے سے انکی دکانیں بند ہوجائیں گی۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ کراچی اور پاکستان میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہوں اور مختلف آپشنز پر غور کررہا ہوں۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مسائل کے مستقل حل کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ چاہتا ہوں کہ سیاسی استحکام ہو، ملک...

ڈاکٹر عشرت العباد خان کا ایک بار پھر سیاست میں آنے کا عندیہ

انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

انٹربینک میں ڈالر 173.24 روپے کا ہو گیا۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ، خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافے سے درآمدی بل اور مہنگائی میں مزید اضافے جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز ڈالر کی اونچی اڑان کے نتیجے میں انٹربینک نرخ 173 روپے سے بھی تجاوز کرگئے اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 2.06 روپے کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے قیمت 173.24 روپے کے ساتھ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر خام تی...

انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا

شوکت ترین وزیراعظم کے مشیر خزانہ و ریونیو مقرر، نوٹیفکیشن جاری وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

شوکت ترین کو ایک مرتبہ پھر مشیر خزانہ وریونیو تعینات کردیا گیا۔ شوکت ترین کی تقرری کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردیا گیا ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کی ایڈوائس پر شوکت ترین کی تقرری کی منظوری دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت ترین کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہو گا۔ شوکت ترین کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی کی چھ ماہ کی مدت 16اکتوبر کو ختم ہو گئی تھی۔ آئین کے مطابق کوئی بھی شخص رکن قومی اسمبلی یا رکن سینیٹ بنے بغیر چھ ماہ تک وفاقی و...

شوکت ترین وزیراعظم کے مشیر خزانہ و ریونیو مقرر، نوٹیفکیشن جاری

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق ممتاز دانشور ،شاعر اور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی 75برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ اجمل نیازی 1947 میں موسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوئے، گورڈن کالج راولپنڈی، گورنمنٹ کالج میانوالی، گورنمنٹ کالج لاہور اور ایف سی کالج میں لیکچرر رہے۔ڈاکٹر اجمل نیازی ایک قومی اخبار میں بے نیازیاں کے عنوان سے کالم لکھتے رہے ۔ اجمل نیازی نے 45 سال ادب کی خدمت میں گزارے، انہوں نے اردو اور پنجابی زبان میں شاعری کی۔ اجمل نیازی...

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

حکومت کی نئی پریشانی، تیل کے درآمدی بل میں مسلسل اضافے سے تجارتی خسارے کا سامنا وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

ملک کے تیل کی درآمد کا بل رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 97 فیصد سے بڑھ کر 4.59 ارب ڈالر ہو گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 2.32 ارب ڈالر تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی اضافے کی وجہ بنی ہے۔تیل کے درآمدی بل میں مسلسل اضافہ تجارتی خسارے کو فعال کر رہا ہے اور حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔گھریلو صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں دیکھا گیا۔پاکستا...

حکومت کی نئی پریشانی، تیل کے درآمدی بل میں مسلسل اضافے سے تجارتی خسارے کا سامنا

مضامین
یہ رات کب لپٹے گی؟ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
یہ رات کب لپٹے گی؟

تماشا اور تماشائی وجود پیر 18 اکتوبر 2021
تماشا اور تماشائی

’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ

محنت رائیگاں نہیں جاتی وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
محنت رائیگاں نہیں جاتی

بیس کی چائے وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
بیس کی چائے

امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت

روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی