وجود

... loading ...

وجود

جامعہ تلاشی

هفته 05 ستمبر 2015 جامعہ تلاشی

گزشتہ بدھ کو لاڑکانہ میں ایک اور صحافی قتل ہو گیا۔ ٹی وی چینل اب تک کے نمائندے نے اس کی خبر دیتے ہوئے مرحوم کو صحافیوں کے ’’ہر۔اول‘‘ دستے میں شمار کیا۔ ٹی وی چینل میں بیٹھے ہوئے افراد نے بھی تصحیح نہیں کی کیونکہ یہ لفظ بار بار سننے میں آیا۔ لاڑکانہ کا نمائندہ ہی نہیں ہم نے صحافت سے تعلق رکھنے والے اپنے دیگر ساتھیوں سے بھی ’’ہر۔ اوّل‘‘ سنا ہے۔ چلیے اول تک تو ٹھیک ہے لیکن کیا ان لوگوں نے کبھی یہ بھی غور کیا کہ یہ ’’ہر‘‘ کیا ہے؟ کیا یہ انگریزی کا HER ہے یا کچھ اور۔ ہم اپنے ساتھیوں کو تاکید کرتے رہتے ہیں کہ جو لفظ لکھ رہے ہیں یا بول رہے ہیں اس کا مطلب بھی معلوم کر لیا کریں اور لغت دیکھتے رہا کریں۔ بسا اوقات ایک لفظ اپنے مفہوم میں صحیح استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا لغوی معنی علم میں نہیں ہوتا اور یہ ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اب اگر ہر۔اول لکھا جائے تو جو جانتا ہے وہ تو صحیح پڑھ لے گا، پول تو بولنے پر کھلتا ہے۔ یہ لفظ ہر۔اول نہیں بلکہ ’’ہراول‘‘ بروزن، بلاول، رساول ہے۔ اب تو عرصہ سے رساول ہی نہیں کھایا اور شاید بہت سوں کو معلوم بھی نہ ہو کہ کیا ہے۔ پول پر یاد آیا کہ ٹی وی چینلز پر یہ بھی مونث ہو گیا ہے یعنی پول کھل گئی۔ جب کہ یہ ضرب المثل ’’ڈھول کا پول‘‘ بتا رہی ہے کہ وہ پول جو کھلتا ہے وہ مذکر ہے اور جو انگریزی میں کھمبے کے معنی میں آتا ہے وہ بھی مذکر ہی ہے خواہ اس پر لگا ہوا بلب روشن نہ ہو۔ بلب انگریزی کا لفظ ہے لیکن اسے بھی کچھ لوگ ’’ب۔لب‘‘ بروزن ہَدف یا کرم بولتے ہیں جب کہ یہ جَبْر صَبْر کے وزن پر ہے۔ خدشہ ہے کہ کچھ لوگ جبر اور صبر کو بھی ہدف، صدف کے وزن پر نہ بولتے اور تولتے ہوں۔

غلطیاں کسی نقصان کا باعث نہ ہوں تو ان سے محظوظ ہوا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی ایک دلچسپ غلطی ہے ’’جامعہ تلاشی یا جامع تلاشی۔ چلیے، جامع تلاشی کی تو توجیہ کی جاسکتی ہے۔ پولیس والے اور راہ زن عموماً بڑی جامع تلاشی لیتے ہیں کہ کچھ بچنے نہ پائے۔ مسافر بسوں سے اتار کر بھی سب کو جمع کر کے تلاشی لی جاتی ہے اسے جامع قسم کی تلاشی سمجھا جا سکتا ہے۔ جامع کا مطلب مکمل، حاوی، شامل، محیط، وسیع وغیرہ کے علاوہ عربی میں اس کا مطلب جمع کرنے والا، تکمیل کرنے والا بھی ہے۔ شاید اسی لیے فوج میں ایک عہدہ جمع دار کا بھی ہوتا تھا۔ ہم نے یہ عہدہ خاکروبوں کو دے دیا۔ جو فضلہ جمع کرتے ہیں۔ ایسے کام ہم نے اور بھی کیے ہیں مثلا مہتر، خلیفہ، چوکیدار وغیرہ۔ مہتر فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے سب سے بڑا بزرگ، سردار، آقا، مالک، امیر وغیرہ۔ ایران میں میئر کو مہتر کہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا ایک لطفیہ مشہور ہے۔ تہران کے میئر لاہور آئے تو ان کا تعارف مہتر تہران کے طور پر کرایا گیا۔ علامہ نے اپنے دوست کا تعارف یہ کہہ کر کروایا کہ یہ مہتر لاہور ہیں۔ (غالباً شہاب الدین تھے) اب جو سمجھتے تھے کہ برعظیم میں مہتر کسے کہتے ہیں وہ زیرلب مسکرا دیے۔ ہم نے مہتر کا درجہ بھی بھنگیوں کو دے دیا۔ خلیفہ نائیوں کو کہا جانے لگا۔ چوکیدار کسی فوجی چوکی کا انچارج ہوتا تھا۔ اب آپ فوجی چوکی یا پولیس چوکی کے انچارج کو چوکیدار کہہ کر تو دیکھیں یا لانس نائیک، نائیک کو جمع دار کہیں اور نتیجہ کا انتظار کریں۔

ہمارے اپنے ساتھی جامعہ تلاشی لکھتے ہیں۔ اردو کی خبر ایجنسیاں بھی جامعہ تلاشی پر اصرار کرتی ہیں۔ ہم پوچھ بیٹھتے ہیں کہ جامہ کا نام تو بتائیں۔ یہ جامعہ کراچی ہے یا جامعہ اردو۔ یہ جامعہ تلاشی ہے اور ’’جامہ‘‘ ایسا نامانوس لفظ نہیں۔ لوگ جامے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ پاجامہ بالکل ہی متروک نہیں ہوا۔ اب بھی نظر آجاتا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے طنزاً کہا تھا کہ مسلمانوں کی ثقافت کیا ہے لوٹا اور پاجامہ۔ ہم نے اس کو دل پر لے لیا۔ چنانچہ اب لوٹا بھی متروک ہوا اور پاجامہ بھی۔ لوٹے یا تو سیاست میں رہ گئے یا کچھ مسجدوں میں اب بھی مٹی کے لوٹے نظر آجاتے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک خبر میں عملی جامع بھی پڑھا۔ فلاں تجویز کو عملی جامع نہیں پہنایا گیا۔

بیڑا (ب پر زبر) جہازوں کا ہوتا ہے۔ انگریزی میں فلیٹ کہلاتا ہے۔ بیڑا غرق بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن بعض لوگ پورا بیٹرا اٹھا لیتے ہیں جو ناممکن ہے۔ جو اٹھایا جاتا ہے وہ بِیڑا (ب کے نیچے زیر جسے کسرہ بھی کہتے ہیں) ہے بیڑا پان کا ہوتا ہے جسے گلوری بھی کہتے ہیں۔ وضع دار قسم کے پنواڑی اب بھی گلوری یا بیڑا بنا کر گاہک کو دیتے ہیں۔ لاہور کی فوڈ اسٹریٹ میں تو ایک صاحب بڑا اہتمام کرتے ہیں اور بیڑا بنا کر منہ میں دیتے ہیں تا کہ گاہک کے ہاتھ خراب نہ ہوں۔ دراصل ہوتا یوں تھا کہ راجے، مہاراجے یا حکمران جب کسی اہم مہم پر کسی کو بھیجنا چاہتے تھے تو اپنے افسران کو جمع کر کے ان کے سامنے ایک تھال میں بیڑے رکھ دیا کرتے تھے۔ ان میں سے جو بھی آگے بڑھ کر بیڑا اٹھا لیتا تھا وہ مہم سر کرنے کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ اس سے بیڑا اٹھانے کا محاورہ ایجاد ہو گیا۔

بعض مرکب الفاظ میں زبردستی ’’واؤ‘‘ شامل کر دیا جاتا ہے۔ السلام علیکم کے بارے میں تو ہم لکھ ہی چکے ہیں۔ ایک اور لفظ ہے ’’چاق ‘ چوبند‘‘۔ اس کو بھی ہمارے بھائی چاق و چوبند لکھتے ہیں اور بعض لوگ تو اس کو چاک بھی کر دیتے ہیں یعنی چاک و چوبند۔ اب یہ چاک گریباں کا چاک ہے یا وہ چاک (Chalk) جس سے تختۂ سیاہ پر لکھا جاتا ہے۔ گریباں چاک پر بڑا اچھا سا شعر یاد آگیا جو ہم پڑھوائے بغیر نہیں رہیں گے!

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو، ہم ہیں پریشاں تم سے زیادہ
چاک کیے ہیں ہم نے عزیزو، چار گریباں تم سے زیادہ

شعر اچھا ہے لیکن یہ پتا نہیں چل رہا کہ دوسرے نے کتنے گریباں چاک کیے جس سے چار گریباں زیادہ پھاڑے گئے۔ گریباں سینے والی کی تو انگلیاں شل ہو جاتی ہوں گی۔ بہرحال چاق چوبند کے بیچ میں واؤ نہیں ہے۔ ایسے اور بھی کچھ الفاظ ہیں جو فی الوقت ذہن میں نہیں ہیں۔

پچھلے دنوں ایک خاتون اینکر اچھی اردو بولنے کے شوق میں کہہ رہی تھیں ’’یک نہ شَد، دو شَد‘‘ شین پر زبر لگا کر (بالفتح) کسی نے ان کو ٹوکا بھی نہیں کیونکہ جب پروگرام دوبارہ پیش ہوا تب بھی شد پر سے پیش غائب ہی تھا۔


متعلقہ خبریں


جامعہ کراچی، مستحق طلبا کے لیے اسکالر شپس کی رقم تنخواہوں میں خرچ وجود - هفته 26 مارچ 2022

جامعہ کراچی کے شعبہ مالیات کی غفلت منظر عام پر آگئی، مستحق طلبا کے لیے احساس اسکالر شپس کی رقم تنخواہوں کی ادائیگی میں خرچ کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں شعبہ مالیات کی لاپرواہی سامنے آگئی، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ذرائع کا کہنا ہے کہ احساس پروگرام اسکالر شپ کی ...

جامعہ کراچی، مستحق طلبا کے لیے اسکالر شپس کی رقم تنخواہوں میں خرچ

وزیر جامعات اور سیکرٹری جامعات سے جامعہ کراچی کے اساتذہ کی ملاقات،احتجاج ختم کرنے کا اعلان وجود - جمعرات 10 فروری 2022

جامعہ کراچی کے اساتذہ نے احتجاج ختم کرنے اور جمعرات سے تدریسی عمل بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔وزیر جامعات اسماعیل راہو اور سیکریٹری جامعات سے جامعہ کراچی کے اساتذہ نے وزیر جامعات کے دفتر میں ملاقات کی جس میں پروفیسر ڈاکٹر شاہ علی مقدس، جنرل سیکرٹری ڈاکٹرمحسن علی، ڈاکٹرحارث اور ڈا...

وزیر جامعات اور سیکرٹری جامعات سے جامعہ کراچی کے اساتذہ کی ملاقات،احتجاج ختم کرنے کا اعلان

جامعہ کراچی میں اساتذہ اور سندھ حکومت کا تنازع مزید طول پکڑ گیا وجود - پیر 07 فروری 2022

سندھ کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ جامعہ کراچی میں اساتذہ اور سندھ حکومت کا تنازع مزید طول پکڑ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں کلاسز اور امتحانات کے بائیکاٹ کا پیر کو ساتواں روز ہے، سندھ حکومت اور انجمن اساتذہ جامعہ کراچی میں ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ڈیڈ لاک کی وجہ انجمن اساتذہ کی...

جامعہ کراچی میں اساتذہ اور سندھ حکومت کا تنازع مزید طول پکڑ گیا

جامعہ کراچی کا داخلہ ٹیسٹ، سرکاری تعلیمی بورڈز کی قلعی کھل گئی وجود - منگل 11 جنوری 2022

جامعہ کراچی کے سال 22- 2021 کے بیچلرز کے داخلہ ٹیسٹ میں سندھ کے سرکاری بورڈز کے معیار تعلیم کی قلعی کھول دی، صرف کیمبرج اور آغا خان بورڈ ہی متاثر کن کارکردگی دکھاسکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں داخلہ کے خواہشمند انٹر میں 90 فیصد یا اس سے زائد نمبر لانے والے امیدوار بھی ...

جامعہ کراچی کا داخلہ ٹیسٹ، سرکاری تعلیمی بورڈز کی قلعی کھل گئی

طالبات کو بلیک میل کرنے والے دو رکنی گروہ کا تعلق جامعہ کراچی سے نکلا وجود - جمعرات 06 جنوری 2022

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل کی جانب سے شکایت پر حراست میں لئے گئے ملزمان سے ملنے والے شواہد کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ طالبات کے فارم سے تصاویر اور موبائل نمبر چرا کر طالبات کو بلیک میل کرنے والے دو رکنی گروہ کا تعلق جامعہ کراچی سے ہی ہے ،ایف آئی اے نے شکایت ک...

طالبات کو بلیک میل کرنے والے دو رکنی گروہ کا تعلق جامعہ کراچی سے نکلا

فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرن...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی ...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجن...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ ا...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا ک...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے ز...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

مضامین
عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

ثمربار یا بے ثمر دورہ وجود هفته 03 دسمبر 2022
ثمربار یا بے ثمر دورہ

حاجی کی ربڑی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
حاجی کی ربڑی

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی وجود جمعرات 01 دسمبر 2022
پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

اشتہار

تہذیبی جنگ
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا وجود اتوار 13 نومبر 2022
ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا

فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت وجود منگل 08 نومبر 2022
فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود هفته 03 دسمبر 2022
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی وجود هفته 26 نومبر 2022
بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس وجود پیر 21 نومبر 2022
پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس

بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے وجود اتوار 20 نومبر 2022
بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار