وجود

... loading ...

وجود
وجود
بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی وجود - اتوار 07 جنوری 2018

شہلا حیات بھارت کاہر شہر اپنے انواع واقسام کے کھانوں میں ایک دوسرے سے جدا شناخت رکھتاہے، اگرچہ اب بھارت کے ہر بڑے شہر میں بھارت کے مختلف شہروں کے مشہور اورمرغوب کھانے بھی بآسانی دستیاب ہوتے ہیں لیکن ان کھانوں کے ان کے شہروں میں جس اہتمام کے ساتھ پکایا جاتاہے، دوسرے شہروں میں وہ ذائقہ حاصل نہیں ہوپاتا، کھانوں کے اعتبار سے بھارت کے وہ شہر زیادہ مشہور ہیں جہاں نوابوں اورراجہ مہاراجائوں کے حکمرانی رہی ہے کیونکہ ان کو طرح طرح کے کھانوں کاجنون کی حد تک شوق تھا ،یہی وجہ ہے کہ بھار...

بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی

نیوزی لینڈ میں دنیا کے سب سے بڑے پرندے کی دریافت وجود - پیر 18 دسمبر 2017

ماہرین کا خیال کہ ابتدا میں اس نسل کے پرندوں کا سائز چھوٹا تھا لیکن چونکہ یہ سمندر کے کنارے رہتے تھے۔ انہیں اڑنے کے بغیر ہی خوراک مل جاتی تھی۔ چنانچہ کاہلی اور سستی کے باعث ان کا وزن اور حجم بڑھنا شروع ہوگیا اور پھر آنے والی نسل دیو قامت بن گئی۔نیوزی لینڈ میں سائنس دانوں کو زمانہ قبل از تاریخ کے ایک دیو قامت پرندے کی باقیات ملی ہیں جن کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ پرندہ اپنی ساخت میں آج کے پینگوئن جیسا تھا لیکن قدو قامت اور وزن میں اس سے کئی گنا بڑا تھا۔جاری ہونے والے بیان م...

نیوزی لینڈ میں دنیا کے سب سے بڑے پرندے کی دریافت

نیوزی لینڈ: سرسبزپہاڑوں‘دیدہ زیب جھرنوں ‘حسین وادیوں اور ہردم برستے ساون کی سرزمین وجود - اتوار 17 دسمبر 2017

ابو خضر دلفریب پہاڑوں، دیدہ زیب جھرنوں، حسین وادیوں، ہر دم برستے ساونوں، تاحدِ نگاہ سرسبز چراگاہوں، آئینہ نما جھیلوں، اِٹھلاتے بل کھاتے دریاؤں، رنگ برنگے پھولوں اور چہچہاتے خوش رنگ پرندوں کی سرزمین نیوزی لینڈ کو کرہ ارض پر ایک محفوظ، محبوب اور خوبصورت ترین خطہ زمین تصور کیا جاتا ہے۔ 2017 کے ’’گلوبل پیس انڈیکس‘‘ (Global Peace Index) کے مطابق نیوزی لینڈ کو دنیا کو دوسرا محفوظ ترین ملک قرار دیا گیا جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ’’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘‘ (Corruption Perception ...

نیوزی لینڈ: سرسبزپہاڑوں‘دیدہ زیب جھرنوں ‘حسین وادیوں اور ہردم برستے ساون کی سرزمین

اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ وجود - اتوار 17 دسمبر 2017

ظریف بلوچ مکران کے ساحلی علاقے قدرتی حسن سے مالا مال ہیں اور یہاں سمندری معدنیات کے وسیع ذخائر زمانہ قدیم سے موجود ہیں جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکران کے سمندر میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ جیوانی سے گڈانی تک پھیلا ہوا سمندر تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے ایک اہم خطہ ہے۔ ساحلِ مکران کے دیدہ زیب حسن میں ایک جزیرہ ’’اسٹولا‘‘ بھی شامل ہے۔ اسٹولا جزیرہ تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ جزیرہ نہ صرف قدرتی حسن کے دلفریب مناظر ک...

اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

ہزارہ ڈویژن کا خوبصورت گاؤں ’’سری کوٹ‘‘ وجود - اتوار 29 اکتوبر 2017

پرویرقمر ہری پور جو کہ ہزارہ ڈویژن کا اہم شہر ہے۔ صوبہ خیبر پختوانخواہ میں واقع ہے۔ اسلام آباد سے اس شہر کا فاصلہ تقریباً 65 کلومیٹر ہے۔ ہری پور شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر سر سبز و شاداب پہاڑی سلسلے میں ایک پر فضا اور خوبصورت پہاڑ کے بالکل ٹاپ پر سری کوٹ کا گاؤں موجود ہے۔ جو کہ اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ ساتھ نہایت ہی اعلیٰ مذہبی سید گھرانے کی د جکر معتبر تصور کیا جاتا ہے۔ سری کوٹ کے لفظی معنی ’’پہاڑ کی اونچائی پر گاؤں ‘‘ کے ہے۔ چوکہ لفظ سری کے معنی اونچا ...

ہزارہ ڈویژن کا خوبصورت گاؤں ’’سری کوٹ‘‘

ایمسٹرڈیم، نہریں ، پل، عمارتیں ، گلیاں ، دنیا بھر کے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں وجود - اتوار 29 اکتوبر 2017

رمضان رفیق میں نے اب تک تین بار ایمسٹرڈیم دیکھا ہے، دو دفعہ دوستوں کے ساتھ اور ایک بار اکیلے۔ ایمسٹرڈیم کے رنگوں میں کچھ ایسا خاص ہے جو آدمی کو بیزار ہونے ہی نہیں دیتا۔ پہلی بار دیکھا تو یہ شہر پہلی نظر میں ہی اچھا لگا۔ اْس وقت ہم ایک بس کے ذریعے پیرس سے ایمسٹرڈیم آئے تھے۔ بس میں گزرے اِن چند گھنٹوں کے دوران مجھے ایک ڈچ خاتون کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کا اتفاق ہوا۔ اْس ملاقات میں ہی ایمسٹرڈیم کے خوبصورت ہونے کا یقین سا ہو گیا تھا۔ اگلی دفعہ میرے منہ سے ایمسٹرڈیم کی خوبصو...

ایمسٹرڈیم، نہریں ، پل، عمارتیں ، گلیاں ، دنیا بھر کے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں

سندھ کے ریگزار میں گلزار کا سماں ۔۔فقیر کاآستانہ وجود - اتوار 22 اکتوبر 2017

اختر حفیظ فطرت سے انسان کا رشتہ صدیوں پر محیط ہے۔ پتوں سے اپنا جسم ڈھانپنے، غاروں کو گھر بنا کر رہنے والا انسان اور دریاؤں کو مقدس ماننے والا انسان ترقی کرتا کرتا اِن فطری رنگوں بلکہ زندگی کے حقیقی رنگوں سے دور ہوتا چلا گیا۔مگر اِسی ترقی کی دوڑ نے انسان کو کافی تنہا اور حقیقی سکون سے عاری بھی کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بناوٹی آسائشی چیزوں میں گھرے رہنے کے باوجود بھی ہمیشہ ذہنی و جسمانی تسکین میں تلاش رہتا ہے جو صرف فطرت اور فطری رنگوں میں پیوستہ ہوتی ہے۔ 18ویں صدی کے فرانسیس...

سندھ کے ریگزار میں گلزار کا سماں ۔۔فقیر کاآستانہ

ہندوؤں کا مقدس شہر بنارس پسماندگی کی تصویر صبا حیات - اتوار 22 اکتوبر 2017

وارانسی، کاشی یا بنارس شہر کا ہندو مذہب میں بڑا مقام ہے جہاں زندگی روزانہ موت سے گلے ملتی نظر آتی ہے۔ہندو مذہب میں بنارس کی خاص اہمیت ہے اور ادب میں صبح بنارس کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔یہ شہر صدیوں سے دریائے گنگا کے کنارے آباد ہے اور یہاں دور دراز سے سیاحوں کی آمد کی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ہندو مذہب میں اس شہر اور اس دریا کا اہم مقام ہے۔ کہتے ہیں کہ یہاں غسل کرنے سے پاپ یعنی گناہ دھل جاتے ہیں ۔ اس لیے یہاں ا شنان کرنے والوں کا تانتا لگا رہتا ہے۔یہاں مندروں کی کثرت ہے اور لوگ ...

ہندوؤں کا مقدس شہر بنارس پسماندگی کی تصویر

بھارت کے ریگستان میں نخلستان زین آباد وجود - اتوار 22 اکتوبر 2017

سلمیٰ حسین سندھ کے مشہور شہر تھرپارکر سے متصل بھارتی ریاست زین آباد 1919 میں قائم کیاگیا تھا۔کچھ مغربی بھارت کا ریگستانی علاقہ ہے جس کی سرحد پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر سے ملتی ہے۔ زین آباد اسی ریگستان میں ایک چھوٹی سی ریاست رہی ہے۔زین آباد کی جھیل پورے بھارت بلکہ برصغیر میں مشہور رہی ہے اس نہر میں دیسی اور بدیسی دونوں قسم کے پرندے پائے جاتے ہیں ۔ 1919 میں زین خان نے اپنے بزرگوار کے وطن ڈاس ڈا کو خیرباد کہا اور احمد نگر کے سلطان کی دی ہوئی جاگیر اور 12 ہزاری منص...

بھارت کے ریگستان میں نخلستان زین آباد

1965 ءاور 1971ءکی پاک بھارت جنگوں کامتاثرہ شہر عمر کوٹ وجود - اتوار 15 اکتوبر 2017

وقار احمد جنگوں کی تاریخ کا المیہ رہا ہے کہ آیا یہ نامکمل ہوتی ہیں یا پھر جھوٹی ہوتی ہیں۔ ہیروز اور فتوحات کی عظیم کہانیوں میں اکثر میدان جنگ کی زد میں آنے والے ایک عام آدمی کا درد کہیں کھو سا جاتا ہے۔1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں کے دوران عمرکوٹ، سندھ کے باسیوں کا تذکرہ ہمارے اسکولوں کی نصابی کتابوں میں کہیں نہیں ملتا۔ مجھے 1965 اور 1971 کی جنگوں کی یہ غیر تحریری کہانیاں اس چھوٹے، گرد آلود شہر کی حالیہ سیر کے موقعے پر زبانی سننے کو ملیں۔ عمرکوٹ سندھ کے مشرقی حصے میں...

1965 ءاور 1971ءکی پاک بھارت جنگوں کامتاثرہ شہر عمر کوٹ

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے قریب واقع خوبصورت علاقہ پیر لاکھا وجود - اتوار 15 اکتوبر 2017

ببرک کارمل جمالی اب کی بار سیر و تفریح کی غرض سے ہماری منزل ایک ایسا مقام تھا جہاں لوگ نہیں بستے بلکہ ملک میں بسنے والے لوگوں کا علاج کرنے والی جگہ بستی ہے۔ ہماری یہ منزل بلوچستان کے ضلع جھل مگسی سے صرف بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جسے ’’پیر لاکھا‘‘ کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کے باسی اسے ’’ٹھار لاکھا ٹھار‘‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ ’’ٹھار لاکھا ٹھار‘‘ سندھی زبان کا جملہ ہے جس کا مطلب ہے ’’اے لاکھو میرے جسم کو ٹھنڈا کردیں ٹھنڈا۔‘‘ یہاں موجود چشمے کا پانی نہانے والے کے جسم کو ٹ...

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے قریب واقع خوبصورت علاقہ پیر لاکھا

وادی حراموش… دلفریب و دلکش… گلگت بلتستان وجود - اتوار 08 اکتوبر 2017

پرویز قمر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایسے خوبصورت و دلکش خطے عطاء کئے ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور ساری دنیا کے لوگوں باالخصوص قدرتی حسن و رعنائی سے محبت کرنے والوں کو اپنی جانب کھنچتے ہیں ۔ انہی پرکشش وادیوں میں سے ایک وادی حراموش ہے۔وادی حراموش پاکستان کے صوبے گلگت بلتستان میں اپنے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔وادی حراموش گلگت شہر کے شمال میں سطح سمندر سے4578 میٹر بلند ہے گلگت شہر سے وادی حراموش کا فاصلہ تقریباً78 کلو میٹر ہے جس طرح حراموش قدرتی حسن سے مالا مال ہے اسی...

وادی حراموش… دلفریب و دلکش… گلگت بلتستان

اچھڑو تھر ۔جہاں کی دلدلیں انگریزوں سے جنگ میں لوگوں کاٹھکانہ ہوتی تھیں وجود - اتوار 08 اکتوبر 2017

اختر حفیظ صحراؤں کے بھی اپنے دکھ اور سکھ ہیں ۔ ریت کے ٹیلوں ، پگڈنڈیوں ، جانوروں کے ریوڑ اور انسانی آبادی کو اپنے اندر سمائے ان صحراؤں کے رنگ بھی الگ ہوتے ہیں ۔ بارش کا انتظار کرتے لوگوں کی آنکھیں اْس وقت برسنے لگتی ہیں ، جب بادل اِن صحراؤں کی ریت پر برسنے سے انکار کردیتے ہیں ۔ لیکن آنکھوں کا نمکین پانی ریت کو سینچ نہیں پاتا اور نہ ہی اِن میں زندگی کی بہار لاسکتا ہے۔ لیکن زندگی ہر صورت میں صحراؤں میں اپنی بقا کی جنگ لڑتی رہتی ہے۔ سندھ کے دو بڑے صحرا، تھر اور اچھڑو تھ...

اچھڑو تھر ۔جہاں کی دلدلیں انگریزوں سے جنگ میں لوگوں کاٹھکانہ ہوتی تھیں

دریائے اسپرے کے کنارے واقع برلن جرمنی کی عظیم تاریخ اور ماضی کا گواہ شہلا حیات نقوی - اتوار 24 ستمبر 2017

جرمنی کا دارالحکومت برلن 35 لاکھ کی آبادی والا سب سے بڑا شہر ہے جو قدیم و جدید دونوں انداز کے ساتھ وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اِس شہر کی سیاحت کے لیے ہم نے زمینی راستہ اختیار کیا اور سوئیڈن کے دارالحکومت سے تقریباً1400 کلومیٹر کا سفر کرکے یہاں پہنچے۔ کار کے ذریعے زمینی سفر کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے جس سے راستہ میں گزرتے ہوئے پورے خطّے کی سیاحت ہوجاتی ہے۔ کوپن ہیگن پہنچنے کے لیے ہمیں ڈنمارک اور سوئیڈن کے درمیان بحیرہ بالٹک پر 16 کلومیٹر طویل پل بھی عبور کرنا پڑا جس کا چار کلومیٹ...

دریائے اسپرے کے کنارے واقع برلن جرمنی کی عظیم تاریخ اور ماضی کا گواہ

کراچی کا مضافاتی قلعہ رتوکوٹ، جو ڈوبنے کے قریب ہے وجود - اتوار 24 ستمبر 2017

ابوبکر شیخ جب آپ کراچی کے سمندری کنارے سے کشتی میں بیٹھ کر کسی بھی جزیرے پر چلے جائیں تو جولائی کے گرم ترین شب روز بھی کسی افسانوی دنیا جیسے لگنے لگتے ہیں۔ آپ ابراہیم حیدری کے نزدیک واقع ’ڈنگی‘ اور ’بھنڈاڑ‘ جزیروں پر بھی جا سکتے ہیں۔یہ دونوں جزائر فطرت کی ایک عنایت ہیں۔ وہاں بھنڈاڑ پر آپ کو ایک قدیم درگاہ بھی مل جائے گی جہاں جزیروں پر رہنے والے ماہی گیر ہر سال میلے کا انعقاد کرتے ہیں۔ ان جزیروں کے کناروں تک کثافت نہیں پہنچی اس لیے وہاں کے کنارے ابھی تک صاف سْتھرے ہیں اور ...

کراچی کا مضافاتی قلعہ رتوکوٹ، جو ڈوبنے کے قریب ہے

قاہرہ کا نواحی نخلستان سیوا سیاحوں کی توجہ کا مرکز وجود - اتوار 17 ستمبر 2017

کچھ عرصہ قبل تک بہت کم لوگ قاہرہ کے نواح میں واقع وسیع نخلستان سیوا کے بارے میں کچھ جانتے تھے اور مصر کی سیر کے لیے نکلنے والے سیاح عام طور پر قاہرہ اور مصرکے دیگر مشہور شہروں تک ہی محدود رہتے تھے ،سیوا قاہرہ کے شمال مغربی علاقے میں لیبیا کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اسے مصر کے لیے قدرت کا تحفہ قرار دیاجاتا ہے، اس شہر کی تاریخی عمارتیں اور علاقے میں واقع روایتی مکان دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں ، اور انھیں دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ اس علاقے کو بجا طور پر مصر کا پوشیدہ خزانہ کہا جاتا...

قاہرہ کا نواحی نخلستان سیوا سیاحوں کی توجہ کا مرکز

جنوبی امریکا کا خوبصورت ملک سری نام وجود - اتوار 17 ستمبر 2017

ہالینڈکا زیادہ عرصے تک قبضہ برقراررہنے کے باعث سری نام میں ڈچ زبان کو سرکاری زبان کادرجہ حاصل ہے ‘ پرقومی زبان نہیں سری نام کاشمار جنوبی امریکا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اورہرسال لاکھوں سیاح اس ملک کی خوبصورتی کی وجہ سے اس کی سیر کرنے کے لیے اس ملک کا رخ کرتے ہیں ، اوریہاں کے حسین مقات کی سیرکرکے لطف اندوزہوتے ہیں ۔ یہ ملک بدقسمتی سے مختلف ادوار میں مختلف طاقتوں کے زیر نگیں رہا لیکن اس ملک کے جری باشندوں نے کبھی بھی غلامی کو دل سے قبول کیا اور نہ ہی اسے اپنا مقدر تصو...

جنوبی امریکا کا خوبصورت ملک سری نام

ٹلہ جوگیاں جہلم میں سورج پرست آریوں کی نشانی وجود - اتوار 17 ستمبر 2017

ٹلہ کی چوٹی سطح زمین سے 3200 فٹ بلند ہے۔ یہ ایک صحت افزا اور خوبصورت مقام ہے۔ جہاں طبی جڑی بوٹیوں کے علاوہ ایسے مختلف قسم کے درخت اور پرندے بھی پائے جاتے ہیں جو اس علاقے کے دوسرے حصوں میں دکھائی نہیں دیتے۔ آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے آریہ قوم ترکمانستان سے کوہ ہمالیہ کے شمالی اور مغربی درّوں کی راہ سے پنجاب میں وارد ہوئی تھی اور چونکہ پنجاب کا پہلا پڑاؤ درئہ جہلم ہے اس لیے اکثر مورخین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ آریہ قوم کی پہلی جولان گاہ وادی جہلم تھی۔ یہ قوم فطری مظاہ...

ٹلہ جوگیاں جہلم میں سورج پرست آریوں کی نشانی

۔کارگل کاوہ پاکستانی گاؤں جو اب بھارت کا حصہ ہے! شہلا حیات نقوی - اتوار 10 ستمبر 2017

1947 میں تقسیم برصغیر کے بعد بہت سے گاؤں اور شہر تھے جن کے رہنے والوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پاکستان کے بجائے بھارت کے شہری بن جائیں گے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جنھیں یقین تھا کہ ان کا گاؤں یا شہر بھارت کا حصہ رہے گا لیکن آزادی کو سورج طلوع ہوتے ہی ان کو یہ معلوم ہوا کہ وہ بھارتی نہیں بلکہ پاکستانی شہری بن چکے ہیں ،لیکن کارگل میں ایک گاؤں ایسا بھی ہے جو پہلے پاکستان کا حصہ تھا لیکن اب وہ بھارت کا شہر ہے اور اس شہر سے اپنے دوسرے گھروں کوجانے والے ان کے...

۔کارگل کاوہ پاکستانی گاؤں جو اب بھارت کا حصہ ہے!

دنیا کے خطرناک ترین سیاحتی مقامات وجود - اتوار 10 ستمبر 2017

رسیاں باندھ کر آتش فشانی سلسلے کے اندر چھلانگ لگانے سے لے کر لاکھوں جیلی فش کے ساتھ تیراکی کرنے تک دنیا بھر میں مہم جوئی کے شوقین سیاحوں کے لیے خطرناک جگہوں کی کوئی کمی نہیں ۔ تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ سیاحت کے لیے سب سے خطرناک ترین کن مقامات کو قرار دیا جاتا ہے؟دنیا کے ایسے کئی سیاحتی مقامات ہیں جنھیں انتہائی خطرناک قرار دیا جاتا ہے مگر پھر بھی مہم جو سیاح وہاں جانے سے باز نہیں رہتے۔ فیری میڈوز ویسے تو یہ انتہائی خوبصورت اور مسحور کردینے والا مقام ہے مگر وہاں جانے والا ...

دنیا کے خطرناک ترین سیاحتی مقامات

دیربالا کے پہاڑی علاقوں کے دلفریب مناظر! صبا حیات - اتوار 10 ستمبر 2017

ہم جب بھی پشاور جاتے تھے تو دوستوں کا اصرار ہوتا کہ دیر بالا چلنا چاہئے،لیکن پشاور سے دیربالا تک 6گھنٹے کا سفر سوچ کر ہی پسینہ آجاتا تھا ،لیکن اس دفعہ جب ہم پشاور پہنچے تودوست مصرہوگئے کہ اس دفعہ تو دیربالا ضرور ہی جانا ہے ، بہرحال دوستوں کے اصرار پر ہم اس پرخطر سفر پر تیار ہوگئے،دوست کے پاس گاڑی تھی اور وہ بھی نئی لہٰذا ناشتے کے بعد سفر کاآغاز کیا،جوں جوں ہم آگے بڑھتے جارہے تھے ایک پْرکیف سا ماحول طاری ہوتا جارہاتھا۔ ہم سب ایک دوسرے سے بے خبر گردنوں کو گاڑی کے شیشوں کی جا...

دیربالا کے پہاڑی علاقوں کے دلفریب مناظر!

پاکستان کی قابل دید حسین ودلفریب جھیلیں صبا حیات - اتوار 27 اگست 2017

اگر آپ اس برس کہیں گھومنے پھرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بیرون ملک جانے سے پہلے اپنے ملک میں سفر کریں اور نئی چیزوں کا تجربہ کرکے دیکھیں ۔اس سلسلے میں آپ کی مدد کے لیے ہم نے ایک فہرست مرتب کی ہے جس کے ذریعے آپ جان سکیں گے کہ 2017 میں آپ پاکستان کے کن مقامات میں گھومنے سے ایک ناقابل فراموش تجربے کو زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں ۔اس فہرست کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ پاکستان کی خوبصورت ترین جھیلوں کے گرد گھومتی ہے۔ سیف الملوک جھیل ضلع مانسہرہ کی سب سے مشہور اور خوبصورت جھیل سیف الملو...

پاکستان کی قابل دید حسین ودلفریب جھیلیں

جنجیریت: اپنی تاریخ سے انکاری چترال کی دلکش وادی وجود - اتوار 27 اگست 2017

محمد کاشف علی کالاش قبیلہ، سلسلہِ ہندوکش میں دور دراز بسے چترال کی تین وادیوں (بمبوریت، رمبور اور بریر) میں پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) کی قربت میں آباد ہے۔اس علاقے میں آبادی زیادہ نہیں ، مقامی نجی فلاحی تنظیم کے سربراہ وزیر زادہ کالاش کے مطابق تینوں وادیوں میں کالاش قبیلے کے تقریباً چار ہزار افراد مقیم ہیں ، جو اپنی قدیم تہذیب وتمدن پر آج بھی کاربند ہیں ۔ تاریخ اور روایات کی آمیزش سے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کالاش موجودہ وادیوں میں قریب دو ہزار برسوں سے یہاں آباد ہیں ۔ ...

جنجیریت: اپنی تاریخ سے انکاری چترال کی دلکش وادی

انڈیا کا شہر احمدآباد عالمی ثقافتی ورثے میں شامل وجود - پیر 21 اگست 2017

انڈیا کے شہراحمدآباد کو سلطان احمد شاہ نے 15ویں صدی میں آباد کیا تھا۔حال ہی میں اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے انڈیا کے معروف شہر احمدآباد کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔یونیسکو کی کمیٹی نے گزشتہ دنوں احمد آباد کے علاوہ کمبوڈیا میں سمبور پیری کک کے ٹیمپل زون کے علاوہ چین کے کلانگسو کو بھی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ۔ احمدآبادبھارت کا پہلا شہر ہے جسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس دوڑ میں ہندوستانی دا...

انڈیا کا شہر احمدآباد عالمی ثقافتی ورثے میں شامل

مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)