وجود

... loading ...

وجود
وجود

اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

اتوار 17 دسمبر 2017 اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

ظریف بلوچ
مکران کے ساحلی علاقے قدرتی حسن سے مالا مال ہیں اور یہاں سمندری معدنیات کے وسیع ذخائر زمانہ قدیم سے موجود ہیں جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکران کے سمندر میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ جیوانی سے گڈانی تک پھیلا ہوا سمندر تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے ایک اہم خطہ ہے۔ ساحلِ مکران کے دیدہ زیب حسن میں ایک جزیرہ ’’اسٹولا‘‘ بھی شامل ہے۔ اسٹولا جزیرہ تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ جزیرہ نہ صرف قدرتی حسن کے دلفریب مناظر کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہاں نایاب نسل کی سمندری مخلوقات پائی جاتی ہیں اور اسٹولا کو مونگے کی چٹانوں (coral reef) کا گھر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کئی اقسام کے کورل ریف موجود ہیں۔
بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی سے 39 کلومیٹر جنوب مشرق کی طرف واقع اسٹولا جزیرہ پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ ماہرین اسے ایک درمیانے درجے کا جزیرہ کہتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے ’’ہفت تلار‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہفت تلار بلوچی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ایسی ’’سات چوٹیاں‘‘ ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں۔ اس نام کے بارے میں مقامی لوگوں کی مختلف آراء ہیں اور جب میں نے مقامی لوگوں سے پوچھا تو اْن کا کہنا تھا کہ یہ نام ان سے کئی نسلوں پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یعنی ہفت تلار کا نام کئی نسل پہلے کے لوگوں نے رکھا تھا۔
ماضی بعید میں یہ ساحلی علاقہ نہ صرف ایک تجارتی مرکز تھا بلکہ تجارتی گزرگاہ کا درجہ بھی رکھتا تھا۔ یہاں زیادہ تر ہندو اور اسماعیلی لوگ کاروبار اور تجارت کیا کرتے تھے۔ مکران کے ساحلی شہر پسنی سے اسٹولا کا سفر کشتیوں سے تین سے چار گھنٹے کی مسافت پر ہے جبکہ اسپیڈ بوٹ پر اسٹولا کا سفر ایک گھنٹے سے کم کی مسافت پر ہے۔ اسٹولا جانے والے سیاحوں کو اسپیڈ بوٹ کی بکنگ پسنی ہی سے کروانی پڑتی ہے۔ کراچی سے سیاحوں کی بڑی تعداد اسٹولا کی سفر کو آتی ہے۔
اسٹولا جزیرہ 6.7 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے جس کی لمبائی 6.7 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ چوڑائی 2.3 کلومیٹر ہے۔ یہ سطح سمندر سے 246 فٹ تک بلند ہے۔ اسٹولا کی قدیم تواریخ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہاں ہزاروں سال پہلے انسانوں کی آمدورفت تھی۔ اسٹولا کی دریافت کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ 325 قبل مسیح کے یونانی دور میں یہ جزیرہ دریافت ہوا لیکن اس کی تصدیق میں تاریخی دستاویز دستیاب نہیں۔ مکران کے ساحلی علاقوں میں آنے والے زلزلوں سے اسٹولا کا پچھلا حصہ سمندر برد ہوتا جارہا ہے اور سمندر کی تیز لہروں کے بھی جزیرے کے عقبی حصے سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کا ایک حصہ سمندر کی نذر ہوتا جارہا ہے جس کے باعث جزیرے پر پڑنے والی بڑی دراڑیں بھی نمایاں نظر آنے لگی ہیں۔
پانچویں صدی عیسوی کے معروف یونانی مؤرخ ’ہیروڈوٹس‘ نے اپنی مرتب کردہ تواریخ میں مکران کا ذکر کرتے ہوئے اس ساحل کے قریب جن چار جزیروں کی نشاندہی کی ہے ان میں ایک اسٹولا بھی تھا۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ جن چار جزیروں کی ہیروڈوٹس نے نشاندہی کی تھی، ان میں سے تین سمندر برد ہو چکے ہیں جبکہ اسٹولا چوتھا جزیرہ ہے، جو آج بھی موجود ہے۔
یونانی تاریخ میں غالباً مکران کے جس جزیرے کو ’’نوسالا‘‘ کہا گیا ہے، وہ آج کا اسٹولا ہے۔ یونانیوں کے مطابق اس جزیرے پر دیوی ’افریدس‘ کا گھر تھا اور جب بھی کوئی کشتی جزیرے کے قریب سے گزرتی تو افریدس، کشتی پر موجود لوگوں کو مچھلی بنا کر سمندر میں چھوڑ دیتی تھی۔
تاریخ میں ایک اور روایت یہ ہے کہ سکندرِاعظم کی مقدونیائی بحری فوج جب یہاں پہنچی تو اس فوج کے سربراہ کے مطابق اس جزیرے میں بیش بہا قیمتی ہیرے اور جواہرات موجود تھے۔ اس کے بعد مصر اور یونان سے بڑی تعداد میں بیوپاریوں نے جزیرہ اسٹولا کا رخ کرلیا لیکن وہ ناکام ہوکر واپس چلے گئے۔ اگرچہ ہیرے جواہرات کا قیاس ناقص سہی، مگر آج کے دور میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے سمندر میں تیل و گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں جو مکران کے ساحل سے لے کر خلیج فارس تک جاتے ہیں۔ سمندر میں لاوا اْبلنے اور جزیرے نمودار ہونے کی ایک وجہ یہ ذخائر بھی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مکران کے ساحلی علاقوں میں میتھین گیس کے ذخائر موجود ہیں جن کے اچانک پھٹ پڑنے سے سمندر کی تہہ سے جزیرے نکلتے ہیں جو کچھ عرصے کے بعد واپس سمندر برد ہوجاتے ہیں۔ حال ہی میں گوادر کے قریب ایک جزیرہ برآمد ہوا ہے جبکہ ہنگول کے علاقے میں آتش فشاں پہاڑ بھی موجود ہیں جن پر ہر وقت لاوا ابلتا رہتا ہے۔
اسٹولا جزیرے کے بارے میں بعض لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ یہ ایک زمانے میں باقاعدہ خشکی کا حصہ تھا جو ایک طاقت ور زلزلے کے بعد جدا ہو کر سمندر میں جا پہنچا۔ اس روایت سے ملحقہ اپنی رائے کی مضبوطی کے لیے وہ پسنی کے شمال میں سمندر کے کنارے پر موجود ’’ذرین‘‘ نامی پہاڑ کو اسٹولا کا بچھڑا ہوا حصہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب اسٹولا جزیرے کی قدیم تواریخ پر محدود تحقیق کی وجہ سے بعض آراء کی دستاویزی تصدیق ممکن نہیں۔ مقامی لوگ تعلیم اور تحقیق سے کم واقفیت کی وجہ سے اسٹولا کی تاریخ کے حوالے سے صرف روایت پر یقین رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں قدیم ادوار میں اسٹولا پر کی گئی تحقیق کا بیشتر حصہ غیرملکی مؤرخین اور محققین کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ اس کے برعکس اسٹولا کے بارے میں مقامی افراد یا تو سینہ بہ سینہ تواریخ پر انحصار کرتے ہیں یا روایات پر جو وہ نسل درنسل اپنے بزرگوں سے سنتے آرہے ہیں۔ ایسے میں اسٹولا کی درست تاریخ کا تعین خاصا مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔البتہ غالب امکان ہے کہ پسنی کی حالیہ آبادی دو سو سے تین سو سال سے یہاں موجود ہے جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پسنی سے ملحقہ علاقہ کلمت ماضی میں تجارتی حوالے سے اہم علاقہ تھا اور سولہویں صدی کے حمل جہند اور پرتگیزیوں کی جنگ سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔
عرب اسٹولا جزیرے کو ’’استالو‘‘ کے نام سے جانتے ہیں جبکہ ہندو روایات میں اس کا نام ’ستادیپ‘ ہے۔ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا عقیدہ ہے کہ ’’مہاکالی‘‘ المعروف ’’بھوانی‘‘ کا مندر اس جزیرے پر تھا اور مہاکالی ہر روز نہانے کیلیے یہاں سے ہنگلاج جایا کرتی تھی۔ اس وقت بھی اسٹولا جزیرے پر ہندوؤں کا ایک مندر موجود ہے جبکہ اس کے علاوہ پسنی شہر میں ہندوؤں کا کوئی بھی مندر موجود نہیں۔ (ہنگلاج میں ہندوؤں کا مندر ’نانی پیر‘ ہے جو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے ہنگول میں واقع ہے۔ یہاں ہنگول دریا بھی بہتا ہے۔ ہنگلاج میں ہر سال ہزاروں ہندو یاتری زیارت کے لیے آتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مہاکالی دراصل نانی پیر نامی عبادت گزار خاتون کو دیکھنے کیلیے جزیرہ اسٹولا سے ہنگلاج جاتی تھی۔)
اس جزیرے پر ساحل کے راستے داخل ہوتے ہی سامنے حضرت خضر سے منسوب ایک مزار آج بھی موجود ہے جس کے بارے میں مقامی روایت یہ ہے کہ وہ علاقے کو ناگہانی طوفانوں سے بچاتا ہے۔ اسٹولا کے علاوہ پسنی شہر کے دیگر مقامات پر بھی حضرت خضر کے مبینہ ٹھکانے موجود ہیں اور علاقے میں اس روایت کے ماننے والے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ حضرت خضر زندہ پیر ہیں۔
حکومت پاکستان نے 1982 میں جزیرے پر لائٹ ہاؤس سسٹم بھی نصب کیا تھا اور 1987 میں اس سسٹم کو شمسی توانائی سے منسلک کیا؛ آج جزیرے پر اس کی باقیات ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد یہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کا تحفظ تھا کہ وہ رات کے اوقات میں جزیرے سے ٹکرا نہ جائیں۔ مقامی ماہی گیر کہتے ہیں کہ ماضی میں راستہ تلاش کرنے میں یہ سسٹم کارآمد ثابت ہوا۔ اس وقت ماہی گیروں کے پاس جدید آلات کی کمی تھی اور یہ ساحل ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ بھی ہے۔
اسٹولا جزیرے پر آبی پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جبکہ اس جزیرے کا ساحل بعض آبی پرندوں کا قدرتی مسکن بھی ہے۔ سائبیریا سے ہر سال نقل مکانی کرکے مکران کے ساحل کا رخ کرنے والے آبی پرندے بھی اسٹولا کے ساحل کو اپنا عارضی ٹھکانہ بناتے ہیں جبکہ سردیوں کے موسم میں یہاں نایاب ہجرتی پرندے (مائیگریٹری برڈز) بھی آتے ہیں۔
اسٹولا جزیرے کے ساحل پر سبز کچھوے اور ہاک بل کچھوے بھی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ سبز کچھووں اور ہاک بل کچھووں کے بِل بھی ساحل کے قریب موجود ہیں جبکہ وہ انڈے بھی اسٹولا کے ساحل پر دیتے ہیں۔ حیاتیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ساحل سبز کچھووں کی افزائشِ نسل کا علاقہ (نیسٹگ ایریا) ہے کیونکہ یہ مکران کے دیگر ساحلوں کی نسبت خاصا محفوظ ہے۔ اسٹولا کے ساحل پر جا بجا سبز کچھووں کے بِل (نیسٹ) نظر آتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سبز کچھووں کی نسل دنیا بھر سے معدوم ہوتی جارہی ہے اور اس تناظر میں اسٹولا کے ساحل پر آبادی نہ ہونے کی وجہ سے یہ جگہ سبز کچھووں کو افزائشِ نسل کے لیے بہترین پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں اس بات پر شدید تشویش بھی ہے کہ یہاں آنے والے سیاح بحری حیات (میرین لائف) کے بارے میں آگہی نہ ہونے کے باعث سبز کچھووں کیلیے خطرہ بن رہے ہیں۔
اسٹولا کے ساحل کے قریب ماہی گیر بھی شکار کرتے ہیں اور وقتا فوقتاً ساحل پر کیمپ لگاتے ہیں جس سے سمندری مخلوق کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سبز کچھوے کی مادہ اس وقت انڈے دیتی ہے جب روشنی اور شور نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹولا کے جزیرے کو ماہرین سبز کچھووں کی بقاکیلیے بہترین مقام تصور کرتے ہیں۔ البتہ ماہرین اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ ماہی گیروں کے جالوں میں کچھوے پھنس جاتے ہیں اور امدادی انتظام نہ ہونے کے باعث ان میں سے بیشتر کچھوے مرجاتے ہیں۔ حال ہی میں حکومت پاکستان نے جون 2017 میں اسٹولا کو ’’میرین لائف پروٹیکٹڈ ایریا‘‘ قرار دیا ہے جہاں ہر اس عمل کی ممانعت ہے جس سے بحری حیات (میرین لائف) کو خطرہ ہو۔ اس ضمن میں اسٹولا پاکستان کا واحد میرین لائف پروٹیکٹڈ ایریا ہے۔
ماہرِینِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ اسٹولا جزیرہ مونگے کی چٹانوں (Coral reefs) کا گھر اور مختلف الاقسام آبی حیات کیلیے بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ساحل بہت سی اقسام کے آبی پرندوں اور جانوروں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے جو مختلف اقسام کی آبی حیات کیلیے بہت ضروری ہے۔جزیرے کے قریب ماہی گیر اکثر شکار کرکے رات اسٹولا کے ساحل پر گزارتے ہیں مگر بعض ماہرین کی اس بارے میں رائے یہ ہے کہ جزیرے کے قریب ماہی گیروں کے جال کچھووں کیلیے نقصان دہ ہیں جو اْن کی نسل خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ کچھووں کی محفوظ افزائش نسل یقینی بنانے کیلیے ضروری ہے کہ جزیرے کے قریب شکار نہ کیا جائے اور جزیرے کے قریب سے جال کے ٹکڑے صاف کیے جاتے رہیں۔
اسٹولا جزیرہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایک سیاحتی مقام ہے جہاں سیاح سیر کرنے اور ماہرین تحقیق کرنے آتے رہتے ہیں۔ تاہم سیاحوں کے کم تعداد میں یہاں آنے کی اہم وجوہ میں یہ باتیں بھی شامل ہیں کہ اسٹولا جانے والوں کو اپنی کیمپنگ خود کرنا پڑتی ہے اور بوٹ کی بکنگ بھی خود ہی کروانی ہوتی ہے۔ اسٹولا جزیرے پر میٹھے پانی کے ذخائر موجود نہیں اس لیے وہاں جانے والوں کو اپنے ساتھ میٹھا پانی بھی وافر مقدار میں لے جانا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جزیرے پر سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے اقدامات کرے مگر سیاحت یا کسی اور قسم کی سرگرمی کا انتظام کرتے ہوئے اس چیز کا خیال بھی رکھا جائے کہ جزیرے کے قدرتی حسن اور یہاں موجود آبی حیات بشمول پرندوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان میں حملہ، پاک فوج کے دس جوان شہید وجود - جمعه 28 جنوری 2022

بلوچستان کے علاقے کیچ میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 10 جوان شہید ہو گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر یہ حملہ 25 اور 26 جنوری کی درمیانی رات کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ کلیئرنس آپریشن میں 3 دہشت گرد گرفتار کرلیے گئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے ذمے داروں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔

بلوچستان میں حملہ، پاک فوج کے دس جوان شہید

حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس منجمند کرنے کے لیے کارروائی وجود - جمعه 28 جنوری 2022

وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کے لیے لیٹرز لکھ دیے۔ٹک ٹاک اسٹار کے پاکستان میں دو بینک اکاؤنٹس ہیں اور دونوں اکاؤٹس ان کے اصل نام فضا حسین کے نام سے بنائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے دونوں بینکوں کے ہیڈ کمپلائنس کو اکاؤنٹس منجمند کرنے کے لیے لیٹرز لکھے ہیں۔ یاد رہے کہ حریم شاہ نے رواں ماہ کے آغاز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پہلی بار بھاری رقم لے کر لندن پہنچیں اور انہیں پاکستان کے ایئرپورٹ پر کسی...

حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس منجمند  کرنے کے لیے کارروائی

پی ایس ایل سیون کا افتتاحی میچ، دفاعی چیمپئن سلطانز کا فاتحانہ آغاز، کنگز کوپچھاڑ دیا وجود - جمعه 28 جنوری 2022

پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے افتتاحی میچ میں دفاعی چیمپیئن ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو بآسانی 7 وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں پہلی فتح حاصل کرلی ،کراچی کنگز مقررہ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 124 رنز اسکور کرسکی، ملتان سلطانز نے 125 رنز کا ہدف بآسانی3 وکٹوں کے نقصان پر 19ویں اوور میں مکمل کرلیا، کپتان محمد رضوان ناقابل شکست 52 رنز بناکر نمایاں رہے جبکہ تین وکٹیں حاصل کرنے پر عمران طاہر مین آف دی میچ قرار پائے۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایونٹ کے افتت...

پی ایس ایل سیون کا افتتاحی میچ، دفاعی چیمپئن سلطانز کا فاتحانہ آغاز، کنگز کوپچھاڑ دیا

غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانیوالے 13 ملزمان گرفتار وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

وفاقی حساس ادارے اور ایف آئی اے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانے اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث 13 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل نے وفاقی حساس ادارے کی نشاندہی پر کراچی کے چار مختلف مقامات پر کارروائی کی اور حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 13 افراد گرفتار کرلیے۔حکام کی مطابق گرفتار افراد کا تعلق بیرونی انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے جبکہ گرفتار ہونے والوں میں سوئس ایک...

غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانیوالے 13 ملزمان گرفتار

قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی، فروغ نسیم وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاہے کہ قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی،انگلینڈ میں کرمنل ریفارمز کے لیے 15 سال لگے تھے،کرمنل ریفارمز سے ہم سول پراسیجر کورٹ، پاکستان پینل کوڈ، قانون شہادت اور ایک انڈیپینڈینٹ پروسکیوشن سروس متعارف کروارہے ہیں،فورنزک کیلئے لیبارٹریز اور بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، جدید ٹیکنالوجی بھی آئے گی جو انصاف کے نظام کو اوپر لے جائے گی،ریفارمز کے تحت عدالت کے ذریعے مفرور ملزمان کے بینک اکائونٹس، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر چیزیں فریز کرنا ممکن...

قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی، فروغ نسیم

چین میں والدین کا فروخت کردہ اولاد کو اپنانے سے انکار، بیٹے نے خودکشی کرلی وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

چین میں ایک افسوسناک واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر دکھ دیا ہے۔ 17 سال قبل اپنی اولاد کو دوسری فیملی کے ہاتھوں بیچنے والے والدین کے پاس ان کا بیٹا لوٹ آیا لیکن انہوں نے اسے اپنانے سے انکار کیا جس پر بیٹے نے دل برداشتہ ہوکر خود کی جان لے لی۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق لیو زیژو نے چین کے شہر سانیا میں ساحل سمندر پر خودکشی کی۔ اپنی موت سے پہلے لیو نے دس ہزارالفاظ پر مبنی خودکشی نوٹ بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا۔ لیو نے سوشل میڈیا پر اپنے سگے والدین کو تلاش کرنے کے مشن سے متعلق...

چین میں والدین کا فروخت کردہ اولاد کو اپنانے سے انکار، بیٹے نے خودکشی کرلی

بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں پولیس نے گوگل (ایلفابیٹ ان کارپوریشن)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او)سندر پچائی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ سندر پچائی اور پانچ دیگر کمپنیوں کے آفیشلز کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گوگل کے سندر پچائی کے ساتھ دیگر پانچ کمپنیوں کے حکام کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ۔ اپنے بیان میں ممبئی پولیس کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور پانچ دیگر کمپنیوں کے آفیشلز کے خلاف ک...

بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

کافی پینے سے ہاضمہ بھی درست رہتا ہے،فرانسیسی ماہرین وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

فرانس میں ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کافی پینے سے جہاں دل اور دماغ کو فائدہ پہنچتا ہے، وہیں پیٹ اور ہاضمے کا نظام بھی بہتر رہتا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ایک تجزیاتی مطالعہ (ریویو اسٹڈی)تھا جس میں کافی کے استعمال سے متعلق اب تک کی گئی 194 تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ روزانہ 3 سے 5 کپ کافی پینے سے صحت پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑتے جبکہ پیٹ کے مفید جرثوموں کی تعداد بڑھتی ہے جو ہاضمے پر بہت اچھا اثر ڈالتے ہیں۔ کافی پینے کے باعث قولون (آنت کے اختتامی...

کافی پینے سے ہاضمہ بھی درست رہتا ہے،فرانسیسی ماہرین

رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم قرار وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رات کے کھانے کے وقت اور بلڈ شوگر کی سطح کے درمیان تعلق موجود ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل، برگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل اور اسپین کی مورسیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے اوقات نیند اور میلاٹونین کی سطح سے جڑے ہوتے ہیں۔ میلاٹونین ایک ایسا ہارمون ہے جو رات کو جسم میں خارج ہوتا ہے جس سے نیند اور بیداری کے عمل کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ محققین نے ب...

رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم قرار

جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیش رفت وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

شہر قائد میں ستائیس روز سے جاری جماعت اسلامی کا دھرنا رنگ لانے لگا ہے، جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیشرفت ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے بعض اہم بلدیاتی ادارے میئر کے ماتحت کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، بلدیاتی قانون میں کم از کم 3 اہم شعبے میئر کے ماتحت کیے جائیں گے۔گزشتہ 27 روز سے جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا جاری ہے، اس دوران جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور سندھ حکومت کے نمائندوں کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے لیکن ن...

جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیش رفت

فیس بک کے مفت انٹرنیٹ کے پیسے، پاکستانیوں سے33کروڑ ماہانہ وصولی وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

فیس بک نے اپنی سروسز تک مفت رسائی کے لیے پاکستان، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ترقی پزیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے۔امریکی اخبار کے مطابق فیس بک نے فیس بک اور دیگر ویب سائٹس تک مفت رسائی فراہم کرنے کے لیے پاکستان، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے لیکن فیس بک کی اندرونی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے بہت سے صارفین کو ان سروس کے عوض چارج کیا جا رہا ہے جو کہ مجموعی طور پر لاکھوں ڈالرز م...

فیس بک کے مفت انٹرنیٹ کے پیسے، پاکستانیوں سے33کروڑ ماہانہ وصولی

کراچی میں ریلیوں کے باعث پی ایس ایل میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

کراچی میں بدھ کی شام سیاسی جماعتوں کی ریلیوں اور سیاسی کارکنان کی پولیس سے جھڑپ کے بعد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ کردیے گئے۔ جمعرات سے شروع ہونے والے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن سے قبل بدھ کی رات چار ٹیموں کو پریکٹس کرنا تھی، معین خان اکیڈمی میں پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا پریکٹس میچ شیڈولڈ تھا جبکہ نیشنل اسٹیڈیم میں کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کی ٹیموں کو نیٹ پریکٹس کرنا تھی۔ سیاسی جماعتوں کی ریلیاں، کارکنان کی پولیس...

کراچی میں ریلیوں کے باعث پی ایس ایل میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ

مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)