وجود

... loading ...

وجود
وجود

نیوزی لینڈ: سرسبزپہاڑوں‘دیدہ زیب جھرنوں ‘حسین وادیوں اور ہردم برستے ساون کی سرزمین

اتوار 17 دسمبر 2017 نیوزی لینڈ: سرسبزپہاڑوں‘دیدہ زیب جھرنوں ‘حسین وادیوں اور ہردم برستے ساون کی سرزمین

ابو خضر
دلفریب پہاڑوں، دیدہ زیب جھرنوں، حسین وادیوں، ہر دم برستے ساونوں، تاحدِ نگاہ سرسبز چراگاہوں، آئینہ نما جھیلوں، اِٹھلاتے بل کھاتے دریاؤں، رنگ برنگے پھولوں اور چہچہاتے خوش رنگ پرندوں کی سرزمین نیوزی لینڈ کو کرہ ارض پر ایک محفوظ، محبوب اور خوبصورت ترین خطہ زمین تصور کیا جاتا ہے۔ 2017 کے ’’گلوبل پیس انڈیکس‘‘ (Global Peace Index) کے مطابق نیوزی لینڈ کو دنیا کو دوسرا محفوظ ترین ملک قرار دیا گیا جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ’’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘‘ (Corruption Perception Index) کے مطابق نیوزی لینڈ کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو کرپشن، رشوت، سفارش اور بدعنوانی کی لعنت سے تقریباً پاک ہیں۔
ان تمام تر خوبیوں کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے بھی جنت سمجھا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں قائم آٹھ جامعات کا شمار دنیا کے سرِفہرست (پہلے تین فیصد) اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کرنے والے اداروں میں کیا جاتا ہے۔ ان جامعات سے حاصل کی جانے والی قابلیت، لیاقت اور تربیت نہ صرف ترقی یافتہ ممالک میں مشہور ہے بلکہ ان جامعات کی اسناد و اعزازات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ نیوزی لینڈ کے تعلیمی اداروں اور جامعات میں قائم اعلیٰ تدریسی و تحقیقی معیارات ہیں۔ ان جامعات کے طلباء￿ ، تدریسی عمل کے دوران ایک انتہائی منفرد تجربے سے گزرتے ہیں جس کا شمار دنیا کے بہترین تدریسی و تربیتی نظام کے طور پر کیا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ اپنے دوستانہ ماحول، کثیرالاقوامی اور وسیع النظر معاشرے، کاروبار اور تفریح کے وسیع مواقع کی بدولت اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے حصول کے خواہاں نہ صرف پاکستانی بلکہ دنیا بھر کے طلبا و طالبات کے لیے بھی سونے پہ سہاگہ کے مترادف ہے۔
’’ٹائمز ہائر ایجوکیشن ریسرچ 2017‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 35 ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں نیوزی لینڈ اور کینیڈا بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں جن کے تعلیمی و تربیتی نظام طلباء و طالبات کو مستقبل کے لیے مکمل اور مؤثر طور پر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مذکورہ فہرست میں برطانیا کا چھٹا، آسٹریلیا کا آٹھواں جبکہ جرمنی کا دسواں اور امریکا کا بارہواں نمبر قرار دیا گیا ہے۔
نیوزی لینڈ میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے آ ٹھ جامعات قائم ہیں جنہیں ’’نیوزی لینڈ کوالی فکیشن فریم ورک‘‘ (NZQF) کے تحت رواں دواں رکھا گیا ہے۔ آٹھوں جامعات اپنے پیش کردہ تعلیمی اور تربیتی پروگرام، ان پر ہونے والے اخراجات اور نیوزی لینڈ میں اپنے جائے وقوعہ کے لحاظ سے ایک دوسرے سے انتہائی مختلف ہونے کے باوجود اپنے تعلیمی اور تحقیقی معیار اور اسناد و اعزازات کی قدر و منزلت میں یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔ تمام جامعات کی درجہ بندی دنیا بھر کی اہم جامعات کے درمیان کی جاتی ہے۔ تمام جامعات میں جاری و ساری تعلیمی اور تحقیقی منصوبوں کی نگرانی NZQF کے تحت کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام جامعات کی اسناد اور سرٹیفیکٹس کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔
اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے یکساں معیار کو برقرار رکھنے کے لیے NZQF کا قیام جولائی 2010 میں عمل میں لایا گیا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد اور ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی ادارے اپنے تمام منصوبوں اور پروگراموں میں مقرر کردہ علمی قابلیت اور تربیت کے مطلوبہ معیار کو قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ NZQF وقتاً فوقتاً مقرر کردہ علمی قابلیت اور تحقیقی معیارات میں عالمی تغیرات کے پیش نظر مطلوبہ تبدیلیاں پیش کرنے اور ان کے نفاذ کا بھی ذمہ دار ہے۔ تمام جامعات NZQF کی طرف سے جاری کردہ تجاویز اور قواعد و ضوابط کے یکساں نفاذ کی پابند ہیں۔ NZQF جہاں اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تمام جامعات میں پیش کردہ تعلیمی منصوبوں کا معیار یکساں رہے، وہیں اس بات کو بھی مکمل طور پر یقینی بناتا ہے کہ جامعات میں زیرِتعلیم ہر ایک طالب علم کو تعلیم، تربیت اور تحقیق کے میسر مواقع بلاتخصیص اور ہر امتیاز سے بالا تر ہوں۔ اس ضمن میں مقامی، غیر مقامی، رنگ، نسل، زبان، مذہب، قبیلہ، عوام، خواص، امیر، غریب کسی قسم کی کوئی تخصیص و تفریق نہیں برتی جاتی۔ اسی انتظام و انصرام کی بدولت طبقاتی نظام تعلیم کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجاتا ہے اور ایک غریب چرواہے کی اولاد کو بھی وہی مواقع حاصل ہوتے ہیں جو وزیرِاعظم کی اولاد حاصل کرسکتی ہے۔
پاکستانی طلباء و طالبات کے لیے نیوزی لینڈ کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ لہٰذا ذیل میں نیوزی لینڈ میں قائم آٹھ جامعات کا ایک تعارفی جائزہ پیش کیا جارہا ہے جو یقیناً پاکستانی طلباء و طالبات کیلیے دلچسپی کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ پْرکشش بھی ہوگا۔ قارئین کی سہولت کے لیے ہر جامعہ کے نام ہی کو متعلقہ ہائپر لنک بنادیا گیا ہے تاکہ آپ صرف ایک کلک سے اس یونیورسٹی کی ویب سائٹ تک براہِ راست رسائی حاصل کرسکیں۔
1۔ یونیورسٹی آف آکلینڈ (University of Auckland)
یونیورسٹی آف آکلینڈ، نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ میں قائم ملک کی سب سے بڑی جامعہ ہے۔ دنیا بھر کی جامعات کی درجہ بندی کے مطابق اس کا نمبر 82 ہے جس کا قیام 1883 میں صرف چند ڈگری پروگرام اور 95 طلباء و طالبات کے ساتھ عمل میں آیا تھا۔ اس جامعہ کے چھ مختلف کیمپس قائم ہیں جن میں اس وقت ایک سال کے دوران زیرِتعلیم رہنے والے طلباء کی تعداد چالیس ہزار سے زیادہ ہے۔ یونیورسٹی آف آکلینڈ کی ایک انفرادی خصوصیت اس میں جاری پچاس سے زائد تعلیمی اور تحقیقی ڈگری پروگرام ہیں جنہیں ’’جڑواں ڈگری پروگرام‘‘ (Conjoint Programs) کے طور پر رائج کیا گیا ہے۔ یہ جڑواں پروگرام نہ صرف نیوزی لینڈ بلکہ دنیا بھر کی جامعات میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ایک ڈگری پروگرام میں درج طالب علم ایک ہی وقت میں ایک سے زائد متعلقہ مضامین میں ڈگری حاصل کرسکتا ہے، جبکہ کسی دوسری جامعہ میں دو مختلف مضامین میں ڈگری حاصل کرنے کیلیے دوہری مدت اور اخراجات (فیس) درکار ہوتے ہیں۔
2۔ آکلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (Auckland University of Technology)
آکلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کو عرفِ عام میں AUT کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے جس کا قیام 1895ء میں عمل میںآیا تھا۔ قیام کے وقت اس ادارے کا نام آکلینڈ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مقرر کیا گیا جسے یونیورسٹی کا درجہ دیتے وقت آکلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس جامعہ کا مرکزی کیمپس ا?کلینڈ کے مرکزی کاروباری علاقے CBD میں قائم ہے جبکہ دیگر کیمپس پورے نیوزی لینڈ کے مختلف شہروں میں قائم ہیں۔
AUT میں کسی بھی ایک تعلیمی سال میں درج شدہ طلباء کی تعداد 27000 سے زیادہ ہوتی ہے جن میں تقریباً 2500 بین الاقوامی طلباء شامل ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بین الاقوامی طلباء و طالبات کی وابستگی دنیا بھر کے 82 مختلف ممالک سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے جامعہ میں سماجی اور معاشرتی اعتبار سے وسیع تغیر پایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جامعہ میں حصول علم میں مشغول طلبائکی ایک بڑی تعداد غیر روایتی عمر رسیدہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے جن کی اوسط عمر 30 برس سے زائد ہے۔
3۔ وکٹوریہ یونیورسٹی آف ویلنگٹن
نیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلنگٹن میں قائم وکٹوریہ یونیورسٹی کا قیام 1797 میں عمل میں لایا گیا تھا جو اپنے کلیہ قانون، سماجی علوم اور علومِ حیات کے پیش کردہ ڈگری پروگراموں کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اس جامعہ کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ ریکارڈ کے مطابق اس جامعہ کے کسی بھی پروگرام میں داخلے کے خواہشمند طالب علم کی درخواست کو رد نہیں کیا جاتا۔ اگر امیدوار کے خواہش کردہ پروگرام میں داخلہ بوجوہ ممکن نہ ہو تو ایک محتاط جائزے کے بعد متبادل مگر متعلقہ پروگرام میں داخلے کی پیش کش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر طالب علم متبادل پروگرام میں پہلا سال گزارنے کے بعد بھی اپنے خواہش کردہ ڈگری پروگرام میں ہی تعلیم جاری رکھنے کا خواہشمند ہو تو اسے درخواست کا ایک اور موقع دینے کے ساتھ ساتھ اس کی درخواست کو ترجیح بھی دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جامعہ کا شمار نیوزی لینڈ کی سب سے زیادہ داخلے کی درخواستیں حاصل کرنے والی جامعہ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ دنیا کی پہلی 500 جامعات کی درجہ بندی میں وکٹوریہ یونیورسٹی کا درجہ 225 ہے جس کا نام برطانیا کی ملکہ وکٹوریہ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ایک تعلیمی سال میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی تعداد 21000 سے زائد ہوتی ہے۔
4۔ میسی یونیورسٹی (Massey University)
میسی یونیورسٹی کا شمار نیوزی لینڈ میں قائم وسیع جامعات میں کیا جاتا ہے جس میں ایک سال میں زیرِتعلیم رہنے والے طلباء و طالبات کی تعداد لگ بھگ 38000 ہے۔ میسی یونیورسٹی، فاصلاتی تعلیمی پروگرام پیش کرنے والی سب سے بڑی جامعہ کے طور پر پہچانی جاتی ہے جس کے طلباء کی نصف تعداد انٹرنیٹ اور دوسری فاصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے درس و تدریس سے مستفید ہوتی ہے۔ اس وقت جامعہ میں زیرِتعلیم بین الاقوامی طلباء کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے جس میں دنیا کے سو(100) سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات شامل ہیں۔ ملک بھر میں میسی یونیورسٹی کے کئی مراکز قائم ہیں جن میں ایک ایک کیمپس آکلینڈ، ویلنگٹن اور دو کیمپس پامرسٹن نارتھ میں قائم ہیں۔ میسی میں قائم بزنس اسکول دنیا بھر کی کاروباری دنیا میں مشہور ہے، جبکہ نینو سائنسز، ایوی ایشن اور ویٹرنری سائنسز میں ڈگری پیش کرنے والی ایک منفرد جامعہ ہے۔ میسی یونیورسٹی کا قیام 1925 میں نیوزی لینڈ کے مقبول وزیرِاعظم ولیم میسی (William Massey) کے انتقال کے بعد ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ان ہی کے نام کی نسبت سے عمل میں لایا گیا۔ میسی یونیورسٹی کو خواتین کو داخلے دینے والی پہلی جامعہ کے طور پر بھی پہچانا جاتا ہے۔
5۔ یونیورسٹی آف کینٹربری (University of Canterbury)
یونیورسٹی آف کینٹر بری جسے مختصراً ’’کینٹ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، نیوزی لینڈ کی دوسری سب سے بڑی جامعہ ہے۔ اس کا قیام 1873 میں عمل میں ا?یا تھا جو کرائسٹ چرچ کے علاقے ایلام میں قائم کی گئی تھی۔ یونیورسٹی آف کینٹربری کی جانب سے متعدد ڈگری پروگرام پیش کیے جاتے ہیں جن میں فائن آرٹس، فاریسٹری، طبی، حیاتیاتی اور سماجی علوم شامل ہیں۔ کینٹ میں زیرِتعلیم طلباء و طالبات کی سالانہ تعداد 18000 کے لگ بھگ ہے۔ یہ جامعہ ایک بڑے اور سرسبز و شاداب کیمپس پر مشتمل ہے جس کا رقبہ تقریباً 200 ایکڑ ہے جس میں ایک اقامت گاہ بھی شامل ہے۔ اس وقت کینٹ میں بین الاقوامی طلباء و طالبات کے تقریباً 1800 رہائشی اپارٹمنٹس اور فلیٹس موجود ہیں۔
6۔ لنکن یونیورسٹی (Lincoln University)
لنکن یونیورسٹی کا قیام 1990 میں اس وقت عمل میں آیا جس وقت مذکورہ بالا یونیورسٹی ا?ف کینٹربری کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ابتدائی طور پر اسے لنکن کالج کینٹربری کا نام دیا گیا جو کرائسٹ چرچ کے مرکزی علاقے سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کینٹربری کے علاقے میں قائم کیا گیا جس کا رقبہ تقریباً 50 ایکڑ ہے۔ موجودہ تعلیمی سال کے دوران کینٹ میں زیرِتعلیم طلباء کی تعداد 5000 کے قریب ہے جن کی بنیادی ڈگری پروگرام ایگریکلچر اور اس سے متعلقہ مضامین مثلاً فاریسٹری، ماحولیات، باغبانی، لینڈ اسکیپ اور زرعی ٹیکنالوجی ہیں۔ ایگریکلچر سائنس کے ساتھ ساتھ کینٹ میں دوسری ٹیکنالوجیز مثلاً کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ، نیٹ ورکنگ، ایگریکلچرل ایجوکیشن اور بزنس کے پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں۔
7۔ یونیورسٹی آف اوٹاگو (University of Otago)
یونیورسٹی آف اوٹاگو کا شمار نیوزی لینڈ کی قدیم جامعات میں کیا جاتا ہے جو نیوزی لینڈ کے جنوب میں واقع دوسرے سب سے بڑے شہر ڈونیڈن (Dunedin) میں قائم ہے۔ اس جامعہ میں سالانہ زیرِتعلیم طلباء کی تعداد 21000 سے زائد ہے۔ یونیورسٹی آف اوٹاگو کے تحقیقی مراکز کو دنیا میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جن کی وجہ سے دنیا بھر کی جامعات میں یونیورسٹی ا?ف اوٹاگو درجہ نمبر 151 پر فائز ہے۔ اس جامعہ میں 14 مختلف عالمی معیار کے حامل تحقیقی مراکز شامل ہیں جن کی سالانہ تحقیقی گرانٹ تقریباً 150 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان مراکز میں تحقیق میں مصروف ریسرچ اسکالرز کی تعداد 4500 سے زائد ہے۔ اس جامعہ کا قیام 1871 میں عمل میں آیا جو اپنے محلِ وقوع اور متحرک نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ غیرنصابی سرگرمیوں کیلیے طلباء و طالبات کیلیے 150 کے قریب کلب اور سوسائٹیز قائم ہیں۔
8۔ یونیورسٹی آف وائیکاٹو (University of Waikato)
یونیورسٹی آف وائیکاٹو کا آغاز 1964 میں نیوزی لینڈ کے شمالی شہر ہیملٹن (Hemilton) میں کیا گیا۔ یہ نیوزی لینڈ کی واحد یونیورسٹی ہے جسے ا?غاز سے ہی یونیورسٹی کا درجہ حاصل رہا ہے۔ اس جامعہ میں سالانہ داخل ہونے والے طلباء￿ و طالبات کی تعداد تقریباً 13000 ہے۔ وائیکاٹو یونیورسٹی کے پیش کردہ ڈگری اور تحقیقی پروگراموں میں ایجوکیشن اور اس سے متعلقہ مضامین مشہور ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس جامعہ کی جانب سے تعلیم کے ساتھ ساتھ قانون، معاشیات، اقتصادیات، لسانیات، ادب، کاروبار، انتظامی امور، جغرافیہ، عمرانیات، آرٹس اور ڈیزائن میں ڈگری پروگرام پیش کیے جارہے ہیں جن کی بنیاد پر یونیورسٹی آف وائیکاٹو کا شمار دنیا کی 250 چوٹی کی جامعات میں کیا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس کا شمار دنیا کی 50 نوجوان جامعات (Young Universities) میں بھی کیا جاتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ نیوزی لینڈ کی جامعات میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔ مختلف شعبہ جات اور کلیہ جات کے تحت ڈگری اور تحقیقی منصوبوں میں سال کے کسی بھی وقت درخواست دی جاسکتی ہے، بشرطیکہ مذکورہ پروگرام کا اعلان جامعات کی ویب سائٹس پر موجود ہو۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان میں حملہ، پاک فوج کے دس جوان شہید وجود - جمعه 28 جنوری 2022

بلوچستان کے علاقے کیچ میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 10 جوان شہید ہو گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر یہ حملہ 25 اور 26 جنوری کی درمیانی رات کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ کلیئرنس آپریشن میں 3 دہشت گرد گرفتار کرلیے گئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے ذمے داروں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔

بلوچستان میں حملہ، پاک فوج کے دس جوان شہید

حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس منجمند کرنے کے لیے کارروائی وجود - جمعه 28 جنوری 2022

وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کے لیے لیٹرز لکھ دیے۔ٹک ٹاک اسٹار کے پاکستان میں دو بینک اکاؤنٹس ہیں اور دونوں اکاؤٹس ان کے اصل نام فضا حسین کے نام سے بنائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے دونوں بینکوں کے ہیڈ کمپلائنس کو اکاؤنٹس منجمند کرنے کے لیے لیٹرز لکھے ہیں۔ یاد رہے کہ حریم شاہ نے رواں ماہ کے آغاز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پہلی بار بھاری رقم لے کر لندن پہنچیں اور انہیں پاکستان کے ایئرپورٹ پر کسی...

حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس منجمند  کرنے کے لیے کارروائی

پی ایس ایل سیون کا افتتاحی میچ، دفاعی چیمپئن سلطانز کا فاتحانہ آغاز، کنگز کوپچھاڑ دیا وجود - جمعه 28 جنوری 2022

پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے افتتاحی میچ میں دفاعی چیمپیئن ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو بآسانی 7 وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں پہلی فتح حاصل کرلی ،کراچی کنگز مقررہ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 124 رنز اسکور کرسکی، ملتان سلطانز نے 125 رنز کا ہدف بآسانی3 وکٹوں کے نقصان پر 19ویں اوور میں مکمل کرلیا، کپتان محمد رضوان ناقابل شکست 52 رنز بناکر نمایاں رہے جبکہ تین وکٹیں حاصل کرنے پر عمران طاہر مین آف دی میچ قرار پائے۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایونٹ کے افتت...

پی ایس ایل سیون کا افتتاحی میچ، دفاعی چیمپئن سلطانز کا فاتحانہ آغاز، کنگز کوپچھاڑ دیا

غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانیوالے 13 ملزمان گرفتار وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

وفاقی حساس ادارے اور ایف آئی اے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانے اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث 13 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل نے وفاقی حساس ادارے کی نشاندہی پر کراچی کے چار مختلف مقامات پر کارروائی کی اور حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 13 افراد گرفتار کرلیے۔حکام کی مطابق گرفتار افراد کا تعلق بیرونی انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے جبکہ گرفتار ہونے والوں میں سوئس ایک...

غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانیوالے 13 ملزمان گرفتار

قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی، فروغ نسیم وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاہے کہ قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی،انگلینڈ میں کرمنل ریفارمز کے لیے 15 سال لگے تھے،کرمنل ریفارمز سے ہم سول پراسیجر کورٹ، پاکستان پینل کوڈ، قانون شہادت اور ایک انڈیپینڈینٹ پروسکیوشن سروس متعارف کروارہے ہیں،فورنزک کیلئے لیبارٹریز اور بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، جدید ٹیکنالوجی بھی آئے گی جو انصاف کے نظام کو اوپر لے جائے گی،ریفارمز کے تحت عدالت کے ذریعے مفرور ملزمان کے بینک اکائونٹس، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر چیزیں فریز کرنا ممکن...

قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی، فروغ نسیم

چین میں والدین کا فروخت کردہ اولاد کو اپنانے سے انکار، بیٹے نے خودکشی کرلی وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

چین میں ایک افسوسناک واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر دکھ دیا ہے۔ 17 سال قبل اپنی اولاد کو دوسری فیملی کے ہاتھوں بیچنے والے والدین کے پاس ان کا بیٹا لوٹ آیا لیکن انہوں نے اسے اپنانے سے انکار کیا جس پر بیٹے نے دل برداشتہ ہوکر خود کی جان لے لی۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق لیو زیژو نے چین کے شہر سانیا میں ساحل سمندر پر خودکشی کی۔ اپنی موت سے پہلے لیو نے دس ہزارالفاظ پر مبنی خودکشی نوٹ بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا۔ لیو نے سوشل میڈیا پر اپنے سگے والدین کو تلاش کرنے کے مشن سے متعلق...

چین میں والدین کا فروخت کردہ اولاد کو اپنانے سے انکار، بیٹے نے خودکشی کرلی

کافی پینے سے ہاضمہ بھی درست رہتا ہے،فرانسیسی ماہرین وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

فرانس میں ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کافی پینے سے جہاں دل اور دماغ کو فائدہ پہنچتا ہے، وہیں پیٹ اور ہاضمے کا نظام بھی بہتر رہتا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ایک تجزیاتی مطالعہ (ریویو اسٹڈی)تھا جس میں کافی کے استعمال سے متعلق اب تک کی گئی 194 تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ روزانہ 3 سے 5 کپ کافی پینے سے صحت پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑتے جبکہ پیٹ کے مفید جرثوموں کی تعداد بڑھتی ہے جو ہاضمے پر بہت اچھا اثر ڈالتے ہیں۔ کافی پینے کے باعث قولون (آنت کے اختتامی...

کافی پینے سے ہاضمہ بھی درست رہتا ہے،فرانسیسی ماہرین

بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں پولیس نے گوگل (ایلفابیٹ ان کارپوریشن)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او)سندر پچائی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ سندر پچائی اور پانچ دیگر کمپنیوں کے آفیشلز کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گوگل کے سندر پچائی کے ساتھ دیگر پانچ کمپنیوں کے حکام کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ۔ اپنے بیان میں ممبئی پولیس کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور پانچ دیگر کمپنیوں کے آفیشلز کے خلاف ک...

بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم قرار وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رات کے کھانے کے وقت اور بلڈ شوگر کی سطح کے درمیان تعلق موجود ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل، برگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل اور اسپین کی مورسیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے اوقات نیند اور میلاٹونین کی سطح سے جڑے ہوتے ہیں۔ میلاٹونین ایک ایسا ہارمون ہے جو رات کو جسم میں خارج ہوتا ہے جس سے نیند اور بیداری کے عمل کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ محققین نے ب...

رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم قرار

جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیش رفت وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

شہر قائد میں ستائیس روز سے جاری جماعت اسلامی کا دھرنا رنگ لانے لگا ہے، جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیشرفت ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے بعض اہم بلدیاتی ادارے میئر کے ماتحت کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، بلدیاتی قانون میں کم از کم 3 اہم شعبے میئر کے ماتحت کیے جائیں گے۔گزشتہ 27 روز سے جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا جاری ہے، اس دوران جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور سندھ حکومت کے نمائندوں کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے لیکن ن...

جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیش رفت

فیس بک کے مفت انٹرنیٹ کے پیسے، پاکستانیوں سے33کروڑ ماہانہ وصولی وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

فیس بک نے اپنی سروسز تک مفت رسائی کے لیے پاکستان، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ترقی پزیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے۔امریکی اخبار کے مطابق فیس بک نے فیس بک اور دیگر ویب سائٹس تک مفت رسائی فراہم کرنے کے لیے پاکستان، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے لیکن فیس بک کی اندرونی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے بہت سے صارفین کو ان سروس کے عوض چارج کیا جا رہا ہے جو کہ مجموعی طور پر لاکھوں ڈالرز م...

فیس بک کے مفت انٹرنیٹ کے پیسے، پاکستانیوں سے33کروڑ ماہانہ وصولی

کراچی میں ریلیوں کے باعث پی ایس ایل میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

کراچی میں بدھ کی شام سیاسی جماعتوں کی ریلیوں اور سیاسی کارکنان کی پولیس سے جھڑپ کے بعد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ کردیے گئے۔ جمعرات سے شروع ہونے والے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن سے قبل بدھ کی رات چار ٹیموں کو پریکٹس کرنا تھی، معین خان اکیڈمی میں پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا پریکٹس میچ شیڈولڈ تھا جبکہ نیشنل اسٹیڈیم میں کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کی ٹیموں کو نیٹ پریکٹس کرنا تھی۔ سیاسی جماعتوں کی ریلیاں، کارکنان کی پولیس...

کراچی میں ریلیوں کے باعث پی ایس ایل میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ

مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)