وجود

... loading ...

وجود
وجود

ایمسٹرڈیم، نہریں ، پل، عمارتیں ، گلیاں ، دنیا بھر کے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں

اتوار 29 اکتوبر 2017 ایمسٹرڈیم، نہریں ، پل، عمارتیں ، گلیاں ، دنیا بھر کے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں

رمضان رفیق
میں نے اب تک تین بار ایمسٹرڈیم دیکھا ہے، دو دفعہ دوستوں کے ساتھ اور ایک بار اکیلے۔ ایمسٹرڈیم کے رنگوں میں کچھ ایسا خاص ہے جو آدمی کو بیزار ہونے ہی نہیں دیتا۔ پہلی بار دیکھا تو یہ شہر پہلی نظر میں ہی اچھا لگا۔ اْس وقت ہم ایک بس کے ذریعے پیرس سے ایمسٹرڈیم آئے تھے۔ بس میں گزرے اِن چند گھنٹوں کے دوران مجھے ایک ڈچ خاتون کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کا اتفاق ہوا۔ اْس ملاقات میں ہی ایمسٹرڈیم کے خوبصورت ہونے کا یقین سا ہو گیا تھا۔ اگلی دفعہ میرے منہ سے ایمسٹرڈیم کی خوبصورتیوں کا تذکرہ سن کر ایک دوست نے مجھ سے اِس شہر کو دکھانے کی درخواست کی تو انکار نہ کرسکا اور ہم بذریعہ کار کوپن ہیگن سے ایمسٹرڈیم کی طرف نکل پڑے۔ راستے میں جرمنی کے ایک شہر کیل میں رات گزاری اور اگلی رات ایمسٹرڈیم جا پہنچے۔اِس بار ایمسٹرڈیم پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگا۔ میرے خیال سے اگر کوئی یار مہربان ساتھ ہو تو شہر کے رنگوں کی آسودگی میں اضافہ ہوجاتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اِس دفعہ ایمسٹرڈیم مجھے پہلے سے زیادہ تر و تازہ اور جوان لگا۔ مجھے لگتا ہے کہ شہر بوڑھے نہیں ہوتے، لیکن شاید جوان ضرور ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ نئی نسلوں کی آمد سے اِن میں نئے رنگوں کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وقت گزرنے کے باوجود بھی اِن میں پرانے پن کا احساس ہی پیدا نہیں ہوتا اور اِن کا یہ نیا پن اِن کو مزید نکھارتا چلا جاتا ہے۔
ایمسٹرڈیم کی نہریں ، پل، عمارتیں ، گلیاں ، سارا سال دنیا بھر سے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں ۔ اِن گلیوں کی یہ صدا اَن سْنی نہیں کی جاسکتی۔ سینٹرل اسٹیشن کے سامنے قائمہ زوایہ بناتی ہوئی سڑک انسانی سروں کی لہلاتی فصل بنی رہتی ہے۔ یہاں لوگ یوں لپکے آتے ہیں کہ جیسے کوئی میلا لگا ہوا ہو۔ ایمسٹرڈیم کا تیسرا ٹور دراصل کوکن ہاف گارڈن دیکھنے کے بہانے تھا لیکن اِس دفعہ احساس ہوا کہ ایمسٹرڈیم تو ہے ہی اکیلے گھومنے والا شہر۔ جیسے کچھ راز انسان پر صرف تنہائی میں ہی کھلتے ہیں اور اپنے سامنے بھی ظاہر تنہائی ہی میں ہوتا ہے بس ایسے ہی ایمسٹرڈیم کی تنہائی بھی کسی حسینہ سے خفیہ ملاقات سے کم نہیں ۔
ایمسٹرڈیم میں داخل ہوں تو لگتا ہے کہ جیسے آپ ایک فلمی قسم کے یورپ میں داخل ہوچکے ہیں ، سڑکوں پر گھنٹیاں بجاتی ہوئی ٹرامیں ، فٹ پاتھ کے کنارے میوزک بجانے والے فری لانسر، نہر کی سیر کرواتی کشتیاں ، گھوڑوں پر گشت کرتی ہوئی پولیس، بازارِ حسن کی کھڑکیوں میں سجی بنی طوائفیں ، دکانوں پر بکتی ہوئی چرس، نشہ مہیا کرنے والے کیفے، فر فر انگلش بولتی ہوئی ڈچ حسینائیں ، وائی فائی سے لیس ٹرینیں ، اور سب سے بڑھ کر سیاحوں کی ریل پیل۔
سینٹرل اسٹیشن ایمسٹرڈیم کی وہ پہلی عمارت ہے جو اِس شہر کی خوبصورتی کا احساس دلاتی ہے۔ یہاں سے روزانہ ڈیڑھ لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں ۔ یہاں بھی میں نے تین دنوں کے لیے ایک اَن لمیٹڈ سفری پاس لیا، جس کی قیمت غالبا بارہ یورو کے قریب تھی۔ اِس پاس کا فائدہ یہ ہے آپ جتنا مرضی سفر کریں ، ٹرین، میٹرو، ٹرام، جس میں چاہیں بیٹھیں اور ایمسٹرڈیم شہر کی حد میں جہاں چاہیں اْتر جائیں ، لیکن اِس پاس کی ٹائمنگ کے حوالے سے ایک چیز بڑی عجیب سی ہے، اور وہ یہ کہ عمومی طور پر کئی ملکوں میں اِس طرز کے سفری پاس خریدیں تو چوبیس گھنٹوں کے حساب سے قیمت وصول کی جاتی ہے، جیسے ایک دن کا پاس شام پانچ بجے لیا تو اگلے دن شام پانچ بجے تک چلے گا لیکن ایمسٹرڈیم میں تاریخ کے حساب سے سفری کارڈ جاری کیے جاتے ہیں ، یعنی رات گیارہ بجے پاس لیا تو بارہ بجے تاریخ بدلتے ہی آپ کا ایک دن گزر گیا۔
ایمسٹرڈیم کو دیکھنے کے کئی طریقے ہیں ۔ پیدل چل کر، جو ہم خوب چلے۔ کشتی کے ذریعے، یہ بھی ہم نے کرکے دیکھا۔ مقامی ٹرانسپورٹ کے ذریعے، اِس کے بھی ہم نے خوب پیسے پورے کیے، یعنی ایک ٹرام یا بس سے اْترے تو دوسری میں جا بیٹھے۔ ایمسٹرڈیم ہر طرح سے خوبصورت ہے۔سینٹرل اسٹیشن کے مرکزی دروازے سے باہر آئیں اور سیدھی سڑک پر چلتے جائیں ، یہاں آپ کو شہر کے مختلف حصوں میں جانے والی ٹرامیں اور بسیں ملیں گی، چند قدم بڑھائیں تو دائیں ہاتھ شہر کی سیر کروانے والی کشتیاں ملیں گی۔ تھوڑا سا آگے بڑھیں تو وہ سڑک آجائے گی جہاں ہر موسم میں سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔ اِسی سڑک پر فرینچ فرائز کی ایک دکان ہے جہاں لوگ قطاریں بنا کر آلو کی چپس خریدتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اِس آلو کا معیار، تازگی اور اِس کے ساتھ دی جانے والی سوس، سب مل کر اِس چپس کو واقعتاً ورلڈ کلاس قسم کی چیز بنا دیتی ہیں ۔ ایمسٹرڈیم کے اِس سال کے ٹور میں ، میں نے دیکھا کہ اِسی طرز کی فرینچ فرائز کی دکانیں اب کئی جگہوں پر کھل چکی ہیں لیکن میرے خیال میں سب سے بہترین چپس اْسی دکان کے ہیں جو اِس سڑک کے اسٹیشن والی سائیڈ کے آغاز پر واقع ہے۔
یہاں سے کچھ آگے بڑھیں تو دائیں طرف ٹاؤن ہال کی عمارت آتی ہے، ٹاؤن ہال کی عمارت سے اگر دائیں ہاتھ ہوجائیں تو یہ سڑک نہروں کے پلوں کو عبور کرتے ہوئے مسجد الفتح والے علاقے میں لے جاتی ہے۔ یہ ایمسٹرڈیم کی پہلی مسجد ہے، جو 1980 سے پہلے ایک گرجا گھر تھی، بعد میں یہاں قالینوں کا شوروم رہا اور پھر اِس کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔ اِس عمارت کو باہر سے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے اِس لیے صرف صلیب کا نشان اتار کر ہلال کا نشان لگا دیا گیا، جبکہ اندر جائیں تو ترک طرز کے منبر سے سجی ہوئی ایک انتہائی خوبصورت مسجد نظر آتی ہے۔
سیاحوں میں گھرے ہر شہر میں عجائب گھروں کی ایک کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، اِس لیے آپ کو یہاں جگہ جگہ میوزم ملیں گے، بھنگ کی تاریخ کا میوزیم، جنسی آلات کا میوزیم، نیشنل میوزیم، آرٹ میوزیم، مادام تساؤ میوزیم، یہ میوزیم، وہ میوزیم مطلب عجائب گھروں کی ایک طویل فہرست ہے۔ اگر آپ میوزیم دیکھنے کے شوقین ہیں تو پھر آپ کو ایمسٹرڈیم کی سیر کے لیے تھوڑا لمبا وقت درکار ہوگا، لیکن ایک دو میوزیم جن کی ریٹنگ بہت ہی اچھی ہے اْن میں مشہور وین گو میوزیم شامل ہے، میں نے صرف اِس کے باہر لگی ہوئی لمبی قطاریں ہی دیکھی ہیں ، اندر جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا اور خواہش بھی پیدا نہیں ہوئی۔
ایمسٹرڈیم کا تذکرہ ہو اور اِس کی پْرشباب راتوں کا ذکر نہ ہو تو یہ ناانصافی ہے۔ دنیا بھر سے سیاح ایمسٹرڈیم کا بازارِ حسن دیکھنے کے لیے آتے ہیں ۔ سینٹرل اسٹیشن کے سامنے گزرتی سڑک کی بائیں جانب خاصے بڑے علاقے کو ریڈ لائٹ ایریا کا درجہ حاصل ہے۔ اِس علاقے میں داخل ہوتے ہی ایک سرخ بتی پر نظر پڑی جس کے نیچے ایک چھوٹا سا بورڈ لگا ہوا تھا، “جی ہاں یہ اصل ریڈ لائٹ ہے۔” یہاں کے بازار حسن کے اطوار نرالے ہیں ، ہر گھر کا دروازہ سی تھرو گلاس سے بنا ہوا ہے، شام ڈھلے طوائفیں چار گرہ کپڑے میں اِن شیشوں کے پاس آ کھڑی ہوتی ہیں ۔
جتنا رش دن بھر شہر کی گلیوں میں رہتا ہے، اْس سے بھی زیادہ رش شام کے بعد اِس جگہ پر ہوتا ہے۔ یہاں تصویر بنانا منع ہے، لیکن اِس پابندی کے باوجود بھی کچھ لوگ چوری چھپے بنا ہی لیتے ہیں ، لیکن اب سنا ہے کہ بتدریج اِس علاقے کو ختم کرنے کا سوچا جارہا ہے، کیونکہ اِس سے ایمسٹرڈیم کی پہچان پر حرف آنے لگا ہے۔
اِسی علاقے میں ایک اور چیز جو تیزی سے پروان چڑھتی ہوئی محسوس ہوئی وہ ہے ہیمپ اور اِس کی مصنوعات۔ ہمارے پہاڑی علاقے اِس پودے میں خود کفیل ہیں ۔ یہاں یہ پودے گملوں میں لگا کر بیچے جاتے ہیں ، حتی کہ آپ اِن کو گھر میں بھی اگا سکتے ہیں اور اپنے حصے کی ہیمپ خود سے پیدا کرسکتے ہیں ، لیکن کمرشل بنیادوں پر کام کرنے کے لیے آپ کو لائسنس درکار ہے۔ یہاں بیج سے لیکر کھاد تک پورا انتظام آپ کو فروخت کیا جاتا ہے۔ پھر اگر اِس سے بننے والی مصنوعات کی فہرست دیکھیں اور ہیمپ میوزیم سے اِس پودے کی کرشماتی تاریخ اور فوائد کو دیکھیں تو دل میں افسوس پیدا ہوتا کہ ہم تو اِس کا کفران نعمت ہی کرتے آئے ہیں ۔ہیمپ، بھنگ اور چرس کی بنیاد بننے والا پودا ہے۔ پاکستان میں تو اِس سے میلوں ٹھیلوں میں پکوڑے نکالے جاتے ہیں یا سیگریٹ میں بھر کر پی جاتی ہے، لیکن یہاں ہیمپ کے لالی پاپ، بسکٹ، کیک، حتیٰ کہ آئسکریم اور انرجی ڈرنکس تک بھی دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ یہاں مختلف کیفیز میں یہ قانونی طور پر بیچی جاتی ہے۔
مجھے وہ لطیفہ بھی یاد آیا جو کافی مشہور ہوا کہ دبئی میں ایک ایمسٹرڈیم کی حسینہ سے ملاقات ہوئی، پوچھنے لگی کہاں سے ہو، میں نے کہا پاکستان سے تو آنکھوں میں آنسو بھر لائی اور کہنے لگی کہ آپ کے ملک کی چرس بہت خالص ہوتی ہے۔ لیکن ہیمپ سے بننے والی مصنوعات دیکھ کر دل میں کئی دفعہ خیال ضرور آیا کہ اِس کی پراڈکٹ ڈیولپمنٹ پر پاکستان میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے ہاں یہ پودا جڑی بوٹی کی طرح اگتا ہے۔
ایمسٹرڈیم کے گرد و نواح میں بہار کے موسم میں ٹیولپ کے کھیت دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں ، یہی وہ جگہیں ہیں جہاں مشہور گیت ‘دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے’ فلمایا گیا تھا۔ اگر آپ کو ایمسٹرڈیم تک جانے کا موقع ملے تو اِس کے بالکل پاس ہی لائیڈن نامی ایک علاقہ ہے، جسے ایک تعلیمی شہر کی اہمیت حاصل ہے، وہاں ضرور جائیے۔ اِس شہر کی ایک دیوار پر جہاں دنیا بھر کے شعراکو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے وہاں ناصر کاظمی صاحب کی ایک غزل سے بھی شہر کی ایک دیوار کو رونق بخشی گئی ہے۔
ایمسٹرڈیم دیکھنے کے لیے اگر وقت کم ہو تو بوٹ ٹور یا بذریعہ کشتی سیر ایک اچھا آپشن ہے۔ یہ ٹور ایک سے ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اِس ٹور میں شہر کے اندر گزرتی نہروں پر کشتی پر سیر کرتے ہوئے راستے میں نظر آنی والی اہم عمارتوں اور گلیوں کے متعلق معلومات بھی فراہم کی جاتی ہے۔
بوٹ ٹور پر گائیڈ نے ایک بات بتائی کہ نہر کی طرف جس کا گھر جتنی زیادہ جگہ گھیرے گا اْس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی، کیونکہ اب یہاں جگہیں کافی مہنگی ملتی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اوپر کی جانب لمبوترے گھر بنانے شروع کردیے۔ اب اگر آپ نہر پر بنے ہوئے بہت سے گھروں پر غور کریں تو باہر سے دیکھنے پر یہ گھر بہت تنگ دکھائی دیتے ہیں ۔ بوٹ ٹور کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے ذاتی کشتی یعنی پرائیویٹ کشتی بھی بْک کروائی جاسکتی ہے لیکن ہم نے اِس عوامی کشتی پر ہی اکتفا کیا
اگر آپ کو میری طرح پھولوں سے دلچسپی ہو تو دنیا کی سب سے بڑی پھولوں کی منڈی بھی ایمسٹرڈیم میں ہی موجود ہے۔ اِس کی سیر بھی لائف ٹائم تجربہ ہے، بس یہ ہے کہ اِس کے لیے صبح صبح جاگ کر اِسے دیکھنے جانا ہوتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں پھولوں کی تجارت اور اِن کی منتقلی کا ایک شاندار نظام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، گوکہ آپ پہلی منزل سے نیچے ہال میں دیکھ کر نظارہ کر رہے ہوتے ہیں لیکن آپ کے سامنے گزرتی ہوئی دنیا بھر کے پھولوں کی لدی ہوئی چھوٹی چھوٹی ٹرالیاں آنکھوں کو بھلی لگتی ہیں اور ذہن میں خوبصورت یادیں نقش کر دیتی ہیں ۔
اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ ایمسٹرڈیم میں کیا رکھا ہے تو میرا جواب ہوگا کہ ایمسٹرڈیم میں زندگی ہے، آپ کو ایک چہل پہل کا احساس ہوتا ہے، ایک رونق اور میلے کا سا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر آپ بھی روزمرہ کی زندگی سے تنگ آئے ہوئے ہیں اور تازہ دم ہونا چاہتے ہیں تو ایمسٹرڈیم کے دامن میں آپ کے لیے بہت کچھ ہے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)