وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت

بدھ 28 فروری 2018 پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت

برگد کے درخت صدیوں پرانی تاریخ کے امین ہیں۔ بہت سے قصے کہانیوں اور علاقائی ثقافت سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ کہیں اسے بوڑھ پکارا جاتا ہے تو کوئی بوہڑ کے نام سے اس کی شناخت کرتا ہے۔ اسے انگریزی زبان میں بینین (Banyan) کہا جاتا ہے جو گجراتی لفظ ’’بنیا‘‘ سے ماخوذ ہے۔ بنیا کا لفظ ہندو تاجروں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ بنیا کہلانے والے ہندو تاجر اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے دور دراز علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ گرمی سے بچنے اور تھکاوٹ اتارنے کے لیے برگد کے درختوں کے نیچے لیٹ جایا کرتے تھے۔ یہ بھی روایت میں ہے کہ ہندو بنیے، برگد کے درخت کے نیچے اپنی دکانیں سجایا کرتے تھے۔

انسان کی اس دنیا میں آمد کے بعد ماں کے علاوہ ممتا کی ٹھنڈی چھاؤں نصیب ہوئی تو انہی جیسے درختوں سے نصیب ہوئی۔ دیہی پس منظر میں ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرنے میں سب سے نمایاں برگد کے درخت ہوتے ہیں۔ برگد کے یہ درخت ناموافق حالات میں بھی اپنا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ یہ بقاء￿ کی جنگ لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں۔

بہت سے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ چٹیل دیواروں سے بھی ان کے تنے نکل ا?تے ہیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہی برگد کے درخت سے ریشوں جیسی لمبی شاخیں پھوٹتی ہیں اور جھالر کی مانند درخت کے چاروں طرف پھیل جاتی ہیں جس سے برگد کی سحر ناکی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ شاخیں تناور ہوکر زمین میں مل جاتی ہیں اور یوں ایک نیا بوہڑ کا درخت وجود میں ا?جاتا ہے۔ یہ جڑیں نئے درخت پیدا کرنے کے علاوہ اسے سہارا دینے میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ برگد سے پھوٹتی ان جڑوں کو بچے ’’برگد کی داڑھی‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

ہندو مت اور بدھ مذہب کے پیروکار برگد کو مقدس سمجھتے ہیں۔ تاریخی حوالوں سے یہ ثابت ہے کہ بعض ہندو طبقات قدیم برگد کے درختوں کی پوجا کرتے ہیں، دودھ سمیت دیگر اشیاء کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ گوتم بدھ مسلسل 6 سال سے برگد کے درخت کے نیچے ہی بیٹھے تھے جبکہ انہیں نروان ملا اسی لیے اسے بدھ کا درخت بھی کہا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ سکندراعظم جب دنیا کو فتح کرنے کا عزم لے کر نکلا تو اس نے7 ہزار فوجیوں کے ساتھ برگد کے درخت کے نیچے کئی دن تک پڑاؤ جاری رکھا۔

یہ چند سال قبل کی ہی تو بات ہے کہ پاکستان بھر کے دیہاتوں میں بوہڑ کے درختوں کے نیچے چوپالیں لگا کرتی تھیں جہاں لوگ دن بھر کے کام کاج کے بعد فراغت کا وقت گزارتے۔ یہ ایسی محفلیں ہوتیں کہ جن میں رنگوں و امنگوں،خوشیوں و قہقہوں کا امتزاج ہوتا۔ لوگ اپنے مسائل سمیت حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے، بوڑھے اور ضعیف افراد حقہ گڑگڑاتے اور بچوں کو قصے کہانیاں سناتے، داستان گوئی کو بام عروج انہی چوپالوں کے ذریعے ملا تھا۔ برگد کی چھاؤں میں لگی چوپالوں کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے قابض برطانوی حکمرانوں کی جانب سے قانونی کاروائیوں کے لیے کچہریاں بھی برگد کے نیچے ہی لگائی جاتیں۔ اب بھی برصغیر پاک و ہند کی عدالتوں کا جائزہ لیا جائے تو وہاں برگد کا درخت لازمی طور پر دکھائی دے گا جبکہ پرانے تھانوں، اسپتالوں اور سرکاری عمارتوں کی حدود میں بھی برگد کا درخت لازمی ملے گا۔

پورے برصغیر میں برگد کے درختوں کی بہتات ہے۔ اسکول ہوں یا سرکاری عمارات، تجارتی مراکز ہوں یا سڑک کنارے بنے ہوٹل و چائے خانے یا پھر صوفیائے کرام کے مزارات، یہ سب ّآپ کو برگد کے قدآدم اور وسیع درختوں سے ڈھکے نظرآئیں گے۔ خاص طور پر سڑکوں کے آس پاس یہ بہتات سے پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے تاریخ کے اوراق کھنگالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شیر شاہ سوری نے اپنے دور اقتدار میں پشاور سے کلکتہ تک مشہور شاہراہ بنوائی تو اس نے مسافروں کی سہولت اورآرام کی خاطر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر برگد کے درخت لگوائے اور ساتھ پانی کے تالاب بنوائے۔

چند سال قبل تک برگد کے یہ درخت ہر گاؤں کی پہچان ہوتے تھے۔ دورجدید کا اے سی بھی وہ سکون کہاں فراہم کرسکتا ہے جو برگد کی چھاؤں کے نیچے بچھی چٹائی و چارپائی پر بیٹھ کر میسر ہوتا تھا۔ کھیلنے کے لیے بچوں کی پسندیدہ جگہ وہ ہوتی جہاں برگد کا درخت ہوتا۔ برگد کے درخت پر چڑھ کر اچھل کود اور پنچھیوں کو پکڑنے کی ناکام سی کوشش، برگد کی چھاؤں میں بیٹھ کر مٹی کے گھروندے اور کھلونے بنانا، گلی ڈنڈا اور بنٹے کھیلنا، بچیاں شٹاپو کھیلتیں، مائیں بچوں کو گود میں بٹھا کر ان کے سر میں تیل ڈال کر مالش کرتیں، پینگیں جھولنا، الغرض برگد کے درخت سے اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ جن کا شمار ہی ممکن نہیں۔

برگد کے ان درختوں پرپرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں اور صبح و شام کے وقت یہ پنچھی اپنے سریلے گیتوں سے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ چڑیاں، طوطے، بلبل، لالیوں اور کوئل سمیت درجنوں قسم کے پرندے برگد کا سرخی مائل پھل کھاتے ہیں۔ انہی پرندوں کے ذریعے برگد کا بیج ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے اور یوں مختلف علاقوں میں بوہڑ کے نئے درخت اْگ جاتے ہیں۔

بوہڑ کے نرم پتوں کو توڑا جائے یا پھر اس کی جلد کو ادھیڑا جائے تو اس سے سفید رنگ کا مائع خارج ہونا شروع ہوتا ہے جسے شِیرِ برگد کہتے ہیں۔ بچپن میں شرارتی بچوں کا محبوب ترین مشغلہ یہی ہوتا تھا کہ وہ برگد کے پتے توڑ کر اور اس کی جلد کو ادھیڑتے اور دودھیا مادے کو ایک دوسرے پر پھینکنے کی کوشش کرتے کیونکہ شیر برگد کسی انسان کی جلد پر گر جاتا تو اس جگہ سیاہ نشان پڑجاتا۔

برگد پر سرخی مائل پھل بھی لگتا ہے جو پک جائے تو میٹھا ہوتا ہے۔ دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ اسے کھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کیونکہ اس پھل کو باعث صحت سمجھا جاتا ہے جبکہ طبی ماہرین اس پھل کو مضر صحت سمجھتے ہیں۔ برگد کے درخت کی چھال، اس سے خارج ہونے والے دودھیا مادّے، شاخوں اور ریشوں کو زمانہ قدیم سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور جدید طب کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بعض مخصوص امراض کا علاج اس کے ذریعے ممکن ہے۔ برگد کے درخت سے حاصل ہونے والے طبی فوائد پر ایک مفصل کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

جن دوستوں کا بچپن دیہاتوں میں گزرا ہے، ان کی حسین یادیں لازماً برگد کے درخت سے جڑی ہوں گی۔ میرے ذہن کے نہاں خانے میں بھی کچھ ایسی ہی دھندلی یادیں ہیں۔ گاؤں کی ایک بڑھیا تھی جو برگد کی چھاؤں میں بیٹھی حقہ پیا کرتی تھی، سب سے پیار کرتی، محبتیں رونقیں اسی سے تھیں۔ گاؤں کی رنگینیوں میں سب سے نرالا رنگ اس کی باتوں میں تھا۔ ہم شرارتیں کرتے اور وہ ہمیں ڈانٹا کرتی۔ اس کی ڈانٹ ہمارے لیے ماں کی لوری جیسی تھی۔ پھر یوں ہوا… کہ وہ بڑھیا نہ رہی، برگد کی چھاؤں نہ رہی، حقے کی گڑگڑاہٹ کہیں کھوگئی۔ اس بڑھیا کے جانے سے گاؤں کی رنگینیاں بھی رخصت ہو گئیں، مادہ پرستی کا ایسا دورشروع ہوا کہ معمولی سے فوائد کے لیے انسان نے اپنا ابدی سکون غارت کرنا شروع کردیا، صدیوں پرانے برگد کٹنے شروع ہوگئے۔

یہ سلسلہ گاؤں تک محدود نہیں رہا۔ قیمتی اثاثوں کی حیثیت رکھنے والے برگد کے درختوں کو بے دردی سے کاٹا جارہا ہے۔ ان میں سے بہت سے برگد قدیم قومی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم حکمرانوں اورعوام کی بے حسی سے یہ قدیم درخت ختم ہورہے ہیں۔ پہلے یہ درخت بکثرت پائے جاتے تھے لیکن اب ان کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے لیکن اب بھی بہت سے ایسے برگد کے درخت پاکستان میں موجود ہیں جنہیں تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

ایسا ہی ایک تاریخی و ثقافتی اہمیت کا حامل برگد کا درخت سرگودھا کے علاقے مڈھ رانجھا میں واقع ہے جو حکومتی عدم دلچسپی اور عوام کی بے حسی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہے۔ مڈھ رانجھا میں ابل اور موری وال گاؤں کے قریب اور رانجھے کے شہر تخت ہزارہ کے نواح میں واقع قدرت کا انمول ترین اور عظیم الشان برگد کا درخت اپنی مسحور کْن خوبصورتی کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے اور لوگوں کو دور سے ہی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔

محبت کی سرزمین تخت ہزارہ اور مڈھ رانجھا کے قریب موجود، یہ برگد پاکستان کا سب سے بڑا، لمبا اور قدیم درخت ہے کہ جس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہ برگد 4 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا تھا جو حالات اور انسانوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے 3 ایکڑ سے بھی کم رقبے تک محدود رہ گیا ہے۔ اس برگد کو ایشیاء کا سب سے بڑا برگد کا درخت بھی سمجھا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے ابہام موجود ہے۔

دنیا میں سب سے بڑا برگد کا درخت سری لنکا میں ہے جس کے 350 بڑے اور 3000 چھوٹے تنے ہیں۔ تاہم مڈھ رانجھا اور سری لنکا میں پائے جانے والے برگد کی ایک بات مشترک ہے کہ دونوں کے اصل تنے کی شناخت ممکن نہیں۔یہ درخت کب وجود میں آیا؟ اس بارے میں کوئی واضح تاریخی حوالہ موجود نہیں۔ مختلف روایات کے مطابق کئی صدیوں قبل گجرات کے شاہ ولی دولہ کے حکم پر ان کے مرید بابا روڈے شاہ نے یہ درخت لگایا تھا۔ ان بزرگ نے پودے سمیت خود کو دریائے چناب کے حوالے کردیا اور مڈھ رانجھا کے قریب دریائی لہروں نے انہیں کنارے تک پہنچادیا۔ یوں یہ پودا اپنی منزل مقصود تک پہنچا۔ بابا روڈے شاہ نے پھر یہیں ڈیرہ لگالیا۔ مقامی لوگ ان کے لیے دودھ لاتے جس میں سے کچھ دودھ پینے کے بعد باقی اس برگد کی جڑوں میں ڈال دیتے۔ بابا روڈے شاہ سے منسوب قبر ابھی تک برگد کے نیچے موجود ہے اور علاقہ مکین اب بھی ان بزرگ سے عقیدت رکھتے ہیں۔

اس درخت کی شاخوں کا جال بنا ہوا ہے۔ پہلی نظر میں تو یہی لگتا ہے کہ برگد کے بہت سارے درخت ہیں لیکن ایسا نہیں۔ صدیوں پرانے برگد کی شاخیں اتنی زیادہ پھیلیں کہ ایک جنگل سا وجود میں آ گیا۔ اس برگد کے درخت کی مرکزی شاخ کو شناخت نہیں کیا جاسکتا تاہم مقامی لوگ اس حوالے سے قیاس آرائیاں ضرور کرتے رہتے ہیں۔ اس درخت کی حقیقی عمر کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ گاؤں کے بزرگوں سے جب اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا خاندان کئی نسلوں سے یہاں آباد ہے اور ہم نے اس بوہڑ کو اسی حالت میں دیکھا ہے۔ ہم سے صدیوں قبل ہمارے آبا و اجداد نے بھی اس درخت کو اسی حالت میں دیکھا۔ اسے بہت بار کاٹا گیا لیکن یہ پھر سے پھلنا پھولنا شروع کردیتا ہے۔ البتہ بعض مقامی افراد نے قیاس آرائی کی کہ یہ برگد ایک ہزار سال پرانا ہے۔

دریائے چناب کے کنارے واقع اس کرشماتی درخت کے اوپر اور نیچے ایک الگ ہی دنیا آباد ہے۔ انواع و اقسام کے پرندوں نے گھونسلے بنارکھے ہیں۔ ان کی نت نئی بولیاں کانوں میں رس گھولتی رہتی ہیں۔ امید نو سے بھری صبح، سایہ دار ٹھنڈی دوپہر میں بہت ہی نرالا پن ہے جبکہ اسرار بھری شام کی تو بات ہی الگ ہے؛ اور رات کو تو بس اس درخت پر الوؤں کی راجدھانی ہوتی ہے کیونکہ توہم پرستی، خوف اور ہیبت کی وجہ سے لوگ رات کو اس کے قریب جانے سے کتراتے ہیں۔اس درخت کی سحری انگیزی کا اندازہ وہی لگاسکتے ہیں جو یہاں وقت گزارتے ہیں۔پاکستان میں پایا جانے والا یہ سب سے بڑا برگد دن بھر چہل پہل اور رونقوں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ رومان پرور اور قدرت کے شیدائی لوگوں کے لیے ایسی جگہیں بہت کشش رکھتی ہیں۔ اس کی بے پناہ خوبصورتی لوگوں کو دور دراز سے یہاں کھینچ لاتی ہے اور جو لوگ یہاں آجائیں، وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ لوگ یہاں اآتے ہیں اور برگد کی شاخوں پر کھدائی کرکے اپنا نام اور مختلف فقرے لکھ جاتے ہیں جس سے اس درخت کو نقصان پہنچتا ہے۔برگد کے اس درخت کی خوبصورتی کے چرچے صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں، بھارت سمیت بہت سے ایشیائی و مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس کی شہرت سن کر یہاں سیاحت کے لیے آئے۔ مگر اس قدرتی شاہکار کے تحفظ کے لیے کوئی حکومتی اقدامات نظر نہ آئے تو انہیں بہت افسوس ہوا۔ دیگر ممالک سے آنے والے لوگ اس بات پر کڑھتے ہیں کہ غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا اتنا قیمتی ورثہ حکومت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ وہ بوجھل دل سے یہ سوچتے ہیں کہ کاش قدرت ہمیں اس تحفے سے نوازتی اور ہم اسے بے توقیری سے بچالیتے۔

قدرت کا یہ حسین شاہکار جہاں حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے وہیں مقامی بااثر لوگوں نے اسے مفت کا مال سمجھ رکھا ہے۔ اس جگہ کو جانوروں کے باڑے میں بدل دیا گیا ہے۔ مخصوص سوچ کے حامل بعض لوگوں نے اس جگہ پر اپنا تسلط جمایا ہوا ہے جن کا جب جی چاہتا ہے، اس درخت کے تنوں کو کاٹ ڈالتے ہیں جبکہ علاقے کے دیگر لوگ بھی اس معاملہ میں شریک جرم ہیں۔ رہی سہی کسر گزشتہ چند سال میں دریائے چناب کے سیلابی پانی نے پوری کردی جس کی وجہ سے اس کا ایک حصہ جڑ سے ہی اکھڑ گیا۔ یہ علاقے کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا قیمتی ورثہ ہے، دیگر ممالک کے لوگ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں اس کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس جگہ کو قبضہ مافیا سے آزاد کروا کر اپنی تحویل میں لے؛ اور اسے قومی ورثہ کا درجہ دے کر تفریحی مقام میں بدل دیا جائے تاہم اب تک حکومتی ذمہ داران کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔


متعلقہ خبریں


عام انتخابات میں (ن) نے 89678ووٹ ،تحریک انصاف نے77231 ووٹ حاصل کیے تھے وجود - پیر 06 دسمبر 2021

2018ء میں ہونے والے عام انتخابات میں حلقہ این اے 13 3سے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار پرویز ملک نے 89678ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز احمد چوہدری77231 ووٹ لے کر دوسرے نمبر ،تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار مطلوب احمد 13235 ووٹ لے کر تیسرے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل نے 5554 ووٹ حاصل کیے تھے۔ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر انتخابی میدان میںموجود نہیں تھی۔

عام انتخابات میں (ن) نے 89678ووٹ ،تحریک انصاف نے77231 ووٹ حاصل کیے تھے

ضمنی انتخاب ،(ن) کی کامیابی سے زیادہ اسلم گل کی جانب سے غیر متوقع 32313ووٹ حاصل کرناموضوع بحث وجود - پیر 06 دسمبر 2021

حلقہ این اے 133کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی سے زیادہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل کی جانب سے غیر متوقع طور پر 32313ووٹ حاصل کرناموضوع بحث بنا ہوا ہے ،جبکہ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی کامیابی کا مارجن کم کرنے کیلئے تحریک انصاف کی جانب سے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے امیدوارکو ووٹ ڈلوائے گئے۔ تفصیلات کے مطابق حلقہ این اے133کے ضمنی انتخاب کے نتائج سیاسی حلقوں میں موضوع بحث ہیں اورسیاسی تجزیہ نگار اپنے اپنے زاویے سے اس پر اظہار خی...

ضمنی انتخاب ،(ن) کی کامیابی سے زیادہ اسلم گل کی جانب سے غیر متوقع  32313ووٹ حاصل کرناموضوع بحث

این اے133 ضمنی انتخاب ،مسلم لیگ (ن) نے اپنی نشست دوبارہ جیت لی،پیپلزپارٹی کی غیر معمولی پیشرفت وجود - پیر 06 دسمبر 2021

صوبائی دارالحکومت کے حلقہ این اے 133میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں غیر سرکاری اورغیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا، مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست پر ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک نے 46811جبکہ ان کے مد مقابل پیپلزپارٹی کے امیدوار اسلم گل نے32313ووٹ حاصل کئے ، کامیابی کی خوشی میں مسلم لیگ (ن) کے حامیوںنے بھرپور جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، کارکنان ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہے اورنوٹ نچھاور کئے گئے جبکہ ...

این اے133 ضمنی انتخاب ،مسلم لیگ (ن) نے اپنی نشست دوبارہ جیت لی،پیپلزپارٹی کی غیر معمولی پیشرفت

تحقیقاتی اداروں نے پریانتھا کے مکان کو سیل کردیا وجود - پیر 06 دسمبر 2021

تحقیقاتی اداروں نے سیالکوٹ میں متشدد ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے سری لنکن منیجر پریانتھا کا مکان سیل کردیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سری لنکن شہری پاکستان میں 10 سال سے زائد عرصے سے رہائش پزیر تھا، جس فیکٹری میں مارا گیا وہاں پر 8 سال سے کام کر رہا تھا۔اہل محکمہ نے پریانتھا سے متعلق رائے دیتے ہوئے کہا کہ وہ خوش اخلاق شخص تھا، کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ پریانتھا لوگوں سے زیادہ میل جول بھی نہیں رکھتا تھا۔پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے پریانتھا کے مکان کو سیل کردیا ہے۔

تحقیقاتی اداروں نے پریانتھا کے مکان کو سیل کردیا

لندن میں گورنر پنجاب چودھری سرور کی گاڑی کو جرمانہ وجود - پیر 06 دسمبر 2021

گورنرپنجاب چودھری سرور کی گاڑی کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ لندن میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی گاڑی کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی ٹکٹ جاری کی گئی،وہ سنٹرل لندن میں اپنے بیٹے کے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں ایک تقریب کیلئے شرکت کیلئے موجود تھے ۔گورنر سرور کی گاڑی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈبل یلو لائن پر پارک ہوئی ،ٹریفک وارڈن نے قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی ٹکٹ جاری کرتے ہوئے اسے گاڑی کی فرنٹ اسکرین پر چسپاں کردیا۔تقریب می...

لندن میں گورنر پنجاب چودھری سرور کی گاڑی کو جرمانہ

بلدیاتی الیکشن ای وی ایم پر نہیں ہوسکتے،شبلی فراز نے ہاتھ اُٹھا لیے وجود - پیر 06 دسمبر 2021

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں مختلف پینلز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بلدیاتی الیکشن ای وی ایم پر نہیں ہوسکتے،الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں صرف 200امیدوار آسکتے ہیں ،تحصیل ناظم کے انتخاب کیلئے مشین استعمال کی جاسکتی ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مشینیں فراہم کی جائیں گی،الیکشن کمیشن نے ہمیں ای وی ایم فراہم کرنے کا کہا ہے،ای وی ایم میں نیشنل اورصوبائی ووٹنگ کیلئے 2ووٹنگ پیڈز ہیں اور ای وی ایم میں ...

بلدیاتی الیکشن ای وی ایم پر نہیں  ہوسکتے،شبلی فراز نے ہاتھ اُٹھا لیے

پاکستانی ورکرز کی بھرتی سے متعلق پاکستان اور سعودی عرب میں دو معاہدے وجود - پیر 06 دسمبر 2021

سعودی عرب نے پاکستانی ورکرز کی بھرتی اور ہنر کی تصدیق کے پروگرام سے متعلق حکومت کے ساتھ دو معاہدوں پر دستخط کردیے۔معاہدوں پر دستخط کی تقریب وفاقی وزیر برائے تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ شفقت محمود کے دورہ سعودی عرب کے دوران ہوئی۔ یہ معاہدہ تنازعات کو حل کرنے اور کسی بھی خلاف ورزی پر ریکروٹمنٹ دفاتر، کمپنیوں یا ایجنسیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے میں بھی مدد دے گا۔ہنر کی تصدیق کے معاہدے سے مملکت کو ہنرمند اور تصدیق شدہ پاکستانی افرادی قوت کی برآمد میں اضافہ ہوگا۔ ی...

پاکستانی ورکرز کی بھرتی سے متعلق پاکستان اور سعودی عرب میں دو معاہدے

ویسٹ انڈیز کے اہم کھلاڑی انجری کے باعث دورہ پاکستان سے آؤٹ وجود - پیر 06 دسمبر 2021

ویسٹ انڈیز کے کپتان کیرون پولارڈ انجری کی وجہ سے دورہ پاکستان سے آؤٹ ہوگئے۔ویسٹ انڈیز کرکٹ کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہمسٹرنگ انجری کا شکار ہونیوالے کپتان کیرون پولارڈ اب تک صحتیاب نہ ہوسکے جس کی وجہ سے وہ دورہ پاکستان سے باہر ہوگئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پولارڈ کی جگہ نکولز پورن ٹی ٹوئنٹی اور شائی ہوپ ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز کی قیادت کریں گے۔ویسٹ انڈیز کرکٹ کے مطابق کیرون پولارڈ کے متبادل کے طور پر رومین پاؤل کو ٹی ٹوئنٹی اور ڈیون تھامس کو ون ڈے اسکواڈ میں شامل کرلیا گی...

ویسٹ انڈیز کے اہم کھلاڑی انجری کے باعث دورہ پاکستان سے آؤٹ

ترکی کے مسلح ڈرونز کی فروخت میں غیرمعمولی اضافہ وجود - اتوار 05 دسمبر 2021

ترکی کی دفاعی اور ہوابازی کی صنعتوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ سب سے قابل ذکر ترکی کے بیرقدار ٹی بی 2 ڈرونز ہیں جو یوکرائن، پولینڈ اور ہنگری کو بھی برآمد کیے جا رہے ہیں۔ جرمن ٹی وی پورٹ کے مطابق ترک ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ملک کی دفاعی اور ہوابازی کی صنعت کی تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس فورم کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے پہلے گیارہ ماہ میں ان شعبہ جات کی برآمدات میں گزشتہ برس کی نسبت چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس برس کے گیارہ ما...

ترکی کے مسلح ڈرونز کی فروخت میں غیرمعمولی اضافہ

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود - اتوار 05 دسمبر 2021

پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مزاح نگار، افسانہ نگار، مترجم، شاعر، نقاد، معلم، برطانوی ہندوستان کے ماہر نشریات اور پاکستان کے سفارت کار پطرس بخاری کی63ویں برسی آج ( اتوار)5دسمبر کو منائی جائے گی۔ اس سلسلے میں ادبی حلقوں میں تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی جس میں پطرس بخاری کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔پطرس بخاری جن کا اصل نام سید احمد شاہ بخاری تھا لیکن وہ اپنے قلمی نام پطرس بخاری سے مشہور ہوئے۔ ان کی معروف تصنیف میں پطرس کے مضامین بے حد مقبول ہے ،ا...

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

حکومتی امیدوار کے بغیر این اے 133کے ضمنی انتخاب کا میدان آج لگے گا وجود - اتوار 05 دسمبر 2021

صوبائی دارالحکومت لاہور کے حلقہ این اے 133کے ضمنی انتخاب کا میدان آج (اتوار) 5دسمبرکو لگے گا،پرویز ملک کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میںحکمران جماعت تحریک انصاف اپنے نامزد امیدوارجمشید اقبال چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پہلے ہی مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے جس کے بعد اب مسلم لیگ(ن) او رپیپلز پارٹی میں ون ٹو ون مقابلہ ہوگا ۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست این اے133پر ضمنی انتخاب کی...

حکومتی امیدوار کے بغیر این اے 133کے ضمنی انتخاب کا میدان آج  لگے گا

تحریک انصاف کے کارکنوں،ووٹرز کو 133 کے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہنے کی ہدایت وجود - اتوار 05 دسمبر 2021

پاکستان تحریک انصاف نے این اے 133کے مقابلے میں شامل نہ ہونے پر اپنے کارکنوںاورووٹرز کو این اے133کے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہنے کی ہدایت کر رکھی ہے ۔ تحریک انصاف کی جانب سے کہاگیاہے کہ ہمارے امیدوار کو تکنیکی غلطی کی وجہ سے مقابلے سے باہر رکھاگیا ۔ تحریک انصاف نے کسی دوسری جماعت یا آزادامیدوارکو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اس لئے کارکنان اور ووٹرزاین اے 133کے ضمنی انتخاب سے قطعی لا تعلق رہیں اور ووٹ کا حق استعمال نہ کریں۔

تحریک انصاف کے کارکنوں،ووٹرز کو 133 کے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہنے کی ہدایت

مضامین
دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام