وجود

... loading ...

وجود
وجود

نلتر جھیل قدرت کی صناعی کانادر ثبوت

اتوار 07 جنوری 2018 نلتر جھیل قدرت کی صناعی کانادر ثبوت

رمضان رفیق
شاہراہِ قراقرم پر چلاس سے ہنزہ کی طرف جائیں تو نومل نامی علاقے سے نلتر نامی جھیل کی سمت جانے کیلیے جیپ کرائے پر حاصل کی جاسکتی ہے اِس جھیل کے لیے جیپیں جاتی ہیں۔ یہ جھیل کیا ہے قدرت کی صناعی کا نادر ثبوت ہے ،کبھی کبھی تو سوچتا ہوں کہ کیا اِسے جھیل بھی کہنا چاہیے یا ابسٹرکٹ آرٹ کا قدرتی نمونہ؟ پہلی نظر میں ہَرا رنگ جھیل کے رنگ پر غالب نظر آتا ہے، اگلی نظر میں کہیں دور ایک نیلگوں رنگ کا بھی احساس ہوتا ہے، کہیں کہیں قوس قزاح کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے، ایسی جگہ جو اشجار کے عکس کو تصویر کردے، بالکل شیشے کی بوتل میں بند کسی آرٹ کے نمونے کی طرح۔کئی بار سوچ بیٹتھا ہوں کہ دیکھنے والے اِن تصاویر کو شاید فوٹو شاپ فیکٹری کا کمال ہی سمجھیں، لیکن دوستو، دستِ قدرت کی صنائیاں وہاں شروع ہوتی ہیں جہاں انسانی عقل ختم ہوتی ہے۔

شاہراہِ قراقرم کے کنارے ’نلتر 17 کلو میٹر‘ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ نومل کی جن گلیوں سے ہوکر ہم جھیل کی جانب آئے تھے، اْس پر ایک آدھ بینک، دو میڈیکل اسٹور، اور اسکول کے بچوں کے انگریزی طرز کے یونیفارم دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ نومل ایک گاؤں سے بڑھ کر کچھ ہے۔، خوبصورت، بہت خوبصورت، اْف خوبصورت، کیا چیز ہے یہ رنگ برنگی جھیل۔

موسم خزاں میں اکتوبر کی 28 تاریخ کو مجھے اِس رنگ برنگی جھیل کو دیکھنے کا موقع ملا، جو دیکھا وہ بیان سے باہر ہے۔ وہ سب لمحے جو اِس چھوٹی سی جھیل کے کنارے گزرے، لگتا ہے کسی اور جہاں میں گزرے۔ عطا آباد جھیل کا نیلگوں رنگ ہو یا سیف الملوک کے رنگوں کا تصور، اِس جھیل کا رنگ اتنا گہرا سبز دکھائی دیا کہ لگتا ہے کہ کسی نے ہَرے رنگ کا پینٹ پانی میں ملا رکھا ہے۔ قریب آئیں تو پتہ چلتا ہے کہ خرد بینی مخلوق یا کائی کی طرز کی دبیز سبز تہیں اِس جھیل کے اِس رنگ کا اصل سبب ہیں۔ اِس سے پہلے کہ میں ایک ہی سانس میں جھیل کنارے رنگوں کے تذکرے میں کھو جاؤں، میں تھوڑا سا نلتر اور اِس کے علاقے کا تعارف کروا دوں۔کیوں کہ اْن دنوں ٹوئرسٹ سیزن نہیں تھا، اِس لیے جیپ کا ڈرائیور ہمارا منتظر تھا ورنہ تو شاید ہمیں اْس کے انتظار میں کتنا وقت بتانا پڑتا۔ اْس راستے پر پولیس کی ایک چوکی بھی موجود تھی جہاں سیاحوں سے شناخت طلب کی جاتی ہے۔ اِس کی ایک وجہ اْس علاقہ میں 3 چھوٹے ڈیم ہونا بھی ہوسکتا ہے۔ اِن میں سے 2 ڈیم کامیابی سے چل رہے ہیں اور ایک نیا بنایا جا رہا ہے۔

جیپ کا یہ 17 کلومیٹر طویل راستہ خاصا دشوار گزار ہے بلکہ اِس راستے کو راستہ کہنا بھی مناسب نہ ہوگا۔ کچھ جگہوں پر تو جیپوں کے ٹائروں کے نشانات سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں راستے یا سڑک طرز کی کوئی چیز ہوگی، وگرنہ موسمی نالوں، پائن کے درختوں کے درمیان سے جیپ یوں گزرتی ہے کہ آپ اگر ہاتھ بھر ہاتھ دروازے سے باہر نکالیں تو کسی درخت کے تنے کو چھو جائے۔ایسے راستے پر جیپ چلانا انتہائی مہارت کا کام ہے۔ محمد عباس جو ہماری جیپ چلا رہا تھا، 16 سالوں سے اْسی سڑک پر جیپ چلا رہا ہے۔ اْس کی جیب ایسے درجنوں واقعات سے بھری ہوئی تھی کہ کیسے من چلے اپنی قیمتی گاڑیوں کے زعم میں اْس راستے پر چلے آتے ہیں، اور بالآخر اپنی گاڑی کا نقصان کروا بیٹھتے ہیں۔ اْس نے ایک واقعہ ایسا بھی سنایا جس میں ایک جوڑا آٹو میٹک گاڑی سمیت نلتر نالے میں جاگرا تھا اور جان کی بازی ہار گیا۔

نلتر نالے کے کنارے چلتے چلتے ہم ایک گاؤں میں آ پہنچے جس کا نام نلتر پائن ہے۔ چند درجن گھروں پر مشتمل یہ گاؤں پہاڑوں کے دامن میں ایک پْرسکون بستی دکھائی دیتا ہے۔ گھریلو پیمانے پر لگائی گئی سبزیاں، مکئی کے ایک دو چھوٹے چھوٹے کھیت، دودھ دینے والے جانور، بکریاں اور بھیڑیں اِس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ یہ گاؤں ابھی شہری مصنوعات سے خاصا دور ہے۔ اِس گاؤں کے بعد اگلا گاؤں نلتر بالا ہے، یہاں پر چائے پینے کے لیے ایک چھوٹی سی بریک لی گئی۔

جھیل پر پہنچنے سے پہلے خزاں رسیدہ درختوں کا ایک جھرمٹ نظر آیا، میں چشمِ تصور سے دیکھ سکتا تھا کہ ایک مہینہ پہلے یہاں درختوں کے پتے گرنے سے پہلے اپنے رنگوں سے ماحول کو طلسماتی بنائے ہوئے ہوں گے، اْسی جھنڈ سے آگے ڈرائیور نے گاڑی روکی تو دور سے مجھے یہ چھوٹی سی جھیل ایک جوہڑ کی صورت دکھائی دی۔ چند ہی لمحوں بعد بصارت نے اْس کے سبز رنگ کو دیکھنے کا آغاز کیا، جوں جوں قدم اْس جھیل کی جانب بڑھ رہے تھے، سبز رنگ گہرا سبز ہونے لگا، اور بالآخر پہلی بھرپور نظر نے نگاہ کو حیران کرکے رکھ دیا کہ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ جیسے اوپر شفاف شیشے کی برف کی تہہ ہو اور اْس کے نیچے ہرے رنگ کی جھالریں بنی ہوئی ہوں، سبز کائی کی دبیز تہیں قدرتی طور پر اِس رنگ کو پیدا کر رہی تھیں، کچھ جگہ پر ایسا لگ رہا تھا کہ مٹی کے تیل میں ہَرے رنگ کا پینٹ گرا ہوا ہو۔ جہاں کائی کی تہہ گہری اور مکمل تھی وہاں اْس پر ایک خوبصورت پینٹگ کا سا گماں ہو رہا تھا۔یہ سچ ہے کہ اِس سے ملتی جلتی جھیل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، یہ چھوٹی سی جھیل بس قدرت کے ہاتھوں بنی ہوئی ایک تصویر تھی جو اِن برف پوش پہاڑوں کے دامن میں رکھی گئی تھی۔ جس کنارے پر میں کھڑا تھا وہاں اْس پر سبز رنگ غالب تھا، لیکن کچھ جگہ تبدیل کرنے سے دور نیلگوں رنگ کے کچھ شیڈز بھی سْجھائی دیتے تھے، میں نے جھیل کے 3 اطراف کھڑے ہوکر اِس کی تصویر کشی کی اور مجھے ہر انداز سے یہ جھیل ایک شاہکار محسوس ہوئی۔

17 کلو میٹر طویل جیپ کا یہ سفر کم از کم دو،ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر مشتمل ہے، اور اتنا ہی وقت واپس جانے کے لیے درکار ہے، جاتے وقت یہ 17 کلو میٹر بہت کٹھن معلوم ہوتے ہیں، لیکن واپسی کے 17 کلومیٹر اور اڑھائی گھنٹے کا سفر ایک نشے سے لبریز تھے۔ قدرت کے ایک شاہکار کو دیکھ لینے کا نشہ، بہت دیر تک یہ گماں ہوتا رہا کہ شاید کسی خواب کی کھڑکی سے کوئی رنگ برنگا منظر دیکھا ہو، لیکن میرے کیمرے کی تصاویر گواہ ہیں، اِن سبھی دیدہ زیب لمحوں کے جو اِس جھیل کنارے بسر ہوئے۔واپسی پر اْسی راستے پر برفانی چیتے کا ایک کنزرویشن سینٹر دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔ یہاں اِس سینٹر میں صرف ایک چیتا موجود تھا، یہ دنیا کے نایاب جانوروں میں سے ایک ہے۔

اِس سینٹر کے رکھوالے کے بقول اْس نے اِس علاقے میں 9 کے قریب ایسے چیتے دیکھ رکھے ہیں، لیکن اِن چیتوں کو پکڑنا بہت مشکل کام ہے۔ پاکستان کی نایاب ڈولفن ہو یا سنو لیپرڈ، ہمیں اپنے ملک کی ایسی اقسام کو محفوظ کرنے کے لیے ابھی بہت کام کی ضرورت ہے۔ اِس کنزرویشن سینٹر کا قیام ہی درست راستے پر ہمارے قدموں کی نشاندہی کرتا ہے۔

واپسی کے راستے میں نلتر بالا کے پاس ہماری گاڑی کا ایک ٹائر اپنی ہوا قائم نہ رکھ سکا۔ اب جب تک عباس بھائی ٹائر بدلتے ہم نے گاوں میں پیدل چلتے ہوئے پہلے والے ریسٹورنٹ تک جانے کا فیصلہ کیا، گاوں کی یہ شام مجھے بچپن کی اْن شاموں میں لے گئی جہاں اسکول کے بعد کھیلنے کے لیے فرصت ہی فرصت ہوا کرتی تھی۔ بچے اور بچیاں اپنے گھروں سے باہر کھیل کود میں مصروف تھے، کہیں کہیں دھواں شام کے کھانے کی تیاری کا پتہ دے رہے ہوتے تھے۔ ایسے سادہ لوگوں کی ایسی خوبصورت شام دل میں اترتی جا رہی تھی۔ ہماری مصروف زندگیوں کی دوڑتی بھاگتی شامیں اب فراغت سے نا آشنا ہیں، صرف میڈیا کے رنگ زندگی سے نکال کر دیکھئے دوستوں سے ملنے کا ڈھیروں وقت ہماری جیب میں پڑا ہے۔اب بھی نلتر جھیل کی یہ تصاویر کسی خواب کے سفر کی کہانی لگتی ہیں، آپ بھی کبھی اِس خواب کے سفر کے نکلیے اور اِس گوہر رنگ دار سے اپنی آنکھوں کو خیرہ کیجئے۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان میں حملہ، پاک فوج کے دس جوان شہید وجود - جمعه 28 جنوری 2022

بلوچستان کے علاقے کیچ میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 10 جوان شہید ہو گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر یہ حملہ 25 اور 26 جنوری کی درمیانی رات کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ کلیئرنس آپریشن میں 3 دہشت گرد گرفتار کرلیے گئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے ذمے داروں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔

بلوچستان میں حملہ، پاک فوج کے دس جوان شہید

حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس منجمند کرنے کے لیے کارروائی وجود - جمعه 28 جنوری 2022

وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کے لیے لیٹرز لکھ دیے۔ٹک ٹاک اسٹار کے پاکستان میں دو بینک اکاؤنٹس ہیں اور دونوں اکاؤٹس ان کے اصل نام فضا حسین کے نام سے بنائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے دونوں بینکوں کے ہیڈ کمپلائنس کو اکاؤنٹس منجمند کرنے کے لیے لیٹرز لکھے ہیں۔ یاد رہے کہ حریم شاہ نے رواں ماہ کے آغاز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پہلی بار بھاری رقم لے کر لندن پہنچیں اور انہیں پاکستان کے ایئرپورٹ پر کسی...

حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس منجمند  کرنے کے لیے کارروائی

پی ایس ایل سیون کا افتتاحی میچ، دفاعی چیمپئن سلطانز کا فاتحانہ آغاز، کنگز کوپچھاڑ دیا وجود - جمعه 28 جنوری 2022

پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے افتتاحی میچ میں دفاعی چیمپیئن ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو بآسانی 7 وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں پہلی فتح حاصل کرلی ،کراچی کنگز مقررہ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 124 رنز اسکور کرسکی، ملتان سلطانز نے 125 رنز کا ہدف بآسانی3 وکٹوں کے نقصان پر 19ویں اوور میں مکمل کرلیا، کپتان محمد رضوان ناقابل شکست 52 رنز بناکر نمایاں رہے جبکہ تین وکٹیں حاصل کرنے پر عمران طاہر مین آف دی میچ قرار پائے۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایونٹ کے افتت...

پی ایس ایل سیون کا افتتاحی میچ، دفاعی چیمپئن سلطانز کا فاتحانہ آغاز، کنگز کوپچھاڑ دیا

غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانیوالے 13 ملزمان گرفتار وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

وفاقی حساس ادارے اور ایف آئی اے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانے اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث 13 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل نے وفاقی حساس ادارے کی نشاندہی پر کراچی کے چار مختلف مقامات پر کارروائی کی اور حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 13 افراد گرفتار کرلیے۔حکام کی مطابق گرفتار افراد کا تعلق بیرونی انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے جبکہ گرفتار ہونے والوں میں سوئس ایک...

غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانیوالے 13 ملزمان گرفتار

قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی، فروغ نسیم وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاہے کہ قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی،انگلینڈ میں کرمنل ریفارمز کے لیے 15 سال لگے تھے،کرمنل ریفارمز سے ہم سول پراسیجر کورٹ، پاکستان پینل کوڈ، قانون شہادت اور ایک انڈیپینڈینٹ پروسکیوشن سروس متعارف کروارہے ہیں،فورنزک کیلئے لیبارٹریز اور بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، جدید ٹیکنالوجی بھی آئے گی جو انصاف کے نظام کو اوپر لے جائے گی،ریفارمز کے تحت عدالت کے ذریعے مفرور ملزمان کے بینک اکائونٹس، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر چیزیں فریز کرنا ممکن...

قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی، فروغ نسیم

چین میں والدین کا فروخت کردہ اولاد کو اپنانے سے انکار، بیٹے نے خودکشی کرلی وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

چین میں ایک افسوسناک واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر دکھ دیا ہے۔ 17 سال قبل اپنی اولاد کو دوسری فیملی کے ہاتھوں بیچنے والے والدین کے پاس ان کا بیٹا لوٹ آیا لیکن انہوں نے اسے اپنانے سے انکار کیا جس پر بیٹے نے دل برداشتہ ہوکر خود کی جان لے لی۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق لیو زیژو نے چین کے شہر سانیا میں ساحل سمندر پر خودکشی کی۔ اپنی موت سے پہلے لیو نے دس ہزارالفاظ پر مبنی خودکشی نوٹ بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا۔ لیو نے سوشل میڈیا پر اپنے سگے والدین کو تلاش کرنے کے مشن سے متعلق...

چین میں والدین کا فروخت کردہ اولاد کو اپنانے سے انکار، بیٹے نے خودکشی کرلی

بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں پولیس نے گوگل (ایلفابیٹ ان کارپوریشن)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او)سندر پچائی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ سندر پچائی اور پانچ دیگر کمپنیوں کے آفیشلز کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گوگل کے سندر پچائی کے ساتھ دیگر پانچ کمپنیوں کے حکام کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ۔ اپنے بیان میں ممبئی پولیس کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور پانچ دیگر کمپنیوں کے آفیشلز کے خلاف ک...

بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

کافی پینے سے ہاضمہ بھی درست رہتا ہے،فرانسیسی ماہرین وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

فرانس میں ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کافی پینے سے جہاں دل اور دماغ کو فائدہ پہنچتا ہے، وہیں پیٹ اور ہاضمے کا نظام بھی بہتر رہتا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ایک تجزیاتی مطالعہ (ریویو اسٹڈی)تھا جس میں کافی کے استعمال سے متعلق اب تک کی گئی 194 تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ روزانہ 3 سے 5 کپ کافی پینے سے صحت پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑتے جبکہ پیٹ کے مفید جرثوموں کی تعداد بڑھتی ہے جو ہاضمے پر بہت اچھا اثر ڈالتے ہیں۔ کافی پینے کے باعث قولون (آنت کے اختتامی...

کافی پینے سے ہاضمہ بھی درست رہتا ہے،فرانسیسی ماہرین

رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم قرار وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رات کے کھانے کے وقت اور بلڈ شوگر کی سطح کے درمیان تعلق موجود ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل، برگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل اور اسپین کی مورسیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے اوقات نیند اور میلاٹونین کی سطح سے جڑے ہوتے ہیں۔ میلاٹونین ایک ایسا ہارمون ہے جو رات کو جسم میں خارج ہوتا ہے جس سے نیند اور بیداری کے عمل کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ محققین نے ب...

رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم قرار

جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیش رفت وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

شہر قائد میں ستائیس روز سے جاری جماعت اسلامی کا دھرنا رنگ لانے لگا ہے، جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیشرفت ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے بعض اہم بلدیاتی ادارے میئر کے ماتحت کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، بلدیاتی قانون میں کم از کم 3 اہم شعبے میئر کے ماتحت کیے جائیں گے۔گزشتہ 27 روز سے جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا جاری ہے، اس دوران جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور سندھ حکومت کے نمائندوں کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے لیکن ن...

جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیش رفت

فیس بک کے مفت انٹرنیٹ کے پیسے، پاکستانیوں سے33کروڑ ماہانہ وصولی وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

فیس بک نے اپنی سروسز تک مفت رسائی کے لیے پاکستان، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ترقی پزیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے۔امریکی اخبار کے مطابق فیس بک نے فیس بک اور دیگر ویب سائٹس تک مفت رسائی فراہم کرنے کے لیے پاکستان، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے لیکن فیس بک کی اندرونی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے بہت سے صارفین کو ان سروس کے عوض چارج کیا جا رہا ہے جو کہ مجموعی طور پر لاکھوں ڈالرز م...

فیس بک کے مفت انٹرنیٹ کے پیسے، پاکستانیوں سے33کروڑ ماہانہ وصولی

کراچی میں ریلیوں کے باعث پی ایس ایل میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

کراچی میں بدھ کی شام سیاسی جماعتوں کی ریلیوں اور سیاسی کارکنان کی پولیس سے جھڑپ کے بعد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ کردیے گئے۔ جمعرات سے شروع ہونے والے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن سے قبل بدھ کی رات چار ٹیموں کو پریکٹس کرنا تھی، معین خان اکیڈمی میں پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا پریکٹس میچ شیڈولڈ تھا جبکہ نیشنل اسٹیڈیم میں کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کی ٹیموں کو نیٹ پریکٹس کرنا تھی۔ سیاسی جماعتوں کی ریلیاں، کارکنان کی پولیس...

کراچی میں ریلیوں کے باعث پی ایس ایل میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ

مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)