وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نوگیارہ

اتوار 11 ستمبر 2016 نوگیارہ

ہم وہ دن پیچھے چھوڑ آئے،جو دراصل ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے۔ ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے اور قومی حیات سے لے کر ہمارے شرعی شب وروز پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔یہ مسلم ذہن کے ملی شعور کی سب سے بڑی امتحان گاہ کا خطرناک ترین دن ہے۔

امریکامیں نوگیارہ سے قبل جاپان کی طرف سے7دسمبر1941ء کو پرل ہاربر پر ایک حملہ ہوا تھا۔ تب امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ تھا، مگر تقریباً چھ دہائیوں کے بعد جب امریکی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دفاعی مرکز پینٹاگون کو نشانا بنایا گیا، تو امریکا میں صدارتی منصب پر بش فائز تھا۔ ان دونوں حملوں کے درمیان میں امریکا ایک تبدیل شدہ ملک تھا۔ امریکا ایک سرکش ریاست میں تبدیل ہو چکا تھا۔ دْنیا میں اپنے ’’عالمی فرمان‘‘ (ورلڈ آرڈر) کے لئے اس کا جوش وخروش ’’سیکولر‘‘ تصور سے آگے بڑھ کر مذہبی روپ دھار چکا تھا۔اگرچہ دْنیا میں کہیں پر بھی یہ تصور پہلے بھی وجود نہیں رکھتا تھا، مگر امریکہ نے اپنے تہذیبی تجربے اور بناوٹ میں اِسے اعلیٰ درجے کی مہارت سے ایک مغالطے میں منظم کر رکھا تھا۔ جسے دانشوروں کی حمایت سے فروغ دیا جاتا تھا۔اْس کے اہداف دوست دشمن کے تعین میں انسانی مقاصد سے باہر ہو کر کاملاً تہذیبی نوعیت کے ہو چکے تھے، اور وہ ایک ایسے ملک کے طور پر اپنی فرماں روائی کا خواہاں تھا، جس کے بیرون میں ’’انسانی حقوق‘‘ کا نام نہاد زرق برق کاغذ لپٹا ہوا تھا، مگر اس کے پیچھے نوقدامت پسندوں کی تاریک خیالی اور کٹر عیسائی روایات پر مبنی مذہبی رومانویت اْبل رہی تھی، مگر مسلم اذہان اس پورے منظرنامے کے سامنے کی حقیقتوں کو دیکھنے کی بصارت اور سمجھنے کی بصیرت کھو چکے تھے۔

نوگیارہ کا واقعہ کیا ہے؟ یہ آج تک ایک راز ہے۔ خود مغرب میں اس پر متعدد سوالات اْٹھائے گئے ہیں، مگر اس حوالے سے جائز سوالات اْٹھانے والے تمام دانشوروں کو گوشۂ گمنامی میں دھکیل دیا گیا۔ پروفیسر کیون بیرٹ (Kevin Berrett) بھی اْن میں سے ایک ہیں، جو نوگیارہ کے المناک واقعے کے بارے میں امریکی دعوے کے علیٰ الرغم رائے رکھتے تھے۔ اْن کے دلائل اِس قدر مضبوط تھے کہ انہیں امریکی جامعات میں پڑھانے سے روک دیا گیا۔ یہاں تک کہ آزادیٔ اظہار کے علمبردار اس مْلک نے اْنہیں ذرائع ابلاغ کے مرکزی دھارے سے بھی نوچ پھینکا۔ کہاں ہے متبادل رائے کا دعویٔ آزادی، جس کی بنیاد پر جمہوریت کی تقدیس کے گیت گائے جاتے ہیں؟ڈاکٹر کیون بیرٹ اس کے خلاف ایک زندہ مثال بن کر خود امریکا کے اندر کھڑے ہیں۔انہیں ایک ویب سائٹ کا سہارا لینا پڑا۔ اْن کی کتابیں اس ضمن میں پوری دْنیا میں پڑھی جارہی ہیں۔ وہیTruth Jihad: My Epic Struggle Against the 9/11 Big Lie کی کتاب کے مصنف ہیں۔ اْن کی ایک اور کتاب Questioning the War on Terror کو بھی خاصی پذیرائی مل چکی ہے، مگر پاکستانی دانشوروں کو اس کی کوئی خبر نہیں۔ ڈاکٹر کیون بیرٹ اپنی ان کتابوں، ویب سائٹ اور ریڈیو پروگرام کے ذریعے امریکا کا اصل کردار بے نقاب کرتے ہیں جو نوگیارہ کے واقعے کے پیچھے نہایت بہیمانہ طور پر مسلمانوں کے خلاف بروئے کار آچکا ہے، مگر پاکستانی دانشوروں نے یہاں اس سوال کو کم وبیش جہالت کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ اس نوع کے سوال اْٹھانے والوں کو یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ حقائق سے بے خبر ہیں، بلکہ یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ وہ دراصل جاہل ہیں۔ کسی موقف پر اس نوع کے نتیجے کی تکرار بجائے خود کوئی عالمانہ شان نہیں رکھتی، بلکہ یہ ایک خاص نوع کاڈھنڈورا پیٹنے (پروپیگنڈے ) کا علم الکلام ہوتا ہے۔ ایسی زبان اور الفاظ کے متعلق ماہرینِ لسانیات و ابلاغیات نہایت چشم کشا تحقیقی کام کر چکے ہیں،مگر ان عاقلوں اور بالغ نظر چھچھورے دانشوروں کی آزادیٔ رائے کو بھونکنے دینا چاہئے۔

نوگیارہ کے ساتھ ایک اور وابستہ ’’ اتفاق‘‘ کو بھی یہاں پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔ امریکی ریاست فلاڈیلفیا سے نوقدامت پسند عیسائیوں کا ایک رسالہ ’’The Philadelphia Trumpet‘‘ نکلتا ہے۔یہ ماہانہ رسالہ فلاڈلفیا کے ’’ چرچ آف گاڈ‘‘ کے زیرِ اہتمام شائع ہوتا ہے اوراِسے تین لاکھ سے زائد تعداد میں مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ رسالے کے نہایت تنگ نظر اور کٹّر ایوانجلیکن عیسائی ایڈیٹر جیرالڈ فلوری (Gerald Flurry) نو گیارہ سے ایک ماہ پہلے، یعنی اگست2001ء میں اپنی ایک تحریر میں یہ لکھتے ہیں کہ’’بہت سے لوگوں (مراد عیسائی دْنیا) کے خیال میں صلیبی جنگیں ہمیشہ کے لئے ماضی کا حصہ بن چکیں، مگر وہ سب (عیسائی) غلط سوچ رہے ہیں۔ ایک حتمی صلیبی جنگ کی تیاریاں ہو چکی ہیں اور یہ اب تک کی سب سے خونریز جنگ ہو گی‘‘۔

یہ اہم ترین تحریر دراصل اْس تناظر کو مکمل کرتی ہے جو ڈاکٹر کیون بیرٹ کی کتابوں سے بنتا ہے۔ اب نوگیارہ کے بعد امریکی صدر بش کے الفاظ اور اْن کی سرگرمیوں کے مذہبی پہلوؤں پر ایک نگاہ ڈال لیجئے تو بات مکمل ہو جاتی ہے کہ نوگیارہ کے پورے تناظر میں کون سی نئی دْنیا تشکیل دینے کا موقع اور ماحول بنایا گیا۔ بش نے سب سے پہلے امریکی حملے کو ’’کروسیڈ‘‘ کہا۔ بعد ازاں مسلم دْنیا کے حکمرانوں کی بڑھتی مصیبتوں سے بچنے کے لئے اس کا نام ’’آپریشن لامتناہی انصاف‘‘ رکھا گیا۔ یہ اصطلاح بھی ایک خاص طرح کی عصبیت سے عبارت ہے، مگر اِس کی تفصیلات اور چھان پھٹک کا یہاں موقع نہیں۔ بش نے ایک سے زائد مرتبہ یہ تاثر دیا کہ وہ یہ جنگ براہِ راست خدا کے حکم پر لڑ رہے ہیں۔امریکی صدر نے اْن دنوں جب چینی صدر سے ملاقات کی تو واشگاف الفاظ میں کہا کہ ’’میں عیسائی ہوں۔‘‘

امریکی صدر نے اس جنگ کو تصورات کی سطح پر ایک عیسائی عقیدے سے عبارت جنگ کے طور پر برتا۔ یہاں تک کہ وہ افغانستان پر حملے سے پہلے، جس اہم ترین آدمی سے اس کی نظریاتی جہت کو اْستوار کرنے کے لئے ملا وہ کوئی اور نہیں برنارڈ لیوس (Bernard Lewis) نامی مشہور مستشرق تھا۔

جو مسلمانوں کے خلاف مغرب کا سب سے بڑا نظریاتی اور تہذیبی مورچہ سنبھال کر بیٹھا ہوا ہے۔ برنارڈ لیوس تقریباً ایک سو سے زائد کتابوں کا مصنف ہے اور اْسی کی کتابWhat Went Wrong?کو اس پورے تناظر کو سمجھنے کے لئے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف تہذیبی اور مذہبی جنگ کا اصل سپہ سالار ہے۔ بآلفاظِ دیگر یہ امریکی صدر بش کی مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی جنگ سے زیادہ خطرناک جنگ لڑ رہا ہے۔ یہاں صرف اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کی سب سے پہلے اصطلاح اِسی نے استعمال کی تھی۔ جسے لے کر ہنٹنگٹن نے اپنی کتاب ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کا خاکہ بْنا۔ مسلمانوں کے لئے یہ بات صرف نفسیاتی طور پر ہی قابلِ تسکین ہے کہ افغانستان میں امریکا اپنا کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا، مگر اْس نے یہ جنگ پورے عالم اسلام پر ایک اور انداز میں مسلط کر دی ہے، جس کے تمام نتائج اب تک اْس کے حق میں جارہے ہیں۔ اس تہذیبی جنگ کی ہمہ جہت لہروں کو کسی اور وقت کے لئے اْٹھا رکھتے ہیں۔ یہاں بس اتنا عرض کرنا ہے کہ نوگیارہ کا دن ہم پیچھے کبھی نہیں چھوڑپائیں گے۔ یہ ہمارے ساتھ چمٹ چکا ہے اور ہماری تاریخ وتہذیب کے لئے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔


متعلقہ خبریں


خاتمہ محمد طاہر - جمعرات 29 ستمبر 2016

کیا بھارت سوویت یونین کی طرح بکھر جائے گا؟ خوشونت سنگھ ایسے دانشور بھارت کو زیادہ سمجھتے تھے۔ اُن کا جواب تھا : ہاں، بھارت باقی نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے ایک کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ تحریر کی، جس کے چمکتے الفاظ دامنِ توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’بھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان یا کوئی اور بیرونی قوت نہیں، بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے۔ ‘‘ بھارتی آبادی کا اسی فیصد ہندو ہیں جن میں ہر گزرتے دن مذہبی جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد بارہ برس کی سب سے طویل مدت گزارنے والے بھار...

خاتمہ

نائن الیون بل، خلیجی ممالک کا امریکی قانون سازی پر اظہار تشویش وجود - جمعرات 15 ستمبر 2016

چھ خلیجی ممالک نے امریکی کانگریس کی جانب سے اس بل کی منظوری پر سخت تشویش ظاہر کی ہے جو نائن الیون میں مارے گئے افراد کے اہل خانہ کو سعودی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے گا۔ خلیج تعاون کونسل کے سربراہ عبد اللطیف الزایانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ قانون سازی بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور خارجہ تعلقات میں ایک خطرناک رحجان قائم کرتی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے گزشتہ جمعے کو اس قانون کو منظور کیا تھا جس کی منظوری پہلے سینیٹ سے لی گئی تھی...

نائن الیون بل، خلیجی ممالک کا امریکی قانون سازی پر اظہار تشویش

جوتے کا سائز محمد طاہر - منگل 13 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40669" align="aligncenter" width="640"] رابرٹ والپول[/caption] وزیراعظم نوازشریف کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا انمول تحفہ ملا ہے، جس کی مثال ماضی میں تو کیا ملے گی، مستقبل میں بھی ملنا دشوار ہوگی۔ اُنہوں نے اپنے اِرد گِرد ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جس میں آپ اُن کی تعریف کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے!اگر حالات ایسے ہی رہے، اور تارکول کی سڑکوں کے ساتھ اقتصادی راہداری کی معاشی فضیلتوں کا جاپ جاری رہاتو لگتا ہے کہ وہ سررابرٹ والپول کا ریکارڈ ...

جوتے کا سائز

ٹوئن ٹاورز باقاعدہ طور پر دھماکے سے اڑائے گئے، سائنسی تحقیق سے ثابت ہوگیا وجود - اتوار 11 ستمبر 2016

ایک یورپی سائنسی تحقیق سے نتیجہ نکلا ہے کہ 11 ستمبر 2001ء کو نیو یارک کے جڑواں ٹاورز باقاعدہ طور پر منہدم کیے گئے تھے۔ چار طبیعیات دانوں کی یہ تحقیق یوروفزکس میگزین میں شائع ہوئی ہے جو کہتے ہیں کہ شواہد واضح طور پر کہتے ہیں کہ تمام ٹاورز 'کنٹرولڈ ڈیمولیشن' سے تباہ کیے گئے تھے۔ یہ تحقیق بریگھم ینگ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر فزکس اسٹیون جونز، اونٹاریو، کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی میں سول انجینئرنگ کے اعزازی پروفیسر رابرٹ کورول، ایروسپیس اور کمیونی کیشنز صنعت میں اسٹرکچرل...

ٹوئن ٹاورز باقاعدہ طور پر دھماکے سے اڑائے گئے، سائنسی تحقیق سے ثابت ہوگیا

امریکی حکومت کی 15 سال بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر واپسی وجود - اتوار 11 ستمبر 2016

امریکا کی وفاقی حکومت کے دفاتر 15 سال بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں واپس آ گئے ہیں جو 11 ستمبر 2001ء کو ہونے والے حملے میں تباہ ہو گئے ہیں۔ امریکی وزیر داخلہ جے جانسن نے 1 ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی 63 ویں منزل پر منعقدہ تقریب میں کہا کہ آج ایک حوصلہ افزا دن ہے، جو آگے کی طرف رواں رہنے کے لیے ہمارے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔" ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ تعمیر کی گئی نئی عمارت کو فریڈم ٹاور کہتے ہیں اور یہ 1776 فٹ کی بلندی کے ساتھ دنیا کی سب سے لمبی عمارات میں سے ایک ہے۔ اس عمارت کی تعمیر ک...

امریکی حکومت کی 15 سال بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر واپسی

دائرے محمد طاہر - جمعه 02 ستمبر 2016

وقت کے سرکش گھوڑے کی لگامیں ٹوٹی جاتی ہیں۔ کوئی دن جائے گا کہ تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اجتماعی حیات کو بدعنوانوں کے اس ٹولے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اپنا جواز جمہوریت سے نکالتے ہیں مگر جمہوریت کے کسی آدرش سے تو کیا علاقہ رکھتے ، اس کے اپنے بدعنوان طریقۂ اظہار سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ الامان والحفیظ! تاریخ میں حکمرانوں کے ایسے طرز ہائے فکر کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو اپنی بدعنوانیوں کے جواز میں ریاست تک کو برباد کرنے پر تُل جائیں۔ پاناما لیکس کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔...

دائرے

نائن الیون "اندر کا کام" تھا، روس وجود - پیر 15 اگست 2016

روس کے سرکاری نشریاتی ادارے "رشیا ٹوڈے" نے ان ثبوتوں کا جائزہ لیتے ہوئے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 11 ستمبر 2001ء کو امریکا پر ہونے والے حملے دراصل "اندر کا کام" تھے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ امریکی حکومت اور سی آئی اے کے اعلیٰ ترین عہدیداران کے یہ بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ اپنے ہی عوام کے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں وائٹ ہاؤس ملوث ہے۔ اعلیٰ حکومتی عہدیداران اور انٹیلی جنس حکام "آپریشن گلاڈیو" نامی اس مہم کی موجودگی کی تصدیق کرچکے ہیں جو سابق سی آ...

نائن الیون

آزادی سے بیگانگی محمد طاہر - اتوار 14 اگست 2016

تاریخ پر اب تاریخ گزرتی ہے مگر کبھی تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں تو ایک رائے بہادر یار جنگ کی ملتی ہے، جسے اُنہوں نے کسی اورسے نہیں خود قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے ظاہر کیا تھا:’’پاکستان کو حاصل کرنا اتنامشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہو گا۔" اب دہائیاں بیت گئیں اور ایک آزاد ملک کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کا وفور بھی کہیں غتربود ہو گیا۔ گستاخی معاف کیجئے گا، 14؍ اگست اب کچھ اور نہیں، بس عادتوں کی ایک ورزش ہے۔یومِ آزادی کے ہر شہری پر دو حق ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس...

آزادی سے بیگانگی

دہشت ناک رویے محمد طاہر - بدھ 10 اگست 2016

چرچل نے کہا تھا: رویہ بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ ‘‘دہشت گردی کے متعلق ہمارا رویہ کیاہے؟ اگر اس ایک نکتے پر ہی غور کر لیاجائے تو ہماری قومی نفسیات ، انفرادی عادات اور اجتماعی حرکیات کا پورا ماجرا سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار آج سے تو نہیں ہے۔1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے روایتی جنگوں میں نہیں بلکہ غیر روایتی میدانوں میں مقابل ہوں گے۔ غیر واضح چہروں اور نامعلوم ہاتھوں کی لڑائی کا...

دہشت ناک رویے

جنت سے بچوں کا اغوا محمد طاہر - جمعرات 04 اگست 2016

دستر خوانی قبیلے کی یہ خواہش ہے کہ عام لوگ اس نظام کی حفاظت کے لیے ترک عوام کی طرح قربانی دیں۔ اُس نظام کی حفاظت کے لیے جس کے وہ دراصل فیض یافتہ ہیں مگر عام لوگ اسے جمہوریت کے نام پر بچائیں۔ حریتِ فکر وہ سرشار کرنے والا جذبہ ہے جسے انسان اپنے شرف کے ساتھ منسلک کرکے دیکھتا ہے۔ سرمائے کے منتر پر چلنے والے ذرائع ابلاغ نے جمہوریت کے دھوکے کو اس شرف کا محافظ نظام باور کرادیا ہے۔ دھوکا ہے! دھوکا! صرف دھوکا!!!یہ سرمایہ داروں، دولت مند میڈیا سیٹھوں اور شریفوں کی جمہوریت ہے، اور کسی ک...

جنت سے بچوں کا اغوا

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟ محمد طاہر - منگل 02 اگست 2016

یادش بخیر !میں اُن اوراق کو پلٹ رہا ہوں۔ جو کبھی ایک کتاب کا مسودہ تھے۔ کتاب چھپ نہ سکی، کیونکہ میر خلیل الرحمان بہت طاقتور تھے اور پاکستان کے کسی پبلشنگ ہاؤس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اُن کے حکم کی سرتابی کرتے۔ کتاب کا مسودہ دربدر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ حُسن اتفاق سے اس خاکسار کے ہاتھوں میں ایک امانت کے طور پر پہنچایا گیا۔ ابھی اس چشم کشا اور ہوشربا کتاب کے چھپنے کا وقت نہیں آیا۔ جس میں جنگ کے آغاز سے اس ادارے کے جرائم کی پوری کہانی جمع کردی گئی ہے۔ مسودے کا مطالعہ کیا جائے ت...

وجود ڈاٹ کام پر کیا بیتی؟

ناکام بغاوت محمد طاہر - جمعه 29 جولائی 2016

یہ ایک اوسط درجے سے بھی کم ذہانت کا مظاہرہ ہے کہ یہ سوال بھی اُٹھایا جائے کہ بغاوت تو فوج نے کی اور سزا ججوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ اول تو کسی بھی بغاوت سے پہلے اُس کے معمار اسی پر غور کرتے ہیں کہ بغاوت کے بعد خود کو قانونی شکنجے سے بچانے اور آئینی خرخرے سے سنبھالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ طریقہ عدلیہ سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مگر ترکی میں بغاوت سے پہلے کے حالات میں اس سے زیادہ ہی کچھ ہوا۔ جب رجب طیب اردوان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر ڈیوگِن (Aleksandar D...

ناکام بغاوت