وجود

... loading ...

وجود

بھارت نے حملے کی کوشش کی تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا،عمران خان

هفته 18 دسمبر 2021 بھارت نے حملے کی کوشش کی تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا،عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پراجاگر کریں گے،بھارت نے حملے کی کوشش کی تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا، بی جے پی کی حکومت بھارت اورخطے کیلئے خطرناک ہے مجھے خدشہ ہے بی جے پی حکومت کی موجودگی میں پاک بھارت ایٹمی جنگ نہ چھڑجائے، نائن الیون میں کوئی افغان شہری ملوث نہیں تھا لیکن افغانستان پرامریکا کی مسلط کردہ جنگ ایک جنونی عمل تھا۔الجزیزہ ٹی وی کو دئیے گئے تفصیلی انٹرویومیں عمران خان نے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں نام نہادجنگ کے نام پر20سال تک قبضہ کیے رکھا، سمجھ نہیں آیا امریکی افغانستان میں کیا اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہوا اس کے بعد امریکا صدمے میں ہے، افغانستان میں 2001 سے بھی زیادہ بدتر صورتحال پیدا ہوگئی ہے، افغان حکومت کے مزاحمت کے بغیر ہتھیار ڈالنے پر امریکا شدیدغم وغصہ میں ہے، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ایک کروڑ 40 لاکھ عوام امداد کی منتظر ہیں اور امریکا کو اب افغان عوام کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہیے۔افغانستان میں صورتحال خراب ہوئی تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوگا، افغانستان کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے پاکستان اپنی قومی سلامتی کا کیسے تحفظ کرسکتا ہے، عالمی برادری نے افغان عوام کی مدد نہ کی تو خطے میں بحران پیدا ہوسکتا ہے، افغانستان میں بحران سے شدت پسند تنظیمیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں،افغانستان کی امداد کیلئے عالمی برادری کو آگے آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1989میں سوویت یونین افغانستان سے گیا تو بحران کی صورتحال پیدا ہوئی، ہم نے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو جگہ دی، پاکستان میں پہلے ہی 30لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔مسئلہ کشمیر پر عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 80لاکھ کشمیری کھلی جیل میں رہ رہے ہیں، 9لاکھ بھارتی فوج نے کشمیریوں کو کھلی جیل میں قید کر رکھا ہے، مسئلہ کشمیر اسلامی تعاون تنظیم میں اٹھایا اور اسلامی ممالک سے بات چیت کی، مگر مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ اپنے تعلقات ہیں اور آپ ان سے کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے، پاکستان مسئلہ کشمیر ہر فورم پر اجاگر کرتا رہے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اگر حملے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا، بھارت میں بی جے پی کی فاشسٹ حکومت قائم ہے، بھارت کے لوگ باشعور مگر وہاں جنونیوں کی حکومت قائم ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت سے مثبت مذاکرات کی بات کی لیکن اب ان سے اچھے کی امید نہیں، عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر نوٹس لیناچاہیے، بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ،بھٹو اورشریف خاندان نے وسائل کا ناجائز استعمال کیا۔عمران خان نے کہا کہ ہم ملک کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں، ہمارا مقابلہ دو ایسے خاندانوں سے ہے جودولت سے مالا مال ہیں۔ عمران خان نے مزید کہا کہ بھٹو اورشریف خاندان سیاست نہیں خاندانی نظام قائم کرناچاہتے ہیں جبکہ پاکستان کی بدحالی کے ذمہ دار بھی یہی دونوں خاندان ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا اورکرپشن ملک کو تباہ کردیتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ بانیان پاکستان کے مقاصد میں فلاحی ریاست کا ذکر تھا، ترقی پزیر ممالک اس لیے غریب ہیں کیوں کہ ان کے حکمران، اشرافیہ اور وزرائے اعظم پیسہ لوٹتے ہیں، جب کسی ملک کا وزیراعظم ملکی دولت لوٹتا ہے تو ملک معاشی طور پر کمزور ہوتا ہے، میں کرپشن سے پاک پاکستان کا خواہاں ہوں، اس وقت کرپٹ مافیا سے جنگ ہے، جب ملک میں 2کرپٹ پارٹیوں کا راج ہو تو تیسری کا جدوجہد کے باوجود آنا مشکل ہوجاتاہے۔وزیراعظم نے کہاکہ میں سیاست میں پیسہ بنانے کے لیے نہیں آیا بلکہ مشن کے تحت آیا ہوں، کچھ کرنا اور دینا چاہتاہوں، میری سوچ کے حامل لوگوں کو سیاست میں آنا چاہیے، وہ جوپیسہ بنانے کے لیے سیاست کا انتخابات کرتے ہیں ان کو مسترد کرنا چاہیے، میں کرپشن کے خلاف ہوں، کرپٹ عناصر کا تعلق میری ہی جماعت سے کیوں نہ ہو کارروائی ہونی چاہیے، شوگر کمیشن اس لیے قائم کیا گیا کہ کرپٹ عناصر کی نشاندہی ہو۔عمران خان نے کہا کہ ہم اقتدار میں آئے توکارکردگی اچھی تھی، کورونا آیا تو ہر شے متاثر ہوئی، پاکستان 3 قسم کے تعلیمی نظام میں تقسیم ہے، سرکاری اسکولز میں اردو، پرائیویٹ میں انگریزی اور مدارس میں اور نظام تعلیم ہے، ہم نے ملک میں یکساں نظام تعلیم کومتعارف کروایا اور اس پر مزید کام جاری ہے، اپنے ملک کو مدینہ کی ریاست کے طرز پر دیکھنا چاہتا ہوں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں پاکستان کا سب سے زیادہ فنڈ جمع کرنے والا شخص ہوں جبکہ میرے والد نے پاکستان کی اپنی نوعیت کی پہلی انجینئرنگ کنسلٹنسی فرم قائم کی۔انہوں نے کہا کہ جیت سے زیادہ ہارہمیں غلطیوں سے سیکھنا سکھاتی ہے ۔اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چینی اسکینڈل پر حکومت حرکت میں آئی جبکہ وزیروں کیخلاف بدعنوانی کیالزامات سامنے آئے تو خود شفاف تحقیقات کرونگا۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلام فوبیا کے خلاف دنیا کے ہرفورم پر بات کی، ہم اپنا مذہبی احساس رکھتے ہیں، مغربی ممالک کو ہمارے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، اسلام فوبیا پر بولا لوگوں کوسمجھ آیا، اس سے پہلے کسی پلیٹ فارم پر بات نہیں ہوئی تھی، قران پاک میں حضرت محمد ۖ کی تعلیمات کی پیروی کا حکم دیاگیا ہے، ہماری زندگی کی کامیابی حضرت محمد ۖکی تعلیمات کی پیروی سے جڑی ہے، مغرب سمیت ہر ملک کو کسی کی مذہب کی توہین سے گریز کرنا چاہیے، ہم لوگ حضرت محمد ۖ پر جان قربان کرتے ہیں لہذا ان کے حوالے سے جذبات حساس ہیں۔انہوں نے کہا کہ نبی ۖکو رول ماڈل سمجھتا ہوں جبکہ نوجوانوں کو نبی کریم ۖ کی تعلیمات سے خودکوسنوارناہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم اشرف المخلوقات ہیں، سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، رحمت العالمین ۖ اتھارٹی سے نوجوانوں کی رہنمائی بھی ہوگی، میں 10 فیصد مغرب زدہ ایلیٹ کلاس کی نمائندگی نہیں کرسکتا، پاکستان کے 90 فیصد لوگ شلوار قمیض پہنتے ہیں میں ان کانمائند ہ ہوں، اس لیے شلوار قمیض پہنتا ہوں، میں نے اقتدار کے 3 سال بہت مصروف گزارے ہیں، میری کوئی سوشل زندگی نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑی مناظر ہیں، سویٹزرلینڈ، آسٹریا سمیت دنیا میں کہیں وہ خوبصورتی نہیں جو پاکستان میں ہے، جنگلات کا خاتمہ اور درختوں کی کٹائی ماحولیاتی تنزلی کی وجہ بنا، 10بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا، ہم اب تک ڈھائی ارب درخت لگا چکے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ بھائی کی کمی ہمیشہ محسوس کرتا رہتا ہوں، ہمیشہ سے خواہش رہی میرا کوئی بھائی ہو، 20سال تک کرکٹ کھیلی، کھیل آپ کو مشکل حالات سے لڑنا سکھاتا ہے، آپ کی ناکامی بہترین استاد ہے جو آپ کو مقابلہ کرنا سکھاتی ہے، ورلڈکپ جیتنے کے بعد اطمینان کا احساس ہوا، مجھے سیاست اور عالمی معاملات سے ہمیشہ دلچسپی رہی۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کی وفات کے بعد کینسر اسپتال بنانے کا فیصلہ کیا،میرے والدین محب وطن پاکستانی تھے، والدہ پاکستان کو ایک عظیم ملک کے طور پر دیکھناچاہتی تھیں۔ والدہ کے انتقال کے بعد میرا رجحان روحانیت کی طرف بڑھا۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر